ناول: #جنونِ یار
قسط: 01
از قلم: #امرینےقیس
(سیزن ٹو)
فارس تم ٹھیک ہو؟ کبیر خان بھاگ کر فارس کی طرف بڑھا تھا۔ جس کی سفید شرٹ خون سے بھیگتی جا رہی تھی۔۔۔
کبیر خان اسکی سفید شرٹ سے خون نکلتے دیکھ کر بے یقین ہوا تو فارس مسکرا کر اپنے یار کو دیکھے گیا۔
خان میں ٹھیک ہوں۔! فارس نے تکلیف سے بامشکل مسکراتے ہوئے اسے یقین دلانا چاہا تھا۔
بھائی! بھائی! غازیان ان دونوں کو بلند آواز میں مسلسل پکارتے ہوئے تیزی سے بھاگتے ہوئے انکے قریب پہنچا تو اپنے دونوں بڑے بھائیوں کو زخمی دیکھ کر اسکا مضبوط دل سینے میں بے اختیار جکڑا گیا تھا۔۔۔
غازیان نے حلق کے بل چلاتے ہوئے کبیر خان کو ہوش دلانے کی کوشش کی تھی۔ جو فارس کا
سر اپنی گود میں رکھے فریز ہو چکا تھا۔۔۔
اپنے جگر، بھائی کو ہوش حواس بھلائے دیکھ کر فارس نے سینے میں اٹھتی ہوئی تکلیف پر ضبط کرتے ہوئے کبیر خان کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ مسکرا کر ہمیشہ والے الفاظ توڑ
توڑ کر ادا کرنے کی کوشش کرنے لگا تھا ۔
رہے۔ نہ۔ رہے- یہ- جیون -کبھی،- بنی -رہے- یہ -دوستی۔۔۔
ہے -تیری- قسم -او- یارا- میرے،- جدا -ہم -نہ ہونگے- کبھی۔۔
فارس لفظوں کو توڑتے ہوئے بولا تو کبیر خان کی وحشت زدہ آئس بلو آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کر بکھرتا چلا گیا تھا۔
بھائی ہوش کریں! فاری بھائی کو جلد از جلد ہاسپیٹل لے کر جانا ہو گا۔ غازی نے جلدی سے فون پر فاتح کو گاڑی لانے کا کہتے ہوئے کبیر خان کو ہوش دلانا چاہی تو کبیر خان کی حالت دیکھ کر غازیان کے ہاتھ سے بے اختیار موبائل چھوٹ کر نیچے گر گیا تھا۔۔
سینے پر گولی لگنے کی وجہ سے فارس ہمدانی جو ضبط سے اپنے یار کو ہمت دیتے ہوئے ابھی بے ہوش ہوا تھا۔ لیکن آنکھیں بند کرنے سے پہلے وہ یہ نہیں دیکھ پایا تھا کہ کبیر خان اسکے ہوش کھونے سے ہی اپنے دیو ہیکل وجود کے ساتھ زمین بوس ہو چکا تھا۔
اٹلی میں ڈھلنے والی یہ شام قہر ذدہ ثابت ہونے والی تھی۔ آج کی ڈھلتی یہ شام کہاں جا کر اختتام پزیر ہو گی، غازیان پاشا اس سے بے خبر تھا۔
کچھ لمحوں کے توقف کے بعد ایک گاڑی نے آ کر غازیان پاشا کے قریب زور سے بریک لگائی تھی۔ اگلے ہی پل ایشام بجلی کی سی رفتار سے گاڑی سے باہر نکلتے ہوئے اپنے بڑے بھائیوں کی طرف بڑھا تھا۔ اٹلی کی اس گلی میں باسم کاظمی کی بھی اذیت ناک چیخ بے ساختہ گونجی تھی۔
باسم اور ایشام نے غازی کو ہوش دلاتے ہوئے جلدی سے آگے بڑھ کر کبیر خان اور فارس ہمدانی کے بے ہوش جسموں کو گاڑی میں لٹایا تو گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے غازیان پاشا کے کانوں میں بے اختیار دو ایک ساتھ گنگناتی ہوئی آوازیں گونجنے لگیں تھیں۔
رہے نہ رہے یہ جیون کبھی، بنی رہے یہ دوستی۔۔۔
ہے تیری قسم او یارا میرے، جدا ہم نہ ہونگے کبھی
