ناول: #آخری عشق
راٹیر: #عاٸشہ علی
قسط نمبر:8_____7
#سٹوری:حویلی بیسڈ ایج ڈیفرنس بیسڈ آفٹر میرج لو روڈ ہیرو، بیسڈ رومانٹک
🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋
_________________________
دوسری طرف جیسے ہی ملک شہریار کو پتہ چلا کے اس اغوا کی گٸی سب لڑکیاں اس کی قید سے چھڑا لی گٸی ہے وہ غصے سے پاگل ہو چکا تھا
کیوں کے وہ اسمگلگ کے لیے کل دٸبی بھیجی جانی تھی جن کی قیمت پہلے ہی وصول کر چکا تھا یہ اب اس کی خیر نہی تھی کیوں کے اتنی جلدی نہ لڑکیاں مل سکتی تھی نہ پیسے کیوں کے ان پیسوں سے تو اس نے کلب کھول لیا تھا وہ بھی باہر سے کلب ہی نظر آتا ہے پر اس کے نچے بنے طے خانے میں کالے دھندے کیے جاتے تھے
اس نے اپنے خاص بندے کو کال لگاٸی
اوے شیدے کہاں مرے ہوۓ ہو فام ہاوس سےجو لڑکیاں غاٸب ہوٸی پتہ کرو کس نے اپنی موت کو آواز دی ہے
اور دوسری بات کل شام تک مجھے پچاس لڑکیاں چاھے جیسے بھی کرو وہ تھمارا کام
اور کام کے بنا اپنی شکل نہ دیکھانا مجھے
غصہ سے ڈر سے اس کا برا حال ہو چکا تھا اور اب ایسے سکون چاھے تھا جو شراب اور شباب سے ملنا تھا ....
(بشک حرام چیز میں لذت بہت ہوتی پر چند لحموں کی پر گنہاہ بہت بڑا بن جاتا نادان انساں سمجتا ہی نہی دنیا کی رنگینوں میں کھو کر آخرت کو بھلا چکا ہے جو کے گھیٹے کا سودا ہے)
________________
سید بہرام شاہ نے جب سے ابرار شاہ کے بارے سنا تھا وہ اک پل چین سے نہی رہا اتنے سالوں بعد بیٹے کے بارے خبر سنی بھی تو تسلی بخش نہی دل کر رہا تھا ساری رنجشیں بھلا کر بیٹے کو گھر واپس بلا لوں پر دماغ کہ رہا تھا نہی وہ خود اپنے سارے رشتے توڑ کر ایک لڑکی خاطر چلا گیا تھا
کل سے دل اور دماغ کی جھنگ جاری تھی جو بہرام شاہ کے حواسوں پر سوار ہو چکی تھی
ابھی وہ ایسی بارے سوچ رہا تھا جو بہرام شاہ فیصلے کرتے وقعت اتنا ٹاٸم کبھی نہی لیتا تھا اج اولاد کے لیے فیصلہ لینا انھیں مشکل لگ رہا تھا
اتنے میں ابان شاہ روم میں آیا
کیا بات ہے دادا ساٸیں طبیت ٹھیک ہے آپ کی کل سے پریشان ہیں آپ کوٸی بات ہے تو مجھے بتاۓ
دادا ساٸیں کو کچھ سمج نہی آ رہی تھی اس لیے انھوں نے ساری بات ابان شاہ کے سامنے رکھی ساری بات سن کر ابان شاہ کچھ پل چپ رہے
اور پھر بولے دادا ساٸیں مجھے لگتا ہمیں چاچو سے ملنا چاھے ہو سکتا وہ سچ میں ٹھیک نہ ہو اور جیسا بابا ساٸیں نے بتایا ان کے ساتھ لڑکی بھی تھی تو آپ کو نہی لگتا بہرام شاہ کی پوتی اس وقعت یوں رکشوں بیسوں میں دھکے کھا رہی ایک بار چاچو سے ملتے پھر ہی ساری صورتحال کا پتہ چلیں گا
آپ چاچو کو معاف کر دیں
اللّہ بھی تو ہمارے ان گنت گنہاوں کی باوجود ہمارے ایک پکار ایک آنسو پر ہمارے غطا معاف کر دیتا پھر ہم انساں اتنا ظرف کیوں نہی اپنے اندر پیدا کرتے -
ٹھیک ہے پتر میں خود تھک گیا ہوں جوان بیٹے کی جوادٸی سہتے سہتے خود پر خول چڑھا رکھا تھا پر وہ میرے لاڈلا بیٹا تھا جیسے میں بھی ضد سے دور کر دیا
دادا ساٸیں پر یشان نہی ہو میں چاچو کے بارے سب پتہ کرواتا ہوں پر ایک دو دن تک ہم سب ان کو لینے جاۓ گے ابھی آپ آرام کریں شب بخیر..
