Akhri Ishq Novel by Ayesha Ali - Episode 3 - urdu novels pdf download

 ناول: #آخری عشق

راٹیر: #عاٸشہ علی

قسط نمبر:3

سٹوری:حویلی بیسڈ ایج ڈیفرنس بیسڈ آفٹر میرج لو روڈ ہیرو، بیسڈ رومانٹک

🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋


_________________________

باطشہ نے یونیورسٹی جانا سٹارٹ کر دیا تھا آج بھی وہ

لیٹ اٹھنے کی وجہ سے بنا ناشتہ کیے ہی آ گی تھی امینہ بیگم نے کافی اسرار کیا پر وہ باطشہ ہی کیا جس پر کوٸی بات اثر کر جاۓ پہلے لیٹ اٹھنا پھر بغیر ناشتہ کیا جلدی کا شور کیے ادھر ادھر بھاگتی رہتی ہے

پہلا لکچر ہو چکا تھا ساتھ بھوک کی وجہ سے اس کے پیٹ میں بھی درد شروع ہو چکا تھا وہ کب سے پیٹ کو پکڑے بیٹھی تھی لکچر ختم ہوتے ہی وہ کنٹین بھاگی تاکے کچھ کھا سکے وہ جلدی جلدی بھاگ رہی تھی کے اس کا پیر مڑا اس سے پہلے کے گرتی کسی نے اسیے دونوں کندھوں سے مضبوطی سے تھام لیا تھا وہ جو گرنے کے ڈر سے آنکھیں میچ چکی تھی


جب کافی دیر تک نچے نہی گری تو آہستہ آہستہ ہاتھ ہٹا کر خود کو کسی کی بانہوں میں دیکھا تو کرنٹ کھا کر اچھلی اور دور جا کھڑی ہوٸی

دیکھیں محترمہ دیکھ کر چلا کریں اب روز تو میں تھمنے والا نہی آپ کو اور اگر نچے گر گی تو ہڈی پسلی کا کچومر بن جانا وہ اس کی نازک جان پر چوٹ کرتا بولا

دیکھو مسٹر پہلی بات میری ہڈیوں کا کچور بنے یا سرمہ آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہی اور دوسری بات میں منت نہی کی کے آٶ میں گرنے لگی مجھے گرنے سے بچا لو


جہاں لڑکی دیکھی آ جاتے فلرٹ کرنے وہ تو اس چھوٹی سی دیکھنے والی لڑکی کی قنچی کی طرح چلتی زبان دیکھ کر حیران تھا ابھی جواب میں کچھ بولتا اس سے پہلے ہے باطشہ کنٹین کے اندر انٹر ہو چکی تھی


برگر اور کوک منگوا کر وہ کھانے میں مصروف تھی کے اس کا فون رنگ ہوا دیکھا تو اماں ساٸین لکھا ہوا تھا

اس نے مسکراتے ہوۓ فون اٹھایا اور ماں کو کچھ بولنے دینے سے پہلے ہی بول پڑی ہمیں پتہ ہے کیوں فون کیا کتنی بار بولا ہم نے آپکو اماں ساٸین کے ہم بھوکے تھوڑی رہتے کھا لیتے جب بھی بھوک لگتی ابھی بھی دیکھیں برگر کھا رہے ہیں وہ کیمرہ برگر اور کوک پر مار کر دیکھاتی


کتنی بار بولا یہ باہر کی چیزیں نہ کھایا کر نقصان دیتی پر میری سنتی کب یہ لڑکی


باطشہ مسکرا کر سنتی رہتی اچھا اماں ساٸین ہم کلاس میں جا رہے ہمارے کلاس کا ٹاٸم الله حافظ فلاۓ کس کرتی فون بیگ میں ڈال کر کلاس روم میں چلی جاتی


___________________


ابان شاہ کو آج ایک ضروری میٹنگ اٹینڈڈ کرنے کراچی جانا تھا جس کے لیے وہ صبح سویرے تیار ہو کر ناشتے کے ڈیبل پر موجود تھا ایسا بہت کم ہوتا تھا کے وہ صبح سب کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کرتا ہو


