﷽
ناول: آخری عشق🍂
راٹیر: عاٸشہ علی
قسط نمبر:#__02_ 1
#سٹوری:حویلی بیسڈ ایج ڈیفرنس بیسڈ آفٹر میرج لو روڈ ہیرو، بیسڈ رومانٹک
🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋
_________________________
یہ منظر ہری پور کے مشہور گاٶں ترچٹی کی لال حویلی کا ہے جہاں سید بہرام شاہ لال حویلی اور ترچٹی گاٶں کا سردار اپنے دونوں بیٹوں اور لاڈلی پوتی باطشہ کے ساتھ ناشتے کے ڈیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے اس سے نظر زرہ ساٸیڈ پر بنے کچن پر ڈالے تو وہاں حیا بیگم اور امنیہ بیگم ناشتہ بنانے میں مصروف تھی ویسے تو ان کی حویلی میں نوکروں کی کمی نہی تھی پر ان سیدزادوں کے اپنے اصول تھے کھانا حویلی کی عورتیں خود بناتی تھی
باطشہ ناشتہ کر کے اٹھنے لگتی ہے کے دادا جی کی آواز پر رک جاتی اسرار بیٹا
جی بابا ہمارا شیر پوتا کب تک واپس آۓ گا بابا جی وہ بس ماہ کی آخری تک ان شاء اللّہ آ جاۓ گا اچھا ٹھیک ہے باطشہ بھی اپنے ڈھڑکتے دل کو سبھنال کر روم میں چلی جاتی
سید ابان شاہ جس نے چپکے سے من موہنی سی باطشہ کے دل کی سلطنت پر پورے حق سے قبضہ کر رکھا تھا
باطشہ افراز شاہ کی لاڈلی اکلوتی بیٹی ہے جو اٹھارہ سال کی اونچے لمبے قد کی سرخ سفید رنگ گھنگھرلے بال کالی خوبصورت بڑی بڑی آنکھیں جن پر جالر جسی پلکیں کٹواں دار لب جو ہلکے پنک رنگ کے رنگے ہوۓ ہاتھوں میں ہر ٹاٸم چوڑیاں پاٶں میں پاٸل پہنے خوبصورتی میں اپنے مثال آپ تھی
جس نے خود کو سنج سنج کر صرف اپنے دل کے حکمران کے لیا رکھا تھا جو ایسے ایک نظر دیکھنا بھی گوارہ نہی کرتا تھا یہ نہی کے سید ابان شاہ باطشہ سے نفرت کرتا تھا وہ باطشہ کی آنکھوں میں اپنے لیے پسندیدگی دیکھ چکا تھا پر ایسے لگتا تھا کے ان کی عمر میں بہت فرق ہے باطشہ ابھی بچی ہے
محبت بھلا عمر کب دیکھتی اور محبت بھی بھلا کبھی سوچ سمج کر ہوٸی سوچ سمج کر تو سودے کریں جاتے محبت میں یہ سب کون دیکھتا ::::::
بہرام شاہ مردان خانہ میں بیٹھے لوگوں کے مسلے مساحل سن رہا تھا کے ایک شخص روتا ہوا آیا
ساٸیں سرکار میری بیٹی کو ساتھ والے گاٶں کے سردار کا بیٹا اٹھا کے لے گیا ہے ساٸیں میری عزت خاک میں مل گی مجھے میری بیٹی صیح سلامت چاھے ساٸیں بڑی مہربانی ہوگی مجھ غریب پر آپ کی
بہرام شاہ کو اس کی بات سن کر بڑا غصہ آیا اس نامراد نے اپنی موت کو خود آواز دی ہے ہمارے گاوں کی عزت کی طرف میلی نظر ڈال کر
خدا بخش تم سکون سے آپنے گھر جاو تھماری بیٹی عزت کے ساتھ تھمارے گھر ہو گی یہ بہرام شاہ کا وعدہ ھے
بہت بہت شکریہ ساٸیں سرکار اللّہ آپ کو ہمارے سروں پر سدا سلامت رکھیں وہ دعاٸیں دیتا گھر چلا گیا پیچھے بہرام شاہ ںے اپنے گارڈ کو گاڑی نکالنے کا حکم دیا یہ تو طے تھا اس لڑکے کی زندگی کا آج آخری دن تھا جس نے بہرام شاہ کے گاوں کی طرف غلط نظر ڈالی تھی :::::
__________________
یہ منظر پریس کے مشہور بار کا ہےجو نیلی ہری لال پیلی روشینوں سے جگمگا رہا تھا جہاں امیر باپ کی بگڑی اولادیں عیاشی کرنے شراب اور شباب کے مزے لے رہے تھے وہاں وہ بگڑا نوجوان شراب کی بوتل سامنے رکھے
لال سرخ آنکھیں جس میں وحشت ہی وحشت ٹپک رہی ہوتی کب سے بیٹھا شراب پیا جا رہا ہوتا امیر ماں باپ کی بگڑی اولاد اپنے پیسے کا گھمنڈ لیے انسان کو جانور سے بھی کم تر سمجنے والا اوباش لڑکا تھا جس کا کام ہر روز کم سن لڑکی کی عزت سے کھیلنا ہوتا تھا چاھے پھر لڑکی اپنی مرضی سے آتی یا زبردستی لاٸی جاتی ایسے بس لڑکی سے مطلب ہوتا تھا ابھی وہ بیٹھا نٸے شکار کی تلاش میں تھا جو ایسے جلد ہی سامنے سٹیج پر ایک بیس سالہ خوبصوت لڑکی نظر آٸی جس نے شوٹ ٹاپ جینز پہن رکھی تھی