_____________
حسالہ دو دن سے کالج بھی نہی جا رہی تھی میں کی اتنی تلخ سچاٸی سن کر ہو ہمت ہار بیٹھی تھی کل سے رو رو کر خود کو ہلکان کر لیا تھا پر سچاٸی سے رخ موڑ لینا بھی کہاں کی عقل مندی ہے ابرار شاہ تو چپ تھے بالکل چپ جس عورت کے لیے گھر بار اپنے سارے رشتے توڑ دیے اس نے یہ صلا دیا اس کی بے لوث محبت کا پر ایسے تو ابھی جینا تھا ابھی لاڈلی کے لیے اس کے سوا اس کا اور ہے ہی کون ماضی کے کچھ پنے نظروں کے سامنے لہراۓ تھے
ماضی???
ابرار شاہ کا یونیورسٹی میں آخری سال تھا ملک شہریار بھی اسی کا کلاس میٹ تھا اور حنا بھی
آج ان کا آخری دن تھا یونی میں اور ابرار شاہ جو حنا سے پہلے دن سے ہی فدا ہو چکے تھے پر کبھی اظہار نہی کیا تھا کیوں کے ان کو لگتا تھا محبت محرم بن کر ملے تو ہی اچھا ہے
آج انھوں نے حنا کو پرپوز کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا کیوں کے وہ حنا سے جلد شادی کرنا چاھتا تھا
دوسری طرف حنا کو بھی پتہ تھا کے یہ سیدزادہ ایسے پسند کرتا ہے کیوں کے اسے دیکھتے جو ابرار شاہ کی آنکھوں میں چمک آتی تھی وہ اس سے چھپی ہوٸی تو نہی تھی حنا کو ابرار شاہ سے کبھی پیار تو تھا ہی نہی پر اس کی دولت کے لالچ میں پڑ چکی دوسری طرف شہریار بھی حنا کو پسند کرتا تھا کیوں کے وہ روپے پیسوں میں ابرار شاہ سے کمتر تھا اس لیے حنا کو ابرار شاہ بیسٹ لگا
اس لیے جب ابرار شاہ نے سب کے سامنے پرپوز کیا تو اس نے جھٹ ہاں کر دی اور تھوڑے دنوں بعد ان دونوں نے کورٹ میرج کر لی کیوں کے ابرار شاہ کو پتہ تھا اس کا باپ ابرار شاہ کبھی خاندان سے باہر شادی کی اجازت نہی دے گا
اور شادی کے کچھ ماہ بعد حنا جس نے دولت اور لال حویلی پر راج کرنے کی نیت سے شادی کی تھی وہ پوراہوتا نظر نہی آ رہا تھا تو ابرار شاہ سے ضد لگا کر بیٹھ گی کے ایسے اپنے گھر لے کر جاۓ سب کوپتہ چلنا چاھے میں آپکی بیوی ہو ں
آخر اک دن ابرار شاہ ایسے حویلی لے آیا
دوپہر میں سب کھانے کے ڈیبل پر جمع تھے جب ابرار شاہ حنا کو لے کر حویلی داخل ہوۓ ۔۔
سب سوالیوں نظروں سے ان کو دیکھ رہے تھے جب کے حنا تو حویلی دیکھ کر رالیں ٹپکانا شروع ہو چکی تھی اتنی شاندار حویلی اس نے کب دیکھی تھی اس نے اپنی زندگی میں