ہاں جی میرے شیر کہاں کی تیاری صبح صبح وہ دادا ساٸیں آج میری ایک کنٹرکٹ کے سلسلے میں کراچی میں میٹنگ ہے بس وہی جا رہا ان شاء اللہ رات تک واپسی ہوگی اچھا اچھا اللّہ کامیاب کریں میرے شیر کو


وہ سنجیدہ سا بیٹھا دوبارہ ناشتہ کرنے لگ جاتا باقی سب بھی ڈاٸنگ ڈیبل پر آجاتے


وہ ناشتہ کر کے سب کو الله حافظ بولتا گاڑی میں بیٹھ جاتا اور ڈراٸیور کو ایرپوٹ جانے کا بولتا ڈراٸیور سر ہلا کر گاڑی چلانے لگ جاتے


تقربن بارہ بجے ان کی مٹینگ تھی جو کے بہت اچھی رہی اور کنٹرکٹ شاہ انڈسٹری کو مل چکا تھا جس پر پچھلے دوسالوں سے ابان شاہ محنت کر رہا تھا آخر آج ایسے محنت کا صلہ مل چکا تھا وہ گلاسسز لگاۓ مٹینگ حال سے نکلتا اور گاڑی میں بیٹھ کر اپنے دوست تابش کے پاس ملنے چلا جاتا جو کے کراچی میں ہی رہتا تھا


طابش اور ابان شاہ کی دوستی ایک بزنس مٹینگ میں ہی ہوٸی تھی جو اب ایک دوسرے کی جان جگر بن چکے تھے ابان شاہ تابش کے ساتھ ہوتے بالکل اٹھارہ سال کا نوجوان ہی بن جاتا تھا ابھی بھی وہ تابش کے ساتھ ہنسی مزاق میں مصروف تھا اگر اتنا ہنستے ہوۓ باطشہ ایسے دیکھ لیتی تو شاہد صدمے سے ہی مر جاتی کیوں کے باطشہ کی ہسٹری میں ابان شاہ مسٹر کھڑوس اور ظالم دیو ہی تھا جیسے خون پینے کے علاوہ کچھ نہی آتا

تابش بھابھی کی سنا کیسی ہے اور تیری کافی کلاس لگتی بھابھی کے ہاتھوں یا ابھی سکون ہے تابش کی شادی حال ہی میں ہوٸی تھی تبھی ابان ایسے چھیڑ رہا تھا


بیٹا کر لے مزاق جب تیرا ٹاٸم آیا جب پوچھوں گا کب تک آزادی سے رہے گا اب کی بار میں حویلی آیا تو دادا جی سے تیری شادی کی سفارش ضرور کرو گا


آخر کب تک کنوارہ رکھنا تجھے

کیوں تجھ سے میری آذادی برداشت نہی ہو رہی نہی ہو رہی تبھی تو بول رہا توں بھی شادی کا لڈو کھا لے


کافی دیر یوں مزاق مستی کرتے ٹاٸم کا پتہ نہی چلا اب وہ تابش سے اجازت لیتا واپسی حویلی کے لیے نکل پڑا تھا


حویلی پہنچتے ایسے کافی لیٹ ہوگی تھی دادا ساٸیں کو فون پر لیٹ آنا کا بول چکا تھا ایسی لیا اب وہ گھر آیا تو لال حویلی کے مکین اپنے اپنے کمروں میں سکون کر رہے تھے وہ بھی اپنے کمرے کی طرف چل پڑا ابھی وہ پہلی سیڑھی پر پاوں رکھتا ہی کے ایسے نسونی چیخ کی آواز آٸی اس نے مڑ کر آواز کی سمت دیکھا تو


آواز کچن سے آ رہی تھی وہ الٹے پاوں کچن کی طرف گیا


وہاں دیکھا تو باطشہ شلیف کے پاس کھڑی رونے میں مصروف تھی اور چاۓ والی پیتیلی الٹی چولہے پر پڑی اپنی قسمت کو رو رہی تھی


ابان نے اگے بڑھ کر چولہے کا بٹن اوف کیا اور ایک نظر باطشہ کے جلے ہاتھ کو دیکھا جیسے معاملہ سمج رہا ہو اور جب سمج آٸی تو سر نفی میں ہلاتا باہر کو نکلا جیسے اس لڑکی کا کچھ نہی ہو سکتا


