Janoon-e-Yaar Novel Complete by Amreeney Qais - Episode 06 - urdu novels pdf download


 ناول: #جنونِ یار

قسط: 06
از قلم: #امرینےقیس
سنڈے کا دن تھا، بلیک مینشن میں سب اپنے آپنے کاموں میں مصروف تھے۔ لیکن ان سب میں صرف ایک گل بہار تھی۔ جو اپنے کمرے میں بند نوٹ بک پر لکھتی جا رہی تھی۔
پچھلے دیڑھ گھنٹے سے وہ انگلش کی نوٹ بک پر لکیریں کھینچنے میں مصروف تھی، پر سائیڈ پر پڑی نوٹ بک جیسی نقل کرنا اسکے لئے ممکن نہیں ہو پایا تھا۔ مسلسل کوشش کرنے کے بعد وہ اب جھنجھلانے ہی والی تھی۔ کہ پھر ضبط بھری سانس خارج کرتے ہوئے خود کو "ٹرائے آگین اینڈ اگین" کا سبق پڑھانے لگی۔ جو بھی ہو، وہ اپنی رائٹنگ خوبصورت بنا کر ہی رہے گی۔
بلیک ڈریس میں کالے گھنگریالے بالوں کی ڈھیلی ڈھالی چوٹی بنائے اسکے چھوٹے چھوٹے سفید ہاتھوں کی گلابی ہتھیلیاں بھرپور واضح ہو رہی تھیں۔ شاید یہ پینسل پر زور لگانے کی وجہ سے تھا۔۔۔
وہ اپنے دھیان میں مگن و مست یہ جان ہی نہیں پائی کہ کوئی اسکے روم کا دروازہ کھول کر اندر بھی داخل ہو چکا ہے۔
گل بہار جو لکھنے میں مصروف تھی۔ اچانک اپنی طرف بڑھی ہوئی چیز کو دیکھ کر اسکے لکھنے کا تسلسل رکا تو وہ نظریں اٹھا کر دیکھنے لگی۔ پر جیسے ہی اسکی نظر چلی ملی کے پیک پر پڑی۔ اسکے چہرے کے تاثرات یک دم چمکنے لگے تھے۔
تھینک یو سو مچ فاری بھی۔۔۔! اپنی دھن میں چلی ملی کا پیک پکڑتے ہوئے وہ کہنے ہی والی تھی پر سامنے کھڑے شخص پر نظر پڑتے ہی اسکی زبان تالو سے چپک چکی تھی۔
کبیر خان منہ میں ببل چباتے ہوئے کافی دلچسپ نظروں سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔ جو اسے دیکھتے ہی منجمند ہو گئی تھی۔
میری بہارے کیا کر رہی تھی ۔۔؟
نارمل انداز میں اسکے قریب بیٹھتے ہوئے اس نے نرم لہجے میں پوچھا۔۔۔
بیر (کبیر)...ہمیشہ کی طرح اسکے ہونٹوں نے کبیر خان کے نام کو ادھورا ادا کیا تو وہ دلکشی سے مسکرا دیا۔
پوری دنیا میں فقط وہی تھی جو اسے کبیر خان کی بجائے بس بیر بلا سکتی تھی، ورنہ کبیر خان کبھی کسی دوسرے کو ایسی اجازت نہ دے۔۔۔۔
میں نے پوچھا کہ میری پیاری بہارے کیا کر رہی تھی؟ گل بہار کے ہاتھ سے چلی ملی کا پیک پکڑ کر خود کھولتے ہوئے کبیر خان نے پیک کے اندر سے ایک لال چلی ملی نکال کر اسکے ہونٹوں کے قریب کی تو وہ ہوش میں آتی سہم گئی۔
کھاؤ۔۔! کبیر خان نے اسکی طرف نرم مسکراہٹ اچھالتے ہوئے کھانے کا اشارہ کیا تو وہ ڈرتے ہوئے منہ کھول گئی۔ کبیر نے اسے اپنے ہاتھ سے دوسری چلی ملی بھی کھلائی تو وہ بت بنے کھانے لگی۔
بے دھیانی میں اسے لگا تھا۔ کہ فارس اسکے لئے اسکی فیورٹ چلی ملی لے کر آیا ہے۔ اس لئے تو وہ خوش ہو گئی تھی۔ لیکن اب اپنے سامنے کبیر خان کو دیکھ کر اسکے حواس گم ہو رہے تھے۔ گل بہار نے اسکی آئس بلو آنکھوں میں جھانکا تو انکی وحشت سے اسکا سانس رکنے والا ہو گیا ۔۔