ابرار شاہ یہ لڑکی کون ہے اور تھمارے ساتھ کیا کر رہے ہے
بہرام شاہ کی رعب دار آواز ہال میں گونجی
بابا ساٸیں یہ حنا ہے میری بیوی میرے ساتھ پڑھتی تھی ہم نے کچھ ماہ پہلے شادی کر لی تھی
ابرار شاہ نے ڈرتے ہوۓ ساری سچاٸی بتاٸی جیسے سن کر
بہرام شاہ آگ بگولہ ہو گے
تو تم اتنے بڑے ہوگے کے اپنے فصیلے خود کر سکوں
جب اتنا کچھ کر لیا تو یہاں کیوں آۓ ہو تھمارا اس حویلی اور یہاں کے لوگوں سے کوٸی واسطہ نہی ہے نکل جاو یہاں سے
پر بابا ساٸیں بڑے ادا ساٸیں نے بھی پسند کی شادی کی پھر وہ کیوں یہاں رہتے
ہاں انھوں نے پسند کی شادی کی پر چوری نہی سب گاوں والوں کے سامنے پوری عزت سے بیا کے لاۓ دونوں گھروں کی رضا مندی سے چوری نہی
اگر تمھیں رہنا تو رہوں پر یہ لڑکی یہاں نہی رہے گی کیوں کے میں اپنی آنے والی نسل خراب نہی کرنا چاھتا
ٹھیک ہے بابا ساٸیں اگر حنا کے لیے اس گھر میں جگہ نہی تو میرا کیا کام یہ بول کر وہ حنا کا ہاتھ پکڑ لال حویلی کی چوکھٹ عبور کر گے :::::
__________________
عیشا اور باطشہ دونوں لکچر لے کر کنٹین کی طرف جا رہی تھی کے زوایار نے کے سامنے آ گیا
باطشہ تو ایسے دیکھ کر نظریں کوفت سے پھیر گی جبکے عیشاہ اس اچانک انٹری پر چیخ مارتے مارتے رہے گی
ہیلو مسٹر XYZ کیا کام ہے کیوں ٹپک پڑے ہو آج پھر جبک وہ تو ایسا کھڑا تھا جیسے سن ہی نہ رہا وہ اس کی نظریں تو دیدار یار میں مصروف تھی خود پر نظروں کی تپش محسوس کر کے عیشاہ کا چہرہ بلش کر رہا تھا اور وہ چہرے پر نہ آتے بالو کی لٹ کو بار بار کان کے پیچھے کر رہی تھی ایسے نہی پتہ تھا اس کے ایسا کرنے سے کسی کے دل کے تار بج رہے تھے
اوہیلو مسٹر باطشہ نے پھر اس کو گھور کر بولی تو وہ نظروں کا زوایہ پھیر کر سامنے کھڑی آفت کو دیکھنے لگ گیا
آرام سے بات نہی کر سکتی ہو ہر ٹاٸم کڑوے کریلے چباۓ رکھتی ہو ویسے بھی میں تم سے نہی کسی اور سے بات کرنے آیا تھا اس نے نظروں کے حصار میں عیشاہ کا چہرہ رکھ کر بات کی
کچھ کچھ سمج تو باطشہ بھی گٸی تھی کیوں کے وہ بھی تو اجکل ایسے ہی حالات سے گزر رہی تھی .