کچھ سکینڈ بعد وہ دوبارہ کچن میں آیا تو باطشہ ابھی بھی رونے کا شغل فرما رہی تھی


وہ اس کی کلاٸی پکڑ کر باہر لے کر آیا ایسے صوفے پر بیٹھا کر اس کے جلے ہاتھ پر ٹیوب لگاٸی اور بولا جب کام ہوتے نہی تو کرنے کیوں جاتی ہو


یہ بولتا اوپر اپنے کمرے میں چلا جاتا پچھے باطشہ سوں سوں کرتی رہتی


__________________


محنوس ماری کب تیرے کام ختم ہو گے جا دفعہ ہو جا میری نظروں سے پیدا ہوتے مر کیوں نہی گٸی تو میری زندگی خراب ہو گی تیری وجہ سے

وہ آپنے آنسو پیتی یہی سوچتی رہی کوٸی ماں اپنی سگی اولاد کے ساتھ ایسے کیسے کر سکتی پر یہ منحوس کا لفظ تو اس نے ہوش سنھبالتے ہی سننتی آرہی تھی اب تو عادی ہو چکی تھی

شاہد کب سے مر جاتی اگر اپنے بابا کا خیال نہ ہوتا تو


کینسر جیسی بیماری میں مبتلا تھا اسیے اپنی بیٹی کا دکھ نظر آتا تھا پر وہ کر بھی کیا سکتا تھا اس کی ماضی میں کی گٸی ایک غلطی نے اس کو نہ صرف اپنوں سے دور کیا بلکے ساری زندگی کے لیے خود کو پچھتاوں کی نظر بھی کر دیا تھا


دوسری طرف امتثال شاہ رات سونے کے لیے جب اپنے بیڈ پر لیٹا تو اس وہ کفٹیریا والی لڑکی آنکھوں کے سامنے آ گی اس کا مصوم سا چہرہ آنکھوں میں ناچتی مصومیت کالی بڑی چادر میں وہ شوٸی موٸی سی لڑکی وہ جس امتثال شاہ کے حواسوں پر سوار ہو رہی تھی وہ ایک دم اچھل کر بیٹھا یہ مجھے کیا ہو رہا میں کیوں اس عام سی لڑکی کے بارے میں سوچ رہا امتثال شاہ کے اگے پیچھے لڑکیاں گھومتی تھی پر اس لڑکی نے اس کی طرف نظر بھر کر دیکھنا بھی گوارہ نہی کیا تھا وہ اس کی مردانگی کو کہی نہ کہی چوٹ پہنچا گٸی تھی


(یہ بات حققت ہے مرد کی انا پر کاری وار ہوتا جب کوٸی لڑکی ایسے مرد کو اگنور کریں جس کے اگے پچھے ہزاروں لڑکیاں مکھیوں کی طرح بھنبناتی ہوں اور ایک عام سی لڑکی اس کی طرف دیکھنا بھی گوراہ نہ کرتی ہو ضروری تو نہی ہر لڑکی دل پھنک ہو کچھ لڑکیاں اپنے آپ کو اپنے محرم کے لیے بھی سنج سنج کر رکھتی ہیں)


کچھ تو بات ہے اس لڑکی میں ایسے ہی ذہن پر سوار نہی ہو رہی چیک تو کرنا پڑے گا وہ کمینی ہنسی ہنستا ہوا خود سے بولا اور منہ پر تکیہ رکھ کر سونے کی کوشش کرنے لگ جاتا


___________________


انوشے کی کچھ دوست اس سے ملنے چھوٹی حویلی آٸی ہوٸی تھی وہ سب ڈراٸنگ روم میں بیٹھی باتیں کرنے میں مشغول تھی کے عشاہ جو یونی سے آکر بنا کچھ کھاۓ سو گی تھی وہ اٹھ کر نچے آتی


اماں ساٸین بھو.....