بہارے میری آنکھوں کی طرف نہ دیکھو۔۔! اسے چلی ملی کھلاتے ہوئے کبیر خان نے بے اختیار ٹوک دیا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ اسکی آنکھوں کے رنگ سے ڈرتی یے۔ یہ ہی وجہ تھی کہ وہ اسے دیکھتے ہی چھپنے کی کوشش کرنے لگتی تھی۔ کبیر کے ٹوکنے پر گل بہار نے ڈرتے ہوئے پیچھے کھسکنا چاہا تھا۔
تمہیں چلی ملی بہت پسند ہے۔۔۔؟ کبیر خان نے مسکراتے ہوئے سوال کیا تو وہ اسے دیکھ گئی۔۔
کبیر خان میٹرک کا سٹوڈنٹ ہونے کے باوجود اپنی عمر سے کافی بڑا لگ رہا تھا۔ اور اسکی وجہ شاید اسکی شخصیت کی سنجیدگی اور ٹھہراؤ تھا۔
بیر اپپ۔۔اپ یہاں کیوں آئے ۔۔۔؟ مقابل کی موجودگی سے خائف ہوتے وہ بولی تھی۔ گل بہار کی نظریں بار بار دروازے کی جانب اٹھ رہیں تھیں۔ تاکہ کوئی تو اسے یہاں سے نکال کر لے جائے۔۔۔
میں اپنی بہارے کو یہ دینے آیا تھا۔۔! چلی ملی کا پورا ڈبہ اسکے سامنے کرتے ہوئے وہ مسکرا بولا تو اتنی ساری چلی ملی دیکھ کر بہار سچ میں خوش ہوتی چلی گئی۔
یہ میرے لئے ہے؟ گل بہار نے بے یقینی سے پوچھا۔۔۔
ہاں یہ سب میری بہارے کے لئے ہے۔۔۔! جواب میں وہ بھرپور مسکرا دیا۔ باقی سب جہاں گل بہار کو "گل" پکارتے تھے۔ وہیں پر کبیر خان اسے "بہارے'' کہہ کر پکارتا تھا.
تھینک یو بیر۔۔۔! اتنی ساری چلی ملی دیکھ کر وہ سچ میں خوش ہو گئی تھی۔
نوٹ بک پر کیا لکھ رہی تھی۔۔؟ گل بہار کی مسکراہٹ دیکھ کر کبیر خان کو کچھ تسلی ہوئی تو اس نے اگلا سوال کیا۔۔
میں اپنی رائٹنگ ٹھیک کر رہی تھی۔۔! چلی ملی کے ڈبے کو کھولنے کی کوشش کرتے ہوئے وہ مصروف انداز میں بولی۔ تو بہار کے جواب پر چونکتے ہوئے کبیر خان نے دونوں نوٹ بکس کو سیدھا کرتے ہوئے دیکھنا چاہا تھا۔ نوٹ بک دیکھتے ہی وہ حیران ہو گیا۔۔
تم میری نوٹ بک سے دیکھ کر میری رائٹنگ کاپی کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔؟ حیرانی میں غوطہ زن ہوتے وہ بولا تھا۔۔
ہاں نہ کیونکہ مجھے بس آپکی رائٹنگ پسند ہے۔۔! چلی ملی کی خوشی میں گل بہار نے اپنے راز سے پردہ اٹھایا تو وہ اسے دیکھتا رہ گیا۔۔۔جبکہ اگلے ہی پل کبیر خان کے چہرے پر دل دھڑکا دینے والی مسکراہٹ نمودار ہو گئی تھی جس کے باعث وہ اپنی معصوم گل بہار کو دیکھنے لگا ۔۔۔
میں لکھنا سکھاؤں..؟ کبیر خان نے چلی ملی کے ساتھ انصاف کرتی ہوئی بہار سے کہا تو وہ تیزی سے ہاں میں سر ہلانے لگی۔۔ بہار کے اقرار پر کبیر نے اسکے ہاتھ میں پینسل پکڑا کر اسکا چھوٹا سا سفید و گلابی ہاتھ تھام کر نوٹ بک پر لکھنا شروع کیا تو بہار اپنے ہاتھ کو کبیر خان جیسا لکھتا دیکھ کر خوشی سے کھکھلا پڑی۔
