﷽
#ناول: #آخری عشق
#راٹیر: #عاٸشہ علی
#قسط نمبر:_6___5
#سٹوری:حویلی بیسڈ ایج ڈیفرنس بیسڈ آفٹر میرج لو روڈ ہیرو، بیسڈ رومانٹک
🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋
_________________________
یہ منظر لاحویلی کے مردان خانہ کا تھا جہاں ایک بہت بڑی پنجایت اکھٹی ہوٸی تھی
جس میں سرداری کیسی زمیدار انساں کو سونپی جانی تھی جیسا کے اب تک ترچٹی گاٶں کا سردار اب تک سید بہرام شاہ تھا جس کے ہوتے کبھی کسی غریب کے ساتھ نہ انصافی نہی ہوٸی تھی نہ کبھی کسی کو کبھی اپنے سردار سے کسی قسم کی شکایت ہوٸی تھی اس لیے پورے گاوں اور پنجایت میں اکھٹے ہوۓ بڑے بزرگوں نے فیصلہ سید ابان شاہ کے حق میں دیا تھا
سرداری کا اعلان تو پنجایت میں ہو چکا تھا پر رسم کل کے دن کے لیے رکھی گی تھی
حویلی میں سب لوگ بہت خوش تھے خاص کر دادا جی جن کی دلی خواہش تھی کے ان کے بعد اگلے سردار سید ابان شاہ ہی بنے کیوں کے ان کو ابان شاہ میں اپنی پرچھاٸی نظر آتی اور ان کو یقین تھا کے ابان شاہ سرداری کے اصولوں کو اچھے سے نبھا سکتے ہیں ....
ابان شاہ آفس میں بیٹھا ضروری فاٸل دیکھ رہا تھا کے اس کے فون پر رنگ ہوٸی فون اٹھا کر دیکھا تو تابش کی کال تھی
ہیلو سید ابان شاہ سے بات ہو سکتی ہے مصروف بندہ ہے ظاہر سے بات اجازت بھی تو لینی پڑتی ہم غریبوں کو وہ اپنی عادت کے مطابق کچھ بھی سنے بغیر بولنا شروع ہو تھا
خیر آج کیسے یاد کر لیا ہمیں تابش حسین نے ابان شاہ اس کی باتوں کو نظر انداز کریں بنا اپنا سوال داغ دیتا بس یار فری تھا سوچا آج اپنے جگر کے ٹوٹے کو تھوڑا تنگ کر لیا جاۓ ۔۔۔
اچھا جی لگتا بھابھی میکے میں ہے تبھی جناب کو آج ہماری یاد آٸی اس کی بات سن کر تابش زور کا قہقہ لگاتا سیریس لی یار بالکل صیح اندازہ لگایا توں نے
ابان شاہ کو ایسے فرینک ہو کر اگر کوٸی آفس ورکر دیکھ لیتا تو وہ بچارہ صدمے سے ہی مر جاتا کے ان کا بوس کسی سے ہنس کر بات بھی کر سکتا ہے
اچھا یار میں کال اس لیے کی وہ سنجیدہ ہوتے بات کا آغاز کرتا
وہ ملک شہریار کے ساتھ مٹینگ کب رکھنی ہے
اس کیس کو جلدی حل کریں تاکے اس کو کسی ٹھکانے لگاۓ ۔۔
ابھی ایک دو دن میں حویلی بزی ہوں فری ہو کر اس کی نہیا بھی پار لگاتے ابان شاہ بولتا
اچھا ٹھیک ہے لکین اس بار ہمیں احتیاط زیادہ کرنی ہو گی پچھلی بار کی طرح کوٸی گربڑ نہ ہو فکر نہ کر جگر دے ٹوٹے تابش حسین نے اس بار پکا کام کیا ملک شہریار تو کیا اس بار اس کا باپ بھی نہی بچ سکتا
(سید ابان شاہ اور تابش حسین
نے اپنی خود کی ایک ٹیم ورک تیار کر رکھی تھی ایسے لوگوں کو پکڑنے کے لیے جو ملک کے غدار تھے جوان لڑکیوں کو اغوا کرنا ان پر تشدد کرنا اور باہر کے ممالک میں اسمگلگ کرنا ان سب کاموں میں ملوث ہوتے تھے اور اجکل ان کا ٹارگٹ ملک شہریار تھا جو بظاہر تو بزنس مین تھا پر اندر ہی اندر کالے دھندوں میں بھی ملوث تھا جس کا بہت جلدی کام تمام ہونے والا تھا)