وہ جدا نہیں ہونگے ، غازیان نے سینے میں خوف سے دھڑکتے ہوئے دل پر قابو کرتے ہوئے اس نے جھکتے ہوئے اپنے دونوں بڑے بھائیوں کے ماتھے پر باری باری ہونٹ رکھ دیے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا تو یہ ہی فیصلہ ہے، باقی تم سب بتاؤ اس بارے میں کیا سوچتے ہو۔۔۔؟ سلطان احمد خان نے سگریٹ جلاتے ہوئے اپنی رائے پیش کی تھی۔
ویسے خیال تو برا نہیں ہے۔۔! سب سے پہلے ضرار پاشا نے متفق ہوتے رائے دی تھی۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ جب ملازمہ انکو کافی دے کر گئی تھی۔
سلطان نے کوئی ضروری بات کرنے کے لیے ان سب کو یہاں پر بلایا تو وہ سب فکر مند ہوتے جلدی چلے آئے تھے۔
خان کی بات سے میں خود بھی متفق ہوں، اس طرح گھر کی بچیاں گھر پر ہی رہیں گئیں" سنان کافی کا مگ اٹھاتے ہوئے بولا تھا۔۔۔
خان بات تو تمہاری ٹھیک ہے پر یہ بتاؤ کہ ابھی نکاح کس کس کا کروانا ہے۔۔"
وہاج نے صوفے سے ٹیک لگاتے ہوئے سوال کیا تھا۔
کس کس کا کروانا سے تیری کیا مراد ہے وجی، ظاہر سی بات ہے ابھی تو جو دو مجنوں بنے پھر رہے ہیں انکا ہی کروانا پڑے گا نا"
وہاج کے سوال پر عیس نے گلاس وال میں دیکھتے ہوئے اپنے لمبے بالوں کی پونی سنوار کر مصروفیت سے جواب دیا۔
گزشتہ گزرے سالوں میں عیس علی ہمدانی
اپنی پرانی لک میں پھر واپس لوٹ چکا تھا۔
تیرا مطلب ہے کہ بس کبیر اور فارس کا ہی نکاح ہو گا۔۔؟ وہاج نے اپنا مگ پکڑتے ہوئے کنفرم کرنا چاہا تو سب نے سر کو جنبش دیتے ہوئے ہاں کی ۔
ظاہر سی بات ہے ان دونوں چوزوں کو ہی زیادہ آگ لگی ہوئی ہے تو انکا ہی نکاح پہلے ہو گا۔۔۔! عیس نے وہاج کی طرف دیکھتے کندھے اچکائے، تو وہاج کسی کچھ الجھن کا شکار نظر آنے لگا تھا۔
خان تجھے لگتا ہے کہ ایسے نکاح کے بعد بچوں کا ایک ساتھ رہنا ٹھیک ہو گا۔۔؟
وہاج نے شش و پنج کا شکار ہوتے سلطان کی طرف رخ موڑا کر پوچھنا چاہا۔
ڈونٹ وری وجی، اس کے بارے میں میرے پاس بہت اچھا پلین موجود ہے۔ پر اگر تم سب راضی ہو، تو کل کیا جمعہ کے دن نکاح کی تقریب رکھ لی جائے۔۔۔؟
سلطان نے اسے بے فکر کرتے ہوئے سب سے رائے مانگنا چاہی تو وہ متفق ہوتے حامی بھر گئے۔
ویسے یہ ساری خناس اس کمینے کی پھیلائی
ہوئی ہے، جس نے میری دونوں پھول جیسی بچیوں کو پیدا ہوتے ہی ان جنوں کی گود میں ڈال دیا تھا۔ کچھ سال پہلے کا منظر یاد آتے ہی وہاج نے دانت پیستے ہوئے اپنے پاس بیٹھے عیس کی پونی کھینچ ڈالی تھی۔
سلطان اور عیس کے ہاں جب ایک ساتھ جڑواں بیٹوں کی پیدائش ہوئی تھی۔ تو نجانے کیوں عیس کی روح بے چینی کا شکار ہو گئی تھی۔ کیونکہ وہ کسی نہ کسی طرف سے اپنی بہوؤں کی آمد کا سوچ کر بیٹھا تھا۔ پر یک دیگرے بعد جب بلیک مینشن میں لڑکے ہی پیدا ہوتے چلے گئے تو عیس ہمدانی تپ کا شکار ہونے لگا تھا۔ کیونکہ وہ لوگ اس بات پر پختہ یقین کر چکے تھے۔ کہ اس مینشن میں صرف لڑکے ہی پیدا ہونگے۔
