ناول: #آخری عشق
راٹیر: #عاٸشہ علی
#قسط نمبر:4
#سٹوری:حویلی بیسڈ ایج ڈیفرنس بیسڈ آفٹر میرج لو روڈ ہیرو، بیسڈ رومانٹک
🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋
_________________________
حسالہ کو آج کالج سے لیٹ ہوگی تھی اور وہ کب سے سٹاپ پر کھڑی بس یا رکشے کا انتظار کر رہی تھی پر آج کچھ بھی نہی آ رہا تھا نہ کوٸی بس نہ رکشہ کالج تین میل دور تھا وہ حسالہ جیسی نازوک گڑیا جیسے چل کر جانا آسان نہی تھا پر مرتی کیا نہ کرتی مجبور ہو کر پیدل ہے چل پڑی وہ کافی دیر سے چل رہی تھی پر کالج ابھی کافی دور تھا اب تو اس کا سانس پھولنے لگ گیا تھا حجاب کی وجہ سے مسلسل پسینہ بہہ بہہ کر سارا حجاب گیلا ہو چکا تھا وہ ایک جگہ روک کر بیگ سے پانی کی بوتل نکال کر ایک ہی سانس میں آدھی پی چکی تھی ....
اس سے پہلے کے وہ بوتل دوبارہ بیگ میں رکھتی اس کے سامنے کالے رنگ کی BMW آکر روکی وہ خوف سے سہم گی تھی اس سے پہلے کے وہ بھاگتی اس میں سے امتثال شاہ اپنے بھرپور وجاہت کے ساتھ باہر نکلا جس نے بروان کلر کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی کندھے کی ایک ساٸیڈ پر کالے رنگ کی شال ڈال رکھی تھی وہ حسالہ کے سامنے آیا تو ایک نظر میں ہی پہچان گیا تھا وہی تو تھی جس نے اس مغرور انساں کی راتوں کی نیند اڑا رکھی تھی ابھی بھی وہ خوف سے بڑی بڑی آنکھیں نکالیں ایسے دیکھ رہی تھی
یہ منظر سامنے والے کوکتنا بہا رہا تھا کوٸی اس ٹاٸم امتثال شاہ سے پوچھتا
کہاں جانا بیٹھوں میں چھوڑ دو
وہ ٹس سے مس نہی ہوتی وہ خو کو اگنور کیے جانے پر غصہ سے تپ جاتا پر اس نازوک گڑیا کی حالت اس لاٸق نہی تھی ابھی کے وہ اس کا غصہ سہہ سکتی اس لیے تحمل سے بات کرنے کی کوشش کی
چلو میں چھوڑ دیتا ہو کہاں جانا صرف انسانیات کے ناتے بول رہا ڈرو نہی اتنی بھی خوبصورت نہی ہو کے تم پر دل ہارا جاۓ (وہ الگ بات تھی دل تو جس دن سے پہلی بار دیکھا تب ہی ہار چکا تھا )
کالج بھی جانا ضروری تھا اس لیے وہ بنا بحث کیے گاڑی میں بیٹھ کی اور امتثال شاہ فرنٹ سیٹ کر دروازہ کھول کر بیٹھ گیا اور ان کے بیٹھتے ہی ڈارٸیور زن سے گاڑی بھگا کر لیا گیا پندرہ منٹ بعد وہ کالج کے گیٹ کے سامنے تھی وہ گاڑی سے نچے اتری اور بنا کچھ بولے اندر کی اور بڑھ گی
مقابل کے غصے کو مزید ہوا دیں کر جب تک وہ کالج گیٹ سے اندر نہی گٸی امتثال شاہ کی گاڑی وہی روکی رہی اس کے اندر جاتے وہ بھی گاڑی واپس موڑ اپنے کام کی اور بڑھ گیا
________________
بہرام شاہ کے وعدے کے مطابق ایک ہفتے بعد ویارم شاہ کے گاوں سے بارات آ چکی تھی رانی کو دلہن بنا کر عزت سے بیا دیا گیا تھا پہلے تو زوایار (جس نے بہرام شاہ کے گاوں کی لڑکی کو زبدستی اغوا کیا تھا) بہرام شاہ نے آپنے آدمیوں سے خوب خاطر توازہ کی پھر اس سے وعدہ لیا کے رانی کو کبھی کوٸی دکھ نہی ملنا چاھے ورنہ دوبارہ معافی کے قابل نہی رہوں گے
اس کے ساتھ اتنا برا ہو چکا تھا اب رانی تو کیا وہ کبھی کسی اور کو بھی دکھ دینا کا سوچے گا بھی نہی
اگر سربرا بہرام شاہ جیسا ہو تو کوٸی لڑکی بنا کچھ غلط کیے کی کبھی سزا نہ بھگتے ہمارے ہاں ایسا ہی تو ہوتا غلطی چاھے لڑکے کی ہو پر اس کی سزا لڑکی کو بھگتنا پڑتی ساری عمر پتہ نہی ہمارا معاشرہ لڑکی پر یقین کیوں نہی کرتا ہمشہ غلطی لڑکی کی تو نہی ہو سکتی کبھی مرد بھی حد سے بڑھ جاتا پر وہ مرد اسے کیا پوچھ گوچھ ہو گی سوالوں کے کہڑے میں تو لڑکی کھڑی ہوتی ....
