ناول: #جنون-یار
قسط: 02
از قلم: #امرینےقیس
آج بلیک مینشن میں نکاح کی تیاریاں عروج پر چل رہیں تھیں ۔ کیونکہ گھر
کے دونوں بڑے بیٹوں کا نکاح تھا ۔
نکاح کی تیاریاں مکمل ہیں نا؟ سفید شلوار قمیض میں ملبوس اپنی ہمیشہ والی بارعب شخصیت سمیت سیڑھیاں اترتے ہوئے ضرار نے عیس اور سنان سے پوچھا۔۔۔
ہاں سب کچھ مکمل ہے۔۔ تقریباً سب مہمان بھی آ چکے ہیں۔ اب جمعہ کی نماز کے بعد نکاح کی ادائیگی ہو جائے گی"
عیس نے کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی پر وقت دیکھتے ہوئے مصروف انداز میں جواب دیا تھا ۔بلیک مینشن میں سب موجود تھے۔ پر اگر کوئی دو زی روح نظر نہیں آنے والے تھے۔ تو وہ صرف "سفیہ خانم"عرف "بی جان"اور "میر خان"عرف "آغا جان"تھے ۔
کچھ سال پہلے جب بی جان اَچانک بیمار پڑیں۔ تو ایک رات وہ چپکے سے ہمیشہ کیلئے آنکھیں بند کر گئی تھیں ۔بی جان کی اچانک موت کا صدمہ سب سے زیادہ میر خان اور وہاج علی صدیقی کو پہنچا تھا۔ کہنے کو بی جان کے چلے جانے سے ہر کوئی غم زدہ ضرور تھا ۔ پر وہاج علی صدیقی جس کو سالوں بعد شفقت بھرا سایہ نصیب ہوا تھا ۔ وہ سایہ دوبارہ چھن جانے پر وہاج ایک بار پھر مینٹل ٹراما کا شکار ہونے لگا تھا ۔ بیہ سے شادی ہونے کے بعد یہاں تک کہ اس کی پہلی اولاد ہو جانے کے بعد بھی یہ سکون نہیں بدلا تھا۔ جو اسکو بی جان کی گود میں سر رکھ کے حاصل ہوتا تھا ۔ ہر رات وہ سونے سے پہلے بی جان کے کمرے میں انکی گود میں سر رکھ کے جہاں ڈھیروں باتیں کیا کرتا تھا ۔ وہیں دوسری طرف آغا جان اسے شعلہ بار نظروں سے دیکھتے نہیں تھکتے تھے ۔ ان دونوں کی یہ خاموش لڑائی تو سالوں تک چلی تھی ۔اور یہ خاموشی بھری لڑائی وہاج کو اندر ہی اندر بڑا مزا دیتی تھی ۔ بی جان کے انتقال کے بعد وہاج اپنے آغا جان کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا ۔
وہاج کی وہ حالت سب کے لیے کربناک تھی ۔اس وقت بیہ نے بڑی مشکل سے اس کو سنبھالا تھا ۔یہاں تک کے اپنی جاب سے ریزائن دے کر اس نے اپنا سارا وقت وہاج کو دینا شروع کر دیا تھا ۔وقت کے ساتھ ساتھ وہاج نے سنبھلنا شروع کیا تو اسی سال کے آخری دن پھر ان پہ بھاری ہو گئے ۔جب انہیں اچانک یہ خبر ملی تھی کہ "میر خان" اب اس دنیا میں نہیں رہے ہیں ۔ بی جان کی محبت نے آغا جان کو زیادہ دن جینے کی مہلت نہیں دی تھیں ۔ سفیہ خانم کے بعد تو ویسے بھی آغا جان زیادہ تر خاموش رہنے لگے تھے ۔ان سب نے بہت کوشش کی تھی۔ کہ آغا جان کو نارمل کر سکیں۔ اور وہ پہلے ہی کی طرح ٹوٹی پھوٹی اردو بولتے ہوئے زندگی کی طرف لوٹ آئیں ۔ پر بی جان کے بعد آغا جان نے اردو بولنا ہی چھوڑ دی تھی۔ وہ زیادہ تر خاموش رہتے یا پھر اگر کوئی بات کرتا تو پشتو میں اسے جواب دے کر چپ سادھ لیتے تھے ۔
اُردو زبان کی تکرار جو خانوں کی حویلی میں قہقہے بکھیرتی تھی ۔ وہ قہقہے بی جان کے بعد ختم ہو گئے تھے ۔ شائد ان دونوں میاں بیوی کی محبت کا انداز ہی اتنا سادہ تھا ۔ کہ وہ اظہار نہ کرتے ہوئے بھی ہر وقت ایک دوسرے سے محبت جتاتے نہیں تھکتے تھے ۔
