Akhri Ishq Novel by Ayesha Ali - Episode 2 - urdu novels pdf download

  ﷽ 

ناول: #آخری عشق🦋

 راٹیر: #عاٸشہ علی

2 #قسط نمبر:#

سٹوری:حویلی بیسڈ ایج ڈیفرنس بیسڈ آفٹر میرج لو روڈ ہیرو، بیسڈ رومانٹک 🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋

  _________________________ یہ منظر اٹلی کے شہر وینس شہر میں بنے خوبصورت چھوٹے مگر خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہی بنے فلیٹ کا منظر ہے جو باہر سے ایسے لگتا جیسے سارا ششے کا بنا ہے لکین اگر اندر سے دیکھا جاۓ تو یہ ششے سے بنا گھر سے باہر کی جانب ہر چیز دیکھی جا سکتی پر باہر سے اندر کچھ نظر نہی آتا تھا اس خوبصورت فلیٹ میں ٹوٹل پانچ روم بنے ہوۓ ایک اوپن کچن اور ہر کمرے کا اٹیچ باتھروم تھا فلیٹ کی ایک ایک چیز اپنے مالک کی پسندیدگی کی خواہ تھی جو خود بھی اپنی خوبصورتی میں آپ تھا اگر اگے کی اور جاۓ تو وہاں اندر روم میں انٹر ہوتے ہی دیکھنے والے کی آنکھیں ستاٸش سے بھری رہ جاتی ہر طرف سیفدی ہی سیفدی ہر چیز سفید رنگ کی تھی بیڈ شیٹ پردے جہاں تک کے دیوارں پر کلر بھی سفید رنگ کر کر رکھا تھا جہاں وہ آٸینے کے سامنے کھڑا اپنی تیاری کا جاٸزہ لے رہا تھا ایسے آج ہی پاکستان کے لیے نکلنا تھا ایک گھنٹے بعد اس کی فلاٸٹ تھی... یہ کوٸی اور نہی بلکے سید ابان شاہ تھا جس نے ابھی سکاۓ بلیو پینٹ پر سفید شرٹ جس کے اپری دو بٹن کھولے چھوڑ رکھے تھے گلے میں قیمتی چین پہن رکھی تھی ہاتھ میں برینڈڈ گھڑی اور پاوں میں سیفد جوگرز پہن رکھیں تھے یہ شہزادہ جب باہر نکلتا تھا لڑکیاں تو کیا لڑکے بھی مڑ مڑ کر اک بار تو ضرور دیکھتے تھے ایسے پر ایسے تو جیسے اپنے کام کے علاوہ کسی چیز میں دلچسبی نہی تھی بس کام کام اور کام تیاری کرنے کے بعد اس نے اپنے سکیڑی کو کال کی جب تک ڈراٸیور گاڑی میں سامان رکھ چکا تھا ..... ____________________ باطشہ کمفرٹ اوڑھے نیند میں مست سورہی تھی جب ایسے محسوس ہوا کوٸی اس کے روم میں آیا ہے پر ایسے لگا خواب میں دیکھ رہی جبی سو رہی ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کے اس سے کمفرٹ کسی نے کھنچ کر اتارا وہ ہڑ بڑا کر اٹھ گی سامنے دیکھا تو عشاہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی عشو کی بچی توں کب آٸی وہ ایک ہی جست میں بیڈ سے چھلانگ لگا کر عشاہ کے گلے لگ گی جیسے برسوں بعد ملی ہو دونوں پھوپھو بھی آٸی ہے کیا ہاں میں ماما اور بھاٸی آۓ ممانی نے تجھے بلانے کے لیے بھجا چلو سب نچے کھانے کے ڈیبل پر انتظار کر رہے وہ فریش ہونے واش روم جاتی کچھ دیر بعد کپڑے بدل کر سر پر ڈوپٹہ اوڑھے دونوں نچے ڈاٸنگ ڈیبل پر آتی جہاں سب کھانا کھا رہے ہوتے باطشہ تو بھاگ کر انوشے کے گلے لگ جاتی پھوپھو کیسی ہیں آپ اب کی بار بہت دنوں بعد آٸی آپ آج روک کے جانا مجھے بہت ساری باتیں کرنی آپ سے باطشہ بچے پھوپھو کو کھانا کھانے دو ساری باتیں ابھی کر لینی کیا بہرام شاہ بولتے تو باطشہ ہلکا سے مسکرا کر اپنی کرسی پر بیٹھ جاتی اور باقی سب بھی کھانا کھانے لگ جاتے کھانے سے فارغ ہو کر باطشہ تو عشاہ کو لیے روم میں چلی جاتی مرد لوگ مردان خانے چلے جاتے اور حیا بیگم اور امینہ انوشے سے گپیں ہانکنے لگ جاتی ___________________ ابان شاہ نے اپنے آنے کی اطلاع کسی کو نہی دی تھی اس کا اردا سب کو سرپراٸز دینے کا تھا صبح سب لوگ ڈاٸنگ ڈیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے کے ابان شاہ نے سب کو سلام کیا سب ہی نے دروازے کی طرف دیکھا تو وہ خوبصورت شہزادہ پوری شان سے اندر ےآتا دیکھاٸی دیا سب سے پہلے بہرام شاہ کے گلے لگا دادا جی کیسے ہیں ہے میں بالکل ٹھیک میرے شیر کے آنے سے دادا اور