رانی عزت سے رخصت ہو چکی تھی اپنے سسرال اور بہرام شاہ نے خود شرکت کی تھی شادی میں رانی کے ماں باپ تو دعاٸیں دیں دیں کر نہی تھک رہے تھے
آخر بہرام شاہ نے ان کی پھول جیسی بیٹی کو رولنے سے جو بچا لیا تھا نہی تو نا جانے رانی کی قسمت کیسی ہوتی .....
__________________
باطشہ نے یونی سے گھر آ کر فریش ہوٸی نماز پڑھی اور کھانا کھانے نچے چلی گی وہ سیڑھیاں اتر ہی رہی تھی کے دوسری طرف سے ابان شاہ جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا دونوں کی ٹکر لگتی اور باطشہ کا پیر سیلپ ہوتا وہ نچے گرنے ہی لگتی کے ابان ایسے مضبوطی سے تھام لیتا ہے وہ سہم کر بے خودی میں اس کے سینے لگ جاتی دل کی ڈھرکنیں تو دونوں طرف دھک دھک کر رہی ہوتی
پر ابان شاہ جلد ہی خود پر کنڑول کر لیتا اور بولتا دیکھ کر نہی چل سکتی ہمشہ ہواٸی گھوڑے پر سوار رہتی ہو
وہ جو اس کی پرفیوم کی مہک میں گم اس کے سینے سے لگی اور ہی دنیا میں پہنچی ہوتی اس کی بات سن کر ہوش میں آتی اور بولتی ہمیں تو جلدی نہی اگر ہم نہی دیکھا تو آپ تو دیکھ سکتے تھے
وہ غصے سے لب بھنچ جاتا اور بولتا کتنی بار بولا میرے منہ نہ لگا کرو پھر بار بار سامنے آ جاتی ہو کبھی کبھی تو مجھے لگتا تم یہ سب ناٹک جان بوجھ کر کرتی ہو اور وہ تو حیران رے جاتی اس کی الزام سن کر
اور چھوٹی سی ناک پھولا کر بولتی ہمیں بھی شوق نہی مسٹر کھڑوس پلس جلاد کے راستے میں آنے کا کسی خوشفھمی میں مت پڑے مسڑ کھڑوس ::::
ابھی وہ دونوں لڑ ہی رہے تھے کے دادا ساٸیں کی گرجدار آواز سن کر دونوں اپنی اپنی جگہ سیدھے کھڑے ہو جاتے
تم دونوں کا بلی چوہے کا کھیل بند کیوں نہی ہوتا جب دیکھوں ایک دوسرے کو نوچنے کی کوشش میں لگے رہتے ہو ابان شاہ آپ تو بڑے سمجدار ہو یہ تو بچی ہے آپ ہی سمجداری دیکھایا کریں وہ کچھ بہی بولے بنا اوپر چلا جاتا اور باطشہ دادا ساٸیں کے پاس جاتی اور بولتی سوری دادا ساٸیں ابان ساٸیں کی غلطی نہی ہم ہی دیکھ کر نہی چل رہے تھے....
ہمشہ کی طرح آج بھی الزام اپنے سر لے لیا تھا وہ خود جو مرضی بولتی ایسے پر کسی کو بھی اپنے ساٸیں کے خلاف بولنے نہی دیتی تھی
ابان شاہ کمرے میں آ کر غصے سے کوٹ بیڈ پر پھنکا اور فریش ہونے واشروم چلا گیا اندر جا کر ٹھنڈے پانی کے چھنٹے مارنے لگ جاتا ہے ایسا عمل خود کا غصہ کنٹرول کرنے کے لیے کرتا تھا
پندرہ منٹ بعد جب وہ آٸینے کے سامنے آیا تو خود کو کافی حد تک پرسکون کر چکا تھا
وہ باطشہ کو شروع سے ہی پسند نہی کرتا تھا جب یہ پیدا ہوٸی تب سے دس سال کا تھا اس کی پیداٸش کے دس سال بعد کوٸی بچہ لال حویلی میں پیدا ہوا تھا وہ بھی لڑکی تو سب کی جان بسنے لگ گی تھی اس ننھی پری میں پر اس بیچ ابان شاہ کو یوں محسوس ہونے لگا جیسے باطشہ کے آنے کے بعد اس سے حویلی والے پیار نہی کرتے ایسے ساری غلطی بس ننھی پری کی لگتی تھی جو اس عمر تک پہنچ کر بھی اپنے دل سے خلش مٹا نہی پا رہا تھا جو اس کے پیار میں حصے دار بنی تھی .......