___________________
آج کا دن لال حویلی کے مکینوں کے لیے خوشیوں کا دن تھا کیوں کے آج اس گھر کا اکلوتا چشم و چراغ سرداری کے عودے پر فاٸز ہو رہا تھا
سید ابان شاہ سیڑھوں سے نچے اتر رہا تھا کے حیا بیگم کی نظر اپنے پیٹے پر بڑی تو منہ سے ماشاءاللہ نکل آیا جس نے براون کلر کا کاٹن کا سوٹ ہاتھ میں خوبصورت سلور کلر کی گھڑی اور پاوں میں پشاوری چپل پہن رکھی تھی کالے گھنے بال جو ہمشہ کی طرح جل سے سیٹ کر رکھے تھے ساتھ براون کلر کی شال داٸیں کندھے پر ڈال رکھی تھی وہ اپنی پوری وجاہت کے ساتھ شان سے نچے اترتا آ رہا تھا
حیا بیگم کے علاوہ بھی کوٸی تھا جس نے اپنے کھڑوس پلس جلاد کو دیکھ کر دل میں واری صدقے ہو رہی تھی جس کو دیکھتے ہی وہ مصوم سی لڑکی اپنے دل کو کانوں میں ڈھرکتا محسوس کر رہی تھی
سید ابان شاہ مسکراتا ہوا اپنی ماں کے پاس آیا ان کا ہاتھ پکڑ کر عقدت سے چوم کر باری باری دونوں آنکھوں سے لگایا حیا بیگم تو نم آنکھوں سے بیٹے کو تکتی جا رہی تھی
پھر اپنی چھوٹی امی کے پاس آیا امینہ بیگم نے مسکرا کر پیار دیا اور ڈھیروں دعاٸیں لیتا وہ
مردان خانہ چلا گیا جہاں دادا ساٸیں ایسی کا انتظار کر رہا تھا
ابان شاہ اور دادا ساٸیں ایک گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوۓ جہاں سرداری کی رسم تھی اور پیچھے دوگاڑیاں گاڈز کی بھی روانہ ہو چکی تھی
کچھ دیر بعد وہ پنڈال میں پہنچ چکے تھے وہاں پورا گاوں اور معزز بزرگان ان کا ہی انتظار کر رہے تھے پہلے دادا ساٸیں گاڑی سے اترے اور پھر دوسری ساٸیڈ سے وہ خوبصورت شہزادہ اترا:::
ان کے پہنچتے ہی رسم کا آغاز ہو چکا تھا سردار بہرام شاہ نے اپنی پگڑی اتاری اور وہی پکڑی ابان شاہ کے سر پر سجا دی گٸی تھی اور ایک خوبصورت سی شال ابان شاہ کے کندھے پر اوڑھی گی ابان شاہ دادا ساٸیں کے گلے لگا دادا جی نے ایسے ڈھیروں دعا دی اس کے بعد ابان شاہ سب سے مخطیب ہوا
میں سید ابان شاہ والد سید اسرار شاہ آج حلف دیتا ہوں کے جیسے آج تک اس گاٶں کے ہر انسان کی حفاظت اور ضرورت کا خیال میرے دادا ساٸیں یعنی کے سید بہرام شاہ نے رکھا بالکل ویسا ہی میں رکھو کا میرے گاوں کا بچہ بچہ اپنا روشن مستقبل سنوارے گا اس کی شروعات میں گاوں کے اسکول سے کروں گا جو مٹیرک سے اب کالج میں تبدل ہو گا جس سے میری وہ بہنیں جو اگے پڑھنا چاھتی پر کسی نہ کسی روکاوٹ سے پڑھ نہ سکتی ہو وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکے کالج کا کام جلد ہی شروع ہو جاۓ گا
اور سب کو سلام کرتا داداساٸیں کے ساتھ جا کر بیٹھ جاتا جہاں دادا ساٸیں ایسے سرداری کے معمالات ڈسکس کرنے لگ جاتے