پر مزید کچھ سال گزرنے کے بعد عیس ہمدانی کے دل کی بے چینی اس دن ختم ہو گئی تھی جب بلیک مینشن میں بیہ صدیقی نے ایک ساتھ پہلی دو جڑواں لڑکیوں کو پیدا کیا تھا۔ عیس کو جیسے ہی وہاج کی جڑواں بیٹیاں پیدا ہونے کی خبر ملی وہ سارا کام بھاڑ میں جھونکتے ہوئے بھاگ کر مینشن آن پہنچا تھا۔ بیہ کے روم میں جاتے ہی اس نے جب سب سے پہلےان نومولود بچیوں کو گود میں اٹھایا تو سب اسکی اس افراتفری پر الجھن کا شکارہوتے چلے گئے۔
لیکن سب کی الجھن اس وقت صدمے میں بدل میں گئی تھی۔ جب عیس ہمدانی نے کالی آنکھوں والی گل بہار کو کبیر خان اور سبز آنکھوں والی گل ناز کو اٹھا کر فارس کی گود میں دیتے ہوئے یہ الفاظ ادا کیے۔
"ایک لڑکی میرے کبیر خان اور دوسری میرے فارس کی ہے"
عیس کی اس حرکت پر سب کی صدمے سے آنکھیں پھیل گئیں تھیں۔ لیکن عیس ہمدانی سب کی حیرانی کو آگ میں جھونک کر وہاج کے قریب ہو کر بڑے راز دار انداز میں الٹا گویا ہوا تھا۔
ویسے وجی تجھے دو نہیں ایک ساتھ چار بیٹیاں پیدا کرنی چاہیے تھیں، تاکہ میرے شہرام اور فاتح کا بھی جوڑا بن جاتا"۔
عیس کی مخلصانہ گذارش پر وہاج نے تیش سے جہاں اسکی گردن کو جکڑا وہیں کمرے میں قہقہے پھوٹ پڑے تھے۔
سالے تو بہت ہی کوئی ڈیش قسم انسان ہے۔۔! وہاج نے عیس کی گردن پر زور بڑھایا تو عیس نے دلکش انداز میں ہنستے ہوئے سب کی توجہ سامنے کروانا چاہی تھی۔ جہاں چار سالہ کبیر اور فارس چمکتی آنکھوں سے اپنی اپنی گڑیا کو اٹھائے ایک دوسرے کے ساتھ سرگوشیاں کر رہے تھے۔
سنان متجسس ہوتے ان دونوں کی سرگوشیاں سننے کے لئے جھکا تو فارس کی دھیمی آواز سنتے ہی وہ کانوں کو ہاتھ لگاتے اٹھ کھڑا ہوا تھا کیونکہ فارس کی سرگوشی کچھ یوں تھی۔ "میں اپنی پری کو سب سے دور لے جاؤں گا، جہاں صرف ہم دونوں ہونگے"
فارس گل ناز کا چھوٹا سا ہاتھ چومتے ہوئے بار بار یہ ہی الفاظ دہرائے جا رہا تھا۔ جبکہ دوسری طرف کبیر خان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا تھا۔ کیونکہ اسے اپنی مورے جیسی آنکھوں والی گڑیا جو مل گئی تھی۔
توبہ توبہ! کمینوں ان بونوں کو کونسی بے شرم ٹریننگ دے رہے ہو۔۔" سنان نے ہنستے ہوئے عیس اور سلطان سے پوچھا تھا۔
کچھ سال پہلے کا منظر یاد آتے ہی وہ سب مسرت سے ہنسنے لگے تو وہاج نے بھی مسکراتے ہوئے سر جھٹک دیا۔
کمینے انسان مجھے مارنے کی بجائے الٹا تجھے میرا شکریہ ادا کرنا چائیے۔ کیونکہ میں نے تجھے تیری بیٹیوں کے لئے خالص مجنوں اور زن مرید قسم کے شوہر ڈھونڈ کر دیے ہیں! عیس کالر جھاڑتے ہوئے اتراتے ہوئے کہنے لگا تو وہ سب کشن سے اسکا نشانہ لیتے ہوئے زور سے ہنس دیے۔
ویسے خان کیا تو نے اس بارے میں سوچا ہے کہ ابھی تو وہ سب چھوٹے ہیں، پر کل کو سب جوان ہونگے تو کیا انکی فیلنگز ایسے ہی سیم رہیں گئیں۔۔۔؟