اچھا جی کس سے بات کرنی تھی زرا ہمیں بھی تو پتہ چلے ہمارے علاوہ اور کون کھڑا یہاں جس بات کرنی آپکو
تو محترمہ کسی خوش فھمی میں نہی رہیں میں وہ سامنے کھڑے اپنے دوست کی بات کر رہا اس نے سامنے کی اور ہاتھ ہلا کر اشارہ کیا تو باطشہ نے وہاں دیکھا جہاں دو اور لڑکے کھڑے تھے وہ خجل ہوتی نظریں جہاں وہاں کرنے گھمانے لگ گی جبک زوایار ایک مسکراتی نظر عشاہ پر ڈالتا سامنے کھڑے لڑکوں کی طرف بڑھ گیا
اور وہ دونوں کنٹین میں چلی گی :::::
____________________
حسالہ کی کالج سے کافی چھٹیاں ہو چکی تھی آج وہ بابا کے بار بار کہنے پر کالج آٸی تھی یہاں پر بھی اس کا دل بابا میں ہی اٹکا ہوا تھا ویسے تو دیکھ بال کرنے کے یے لڑکا آتا تھا پر حسالہ کچھ ذیادہ ہی حساس ہو رہی تھی اجکل ابرار شاہ کو لے کر صبح سے دو بار فون کر کے گھر بابا کا پوچھ چکی تھی ابھی بھی وہ سوچوں میں گم تھی جب اس کی دوست زاٸشہ اس کے پاس آٸی
کیسی ہو حسالہ اور انکل کی طبیت کیسی ہے اب میں ٹھیک ہوں بابا بھی ٹھیک ہے بس
کیا بات ہے یار تم پریشان ہو سب ٹھیک تو ہے زاٸشہ کے پوچھنے پر وہ اس کے کندھے پر سر رکھ کر بلک بلک کر رو دی تھی زاٸشہ تو اس کے ایسے رونے پر بوکھلا ہی گٸی تھی کیوں کے حسالہ تو بڑے مضبوط کردار کی لڑکی تھی ضروری کیوٸی بڑی بات تھی جبھی ایسے بچوں کی طرح رو رہی
جب اچھی طرح اندر کا غبار نکال چکی تو آنسو صاف کرتی سیدھی ہو کر بیٹھ گی
اب بتا کیا بات ہے میری طری بیسٹ فرینڈ ہوں مجھ سے اب کچھ مت چھپانا ورنہ میں ناراض ہو جاوں گی زاٸشہ کی بات سن کر حسالہ ہلکا سے مسکاتی اور پھر ایسے ماں کی طلاق سے لے کر بابا کی بیماری اور آپریشن کے پیسوں تک ساری بات بتا دیتی زاٸشہ کو سن کر بہت افسوس ہوتا پر وہ بھی کیا کر سکتی تھی
تم پریشان نہی ہو اللّہ سے اچھے کی امید رکھ اللّہ کوٸی نہ کوٸی سبب ضرور بناۓ گا وہ اپنے بندوں کو مشکل میں اکیلا نہی چھوڑتا بیشک
اچھا میں گھر کے لیے نکلتی باقی لکچر کے نوٹس بنا دینا میں بابا کو جا کر کھانا بنا کے دینا اور میرے سر میں کافی درد ہو رہا
اچھا ٹھیک ہے تم جاو ریسٹ کرنا اور پریشانی کو سر پے سوار نہ کرنا سب اچھا ہو گا سوری میں تیرے لیے کچھ نہی کر سکی زاٸشہ کہتی
کوٸی بات نہی تم میرا حوصلہ بڑھ دیتی یہی کافی مجھے
اچھا دوست بھی اللّہ کی طرف سے نعمت ہے اور وہ نعمت تم ہو زاٸشہ بخاری حسالہ مسکرا کر بولتی اور کالج کا گیٹ کراس کر جاتی
وہ گھر آکر سب سے پہلے نماز پڑھتی بابا کے لیے معمول کے مطابق دعا کرتی اور اٹھ کر کچن کی اور بڑھ جاتی بابا کے لیے اور اپنے لیے کھانا بناتی کھانا بنا کر ٹرے میں رکھ کر کمرے میں جاتی بابا کھانا کھا لیں چلیں اٹھ جاٸیں