گاوں والے بھی آہستہ آہستہ اپنے گھروں کو چلے جاتے وہ بہت خوش تھے جو ان کو سید ابان شاہ جیسا سردار ملا جس نے سردار بنتے ہی ان کی بچیوں کی خواہش پوری کر دی تھی ::
_________________
حسالہ روز کی طرح آج بھی فجر میں اٹھ چکی تھی وضو بنا کر نماز کے لیے کھڑی ہوٸی نماز پڑھ کر جیسے ہی دعا کے لیے ہاتھ اٹھاۓ تو آنسو نکلنا شروع ہو چکے تھے
الے اللّہ توں جانتا ہے میرا آپ یہاں بابا کے علاوہ کوٸی نہی ہے ماں ہے جس کو اپنے علاو کبھی کوٸی نظر نہی آیا میرے بابا کو صحت تندرستی دیں
اے اللّہ میرے بابا کا سایہ میرے سر پر قاٸم رکھ توں تو سب کی سنتا ہے میری بھی فریاد سن لے میرے مالک اور ساتھ ھے پھوٹ پھوٹ کے بچے کی طرح رو پڑی
(بیٹیوں کے لیے باپ ایک ایسا گھنے سایہ دار والا درخت ہے جس کی چھاوں میں بیٹی اپنا ہر دکھ درد بھول جاتی ہے
بیٹے تو پاس ہو کر بھی ماں باپ کا خیال نہی رکھتے جب کے بیٹیاں دور ہو کر بھی ماں باپ کا خیال کرنا نہی بھولتیں::::
✍🏻ہمت شفقت چاہت قربانی
یکجا لکھوں تو بابا جانی🌹)
وہ دعا مانگ کر مصلہ اٹھا کر الماری میں رکھتی اور پھر بابا کو بھی وضو کروانے کی غرض سے ان کے کمرے کی اور بڑھ جاتی ہے
جا کر دیکھتی تو بابا اٹھے ہوتے وہ ان کے لیے واشروم سے ٹپ میں پانی ڈال کر لے آتی پھر خود وضو کرواتی اور وہ نماز ادا کرنے لگ جاتے
اتنی دیر میں حسالہ ان کے لیے ہلکا پھلکا ناشتہ بنانے کچن میں چلی جاتی ناشتہ بنا کر ٹرے میں رکھ کے بابا کے روم میں آتی ان کو ناشتہ کرواتی خود بھی کرتی اور پھر جلدی جلدی باقی کام نپٹاتی ہے کیوں کے آج بابا کو لے کر ڈاکٹر کے ہاں جانا تھا
تقربن دس بجے وہ ڈاکٹر کے کیبن میں بیٹھی تھی بابا کا چیک اپ ہو چکا تھا بلیڈ ٹیسٹ بھی ہو چکا تھا آدھے گھنٹے بعد ریپورٹ ملنی تھی
ابھی وہ اپنے بابا کے لیے جوس لینے کنٹین میں جا رہی تھی کے اچانک کسی سے ٹکرا گی سامنے والے کے ہاتھ سے فاٸل نچے گر کر پیپر بکھر چکے تھے حسالہ سوری بولتی ساری پیپر اکھٹے کر کے بہرام شاہ کو پکڑانے اٹھتی تو جیسے بہرام شاہ کی نظر حسالہ پر پڑتی تو برسوں بعد ایسے اپنا بیٹا ابرار شاہ کی یاد آتی اس بیچ حسالہ وہاں سے جا چکی ہوتی وہ بھی سر جھٹکتے اندر کی اور بڑھ جاتےہ
ریپورٹ آچکی تھی
دیکھیں بیٹا میں پہلے بھی یہ بات کی تھی اگر کینسر کا شروع میں مکمل علاج ہو جاۓ تو ابرار صاحب ممکل ٹھیک ہو جاٸیں کے ریپورٹ سے یہ پتہ چل رہا کنیسر ابھی فرسٹ سٹیج پر ہے
جتنی جلدی ہو سکے علاج شروع کرواے
کتنا خرچہ آۓ گا آپ بتا دیں مجھے
30 لاکھ وہ تو اتنی رقم سن کر پریشان ہو چکی تھی کیسے بندوبست کرے گی
پر اس نے عہد کر لیا تھا چاھے کیسے بھی کرنا پڑے وہ بابا کا علاج کرواۓ گی ::::
_________________
تاشی اٹھ چل کچن میں چلتے آج اپنے ان خوبصورت ہاتھوں ہاتھوں سے کچھ بناتے ہیں عیشا جو انوشے شاہ کے ساتھ لال حویلی آٸی ہوٸی اب باطشہ کے روم میں بیٹھی ایسے کچھ بنانے پر اکسا رہی تھی (وہ الگ بات تھی بنانا آتا کچھ بھی نہی تھا)