ضرار کے دماغ میں ایک سوال جو اسے کب سے تنگ کر رہا تھا۔ اسے نے سلطان کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔
تمہیں لگتا ہے؟ کہ کبیر خان یا فارس ہمدانی کے جنون میں کبھی کمی آ سکتی ہے؟ ہم سب کی شادیاں بے شک پسند کی ہوئیں تھیں۔ لیکن ہم میں سے کسی کی بھی محبت بچپن کی نہیں تھی۔ پر ہمارے بچوں کے معاملے میں ایسا بلکل بھی نہیں ہے۔ انہوں نے لڑکپن سے لے کر جوانی کا سفر ایک ساتھ طے کرنا ہے۔ اور یہ سفر ہی انکے دل میں مزید بے چینی پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ لیکن اس سفر میں ہماری ایک ذمہ داری اول ترجیح پر ہونی چائیے ہیں۔ اور وہ ذمہ داری ہے اپنے بچوں سے کبھی بھی غفلت نہیں برتنی ہے۔
کیونکہ ہماری زرا سی غفلت ہمارے بچوں کے لئے بہت زیادہ زدہ نقصان دے ثابت ہو سکتی ہے۔۔۔ سلطان سگریٹ کا دھواں اڑاتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں جو بول رہا تھا۔ کہ سنان اسکے الفاظ پر ناسمجھی سے اسے ٹوکتے ہوئے پوچھ گیا۔۔۔
خان تیری ان سب باتوں کا کیا مطلب ہے؟ اپنے بچوں کے بارے میں فکر مند ہوتے وہ پوچھ گیا۔ یہ خیال ہی جان لیوا تھا کہ انکے بچوں کو کسی چیز سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔
سنی سیدھا اور صاف مطلب ہے! ہمارے سارے بچے ہی ہمارا عکس ہیں۔ اور ہمارا عکس ہونے کے ساتھ ساتھ وہ سب غیر معمولی بھی ہیں۔ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم وقت رہتے ہوئے اپنے بچوں کی حفاظت کے بارے میں جتنے اقدام کر سکتے ہیں۔ وہ سب کرنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ عقل اور شعور ہمیں یہ ہی سکھاتا ہے۔ کہ ہم چیزوں کی نوعیت دیکھتے ہوئے فیصلوں میں دیری نہیں کریں۔
مستقبل میں ہمارے بیٹے اگر ہماری ہمت اور فخر ہونگے تو ہماری بیٹیوں کو ہماری کمزوری بھی بنایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ یہ کہانی فرض سے شروع ہو کر بہت آگے نکل چکی ہے۔ اب تک ہم نے جتنے بھی مشن کامیابی سے مکمل کیے ہیں۔ ان سب کامیابیوں نے ہمارے دشمنوں کو بھی بڑھا دیا ہے۔
اسی لئے ذمہ دار ماں باپ ہونے کی حیثیت سے ہمارا پہلا یہ ہی فرض کہ ہم اپنے بچوں کی چھوٹی سی چھوٹی سی چیز پر بھی نظر رکھیں۔
میں جانتا ہوں کہ میری باتوں کی وجہ سے تم لوگوں کے دماغ میں ابھی بہت سے سوال اٹھ رہے ہیں، پر ابھی میں جو کہہ رہا ہوں صرف اس پر عمل کرو۔ باقی میں وقت کے ساتھ ساتھ تم سب کو آگاہ کرتا جاؤں گا۔۔۔
سلطان نے انکو مزید الجھتے ہوئے دیکھ کر سگریٹ بجھا کر ریلکس کرنا چاہا تھا۔ تاکہ وہ سب پریشان نہ ہوں۔۔۔
کیا یہ نکاح بھی ان ساری باتوں کا حصہ تو نہیں۔۔؟ وہاج نے کسی خدشے کے تحت جاننا چاہا تھا۔۔۔