وہ مسکرا کر اپنے جگر کے گوشے کی طرف دیکھتا جو اتنی چھوٹی سے عمر میں اتنی سمجدار ہو گی تھی
ابھی وہ کھانا کھا کر برتن کچن میں لا کر رکھتی ہی ہے کے دروازے کی بل بجتی
وہ دروازے کھولتی تو سامنے اتنے لوگوں کو کھڑا دیکھ حیران رہے جاتی بیٹا اندر آنے کو نہی بولوں گی
جی جی آٸیں وہ ان کو راستہ دیتی ساٸید پر ہو جاتی وہ سب اندر بڑھ جاتے پیچھے وہ دروازہ بند کر کے بابا کو لینے کمرے میں جاتی
اور کچھ دیر بعد بابا کو لے کر لاونج میں آتی ابرار شاہ تو سامنے بیٹھے لوگوں کو دیکھ کر سکتے میں چلے جاتے
کچھ ایسا ہی حال ان سب کا بھی تھا اپنے لاڈلے کو اس حال میں دیکھ کر :::::
___﷽
#ناول: #آخری عشق
#راٹیر: #عاٸشہ علی
#قسط نمبر:8
#سٹوری:حویلی بیسڈ ایج ڈیفرنس بیسڈ آفٹر میرج لو روڈ ہیرو، بیسڈ رومانٹک
🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋
_________________________
اتنے سالوں بعد اپنے سامنے باپ کو دیکھ کر ابرار شاہ تو سکتے میں ہی چلے گے تھے خوشی اور غم کے ملے جلے آنسو آنکھوں سے کب نکل کر گالوں کو بھگو گے پتہ ہی نہی چلا پتہ تھا تو بس اتنا کے وہ نرم گرم سایہ جس کی ٹھنڈک کے لیے برسوں جلا وہ سامنے تھا منٹ کی دیر کیا بنا وہ باپ کی اور بڑھ گیا بہرام شاہ بھی سب غصہ گلہ بھلاۓ بیٹے کو سینے میں بھنیچ گے تھے ابرار شاہ تو باپ کے گلے لگے ہے کسی چھوٹے بچے کی طرح ڈھاڑے مار مار کر روۓ ساتھ باقی آیا شاہ خاندان بھی اس ملن پر خدا کا شکرادا کر رہے تھے:::
اچھا بھٸ ہمیں بھی ملنے دیں اپنے چھوٹے سے یا اج بس دونوں باپ بیٹا ہی ملتے رہو گے افروز شاہ ماحول کو خوشگوار کرنے کے لیے بات کرتے اور یا کر بھاٸی کے گلے لگ جاتا یوں سب باری باری ابرار شاہ سے ملتے جن میں کچھ چہرے تو سناشا ہوتے اور کچھ انجان اسی بیچ حسالہ کو تو سب بھول ہی چکی تھے جو باپ کے کچھ فاصلے پر کھڑی صورت حال کا جاٸزہ لے رہے تھی عیشا اور باطشہ کے پیپر سٹارٹ ہو چکے تھے وہ نہی ساتھ آٸی تھی امتثال شاہ کو دوستوں سے فرصت نہی تھی
ابان شاہ کو اچانک میٹنگ کے لیے اسلام باد جانا پڑھ گیا تھا ایسی لیے ابھی گھر کے بڑے لوگ ہی آۓ تھے
بہرام شاہ کی نظر سامنے کھڑی سترہ سالہ لڑکی پر جاتی جس نے کالے رنگ کی کرتی شلوار پہن کر سر پر کالے رنگ کا ہی ڈوپٹہ سلیقے سے اوڑھ رکھا ہوتا جو ہوبہو ابرار شاہ کی ڈٹو کاپی تھی بہرام شاہ جان چکے تھے وہ ان کی پوتی ہے اس لیے اگر بڑھ کر ایسے سینے سے لگا کر سر پر پیار دیتے اور پھر ابرار شاہ حسالہ سے سب کا تعارف کرواتے
برسوں بعد اپنے باپ کے چہرے پر اتنی خوشی دیکھ کر وہ کچھ لحموں کے لیے ہر پریشانی بھول جاتی چونکے دوپہر کا ٹاٸم تھا اس لیے وہ سب کے لیے کھانے پینے کی غرض سے کچن کی طرف بڑھ گی ......