کبیر خان حیرانی سے اسکی خوشی کو دیکھ رہا تھا۔ وہ قطعاً ہی نہیں جانتا تھا۔ کہ وہ اسکی رائٹنگ کی اتنی دیوانی ہو گی۔ اسے تو آج تک یہ ہی محسوس ہوا تھا کہ "گل وہاج" نے آج تک اسے غور سے دیکھا بھی نہیں ہو گآ ۔
تقریبآ آدھے گھنٹے تک کبیر خان اسکا ہاتھ تھام کر لکھتا رہا تھا۔
تمہیں چلی ملی کے علاؤہ اور کونسی چیز پسند ہے۔۔؟ کبیر نے نوٹ بک پر نظریں جمائے پوچھا تو بہار نے چمکتی آنکھوں سے اسکی طرف دیکھا تھا۔
بہار کی طرف سے جواب نہ پا کر کبیر نے آنکھیں اٹھا کر اسکی طرف دیکھنا چاہا تو غور سے اسے خود کی طرف دیکھتا پا کر وہ الجھ گیا۔۔۔۔
مجھے یہ ببل بھی پسند ہے۔ جو آپ ہر وقت کھاتے ہیں! بہار اسکے منہ میں گھومتی ہوئی ببل کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے بولی تو کبیر خان کے لئے یہ دوسر بڑا جھٹکا تھا۔
تمہیں یہ کیوں پسند ہے؟ اپنی حیرانی پر قابو پاتے کبیر نے جاننا چاہا۔۔۔
فاری بھیا نے ایک دفعہ آپکی پاکٹ سے نکال کر کھلائی تھی۔ مجھے یہ تب سے بہت پسند ہے۔۔! بڑی بڑی کالی سیاہ آنکھوں سے کبیر خان کی ببل کو دیکھتے ہوئے وہ بتا رہی تھی۔ جس کو سن کر وہ بے اختیار ہنس دیا۔
کتنی دیر سے وہ گل بہار کے پاس بیٹھا بات بات پر مسکرائے جا رہا تھا۔ اور یہ مسکرانا بھی خاص سامنے بیٹھی منکوحہ کے لئے تھا۔ تاکہ وہ اسکے خوف نہ کھائے ۔۔۔
گل بہار کے کمرے سے باہر نکلتے ہوئے کبیر خان کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ رقصاں تھی۔ اپنے باپ کی باتوں کو یاد کرتے ہوئے وہ مسلسل مسکرا رہا تھا۔
تھوڑی دیر پہلے وہ جب بہار کے کمرے کی طرف آ رہا تھا تو سلطان احمد خان نے اسے یہ کہتے ہوئے طعنہ مارا تھا۔ کہ وہ جتنا مرضی رشوت خوری سے کام لے، لے،، پر سلطان احمد خان کی بہو کبیر خان کو ہر گز منہ نہیں لگائے گی۔ پر اب اتنے راز جان کر کبیر خان کو اپنے باپ پر ہنسی آ رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاری پلیز میرا دلہا بن جاؤ ۔۔! ناز، فارس ہمدانی کا ہاتھ پکڑے اسے منا رہی تھی۔ اسکی ایک ہی ضد پر آخر کار فارس نے حامی بھری تو اسکی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہا۔۔
فاری تم یہیں پر رکو میں سامان لے کر آتی ہوں۔۔! فارس کے ماننے پر اگلے ہی پل گل ناز چہکتے ہوئے اٹھ کر کمرے کی طرف بھاگ گئی تاکہ ساری چیزیں لا سکے۔
ہر سنڈے کو فارس اور ناز ایک ساتھ بیٹھ کر گل ناز کی پسند کے کوئی بھی کارٹون دیکھتے تھے۔ آج بھی سنڈے ہونے کی وجہ سے فارس اسکے ساتھ بیٹھ کر ٹی لاونج میں کوئی باربی والی مووی دیکھ رہا تھا۔ جب اچانک ایک سین پر گل ناز نے ضد پکڑ لی کہ وہ اسکا دولہا بنے۔ کیونکہ فلم کے آخر میں باربی کی شادی اسکے پرنس ہو رہی تھی۔