یہ نوجوان چلتا ہوا اس کے سامنے آیا اور ڈانس کی پشکش کی جیسے لڑکی نے مسکراتے ہۓ ہاں میں سر ہلایا دونوں نشے میں جھومتے ڈانس فلور پر ڈانس کرنے لگ جاتے اور کچھ دیر بعد دونوں بانہوں میں بانہیں ڈالے روم میں چلے جاتے ایک رات اور کالی کرنے جہاں فرشتے ان کے اعمال نامے میں ایک گہناہ لکھ چکے تھے
___________________
اماں ساٸیں کیا بنا رہی ہو آپ
باطشہ کچن میں کام کرتی امینہ بیگم کے پاس آ کر پوچھتی کشمیری پلاٶ بنا رہی ہو واہ اماں ساٸیں میری پسند کا کھانا بن رہا آج تو ویسے ایک بات تو بتاٸیں اماں یہ کشمیری پلاٶ بس نام سے ہی ہے ورنہ اس سے کشمیر تو نظر نہی آتا اماں جو اس کی بات دھیان سے سن رہی ہوتی اس کی بات کا مطلب سمجتی ایسے گھور کر دیکھتی
اور وہ باطشہ ہی کیا جس پر گھوریوں کا اثر ہو جاۓ ۔۔۔۔
آج لال حویلی کی بیٹی انوشے اپنے بچوں کے ساتھ آرہی تھی تبھی طرح طرح کے پکوان پک رہے تھے آخر تین بھاٸیوں کی اکلوتی بہن جو تھی
حیا بیگم ملازمہ سے ساری صفاٸی کروا کر اب کچن میں آٸی تھی تاکے امینہ جو خود سارا کچن کا کام کر رہی تھی اس کے ساتھ مدد کروا سکے
باطشہ جو اب ٹوکری سے سیب نکال کر کھا رہی تھی ساتھ شلیف پر چڑھ کر بیٹھی تھی
حیا بیگم کو دیکھ کر جلدی سے نچے اتری
تاٸی جی آپ کون سا پلاو بنانے آٸی اماں ساٸیں نے تو کشمیری پلاٶ بنایا جس میں کشمیر تو نظر نہی آتا مجھے وہ اتنی مصوم بن کر پوچھ رہی تھی کے حیا کو اس پر پیار آنے لگ گیا وہ تھی بھی ایسی پوری حویلی کی لاڈلی حیا بیگم تو ابان شاہ سے زیادہ باطشہ کے لاڈ کرتی تھی
پر وہ کہتے ہیں نہ گھر کے لاڈلوں کو بہت دکھ درد بھی برادشت کرنے پڑتے اب دیکھتے باطشہ کی قسمت میں کیا لکھا ہے یہ تو رب ہی جانتا :::
____________________
وہ صبح جب نیند سے بیدار ہوا تو سر ابھی بھی چکرا رہا تھا اس نے آنکھیں بند کر کے کھولی تو دوسری ساٸیڈ نظر ماری جہاں وہ لڑکی بے لباس مست نیند میں ڈوبی سو رہی تھی
اس نے ایک طنزیہ مسکراہٹ اس کیطرف اچھالی اور والٹ سے چند نوٹ نکالے اور اس کے کپڑوں کے پاس رکھ کر خود فریش ہونے واشرم چلا گیا
ایسا ہی تھا یہ امتثال شاہ انوشے بہرام شاہ کا بیٹا
جس کے لیے لڑکیاں ٹشو پیپر کی طرح تھی
پر نہی جانتا تھا کے اگے چل کر یہ کسی عام سی لڑکی کی محبت میں خود گرفتار ہو جاٸے گا شاہد یہ محبت ہی ایسے راہ راست پر لے سکے
جب رات ساری سیاہ کر کے صبح گھر گیا تو سامنا اپنے باپ سے ہوا کہاں سے آ رہے ہو رات گھر کیوں نہی آۓ میں دوستوں کے ساتھ تھا وہ جھوٹ بولتا سیڑھیاں چڑھتا اپنے کمرے میں چلا گیا
آپ کے بے جا لاڈ پیار نے ایسے بگاڑ دیا ہے مجھے تو ڈر لگتا ناجانے کن کاموں میں مشغول ہے یہ حرکتیں اس کی مشکوک لگتی مجھے انوشے اپنے شوہر سے کہتی
بس کریں انوشہ بیگم آپ تو میرے بیٹے کی پیچھے پڑی رہتی اتنا پیسہ ایسی کے لیے کما رہا بیٹی تو بیا کر چلی جاۓ گی پیچھے سب ایسی کا ھے
ہاں بس ایسی بات کا تو غرور آپ کی اولاد کو ناجانے کل کیا گل کھلاۓ ........
عشاہ اپنے کمرے میں پڑھاٸی کر رہی تھی وہ اور باطشہ ایک ہی یونی میں پڑھتی تھی دونوں گرجویشن کر رہی تھی البتہ باطشہ پڑھاٸی میں ذہن تھی ویسے تو عشاہ بھی اچھی تھی پڑھاٸی میں پر باطشہ سے کم
ابھی عشاہ پڑھ ہی رہی تھی کےانوشے کمرے میں آٸی عشاہ بیٹے تیار ہو جاٸیں آج ہم لال حویلی جاٸیں گے
واہ اماں ساٸیں کتنا مزا آۓ گا مامو ساٸیں بڑی ممانی چھوٹی ممانی اور میری تاشی سے مل کر وہ تو حویلی کے نام پر ہی کھل گی تھی اور اٹھ کر خوشی خوشی تیارہونے لگ جاتی