_________________
ابان شاہ میٹنگ روم سے باہر ہی نکلا تھا کے اس کے سیل پر رنگ ہوٸی نمبر دیکھا تو ZK تھا
کال یس کرتے ہیں جو خبر ایسے ملی وہ اس کے غصے کا پیرگراف بڑھا چکی تھی ٹھیک ہے تم ان کا پیچھا کرو اور لوکیشن مجھے سینڈ کرو باقی میں ااور تابش دیکھتے ہیں
کال بند ہوتے ہی کچھ نمبر ملا کر فون کان کو لگایا اور جیسے سامنے والے نے فون اٹھایا ایسے اپنے باقی لوگوں کے ساتھ مخصوص اڈے پر جلد پہنچنے کو کہا اور اٸیرپوٹ کی جانب روانہ ہو گیا
اگلے ایک گھنٹے بعد وہ سب B .S کے اڈے پر موجود تھے گول میز کے چاروں اطرف کرسیاں رکھی ہوٸی تھی وہ پانچوں کرسیوں پر براجمان تھے جب Boss کی انٹری ہوٸی اور ان کی میٹنگ شروع ہو چکی تھی
تابش حیسن تم اور زوایار ایک ساتھ ملک کے اڈوں پر جاٶں کے اگر صورت حال قابو سے باہر ہوتی نظر آۓ تو فورن سلیم اور فرحان سے رابطہ کرنا ہمیں کسی بھی حال میں یہ ڈیل روکنی ہے اس کے لیے اگر ملک شہریار کو اٹھانا بھی پڑے تو سوچنا مت مشن Scussful ہونا چاھے
کچھ اور ضروری ہدایت کے بعد وہ اپنی ہوڈی اٹھاۓ باہر کی جانب بڑھ جاتا اور باقی سب اپنے اپنے مشن پر نکل جاتے
دوسری طرف حنا ابرار شاہ سے طلاق لے کر ملک شہریار کے پاس پہنچ چکی تھی وہ جو شراب پینے میں مصروف تھا جب وہ پیچھے سے اس کے گلے میں بانہیں ڈالیں اگے کو جھک کر اس کے لبوں پر جھکتی ملک ایسے کھنچ کر گودی میں بیٹھاتا اور پوچھتا کیا بات ہے آج اس نا چیز پر بڑا پیارنچھاور کیا جا رہا وہ بولتی بات ہی ایسی آپ بھی سنوں گے تو پیار لٹاۓ بنا رے نہی پاو گے
اچھا اگر ایسی بات ہے تو جلدی بتاو پھر بات یہ ہے کے میں اس قید خانے سے چھٹکارا حاصل کر لیا ہے میں ابرار سے طلاق لے لی ہے اب ہمیں شادی کرنے میں کوٸی مسلہ نہی ہے اچھا تو یہ بات ہے ہاں جی
کیا آپ کو خوشی نہی ہوٸی میری بات سن کر ہوٸی ہے نہ بہت خوشی ہوٸی پر آپ کو دیکھ کر تو نہی لگتا نہی میں تو خوش ہو اب تمھارے ساتھ اچھا ٹاٸم گزرا کریں گا بنا کیسی ڈر کے بول تو حنا بیگم کو رہا تھا پر آنکھوں میں شطیانی چمک لیے دل میں اپنے پلان کو پورا ہوتا دیکھ رہا تھا
اگے کیا ہونا تھا ان سب باتوں سے انجان حنا بیگم خوشی کے نشے میں مست تھی .....