بھی جوان ہو گیا اور اس کی پیٹھ پر تھپکی دی پھر وہ سب سے باری باری ملا آخر میں اپنی ماں سے مل کر وہ اوپر اپنے کمرے میں چلا گیا باطشہ نے عشاہ کو کل اپنے پاس روک لیا تھا انوشے بیگم امتثال شاہ کے ساتھ واپس چلی گی تھی عشاہ اور باطشہ ابھی ناشتے کے ڈیبل پر نہی تھی تبھی ان کو ابان شاہ کے آنے کی خبر نہی ہوٸی .... ابان شاہ اپنے کمرے میں گیا تو سب کچھ ویسے کا ویسے ہی تھا جیسے چھوڑ کر گیا تھا ایسا لگ رہا تھا کسی نے بھی اس کے کمرے میں قدم نہی رکھا کمرے میں آنے کی اجازت تو کسی کو بھی نہی تھی پر صفاٸی کرنے کے لیے رانی (ملازمہ )آتی تھی اس کمرے کا بھی تھیم سفید رنگ کا ہی تھا اس کا ارادہ کچھ دیر سونے کا تھا اس کے بعد فریش ہو وہ آفس کو نکل جاتا ایسے جوتوں سمیت الٹا لیٹ گیا اور آنکھیں بند کر لی کچھ دیر بعد نیند کی دیوی اس پر مہربان ہو گی اور گہری نیند میں سو گیا دوسری طرف باطشہ اور عشاہ کو بھی حیا بیگم کے بلاوے پر نچے آنا پڑا باطشہ اس وقعت گھیر دار شلوار جس پر شوٹ لال رنگ کی کرتی پہنے سر پر کالے رنگ کا ڈوبٹہ اوڑھے آنکھوں میں کاجل کی لاٸن کھنچے کوٸی مصوم سی گڑیا لگ رہی تھی وہ چہکاتی ہوٸی دادا جی کے گلے لگی اور فرماٸشی پٹارا کھول دیا سید بہرام شاہ کی تو جان تھی اپنی گڑیا میں بشک وہ ابان شاہ سے بہت پیار کرتے تھے پر باطشہ سے کم کیوں کے یہ امینہ اور افرروز شاہ کو شادی کے دس سال بعد پیدا ہوٸی تھی تبھی اس میں سب کی جان تھی دادا جان ہمیں شہر جانا ہے شاپنگ کے لیے اماں ساٸیں نہی مان رہی پلیز داداساٸیں ہمیں جانے کی اجازت چاھے اب تو عشاہ بھی ہمارے ساتھ ہے کس کی اتنی ہمت جو ہماری لاڈلی گڑیا کو انکار کریں ابھی اس کے دادا ساٸیں ہیں اس کی حفاظت کے لیے اس کی ہر فرماٸش کے لیے باطشہ خوش ہو کر دادا ساٸیں کو شکریہ بولتی اتنے میں سوٹ بوٹ میں تیار ابان شاہ بھی سیڑھیوں سے اترتے نچے آتے ایک نظر دادا پوتی کی طرف ڈال کر ڈاٸنگ ڈیبل پر بیٹھ جاتا باطشہ تو ایسے دیکھ کر ہی ٹکٹکی باندھے نظریں اسی کی طرف رکھے ہوۓ آس پاس کا ہوش بھلاۓ ہوتی کے تبھی امینہ بیگم کی آواز آتی تاشی کدھر گم ہو جاٶ ابان بیٹے کے لیے جوس لے کر آٶ اور وہ دل کو سنھبالتی کچن کی اور بڑھ جاتی ...... ___________________ امتثال شاہ آج اپنے دوستوں کے ساتھ ایک کیفٹریا میں بیٹھا ہوتا وہ اور اس کے آورا دوست باتیں کرنے میں مشغول تھے کے اتنے میں ایک لڑکی جو اندر انٹر ہوتی دیکھاٸی دیتی اس نے سفید سمپل سے فراک پہن رکھی ہوتی جس پر بڑی سی چادر اوڑھ رکھی ہوتی ساتھ اس کی دوست بھی ہوتی دونوں دور ایک ڈیبل پر بیٹھ جاتی اور آڈر دیتی امتثال شاہ طنزیہ ان کیطرف دیکھتا اور مسکرا دیتا کچھ سوچ کر اس کی آنکھیں چمک اٹھتی اپنے دوستوں سے معرزت کرتا ان لڑکیوں کی طرف جاتا اور ان کے پاس پہنچ کر جان بوجھ کر گرنے کی اکٹنگ کرتا وہ لڑکی جس نے چادر اوڑھ رکھی ہوتی جلدی سے کھڑی ہوتی اور پوچھتی آپ کو لگی تو نہی اور پکڑ کر سامنے رکھی کرسی پر بیٹھنے کو کہتی وہ بیٹھ جاتا وہ لڑکی ایسے پانی کی بوتل دیتی جیسے پکڑ کر امتثال شاہ پی لیتا اور اس لڑکی کی طرف دیکھ کر بولتا میں پہلی بار دیکھا آپ کو وہ لڑکی جواب نہی دیتی اتنے میں ان کا آڈر آجاتا اور وہ کھانے لگ جاتی امتثال شاہ کواگنور کیے ہوۓ جیسے دیکھ ایسے شدید حیرت کا جھٹکا لگتا ایسا پہلی بار تھا کے کسی لڑکی نے ایسے اگنور کیا ہو اور لڑکی بھی معمولی سی دیکھنے والی اب وہ اس کا بدلہ کیسے لیتا یہ تو وقعت ہی بتا سکتا تھا بدلہ لیتا بھی ہے یا خود ہی بدل جاۓ گا یہ تو خود ایسے بھی اندازہ نہی تھا وہ اٹھ کر بجاۓ دوستوں کے پاس جانے کے کیفٹریا سے باہر نکلتا گیا.....

Post a Comment (0)
Previous Post Next Post