ہمم۔۔ کہہ سکتے ہو، کیونکہ ہمیں اپنے گھر کی بچیوں کو سکیور کرنا ہو گا۔ یہ نکاح میں کبیر خان یا فارس ہمدانی کی محبت دیکھتے ہوئے نہیں کروا رہا ہوں۔ بلکہ یہ نکاح گل ناز اور گل بہار کی حفاظت کے لیے ہے۔ کیونکہ ہم نے اپنی بیٹیوں کو محفوظ اور بیٹوں کو مضبوط بنانا ہے۔۔۔" سلطان نے سرد سانس خارج کرتے ہوئے جواب دیا تھا۔۔۔
خان اگر ایسی بات ہے تو ہم باقی بچیوں کا بھی نکاح طے کر لیتے ہیں ۔۔۔" سنان بے چینی سے بولا تھا۔
ریلیکس سنی، ابھی ہم نے صحیح فیصلے کرنے کی کوشش کرنی ہے، نہ کہ جلد بازی میں اپنے بچوں کا نقصان کرنا ہے۔ ویسے بھی ابھی ہم صرف کبیر اور فارس کی ہی اٹینشن کے بارے میں جانتے ہیں۔
سلطان نے سنی کو جواب دیتے ہوئے دوسرا سگریٹ جلایا تو اسکی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے وہ سب مزید باتوں میں مصروف ہو گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیڈ میرا پرنس کب آئے گا۔۔؟ اٹھ سالہ مہر ماہ نے سنان مصطفیٰ سے استفسار کرنا چاہا تھا۔ ابھی کل ہی تو وہ راپنزل والی مووی دیکھ رہی تھی۔ جو اونچے مینار پر اکیلی قید تھی۔پر
اسکا پرنس اسکو وہاں سے آزاد کروا کے
لے جاتا ہے۔
ڈیڈ کی جان کو اچانک پرنس کیوں چائیے۔۔؟ سنان نے چونک کر اپنی خوبصورت بیٹی کی طرف دیکھا تھا۔
سکائے بلو آنکھوں پر گولڈن بالوں میں وہ خوبصورت ترین تھی۔ مہر ماہ نے ویسے تو وراثت میں چہرے کے نقوش سے لے کر بال تک بھی ایرہ سے چرائے تھے۔ پر اسکی بلو آنکھیں
۔نہ تو سنان سے ملتی تھیں اور نہ ہی ایرہ سے۔
اسکی بلو آنکھوں کی وجہ سے ہی سنان نے
اسکا نام مہر ماہ رکھا تھا۔۔ جس کا مطلب تھا "چاند یا سورج" اپنے بالوں کے رنگ سے اگر وہ سورج کی سنہری روشنی معلوم ہوتی تھی، تو نیلی آنکھوں سے چاند کا عکس تھی۔ اسی لئے اسکا نام مہر ماہ چنا گیا تھا۔ جو سورج اور چاند دونوں کا عکس تھی۔
ڈیڈ ابھی کل ہی تو ہم مووی دیکھ رہے تھے نا
جس میں راپنزل کو اسکا پرنس
ملنے آتا ہے۔۔۔" مہر نے باپ کو کل والی شہزادی یاد دلانا چاہی تھی۔ راپنزل سے وہ اچھی خاصی متاثر نظر آ رہی تھی۔۔اسی لئے تو ابھی
تک اسے یاد رکھے ہوئے تھی۔
مہر کے یاد دلانے پر سنان گاڑی کو گیراج میں بریک لگا کر دماغ پر زور ڈالنے لگا تو اگلے ہی پل ہنس پڑا تھا۔
ڈیڈ کی جان وہ راپنزل کا پرنس نہیں تھا، بلکہ چور تھا۔۔؛ سنان نے ہنستے ہوئے اپنی بیٹی کی تصحیح کرنا چاہی تھی۔
کیونکہ وہ ایک چور کو پرنس بنائے بیٹھی تھی۔ اور اب سنان کاظمی اپنی بیٹی کے لئے چور پسند کر کے لائے ۔۔ یہ سوچتے ہی وہ دہل چکا تھا۔۔۔
ڈیڈ وہ پہلے چور تھا۔ پر بعد میں تو پرنس بن گیا تھا نا۔.! مہر ماہ جھنجھلا کر الٹا اپنے باپ کی درستگی کرنا چاہ رہی تھی۔۔۔
اچھا جو بھی تھا اسے گولی مارو، آؤ ہم اندر چل کر آئس کریم کھاتے ہیں! سنی نے راپنزل کے چور پر فٹے منہ بھیجتے ہوئے یہ ٹاپک کی ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔۔
ڈیڈ مجھے آئس کریم نہیں کھانی ہے۔ بلکہ مجھے میرا پرنس چائیے نا۔۔! مہر ماہ نے ضدی بنتے ہوئے سنان کے سینے پر اچانک سر ٹکایا تو سنان جو اسکے ضدی انداز پر سوچ میں پڑنے لگا تھا۔ کہ اچانک اسکے دماغ میں جھماکا سا ہو گیا۔ جس کو یاد کرتے ہی وہ چمکتی آنکھوں سے بولنا شروع ہوا۔۔۔
ڈیڈ کی پرنسز کو پرنس چائیے؟ سنی نے اپنی بیٹی کا چہرہ اوپر اٹھاتے ہوئے پیار سے استفسار کیا تو مہر ماہ نے پر روشن آنکھوں سے ہاں میں سر ہلا دیا۔
میری جان اس میں سوچنے کی کیا بات ہے، آپکے اپنے گھر میں اتنے سارے پرنس گھومتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی پھنسا لو۔۔۔"
سنان کاظمی نے بے نیازی سے بولتے ہوئے مہرماہ کے ماتھے کو چوم لیا تھا۔ شاید وہ واحد باپ تھا جو اپنی بیٹی کو گھر کا کوئی
بھی لڑکا پھنسانے کی ترغیب دے رہا تھا۔
کون پرنس؟ ہمارے گھر میں کونسے سے پرنس
رہتے ہیں ڈیڈ؟ مہر ناسمجھی سے دیکھ گئی۔۔۔
اپکے اتنے سارے کزن ہیں تو صحیح۔۔۔! سنان نے مسکرا کر اسے بتایا تھا۔ جس کو سن کر مہر ماہ کے چہرے کے زاویے بگڑ چکے تھے۔
ڈیڈ مجھے ایسا کوئی سفید فام پرنس نہیں چائیے ہے۔ بلکہ مجھے تو کوئی براؤن رنگ کا پرنس چائیے نا! مہر ماہ اپنے سارے کزن کو سوچ کر منہ بناتے ہوئے بولی تھی۔
اب یہ براؤن کلر کا پرنس کس دکان سے اور کہاں سے ملے گا۔۔۔! اپنی بیٹی کی فرمائش پر سنان مصطفیٰ پریشانی کا شکار ہو رہا تھا۔۔۔
میری جان تمہارے سارے کزن اتنے پیارے تو
ہیں۔ تم انہی میں سے کوئی پھنسا لو، گولی مارو اس براؤن کلر کے پرنس کو۔۔۔! سنان نے ایک اور کوشش کرتے ہوئے اپنی لاڈلی بیٹی کو منانا چاہا تھا۔۔۔
ڈیڈ میرے سب کزن کا رنگ اتنا وائٹ ہے۔ اور اوپر سے میرا رنگ بھی تو وائٹ ہے۔ تو مجھے کوئی ایسا پرنس چائیے جس کا کلر براؤن ہو نا کہ وائٹ۔۔۔!
اپنی ڈیمانڈز بتاتے ہوئے مہرماہ چمکتی آنکھوں سے بولتی چلی گئی۔۔۔
تمہارا مطلب ہے کہ تمہیں کالا پرنس چائیے۔۔۔؟ اپنی بیٹی کی ساری بات کا نتیجہ نکالتے ہوئے سنان نے سیرس انداز میں پوچھا تھا۔ کیونکہ اسے یہ ہی سمجھ میں آ رہا تھا۔ کہ اسکے سارے کزن اگر گورے ہیں تو براؤن کا مطلب اسکی بیٹی کو کالا پرنس چائیے۔
ڈیڈڈ۔۔۔ مہر ماہ نے غصے سے اپنے باپ کو دیکھتے ہوئے اسکی پاکٹ سے موبائل نکال کر سرچ بار میں جا کر مطلوبہ حوالہ نکال کر سنان کے سامنے کیا تھا۔۔۔
مجھے کالا نہیں بلکہ اس کلر کا پرنس چائیے۔۔! مہرماہ تصویر پر زور دیتے بولی تو سنان موبائل میں نظر آنے والی تصویر کو غور سے دیکھنے لگا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہانی مکمل طور پر فنی اور فیملی بیس ہے ۔
اور میری میرے ریڈرز سے گزارش ہے۔ کہ پلیز پیج کو ریویو کر دیں۔ شکریہ۔۔
ویسے کیا سچ میں مہر ماہ کو کالا پرنس چائیے ہو گا 