عشو کی بچی رولا تو ایسے ڈال رکھا جیسے تم شیف ہو ہر چیز بنانے کا تجربہ ہے ہاں تو منا نہی تجربہ پر بہن گوگل کس دن کام آنا موباٸل سے دیکھ کر کچھ بھی بنا سکتے آج کے دور میں
توں چل رہی کے نہی ہاں جیسے ہمارے نہ کرنے سے توں ہمیں چھوڑ دیں گی
انہہہہ عیشا ہسنے لگ جاتی وہ دونوں کچن میں اچکی تھی اب سوچ رہی تھی کے کیا بنایا جاۓ ۔۔
ایسا کرتے پاستہ بنا لیتے لاٸٹ سے کھانا ہو گا اور جلدی بن بھی جاۓ گا میں ریسپی دیکھتی اور توں فریج کھول کر سامان چیک کر
بس پھر دونوں شروع ہو چکی تھی پاستہ بنانے جہاں کام کم اور بگاڑ زیادہ ہو رہا تھا
آدھے گھنٹے بعد پاستہ تو بن گیا پر کچن دیکھنے لاحق نہی تھا سامنے شلیف پر کٹی سبزیاں گری پڑی کچھ نچے زمین کو سلام دے رہہی تھی ایک طرف گوشت کیچپ کے رپیر بکھرے پڑے تھے تو سنک میں گندھے برتنوں سے بھرا ٹب اپنی بے حرمتی پر خاموش آنسو بہا رہا تھا وہ دونوں اس چیز س بے خبر اپنی بناٸی گی ڈش انجواے کر رہی تھیں دونوں اتنی دیر میں امینہ بیگم کچن میں آٸی اور کچن کی حالت دیکھ کر چکرا چکی تھی
اففف اتنا گندھ ایسے کون کام کرتا ہے ارے اماں ساٸیں آپ پاستہ تو چیک کریں کیسابنا کچن بھی صاف ہو جاۓ گا
جیسے گندھ ڈالا دونوں نے ویسے صاف بھی دونوں کرو گی اور خبردار اگر کسی ملازمہ کو بولا تھا وہ دونوں کو حق دحق چھوڑ کر جا چکی تھی یچھے وہ کچن کی حالت پر غور کر کے مرنے والی ہو چکی تھیں:::::::
__________________﷽
#ناول: #آخری عشق
#راٹیر: #عاٸشہ علی
#قسط نمبر:6
#سٹوری:حویلی بیسڈ ایج ڈیفرنس بیسڈ آفٹر میرج لو روڈ ہیرو، بیسڈ رومانٹک
🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋
_________________________
✍🏻زندگی نے ہر اس چیز سے ترسایا
جس کی میں نے شدید خواہش کی تھی😰💔
وہ کب سے ہسپتال کے بنچ پر بیٹھی اپنی بے بسی پر روٸی جا رہی تھی اس کی زندگی تو صرف اپنے باپ کے ارد گرد ہی گومتی تھی اس کے بس میں ہو تو اپنی سانسیں بیچ کر اپنے بابا کا علاج کروا لیں اتنی رقم کہاں سے لاۓ کون دے گا اتنے پیسے وہ کبھی سے یہ ہی سوچی جا رہی تھی اس کی ماں کو کوٸی فکر نہی تھی کے اس کا شوہر کس حال میں ہے ایسے صرف اپنے آپ سے پیار تھا جب وہ کافی دیر رو رو کر تھک گی تو آنکھیں ہتھلی سی رگڑتی اٹھ کھڑی ہوٸی کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی تھا تاکے اپنے باپ کا علاج کروا سکے
وہ اپنے باپ کولیے ہسپتال سے نکل کر رکشے کا انتظار کر رہی تھی کے جبھی وہاں ایک گاڑی BMW کھڑی ہوٸی پر وہ اپنی ہی پریشانی میں تھی اس نے دھیان ہی نہی دیا اتنے میں ان کے سامنے رکشہ آیا وہ باپ بیٹی اس میں سوار ہو کر گھر روانہ ہو گے ..