ابھی وہ مزید کچھ بولتی کے سامنے اتنی عورتوں کو دیکھ خفگی کا شکار ہو جاتی وہ ایسے

بنا فریش ہوۓ بغیر ڈوپٹے کے کھڑی تھی


ہوش آتے وہ بنا سلام کیے اوپر کی اور بھاگ جاتی انوشے تھماری بیٹی تو ماشاءاللہ بہت پیاری اور جوان ہو گی ہے رافیہ انوشے کی کالج کی دوست بولتی کہی رشتہ طے کیا کے نہی


ابھی تو نہی کیا ابھی تو صرف اٹھارہ سال کی ہے ابھی تو اس کی شادی کا نہی سوچا


ویسے بھی پہلے امتثال بیٹے کی شادی ہو گی اس کے بعد عشو کا بھی سوچ لیں گے


اتنی دیر میں ملازمہ کھانے کا بولتی اور سب کھانا کھانے ڈاٸنگ ڈیبل پر چلی جاتی


ابھی کچھ دیر پہلے ہی انوشے شاہ کی دوستیں اپنے گھروں کو گٸی تھی ملازمہ سے بول کر انوشے ساری صفاٸی دوبارہ کروا رہی تھی کے اتنے میں اس کا فون رنگ ہوا

ہیلو پھوپھو کسی ہیں آپ


میں ٹھیک تاشی بات کرنے سے پہلے سلام بولتے


سوری پھوپھو اسلام و علیکم


وعلیکم سلام 😍۔۔

پھوپھو عشو کدھر ہے کب سے فون کر رہی میرا فون نہی اٹھا رہی میری بات کروا دیں عشو سے اچھا روکوں میں کرواتی بات جی اچھا


عشو بچہ آپ تاشی کی کال کیو نہی سن رہی اس نے میرے فون پر کال کی سوری اماں ساٸیں فون ساٸلنٹ پر تھا


اورپھر فون لے کر بات کرنا شروع ہو جاتی جہاں ان کی نہ ختم ہونے والی گفتگو شروع ہو چکی تھی


انوشے دوبارہ ملازمہ کی طرف بزی ہو گی ....


__________________

 

بہرام شاہ اس ٹاٸم مردان خانہ میں بیٹھا تھا اس سے ملنے دوسرے گاوں کا سردار وریام شاہ آیا ہوا تھا بشک دو گاوں کے دو سردار تھے...


 پر دونوں میں بالکل اپنوں سے بڑھ کر پیار تھا کسی ایک پر مشکل آتی تو دونوں گاوں کے لوگ اور سردار مل کر اس مشکل کا سامنا کرتے تھے..


 اس لیے ان کے دشمن بھی اس سے پنگا لینے کا سوچنے سے پہلے سو بار سوچتے تھے ویارم شاہ بہرام شاہ کا چچا ذاد تھا اس وقعت ان کا موضوع وہ لڑکا تھا :

وہ بہرام شاہ کے گاوں کے مزدور کی بیٹی کو اٹھا کر لے گیا تھا اس کی بیٹی تو بہرام شاہ نے صیح سلامت لا دی تھی پر وہ لڑکا اس کا کچھ پتہ نہی تھا ایسے زمین کھا گی یا آسمان نگل گیا ..

اس کے گھر والے وریام شاہ کے پاس آۓ تھے کے ہمیں ہمارا بیٹا واپس کروا دیں اس سے غلطی ہو گی دوبارہ وہ ایسی حرکت نہی کریں گا وریام شاہ نے پہلے پہل تو ان کی بات ہوا میں اڑا لکین اج اس لڑکے کی ماں آٸی تھی..

 اس کا ایک ہی بیٹا تھا چار بیٹوں کے بعد اس نے بہت ترلے منتیں کی جبھی آج مجبور ہو کر وریام شاہ بہرام شاہ کےپاس ماجود تھا ساری بات سن کر بہرام شاہ نے کہا اس نے جو حرکت کی اس کی سزا تو لازمی ملے گی پر ایک شرط پر معافی مل سکتی اور وہ شرط یہ ہے کے ایسے رانی سے شادی کرنی ہو گی ....

کیوں کے بشک وہ بچی پاک دامن ہے پر یہ بات ہم جانتے باقی لوگ نہی اس لیے جیسے ایسے داغ دار کیا ویسے داغ صاف کرنا ہو گا .....


میری بات منظور ہو تو اگلے ہفتے نکاح کے لیے میرے گاوں بارات لےآنا بھلا اس سے اچھی بات کیا ہو سکتی وریام شاہ اجازت لیتا اپنے گاوں واپس جا چکا تھا..


 اور بہرام شاہ ملازم کو حقہ گرم کرنے کا بول کر آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا ......


___________________

Post a Comment (0)
Previous Post Next Post