آج کے زمانے میں "محبت کے اظہار" کو ہی محبت مانا جاتا ہے ۔ پر ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی ہے ۔کہ محبت اصل میں ہے کیا ؟
شائد ہر وہ احساس محبت ہے۔ جو ہمیں خود کے سوا کسی دوسرے کے لیے بے چین کرتا ہے ۔اور جو احساس آپ کو بے چین نہ کرے وہ محبت نہیں ہو سکتی ہے ۔
میر خان اور سفیہ خانم کی محبت بھی ایسی ہی تھی ۔وہ دونوں لڑتے جھگڑتے ہوئے ایک ساتھ رہتے تھے ۔ساری زندگی ان دونوں نے اپنے گاؤں کے لوگوں سے محبت کرتے ہوئے اور ان کو محبت سکھاتے ہوئے گزار دی تھی ۔وہ دونوں چلے گئے۔ تو بعد میں میرپور گاؤں میں افسوس کی خاموشی نے ڈیرے جما لیئے تھے ۔
آغا جان کا یوں اچانک چلے جانا سلطان احمد خان پہ بہت بھاری پڑا تھا ۔دو بڑے پوتے ہونے کے باوجود بھی "سلطان احمد خان"اپنے آغا جان کےلئے انکا لاڈلا"سلطانی"تھا ۔
محبت کا سبق دینے والے ان دونوں میاں بیوی کا خلا کوئی چاہ کر بھی پر نہیں کر سکا تھا ۔ ہر گزرتا سال انکو صبر تو دے دیتا تھا ۔لیکن دل میں یہ کسک بھی ضرور ڈال دیتا تھا۔
کہ کاش وہ دونوں ان کے ساتھ موجود ہوتے"۔
آج اپنے بچوں کے نکاح پہ ان پانچوں کو وہ "میاں بیوی" جی بھر کے یاد آ رہے تھے ۔سلطان اور عیس کے جڑواں بچوں پر آغا جان اور بی جان نے خوشی سے پورے میر پور میں تحائف بانٹے تھے ۔ یہاں تک کہ وہ لوگ جب بچوں کو گھر لے کر آئے تھے۔ تو آغا جان نے ڈھول بجاتے ہوئے باقاعدہ پورا جشن منایا تھا ۔اور آج انہی بچوں کے نکاح پہ وہ دونوں ہی موجود نہیں تھے ۔
وجی ! کیا سوچ رہے ہیں ؟ وہاج کو سوچوں میں گم دیکھ کر بیہ نے اسکی پشت سے سینے پر ہاتھ باندھنے ہوئے آئینے میں اسے دیکھا تو وہاج چونکتے ہوئے مسکرا دیا تھا۔
کچھ نہیں میری جان ! بس سوچ رہا تھا۔ کہ وقت بہت تیزی سے گزر جاتا ہے ۔کل تک ہم مری میں اپنی شادی کی پہلی صبح دیکھ رہے تھے۔ اور آج اپنے بچوں کے نکاح پہ تیار ہوئے کھڑے ہیں ۔ وہاج رخ موڑ کر شرارتی انداز میں زومعنی انداز میں کہنے لگا تو بدلے میں بیہ اسے گھور کر رہ گئی ۔
اب تو شرم کرلیا کریں وجی ،تین بچوں کے باپ بن چکے ہیں ۔ بیہ اسکے سینے پہ مکا مارتے ہوئے بولی تھی۔ وہاج اسکی کمر کے گرد گھیرا تنگ کر تے ہوئے اسے قریب کرنے لگا تھا ۔
ہائے! یہ حقیقت نہ یاد کروایا کرو ظالم بیوی ورنہ تمہاری شامت اب بھی آ سکتی ہے ۔ وہاج اسکے خوبصورت سراپے پر نظریں دہرا کر بولنے لگا تو بیہ نے اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا ۔
بس بس اپنا ٹھرک پن بعد میں جھاڑتے رہیے گا ۔پہلے اپنی بیٹیوں کو جا کر ایک بار دیکھ لیں۔۔۔! بیہ نے اسکی بےباک باتوں کو روکتے ہوئے اسکی توجہ اپنی بیٹیوں کی طرف کروانا چاہی تھی ۔
کیوں کیا ہوا میری دونوں شہزادیوں کو ؟ وہاج اسے بازو کے گھیرے میں لے کر کمرے سے باہر نکلتے ہوئے پوچھنے لگا ۔
آپ خود ہی دیکھ لیں ۔ایک کا رونا نہیں ختم ہو رہا ہے اور دوسری کا میک آپ ۔۔!