دوسری طرف امتثال کو آج اپنے کسی قریبی دوست کے ساتھ اس ہسپتال میں آنا ہوا جب وہ اپنی گاڑی سے نکل رہا تھا تبھی اچانک سے اس کی نظر سامنے کھڑی لڑکی پر جاتی جیسے دیکھ ایسے اپنے اندر ایک سکون سا اترتا محسوس ہوتا پر وہ آج ایسے کافی پریشان اور روٸی روٸی سی لگتی پر اس لڑکی کا دھیان اس طرف نہی ہوتا تھوڑی دیر بعد وہ کسی آدمی کے ساتھ رکشے پر سوار ہو جاتی
پر سوار ہوتے وقعت اس کے ہاتھ میں پکڑی فاٸل سے کچھ پیپر زمین پر گر جاتے امتثال شاہ کی نظر وہی تھی جبھی ایسے پیپر گرتے نظر آتے اس سے پہلے کے وہ وہاں تک پہنچ پاتا وہ جا چکی تھی اس نے پیپر اٹھا کر جیسے ہی سیدھے کیا ریپورٹ پڑھ کرایسے ساری بات سمج آ چکی تھی
اس کی شطیانی دماغ میں جلد ہی ایک ترکیب آٸی بس اس پر اب عمل کرنا تھا وہ مسکراتا ہوا اندر کی اور بڑھ گیا :::::
___________________
وہ کالے رنگ کے کپڑے پہلے ہاتھوں پر کالے ہی دستانے پہن رکھے تھے منہ کو ماسک سے کور کیے دور سے دیکھنے میں بالکل کوٸی ساۓ ہی نظر آتے تھے وہ ٹوٹل چھ لوگ تھے جو فارم ہاوس کی دیواریں پھلانگ کر اندر جا چکے تھے دو لوگ جھنوں نے سلنسر لگے پسٹل ہاتھ میں پکڑ رکھیں تھے پہلے اندر داخل ہوتے اس پاس نظر دوڈرا کر کسی کے نے ہونے کی نشادہدی کر کے باقیوں چاروں کو بھی اشارہ کر کے اندر بلا لیتے وہ سب احیتاط سے ایک ایک روم کھول کر چک کرتے جاتے اور اگے کی اور بڑھ جاتے پر ابھی تک ان کے مطلب کا کچھ نہی ملا تھا اب چار لوگ اوپر کی اور بڑھ چکے تھے جب کے وہ دو جو ان کے لیڈر تھے وہ نچے کمرے کی پچھلی طرف بنے سٹور کی طرح بنے کمرے کی جانب چل پڑھے تھے
جب وہ سٹور کا دروازہ توڑ کر اندھر داخل ہوۓ تو حیران رہے گے کیوں کے وہ باہر سے کمرے نظر آتا تھا پر اندر سڑھیاں نچے طے خانے کی طرف جا رہی تھی
AS جو اس ٹیم کا کو لیڈ کر رہا تھا باقیوں کو بھی کان میں لگا رکھی ڈاٸیوس سے اس طرف بلا چکے تھے اب تک تو سارا رستہ صاف ملا تھا پر اگے خطرہ بھی ہو سکتا تھا وہ جیسے ہی نچے اترے ان کو وہاں پہرہ دیتے گارڈ نے پکڑ لیا تھا
پر وہ نہی جانتے تھے موت ان کے سر پر کھڑی ہے A.S نے ایک کو پچھے سے پکڑ کر اس کی گردن کو مڑورڑ ڈالا جس سے کڑچ کی آواز سے اس کی گردن ٹوٹ کر لٹک گی اسے زمین پر پھنک کر دوسرے کو سلنسر لگے پسٹل سے آبدی نیند سلا کر اگے کی اور بڑھ گے جہاں ایک کمرے سے رونے کی آوازیں آ رہی تھی وہ دو دو لوگ الگ الگ پوزیشن سبھنال کر اگے بڑھ رہے گے تھے
جیسے ہی ان لوگ نے رونے والے کمرے کے دروازے میں بنے سوارخ سے جھانک کر دیکھ تو تابش کے اندر غصے کا اشتعال بڑھ چکا تھا وہ دروازے کو ایک ہی وار میں توڑ کر اندر پہنچ چکے تھے اندر پہرہ دیتے گارڈز کو سوچنے سمجھنے کا موقع دیا بنے گولیوں سے بھون چکے تھے اور سب لڑکیوں کو جو پندرہ سال سے بیس سال کے درمیان تھی باحفاظت نکلنے میں کامیاب ہو چکی تھی