گولڈن بالوں والا پرنس فارس ہمدانی کو سخت زہر لگ رہا تھا۔ کیونکہ پوری فلم میں اسکے کردار کی فارس کو کم از کم سمجھ نہیں آئی تھی۔ ساری فلم میں باربی اکیلی سب مشکلات کا سامنا کرتی رہی تھی۔ جبکہ اب آخر میں پرنس صاحب صرف شادی کرنے کے لیے آ گئے تھے۔۔
کیا دیکھ رہے ہو۔۔!؟ فارس کو سکرین کی طرف متوجہ دیکھ کر کبیر نے اسکے پاس بیٹھے ہوئے پوچھا تو وہ مڑتے ہوئے اسے دیکھ گیا۔
کچھ نہیں یار، ناز زبردستی اس بے غیرت پرنس کی فلم دیکھا رہی ہے۔۔۔! فارس نے بے زاری سے جواب دیا۔
کیوں بیچارے پرنس کو بے غیرت بنا رہا ہے۔۔! فارس کے الفاظ پر کبیر نا چاہتے ہوئے بھی ہنس پڑا۔
بے غیرت نہ بناؤں تو کیا بولوں؟ ساری فلم میں یہ بیچاری کمزور باربی اکیلی ان منحوس ڈریگن سے لڑتی رہی ہے۔ اور یہ شہزادہ صاحب بجائے باربی کی مدد کرنے کے کسی اور راجے (ملک) کی شہزادی کے ساتھ ڈیٹ منا رہے تھے۔۔ فارس باربی کی انتہائی پتلی کمر کو کمزوری سے تشبیہ دیتے ہوئے مسلسل بولتا جا رہا تھا ۔۔
پاگل جسے تو کمزوری کہہ رہا ہے نا، وہ باربی کا فگر ہے۔۔!
فارس کے ہندی لفظ "راجے" کو سن کر کبیر کا قہقہ بے ساختہ تھا۔ کبیر نے ہنستے ہوئے فارس کی غلط فہمی دور کرنی چاہی تھی۔ کہ وہ باربی کو کمزور نہ سمجھے۔۔۔
گولی مار ایسے فگر اور شہزادے کو! سالا پوری فلم میں بس یہ ہی کہتا رہا کہ میں باربی کو چاہتا ہوں! پر خان قسم لے لے اگر اس شہزادے نے سچ میں کوئی محبت نبھانے والا کام کیا ہو، بلکہ الٹا یہ باربی کو اکیلا چھوڑ کر دوسری شہزادیوں کے ساتھ رنگ رلیاں مناتا پھر رہا تھا۔۔۔!
جلے کٹے انداز میں فارس، کبیر کو مخاطب کرتے مزید آگاہ کرتے جا رہا تھا۔ فارس کے تبصروں پر کبیر خان کی ہنس ہنس کر حالت بری ہونے لگی تھی۔ پتہ نہیں وہ کب سے دل پر پتھر رکھ کر ناز کی خاطر اتنی "ال لاجیکل" فلم برداشت کر رہا تھا۔
ابھی وہ دونوں شہزادے کو نامرد کہلانے میں مصروف تھے. جب ناز اچانک پورا سامان اٹھائے انکے پاس واپس چلی آئی۔۔۔
فاری جلدی سے یہ پہن کر آؤ ۔۔۔! جلدی سے فارس کی جانب بلیک تھری پیس سوٹ بڑھاتے ہوئے ناز پرجوشی سے بولی تو فارس سرد سانس خارج کرتے چینج کرنے چلا گیا۔۔
جبکہ کبیر خان نے اب حیرانی و الجھن سے اسکو دیکھا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ ناز سے کچھ پوچھ پاتا، وہ بھی غائب ہو چکی تھی۔
تقریباً تھوڑی دیر بعد ناز اپنی پنک باربی فراک پہن کر واپس لوٹی تو کبیر ٹھٹھک گیا۔ کچھ نہ کچھ اسے سمجھ میں آ رہا تھا۔ کیونکہ ناز کو وہ اتنا تو جانتا ہی تھا۔ اس لئے کبیر نے جلدی سے گروپ میں میسج کرتے ہوئے سب کو لاؤنج میں اکھٹا ہونے کا کہا۔۔
فارس تھری پیس سوٹ پہن کر واپس لوٹا تو ناز جلدی سے اسکی طرف بڑھ گئی۔
فاری یہاں پر بیٹھو میں تمہارے بال سیٹ کروں ۔۔۔!