بیہ نے تاسف سے سر ہلاتے ہوئے وہاج کو جواب دیا تھا ۔ وہ دونوں ساتھ والے کمرے میں داخل ہوئے جہاں ایشام صدیقی بےزار نظروں سے اپنی دونوں بہنوں کو دیکھ رہا تھا ۔ کیونکہ چھوٹے سے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی گیارہ سالہ "گل ناز" اپنے چھوٹے چھوٹے ہونٹوں پر ریڈ لپ اسٹک لگائے جا رہی تھی ۔ جبکہ پاس کھڑی "گل
"گل بہار"صرف آنسو بہانے میں مصروف تھی ۔ وہاج نے حیرت و خوشی سے اپنی دونوں بیٹیوں کی طرف دیکھا تھا ۔ جو ایک جیسے سرخ رنگ کے لہنگوں میں دلہنوں کی طرح سجی سنوری نظر آ رہیں تھیں ۔۔۔
ڈیڈ ! وہاج کو دیکھتے ہی گل بہار اسکی آغوش میں تیزی سے سمائی تو ایشام نفی میں سر ہلاتے ہوئے اٹھ کر اپنی ماں کے پاس آ گیا تھا ۔ گل بہار کو روتے ہوئے دیکھ کر بیہ نے خود بھی سرد سانس خارج کیا ۔ بیہ اور منیزے نے مل کر ان دونوں کو تیار کر دیا تھا ۔ مگر گل بہار کا رونا ہی ختم نہیں ہو رہا تھا ۔ جبکہ بیہ اور ایشام نے اسکو چپ کروانے کی کتنی ہی کوششیں کیں تھیں ۔
ڈیڈ کی پیاری جان کیوں رو رہی ہے ؟ وہاج نے تڑپتے ہوئے اسکو سینے میں بھینچ لیا۔ جہاں وہ تینوں بہار کے رونے پہ فکر مند نظر آ رہے تھے۔ وہیں گل ناز اپنے فاری کو دیکھانے کے لیے بس ہونٹوں پر لپ اسٹک لگانے میں مصروف تھی ۔ فارس ہمدانی سے شادی ہونے کی خوشی میں آج اسے کسی دوسرے انسان سے کوئی سروکار نہیں تھا ۔ گل ناز کی بے مروتی پہ بیہ اسے گھور کہ رہ گئی تھی ۔
ڈیڈ مجھے بیر(کبیر) سے شادی نہیں کرنی ہے ۔۔۔۔ ! بہار نے آنسوؤں بھری آنکھوں سے وہاج کی طرف دیکھا تھا ۔ چھوٹی سی دلہن بنی ماتھے پہ سائیڈ جھومر لگائے وہ کالے نینوں میں آنسوؤں کی رمک لیئے اپنے باپ کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
بہار بھیا کا نام "کبیر" ہے. کتنی دفع بتایا ہے۔ کہ بیر نہ بولا کرو۔۔۔! بہن کی زبان سے پھر ادھورا بیر سن کی ناز نے رخ موڑتے ہوئے اسے ڈانٹنا تھا ۔ جس پر بہار ہونٹ مروڑتے ہوئے دوبارہ رونے کی تیاری پکڑنے لگی ۔
ڈیڈ کی جان کو بیر سے شادی کیوں نہیں کرنی ہے ؟ وہاج نے اپنی خوبصورت بیٹی کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے شادی سے انکار کی وجہ جاننی چاہی تھی ۔ ان کے خاندان میں بلیک آنکھیں صرف علیزے خان کی تھیں ۔ لیکن علیزے خان کے بعد اگر یہ رنگ کسی کو حاصل ہوا تھا ۔تو وہ گل بہار تھی ۔ وہ بہار جو کبیر خان کا جنون بننے والی تھی ۔ وہ معصوم بہار جو کبیر خان جیسے دیو ہیکل کے سامنے صرف ایک ننھی سی پری تھی ۔ گل بہار کی آنکھوں کے رنگ پر بیہ اور وہاج بہت حیران ہوتے تھے۔
کیونکہ نہ تو وہاج کی آنکھیں ایسی تھیں اور نہ ہی بیہ کی ۔۔۔۔ گل ناز اور ایشام نے آنکھوں کے ساتھ ساتھ نقش بھی اپنے دونوں ماں باپ سے چرائے تھے ۔پر گل بہار سب سے مختلف بن کر آئی تھی ۔۔