زویار یس سر? ان سب لڑکیوں سے ان کے گھروں کا پہ معلوم کر کے ان کو ان کے گھروں میں باحفاظت پہنچا کر آٶ
اوکے سر
تابش حسین یس سر
تم مجھے ملک شہریار کو زندہ سلامت شام تک لا کر دو گے
اوکے سر اور باقیوں کو ان کے حصے کا کام سمجا کر
A.S باہر کی طرف بڑھ گے باقی سب بھی اس کے پیچھے چلے گے
فلیش بیک
وہ آفس میں لیب پر ای میلز چیک کر رہا تھا جب اس کا فون رنگ ہوا نمبر دیکھا تو ملک شہریار کے پیچھے لگا رکھیں بندے کا تھا فون اوکے کرتے جو اطلاع ملی وہ اس کا غصہ بڑھا چکی تھی ملک نے 50لڑکیاں اغوا کروا کر اپنے فام ہاوس میں قید کر رکھی تھی جن کی دو دن بعد بولی لگنی تھی
ابان شاہ نے سب کام چھوڑ اپنی باقی ٹیم کو اپنے مخصوص اڈے پر بلایا اور پھر ملک کے فام ہاوس پر چھاپہ مار کر آپرشن کامیاب کر لیا تھا ::::
____________________
باطشہ لکچر سن کر فری ہوتی باہر نکل آٸی تھی چونکے سردی کا موسم تھا ہلکی ہلکی دھوپ نکلنی ہوٸی تھی وہ گروانڈ میں گھاس پر شوز اتار کر بیٹھ گی اور نوٹس بنانے لگ چکی تھی عیشا آج پھر چھوٹی پر تھی اور کوٸی دوست نہی تھی اس لیے آج اکیلی ہی تھی ابھی اسیے نوٹس بناتے پانچ منٹ ہی ہوۓ تھے کے ایسے لگا کوٸی پاس کھڑا ہے اس نے نظر اٹھا کر دیکھا تو اس دن والا لڑکا تھا جس سے ٹکرا گی تھی
کیا میں یہاں بیٹھ سکتا
نہی بلکل بھی نہی جواب جھٹ ہی آیا
وہ اس طرح کے جواب کی توقع نہی کر رہا تھا وہ پھر بھی بیٹھ چکا تھا
کتنے ڈھیٹ انسان ہو میرے منع کرنے کے باوجود بیٹھ گے ہو
کبھی کبھی کسی جگہ پر ڈھیٹ ہونا ہی پڑتا ہے محترمہ
ویسے آج آپ اکیلی بیٹھی آپ کی پاٹنر نہی آٸی کیوں آپ کو کوٸی کام ان سے یا ہر وہ لڑکی وہ اکیلی نظر آتی اس سے جا کر یہ سوال کرتے ہو باطشہ کے ایسے سوال پر وہ منہ کھولے حیران رہے گیا تھا
کیا میں آپ کو فلرٹی لگتا ہو شکل سے مجھے تو آپ شکل سے مصوم بھی نہی لگتے تم اتنا کیسے بول لیتی ہو
اپنے منہ سے باطشہ جھٹ بولی وہ نفی میں سر ہلا گیا جیسے کہا رہا وہ تم سے سیدھے جواب کی امید رکھنا غلط ہے
اب بیٹھے کیا کر رہے ہو مسٹر XYZ جاو مجھے کام کرنے دو
وہ تو اپنے اتنی عزت افزاٸی پر ابھی تک حیران تھا جس سے کبھی کسی نے اونچی آواز میں بات نہی کی تھی یہ چھٹانک بھر کی لڑکی پانچ منٹ میں اس کے اچھی خاصی کر چکی تھی
وہ مزید کچھ کہے بنا اٹھ کر چلا گیا پچھے وہ منہ بنا کر دوبارہ نوٹس بنانے لگ چکی تھی
وہ زوایار خانزادہ تھا اس یونی میں پڑھتا تھا ایسے عیشاہ شاہ مصوم سی بہت پیاری لگتی تھی ان کی کبھی بات نہی ہوٸی تھی پر وہ اجکل لڑکیوں سے مختلف لگتی تھی ایسے ہر کسی سے نہ فری ہوتی تھی نہ باقی لڑکیوں کی طرح فیشن ایبل تھی