فارس کے ڈارک براؤن بالوں کو برش سے سیٹ کرتے وہ اسے "پرنس سٹیفن" بنا رہی تھی۔ جس کو ابھی تھوڑی دیر پہلے فارس منحوس کہہ رہا تھا۔ پر اسی منحوس شہزادے پر اسکی منکوحہ کا دل آ گیا تھا۔
اس لئے وہ ضبط بھری سانس خارج کرتے کبیر خان کو دیکھ گیا۔ جو اسکی حالت پر مسکراہٹ دبا رہا تھا۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے لیکن فارس ہمدانی اپنی گل ناز کی کسی بات سے انکار نہیں کر سکتا تھا۔ اتنا تو سب ہی جانتے تھے۔
سب آہستہ آہستہ جمع ہوتے چھپ کر لاونج کا منظر دیکھنے لگے۔
فارس کے بال مکمل طور پر پیچھے کرتے ہوئے ناز نے ایک کراؤن 👑 اٹھا کر فارس ہمدانی کے سر پر رکھا تو اسکی شہد رنگ آنکھیں باہر ابل پڑیں۔ فارس کے سر پر تاج دیکھ کر قہقہوں کے زور سے باقیوں کا حال بھی برا ہوا تھا پر وہ ضبط کرتے مزید دیکھنے لگے۔
فارس کو تاج پہنانے کے بعد گل ناز نے خوش ہوتے اپنے سر پر بھی کراؤن پہن لیا۔۔ یہ دونوں کراؤن ان دونوں بہنوں کے تھے۔ جو وہ کمرے سے اٹھا لائی تھی۔
تھری پیس سوٹ میں بالوں کو مکمل طور پر پیچھے کیے سر پر تاج پہنے فارس ہمدانی کا بس نہیں چل رہا تھا۔ کہ ٹی وی کے اندر گھس کر اس سٹیفن کو جان سے مار دیتا ۔۔
بھیا باربی والا سانگ پلے کیجیے گا ۔۔۔! گل ناز نے کبیر کو مخاطب کیا تو وہ جلدی سے ہاں میں سر ہلاتے فلم کے اینڈ میں چلتا سانگ پلے کرنے لگا۔
کبیر نے ناز کو ڈن کا اشارہ کیا تو گل ناز فارس کا ہاتھ کھینچ کر لاؤنج کے بیچوں و بیچ کھڑی ہو گئی۔ فارس کا ہاتھ اپنی کمر پر رکھتے ہوئے ناز نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کر دوسرا ہاتھ تھام لیا تھا۔ وہ مکمل طور پر باربی ڈانس کی پوزیشن میں کھڑے تھے۔
ون ٹو تھری کہتے ہی سانگ پلے ہوا تو لاونج میں فارس اور ناز کی باری ڈانس پرفامنس بھی شروع ہو گئی۔ گل ناز سر پر کراؤن لگائے پورا پورا فالو کرنے کی کوشش میں تھی۔ وہیں فارس کے تاثرات دیکھنے والے تھے۔۔
گل ناز نے پنجوں کے بل پاؤں کرتے ہوئے ٹانگ اٹھائی تو نہ چاہتے ہوئے فارس کی ہنسی نکل گئی۔۔ ہنسی تو باقی سب کی بھی نکل گئی تھی۔۔
فراک کو گھماتے ہوئے وہ دونوں باربی اور سٹیفن بنے ہوئے تھے۔ اچانک ناز نے زرا پیچھے ہوتے تیزی سے سٹیپ فالو کرنے کی کوشش میں پھر ٹانگ اٹھائی تو اسکے سر پر لگا کراؤن نیچے آ گرا۔ جس کے باعث لاؤنج میں چھپے سب کے قہقہے پھوٹ پڑے تھے۔
چونکتے ہوئے ناز نے سب کو دیکھا تو وہ اگلے ہی پل ڈبڈبائی نظروں سے فارس کو دیکھنے لگی جس نے نفی میں سر ہلاتے اسکی آنکھوں کے کنارے صاف کرتے ہوئے سب کو گھوری ڈالی تھی۔۔۔