گل بہار کے منفرد نقوش اور آنکھوں کا رنگ دیکھ بیہ اور وہاج کو اس بات کا یقین سا ہو گیا تھا ۔ کہ ان کی بیٹی اس دنیا میں کبیر کے لیے ہی آئی ہے ۔ جہاں ایک طرف کبیر خان اسکے لیے بے صبرا بنا بیٹھا تھا ۔ وہاں دوسری طرف بہار اس سے ڈر کے مارے شادی ہی نہیں کرنا چاہ رہی تھی ۔ بیہ کو اشارہ کرتے ہوئے وہاج گل بہار کو بازوؤں میں اٹھا کر ٹیرس پر چلا گیا تھا ۔ تاکہ کبیر خان کے بارے میں اپنی بیٹی کے تمام گلے شکوے سن سکے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب تک ناز میرے ساتھ نہیں بیٹھے گی میں نکاح نہیں کروں گا۔۔! سفید شلوار قمیض کے ساتھ بلیک ویسٹ کوٹ پہنے پندرہ سالہ فارس ضدی لہجے میں بولا تھا۔۔
تو نہ کر نکاح اچھا ہے نا۔۔! بچی تیرے جیسے منحوس انسان سے بچ جائے گی ۔! بیٹے کے ضدی انداز کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے عیس بے پرواہی سے بولا تھا۔ سب پریشانی سے ان باپ ، بیٹے کو دیکھ رہے تھے۔۔
چھوٹے بابا مجھے بھی فاری کے ساتھ ہی بیٹھنا ہے نا۔۔! چھوٹی سی دلہن بنی گل ناز نے بھی اپنے دولہے کی حمایت کی۔ تو سب ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے۔ گل ناز اور گل بہار دونوں ہی اس وقت سرخ رنگ کا خوبصورت لہنگا، چولی پہنے پیاری پیاری دلہنیں بنی کھڑی تھیں۔ روایتی دلہنوں کی طرح انکے چہروں پر پردے والے گھونگھٹ بھی اوڑھے گئے تھے۔۔
فارس میری جان ۔۔! ابھی بات سمجھنے کی کوشش کرو۔۔ نکاح کے بعد ناز آپکے ساتھ بیٹھ جائے گی نا ۔! منیزے نے ایک بار پھر اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔۔
نو بڑی ماما ۔۔! مجھے بس ناز کے ساتھ ہی بیٹھنا ہے۔۔! فارس نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے حتمی فیصلہ سنایا تھا۔ جس کو سنتے ہوئے وہ بے بسی کا شکار نظر آنے لگے ۔
ڈیڈ مجھے فاری کے ساتھ بٹھا دیں پلیز۔۔۔! ناز نے اس بار وہاج سے منت کی تھی ۔
خدا جانے یہ ریگستان سے لیلہ مجنوں بھٹک کر ہمارے گھر میں کیسے آ گئے ہیں۔۔! ناز اور فارس کی ایک ہی رٹ سنتے ہوئے سنان کڑھتے ہوئے بول گیا تھا۔۔
آپ سب ابھی تک یہیں پر کھڑے ہیں۔۔! باہر سب لوگ نکاح شروع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں ۔! سلطان اور ضرار جو ابھی اندر داخل ہوئے تھے۔۔ سب کو ایک جگہ پر کھڑے دیکھ کر وہ انہی کی طرف آ گئے۔
ماموں مجھے فاری کے ساتھ بیٹھنا ہے نا۔۔! گل ناز اپنا لہنگا اٹھا کر تیزی سے ضرار کے پاس آئی تھی۔۔
ماموں صدقے میرا بچہ ۔۔! ضرار نے جھکتے ہوئے اپنی لاڈلی کو بازوؤں میں اٹھا لیا ۔
اب یہ کیا ماجرا ہے۔۔۔؟ گل ناز کو بازوؤں میں اٹھاتے ہوئے ضرار نے سب کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو سنان سرد سانس خارج کرتے ہوئے ان کو ساری بحث سے آگاہ کرنے لگا تھا ۔