اس نے کبھی ایسے کسی لڑکے سے بات کرتے نہی دیکھا تھا یہی وجہ تھی کے وہ مصوم لڑکی (زوایار کے مطابق مصوم )اس کے دل میں اپنی مصومیات کی چھاپ چھوڑ چکی تھی روز ایسے دیکھ کر ہی سکون محسوس کر لیتا بات کرنے کی کبھی نوبت ہی نہی آٸی تھی کیوں کی زوایار ان مردوں میں سے تھا جیسے ہر عورت کی عزت کرنا بخوبی آتا تھا پھر چاھے عورت اپنے گھر کی وہ جا باہر کی ایسی لیے وہ عیشا شاہ سے بات نہی کرتا تھا کے کٸی وہ بنا بات کے بدنام نہ ہو جاۓ ۔۔۔۔۔
ویسے بھی وہ مرد غیرت مند نہی ہوتا جو اپنی گھر کی عورتوں کی تو عزت کرتا ہو پر باہر جگہ جگہ منہ مارتا ہو ایک غیرمند مرد کی نظر سب لڑکیوں کی عزت کرنا لازم ہے۔۔۔۔
_____________________
حسالہ اپنے باپ کو لے کر گھر پہنچ چکی تھی گھر آ کر اس نے اپنے اور اپنے باپ کے لیے کھانا بنایا اور ٹرے میں رکھ کر بابا کے کمرے کی اور بڑھ گی ابھی وہ دروازہ کھولنے ہی لگی تھی کے اندر سے اس کی ماں کی زور زور سے بولنے کی آواز آ رہی تھی وہ وہی دروازے کے پاس روک گی اور باتیں سننے لگی
اس کی ماں اس کے باپ سے کہے رہی تھی کے مجھے تم سے طلاق چاھے میں نہی رہے سکتی تھمارے جیسے معذور کے ساتھ
میں نے تو تم سے شادی پیسوں کی وجہ سے کی تھی پر تھمارے باپ نے تمھیں عاق کر کے گھر سے نکال دیا
اس سے پہلے کے میں گھر چھوڑ کے جاتی مجھے ماں بننے کی خبر ملی تو مجھے لگا ابھی چانس ہیں تمھارا حصہ واپس ملنے کا اگر میں بیٹا پیدا کر لیتی تو ہو سکتا وہ بڈھا بہرام شاہ پوتے کا سن کر ہمیں حویلی واپس بلا لے گا پر جہاں بھی میری قسمت نے ساتھ نہی دیا اور وہ منحوس پیدا ہو گی
مجھے پتہ تھا تم شاہ لوگ اتنی جلدی اپنی عزت کو طلاق نہی دیتے سو مجھے انتظار کرنا پڑا پر اب بس اب میں آذادی چاہتی
مجھے تم سے طلاق چاھے میں ملک شہریار سے شادی کرنا چاہتی وہ تو کالج لاٸف سے میرا دیوانہ تھا میرے عقل پر پردے پڑھ گے تے جو تم جیسے اپاہج سے شادی کر لی
باہر وہ کھڑی اپنی ماں کی سفاکیت پر حیران تھی کوٸی عورت اپنے آپ کو اتنا کیسا گرا سکتی جب تک ابرار شاہ ٹھیک تھے پیسے کی ریل پیل تھی وہ عورت خوش تھی اب چند سالوں سے ایک حادثے میں ابرار شاہ کی ایک ٹانگ کی نس مسلی جا چکی تھی جس کی وجہ وہ چلنے پھیرنے سے معذور تھے تو یہ لالچی عورت نے اپنے رنگ دیکھانے شروع کر دیے
یہ سوچے بنا کے وہ اس وقعت کس مشکل کھڑی سے گزر رہے
شاہد آج قسمت ابرار شاہ کو اس کی ماضی میں کی گٸی غلطی سے چھٹکارہ دلوانا چاہ رہی تھی ایسی لیے وہ اپنی بیوی کا یہ روپ دیکھ کر مزید چپ نہی رہے سکا اور بول اٹھے
تمھیں طلاق چاھے مجھ سے ٹھیک ہے میں تھماری یہ خواہش بھی پوری کر دیتا ہو
میں سید ابرار شاہ اپنے ہوش حواس میں تمھیں طلاق دیتا ہوں
طلاق دیتا ہوں...
طلاق دیتا ہوں...