__________________
ابان شاہ گھر پہنچ کر فریش ہو کر اب شیشے کے اگے بال سنوار رہا تھا جب ملازمہ نے کھانے کا بولا اوکے میں آرہا ہوں اچھا صاحب جی
جب وہ ڈاینگ ڈیبل پر آیا تو اور کوٸی موجود نہی تھا جب کے کچن سے اچھی خشبو باہر تک آ رہی تھی جس سے اس کی بھوک اور بھی چمک گٸی تھی
اتنے میں باطشہ ملازمہ کے ساتھ کھانا ڈیبل پر لگانے لگ گی باقی سب کدھر ہیں وہ چھوٹے چاچو کے گھر گۓ ہیں سب
اچھا اچھا ذہن سے نکل گی تھی یہ بات اور پیلٹ نکال کر چاول ڈالنے لگ گیا چاول کی پہلی باٹ لیتے ہی بنانے والی کی تعریف کرنے کا دل ہوا پر اپنی انا کے چلتے بول نہی پایا جب کے پتہ چل گیا تھا کھانا کس نے بنایا جب کے وہ بچاری اپنی تعریف سننے کی آس دل میں لیے بیٹھی رہے گی
ابان شاہ اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا پر بظاہر ایسے بیٹھا تھا جیسے کھانے کے علاوہ کوٸی کام نہ ہو
اففف اتنی دیر لگا کر کھڑوس پلس جلاد کی پسند کی ڈیشز بناٸی کھاٸی جا رہا پر مجال ہے جو تعریف کر دیں ہاں کریں گا بھی کیسے خود کو کسی ریاست کا شہراذہ جو تصور کرتا کھڑوس کنجوس نہ ہو تو
ابان شاہ کے لیے اب ہنسی دبانا مشکل ہو گیا تھا پر اس لڑکی کے سامنے رعب کم نہ ہو اس لیے اٹھ کر اوپر چلا گیا اور جاتے جاتے کافی کی فرماٸش کر کے گیا وہ جلتی بھنتی آدھا ادھورہ کھانا کھا کر چلی گی
تھوڑی دیر بعد کافی بنا کر اس کے روم کے سامنے کھڑی تھی
دروازہ ناک کر کے اندر انٹر ہوٸی تو دیکھا وہ سامنے بیڈ پر بیٹھا لیب ٹاپ پر کچھ لکھنے میں مصروف تھا
آپکی کافی لاٶ یا ڈیبل رکھ دو
وہ کافی ڈیبل پر رکھ کر انہی قدموں پر واپس لوٹ گی اور باہر آ کر کب سے روکا سانس خارج کیا اور نچے کی اور بڑھ گی,,,,,,,,
__________________
بابا ساٸیں مجھے معاف کر دیں آپکا حکم نہ مان کا جو نقصاں میں اپنا اتنے سال کیا پل پل میں اپنے جوش میں کٸے گے فیصلے پر مرا ہو اور آج اتنے سالوں بعد وہی کھڑا ہوں یا سے سفر شروع کیا تھا چھوڑ گی مجھے وہ ایسے دولت سے پیار تھا بس بابا ساٸیں دیکھوں میرے ہاتھ خالی رہے گے شاہد یہ سزا ہی تھی جو باپ کی بات سے انکار پر ملی وہ جو بولنے پے آیا تو بولتا ہی چلا گیا
اور بہرام شاہ کا تو کلیجہ پھٹ رہا تھا بیٹے کو اس طرح ٹوٹا دیکھ کر کہاں وہ اپنے کپڑوں پر سلوٹ تک پڑنے نہی دیتا تھا اور آج وہ کیسے ایک بے وفا عورت کے ہاتھوں ٹوٹ کر بکھر رہا تھا اخر آج بھی نہ گلے لگایا تو میرا ابرار تو کرچی کرچی ہو جاۓ گا
وہ کھڑے ہوتے اور بولتے بس اب ایک دم چپ مرد روتا نہی ہے تیرا باپ ہے ابھی زندہ جتنا سفر کرنا تھا کر لیا اب تم دونوں باپ بیٹی ابھی ایسی وقعت حویلی ہمارے ساتھ چلو گے
حیا بیٹی امینہ چلو جاٶ بچی کے ساتھ ضرورت کا سامان پیک کرو ہم سب ساتھ جاۓ گے
جی اچھا بابا ساٸیں دونوں اٹھ کر حسالہ کے ساتھ پیکنگ کرنے لگ جاتی اور اسرار شاہ جو ابھی تک خاموش تھے اٹھ کر ابرار شاہ کے پاس بیٹھتے اور پوچھتے تم کب سے یوں وہیل چیر پر ہو ایسا کیا ہوا جو تمھاری ایسی حالت ہو گی تو ابرار شاہ بتاتے کیسے حنا نے ایسے اپنے رستے سے ہٹانے کے لیے اکسیڈنٹ کروایا پر جیسے اللّہ رکھے ایسے کو چکھے وہ بچ تو گے پر دونوں ٹانگوں کی نسیں مسلی گٸی جس وجہ سے چلنے سے معذور ہو گے
اور کچھ عرصے سے سر میں شدید درد کی لہر اٹھنے لگ گی تھی پہلے پہل تو غور نہی کیا پھر ایک دن جب میں نہا کر نکلا تو ناک سے خون نکل رہا تھا سر ایک دم چکرانے لگ گیا ڈاکٹر کے پاس گیا تو اس نے کینسر بتایا
چونکہ یہ ابھی ابتد ہی ہے تو ڈاکٹر بولتے علاج ہو سکتا اگر علاج کروا لیا جاۓ یہ بتا کر وہ چپ ہو جاتے
اتنے میں سب پیکنک ہو جاتی
اسرار شاہ ابرار شاہ کو لے کر الگ گاڑی میں جاتے تا کے شہر کے بڑے مشہور ڈاکٹر سے مشورہ کر سکے اور باقی سب ایک گاڑی میں بیٹھ کر حویلی روانہ ہو جاتے حسالہ کے من میں کافی سوال تھے جو اب حویلی جا کر ہی معلوم ہو سکتے تھے .....