جب اپنی گندی اولاد کا اندازہ ہو کہ "وہ کیسی ہے" تو پھر بحث میں وقت ضائع کرنے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ہے۔۔! ساری بات جان کر سلطان نے گھور کر اس ٹڈے "فارس" کی جانب دیکھا۔ جو کن اکھیوں سے کبیر کی طرف دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
پر خان رشتہ دار ایسے باتیں بنائے گئے۔۔! علیزے کسی خدشے کے تحت جلدی سے بولی تھی۔ سارے رشتے دار پہلے ہی بچوں کے نکاح پر باتیں بنائے جا رہے تھے۔ جبکہ کچھ نے تو یہاں تک اعتراض اٹھا لیا تھا۔ کہ انکی بیٹی کا رشتہ کیوں نہیں لیا گیا۔۔
خانم سب رشتہ دار ہماری خوشی میں شریک ہونے کے لئے آئے ہیں، نہ کہ مداخلت کرنے کے لئے ۔۔۔! ویسے بھی یہ نکاح ہمارے بچوں کا ہے۔ اور اپنے نکاح پر اگر وہ ہی خوش نہیں ہونگے تو پھر یہ خوشی ہم کیسے محسوس کر سکتے ہیں۔۔؟ آپ بے فکر رہیں۔ اگر کوئی اعتراض کرے گا تو سب بڑے انکو جواب دینے کے لیے موجود ہیں۔۔۔!
علیزے کو پریشان دیکھ کر سلطان نے آگے بڑھ کر اسکے ماتھے پر ہونٹ رکھتے ہوئے اسے پرسکون کیا۔ تو وہ بے ساختہ مسکرا کر اسے دیکھتی رہ گئی۔۔
اب سب باہر چلیں۔ نکاح کا وقت نکلتا جا رہا ہے ۔! سلطان نے آگے بڑھ کر وہاج سے گل بہار کو لیا تو وہ لاڈ سے اپنے خان بابا کے کندھے میں منہ چھپانے لگی تھی۔ ضرار اور سلطان دونوں چھوٹی دلہنوں کو اٹھا کر لان کی طرف بڑھے تو سب بے فکر ہوتے انکی تقلید میں قدم اٹھا گئے۔
سب لان میں آئے تو وہاں ہوئی خوبصورت سی سجاوٹ دیکھ کر گل بہار اچانک کھلکھلا کر اپنے بڑے بابا کی طرف دیکھنے لگی۔ بہار کے مسکرانے پر سلطان نے بھی مسکراتے ہوئے اسکا ماتھا چوم لیا تھا۔ بدلے میں گل بہار بھی خوشی سے بڑے بابا کی گردن میں بازو ڈال کر زور سے ہگ کرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
آپ نے کہا تھا۔ کہ شادی کے بعد بیر "کبیر" کو دور بھیج دیں گئے۔۔۔!
گل بہار نے سلطان کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اسکا وعدہ یاد دلایا تو سلطان مسکراہٹ دباتے ہوئے ہاں میں سر ہلا گیا تھا ۔ تاکہ اسکی ننھی سی بہو کو کو تسلی رہے۔ کہ کبیر خان جیسا جن اس سے دور چلا جائے گا ۔۔
وہاج اور بیہ مسکرا کر اپنی بیٹی کی کھلکھلاہٹیں دیکھ رہے تھے۔ جو پہلے روتے ہوئے نہیں تھک رہی تھی۔ لیکن اب سلطان کے ساتھ لاڈ کرنے میں مصروف تھی ۔
ضرار اور سلطان نے ان ننھی دلہنوں کو انکے نکمے دولہوں کے پاس بٹھایا تو گل ناز اپنے فارس کے ساتھ چپک کر بیٹھ گئی تھی۔ لیکن گل بہار نے کبیر خان کے پاس بیٹھتے ہی ڈر کے مارے سلطان کا ہاتھ جکڑ لیا تھا ۔
سلطان جو اٹھ کر دوسری طرف جانے لگا تھا۔ گل بہار کے ہاتھ تھامنے پر وہ وہاج کو آگے بڑھنے کا اشارہ کر کے خود اپنی بہو کے پاس پھر نیچے بیٹھ چکا تھا۔۔
سلطان کے پاس بیٹھنے پر ننھی سی گل بہار جلدی سے اٹھ کر اپنے بڑے بابا کی گود میں بیٹھی تو کبیر خان نے غصے سے اسکی طرف دیکھا تھا۔۔ کیونکہ اسکی ہونے والی منکوحہ جا کر اپنے سسر کی گود میں تشریف رکھ چکی تھی۔ وہاج نے نکاح خواں کو نکاح شروع کرنے کا اشارہ کیا تو عیس گھوم کر گل ناز والی سائیڈ پر آ کر بیٹھ گیا تھا۔ تاکہ انکو آگے کا لائحہ عمل سمجھا سکے۔