اس گھر سے میری بیٹی کو چھوڑ کر جو کچھ لے کر جانا چاہتی ہو لے جاٶ پر اس کے بعد مجھے یا میری بیٹی کو کبھی اپنی شکل مت دیکھنا
وہ اپنی مستی میں تھی اس وقعت ایسے لگ رہا تھا وہ آذاد ہو چکی ہے اب ملک شہریار کے ساتھ اپنی مرضی سے زندگی جیے گی پر وہ بھول چکی تھی کسی کا دل دکھا کر چالیں چل کر کوٸی کتنی دیر خوش رہے سکتا ہے
حسالہ روتے ہوۓ کھانے کی ٹرے دوبارہ کچن میں لا کر رکھ چکی تھی کیوں کے بھوک تو مٹ چکی تھی شاہد باپ بیٹی دونوں کی وہ جیسی بھی تھی اس کی ماں تھی بشک ساری زندگی ماں کے پیار کو ترستی رہی پر ایک گھر میں تو تینوں تھے
ماں تو اپنے بچوں کے لیے اپنی ساری خوشیاں خود پر حرام کر لیتی یہ کیسی ماں تھی جس نے اپنی خوشی کے لیے نہ جان سے بڑھ کر پیار کرنے والے شوہر کا خیال کیا نہ جواں بیٹی کا
بیٹی کی شادی کرنے کی عمر میں خود طلاق لے کر شادی کرنے جا رہی تھی وہ روتے روتے کب سو گی ایسے پتہ نہی چلا
دوسری طرف ابرار شاہ کو ایسا لگا جیسے زندگی میں گویا سکون آ گیا وہ وہ خود اس بے بنیاد رشتے سے تنگ آ چکے تھے کیا وہ نہی جانتے تھے ان کی بیوی کی مشکوک حرکتوں کے بارے میں
وہ تو اس رات ہی جان چکے تھے جب وہ جی گھبرانے پر کھڑکی کھول کر تازہ ہوا کھا رے تھے کے گھر کے سامنے بڑی کرولا سے اترتی اپنی بیوی کو جو مسکرا مسکرا کر کسی انجان بندے کو باۓ بول رہی تھی ابرار شاہ تو یہ دیکھ کر سن ہی ہو چکے تھے
پر وہ اپنی بیٹی کے لیے یہ زہر پیے ہوۓ تھے
آخر کب تک یہ غصہ اندر ہی دبا کر رکھتے آخر آج آتش فشا باہر نکل ہی گیا اور گھر بکھر گیا تھا
___________________
بہرام شاہ مردان خانے میں بیٹھا
چاۓ پی رہے تھے کے ان کے بڑے
بیٹے اسرار شاہ مردان خانے میں داخل ہوۓ
وہ اکر ایک ساٸیڈ رکھے صوفے پر بیٹھ چکے تھے بہرام شاہ نے ایک نظر اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور دوبارہ چاۓ پینے لگ گے وہ وقفے وقفے سے نظر بیٹے پر ڈال لیتے جو آج پریشان سے دیکھاٸی دے رہے تھے
آخر بہرام شاہ نے پوچھ ہی لیا کیا بات ہے برخودار کوٸی پریشانی ہے تو اپنے باپ سے بیان کرو ابا جاں آج جب میں
شہر سے واپس گاٶں کے لیے نکل رہا تھا تو میں نے ابرارشاہ کو دیکھا ایک رکشے میں بہت بیمار لگ رہے تھے دیکھنے میں لگتا ہی نہی وہ ہمارا وہی ابرار شاہ ہے جس کی دہشت سے کوٸی اس کے اگے بول نہی پاتا تھا
پتہ نہی کیا کیا اس لالچی عورت نے میرے بھاٸی کے ساتھ سن کر تو بہرام شاہ کا کلیجہ بھی پھٹنے کو آ گیا تھا پر وہ خود پر قابو پاہ گیا
ہمیں کیا لگے وہ جس حال میں بھی ہو یہ زندگی اس نے خود چنی تھی اب وہ اپنی حالت کا خود زمیدار ہے
پر بابا ساٸیں اس نے ساری زندگی ہمارے بغیر گزار دی ھے اب اس کی غلطی کی معافی دے دیں ایسے اس سے پہلے کے دیر ہو جاۓ وہ اتنی بات کر کے اٹھ کر اندر چلے گے پیچھے بہرام شاہ کو سوچوں میں ڈال کر
______________