__________________
حیا بیگم اور امینہ رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی باطشہ اپنی پڑھاٸی کر رہی تھی جب کے مرد حضرات مردان کھانے میں تھے لال حویلی کے سارے مرد کھانے کے ٹاٸم ہی زنان خانے آتے تھے
ابان شاہ کسی پاٹنر کی طرف دعوت پے گیا تھا ویسے تو ایسے یہ سب کرنا فضول لگتا تھا پر کبھی کبھار انسان اپنے فاٸدے کے لیے وہ کام بھی کر جاتا ہے جس کا اس نے عام حالات میں سوچا نہی ہوتا
باطشہ بھی نچے آ چکی تھی اور آتے ہی کچن میں کھڑی حیا بیگم کے گلے میں بانہیں ڈال کر پوچھی تاٸی ساٸیں کھانے میں کیا بنا رہی آج مٹن کڑاٸی کباب سفید چاول اور راہتہ ساتھ کڑی بناٸی
واہ مطلب آج تو کھانے میں مزا ہی آ جانا کڑی چاول نام سنتے اس کے منہ میں پانی بھر آتا تھا
بس کریں بھابھی اس کے نکھرے نہی اٹھایا کریں خود سے تو اٹھ کے پانی نہی پی سکتی اور فاماٸشں سن لو مہارانی کی
باطشہ ہونٹ پھیلا کر آنکھوں میں نہ آنے والے آنسو پونچنے لگ جاتی ارے امنیہ کتنی بار کہاں میری بچی کو کچھ نہ کہا کر اس کی فرماٸشیں پوری نہی کرنی تو کس کی کرنی ایک ہی تو گڑیا ہماری اور باطشہ ماں کوزبان دیکھا کر تاٸی کے گلے لگ جاتی ......
_________________
امتثال شاہ آج پھر کلب میں بیٹھا حرام مشروب بھی رہا تھا ساتھ اس کے اس جیسے لفنگے دوست بھی تھے جو لڑکیوں کو تاڑنے اور اپنی حواس بجھانے کے چکر میں تھے
وہ سب باتوں میں بزی تھے کے اتنے میں ایک لڑکی جس نے بیہودہ لباس پہن رکھا تھا ہاتھ میں شراب کا گلاس پکڑ رکھا تھا پاوں میں اونچی پنسل ہیل پہنی ٹک ٹک کرتی امتثال شاہ کے پاس آتی اور اس کے سامنے جھک کر اس کے کان کے پاس اپنے لب رکھتی اور بولتی ہاۓہیندسم یو آر سو سویٹ
کیا تم میرے ساتھ رات کے حسین پل بیتانا چاٶ گے امتثال شاہ جو اس کی خوبصورتی میں گم تھا اچانک اس کی آنکھوں کے سامنے کالی چادر میں لپٹی دو آنکھیں لہراتی اور وہ ایک دم کھڑا ہو جاتا اس کا جی گبھرانے لگ جاتا اس ماحول سے وہ خود بھی اپنی کفیت نہی سمج پا رہا ہوتا کے اس کے ساتھ ہو کیا رہا
اس کا ایک دوست بلال اس کے پاس آتا اور بولا شاہ تم ٹھیک تو ہو کیا ہوا اچانک سے کچھ نہی مجھے میری طبیت ٹھیک نہی لگ رہی میں گھر جا رہا فریش فیل کروں گا وہ بنا جواب سنے اپنی BMW میں بیٹھ کر گاڑی گھر کے راستے موڑ لیتا
گھر آکر وہ سیدھا روم میں جاتا اور گرنے کے انداز میں بیڈ پر لیٹ جاتا اور آنکھیں بند کر لیتا دل تھا کے بے چین ہوا پڑا تھا
ایسا تو نہی تھا کے وہ پہلی بار کلب گیا یا پہلی بار کسی لڑکی سے ایسی گفتگو ہوٸی نا جانے کتنی لڑکیاں اس کے بستر کی زینت بن چکی تھی کبھی ایسی حالت نہی ہوٸی جیسے آج تھی
فلحال وہ کچھ نہی سوچنا چاہتا تھا اس لیے پرسکون ہونے کے لیےنیند کا آنا ضروری تھا
اور پھر کہتے ہیں نہ کے نیند تو سولی پر بھی آ جاتی یہ تو پھر مخملی بستر پر تھا کیسے نہ نیند مہربان ہوتی .....
__________________
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
پیارے شونے مونے آخری عشق کے ریڈرز ناول کیسا لگ رہا
کون سا کردار اچھا لگ رہا لازمی بتانا
اور گیس کریں کس کی جوڑی کس کے ساتھ ہوگی🤭🤭🤭🤭