کبیر گانا بند کرو..! فارس نے اتنی لاؤڈ آواز پر کبیر کو اشارہ کرتے بند کرنے کا کہا تو وہ ہنستے ہوئے بند کر گیا۔
سب باہر نکلو..! گانا بند ہوتے ہی لاؤنج میں گہری خاموشی چھائی تو فارس نے رعب سے سب کو باہر نکلنے کا حکم دیا تھا جس کو سنتے ہی اگلے ہی پل سب کے چہرے نمودار ہو گئے۔
چلو سب کپلز بناؤ ۔۔۔! سب کو ہنسی کنٹرول کرتے دیکھ کر فارس نے سرد آواز میں دوسرا حکم صادر کیا۔
ہمارے پاس تو باربی ہی نہیں۔۔! کپل بنانے کا سن کر فاتح دکھی انداز میں جلدی سے جواب میں بولا تھا ۔۔۔
لڑکیاں سب جا کر خان کے پاس بیٹھ جائیں۔ یہ سارے نمونے آپس میں کپلز بنائے گئے۔۔۔! فاتح کے دکھ کو نظرانداز کرتے ہوئے فارس نے گھورتے ہوئے پھر حکم دیا تو وہ آنکھیں پھیلا گئے۔ جبکہ لڑکیاں تو بھاگ کر صوفے پر کبیر کے پاس براجمان ہو گئیں تھیں۔
سنا نہیں کیا، کپل بناؤ ۔۔! سب لڑکوں کو سٹل ویسے ہی کھڑے دیکھ کر فارس نے گھوری ڈالی تو وہ جلدی سے اپنا اپنا کپل بنا کر کھڑے ہو گئے تھے۔
ہمیشہ کی طرح فاتح اور شہرام کا کپل بنا تو وہیں ایشام اور ارسل کپل بنا کر کھڑے ہو گئے۔
تم دونوں کو الگ سے کہنا پڑے گا؟ فارس ہمدانی سر پر تاج پہنے کسی بادشاہ کی طرح حکم دے رہا تھا۔
فارس کی خطرناک گھوری پر باسم جلدی سے غازیان کی کمر پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہو گیا تھا۔
ان سب کے کپل دیکھ کر کبیر کا چھت پھاڑ قہقہ بے ساختہ تھا۔ باسم کے انداز پر فارس نے بھی مشکل سے اپنی مسکراہٹ ضبط کی تھی۔
جیسے میں اور ناز کریں گئے، بلکل ویسے ہی سب نے فالو کرنا ہے۔ تم لوگوں کے کپلز میں لڑکی کون اور لڑکا یہ تم لوگ خود فیصلہ کر لو ۔۔!
ناز کے آنسو دیکھ کر فارس نے اچھا خاصا انکو اپنے ساتھ پھنسا لیا تھا۔ جبکہ ناز تو خوشی سے جھومنے لگی تھی۔ آخر کار اسکے فارس نے ان سب کو سزا جو دی تھی۔
کبیر خان نے شروع سے سانگ پلے کرتے ہوئے ہیر کو وڈیو بنانے کا اشارہ کیا۔
لاونج میں پہلے سے بھی زیادہ لاؤڈ آواز میں سانگ پلے ہوا تو اپنے اپنے کمروں میں موجود سب بڑے حیرانی سے ریلنگ کے پاس آ کھڑے ہوئے۔۔۔ پر لاونج کا منظر دیکھ کر وہ صدمے سے نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھ گئے تھے۔
کیونکہ لاؤنج میں نجانے کتنی باربیاں ٹانگیں اٹھا اٹھا کر گانے پر سٹیپ کر رہیں تھیں۔ جبکہ سب سٹیفن کا حال ان سے بھی برا تھا۔ جن کو اتنی بھاری باربی کا اٹھانا پڑ رہا تھا۔۔۔
یہ سالا ہمارے گھر میں اتنی رقاصہ کہاں سے آ گئیں ہیں۔۔؟ اوپر ریلنگ پر جھکے ہوئے عیس نے صدمے سے پوچھا تو سب قہقہ لگاتے ہوئے دیکھ گئے۔۔۔

Post a Comment (0)
Previous Post Next Post