_________________
عیشاہ اور باطشہ کے پیپر سٹارٹ تھے اس لیے وہ اجکل پڑھاٸی میں مصروف نظر آتی تھی دونوں میڈیکل کی پڑھاٸی کر رہی تھی ڈاکٹر بنانا کتنا مشکل ہوتا وہ ان کو اب پتہ چل رہا تھا ابھی بھی وہ پڑھاٸی کر رہی تھی کے ایسے چاۓ کی طلب ہوٸی وہ سر پے ڈوپٹہ اوڑھتی پاوں میں چپل پہن کر نچے جاتی ابھی وہ چاۓ کے لیے پانی چڑھاتی ہے کے ڈراٸنگ روم سے کسی کی آوازیں آتی وہ تجسس سے وہاں کا روخ کرتی تو ایک اپنی ہم عمر لڑکی جو اس کی تاٸی کے پاس بیٹھی ہاتھوں کی انگلیوں کو مسل رہی تھی اس پر نظر پڑھی تو وہ اگے جا کر سب کو سلام کرتی اور اشاروں کناروں سے پوچھنے لگتی کے یہ کون سے تو اس کی ماں امینہ بیگم بتاتی کے اس کے تایا ابرار شاہ کی بیٹی ہے
وہ اس پیاری لڑکی کے پاس جاتی اور ہاتھ اگے کر کے بولتی میرا نام باطشہ ہے ویسے مجھے تاشی بھی بولتے اور میں تھمارے افروز چاچو کی بیٹی ہو اس کے اتنے لمبے تعارف پر جہاں حیا بیگم مسکاتی وہی امینہ بیگم گھور کر دیکھتی پر وہ باطشہ ہی کیا جو اثر کر جاۓ ۔۔
باطشہ بیٹا چاۓ بنا کر کے لے آۓ آج ہم اپنی گڑیا کے ہاتھ کی بنی چاۓ پینا چاھتے دادا ساٸیں بولتے تو باطشہ سر ہلا کر کچن کی اور بڑھ جاتی اور باقی سب حسالہ سے باتیں کرنے کی کوشش کرتے تا کے وہ سب میں گھل مل جاۓ
دوسری طرف اسرار شاہ ڈاکٹر کے کیبن میں بیٹھے ہوتے ڈاکٹر ساری ریپورٹس دیکھ کر سیدھے ہو کر بیٹھتے اور بات کا آغاز کرتے
دیکھیں شاہ صاحب ان کی ساری ریپورٹس دیکھنے بعد یہ ہی پتہ چل رہا کے ان کے ٹھیک ہونے کے چانس %80 ہے باقی شفا اللّہ کے ہاتھ میں ہے
تو ٹھیک ہے آپ علاج شروع کریں ہمیں اللّہ پر یقین ہے وہ ہمیں مایوس نہی کریں گے ان شاء اللہ
ٹھیک ہے آپ ان کو کل ڈاکٹر یوسف کے پاس لے آۓ کل سے شروع کرتے پروسس ان کا جی ٹھیک ہے وہ مصافہ کر کے اٹھ جاتے ......
___________________________