ڈیڈ کیا شادی کرنے کے بعد گل ناز صرف فارس بھیا کی ہو جائیں گی ۔۔۔؟ ہیر جو اس وقت ضرار کی گود میں بیٹھ کر دلہن بنی گل ناز کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس نے چہرہ اٹھاتے ہوئے اچانک اپنے باپ سے سوال کیا تھا۔ اپنی بیٹی کے سوال پر ضرار نے مسکراتے ہوئے اسکی گال پر ہونٹ رکھ دیے تھے۔۔
ہاں ڈیڈ کی جان۔۔! شادی کرنے کے بعد ہم صرف اپنے پارٹنر کے بن جاتے ہیں۔۔! ضرار نے اپنی پیاری بیٹی کے بال سنوارتے ہوئے اسے جواب دیا۔ باپ کا جواب سن کر ہیر کی سبز آنکھوں میں بے اختیار چمک پیدا ہوئی تو وہ سامنے کھڑے ایشام صدیقی کو شیطانی نظروں سے دیکھنے لگی تھی ۔۔ بلیک سوٹ پہنے ڈارک بلو آنکھوں میں سنجیدگی سموئے "ایشام صدیقی" اس وقت ہیر پاشا کو اپنا ٹارگٹ معلوم ہو رہا تھا۔۔
نکاح خواں نے نکاح نامہ فارس کے آگے رکھا تو فارس چمکتی مسکراہٹ کے ساتگ نکاح نامے پر سائن کرنے کی کوشش کرنے لگا تھا۔ یہ وہی سائن تھے۔ جو دو دن پہلے عیس ہمدانی نے کبیر خان اور فارس سے پریکٹس کروائی تھی۔۔
ڈیڈ میرا براؤن پرنس کب آئے گا۔۔؟ مہرماہ نے آنکھوں میں نمی لیے سنان کاظمی سے سوال پوچھا تو اپنی بیٹی کی نم آنکھیں دیکھتے ہوئے سنان نے بے ساختہ شعلہ بار نظروں سے نکاح خواں کے پاس بیٹھے ہوئے عیس علی ہمدانی کو گھورا تھا۔
میری جان ڈیڈ نے آپکا پرنس بننے کے لیے دیا ہوا ہے۔۔! جیسے ہی تیار ہو گا میں اسے آپکے پاس لے آؤں گا۔۔۔! سنی نے اپنی بیٹی کو تسلی دینے کی پوری کوشش کی تھی۔ جس کو سن کر مہرماہ کچھ مطمئن ہوتی نظر آنے لگی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمینے انسان میں تیرا خون کر دوں گا۔۔! سنان غصے سے عیس کے پیٹ پر حملہ کرتے ہوئے بولا تھا ۔
واحیات انسان پہلے بکواس کر تو سہی کہ میں کیا کیا ہے۔۔۔؟ عیس نے اپنا بچاؤ کرتے ہوئے اسکے غصے کی وجہ پوچھی تو سنان مزید تیش سے اس پر پل بھرا تھا۔ نکاح کے بعد سب مہمان کھانا کھا کر آہستہ آہستہ چلے گئے تھے۔ وہ سب بیٹھ کر ایک ساتھ چائے پی رہے تھے۔ جب سنان نے عیس کو اشارہ کرتے ہوئے اپنے پیچھے آنے کا کہا تھا ۔
عیس اسکے پیچھے گیسٹ روم میں داخل ہوا تو سنان نے مڑتے ہوئے اچانک اسکے پیٹ میں مکہ جھڑ دیا تھا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ دونوں بیڈ پر گھتم گھتا ہوتے چلے گئے تھے۔۔
انکے شور پر سلطان، ضرار اور وہاج بھاگتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے تو بیڈ پر پھولی سانسوں میں وہ ایک دوسرے کو پیٹنے کی کوشش کر رہے تھے۔
سٹاپ اٹ۔۔۔! کیا کر رہے ہو تم دونوں ۔۔۔؟ ضرار نے گرجتے ہوئے انہیں ہوش دلائی تو وہ چونک کر دروازے کی طرف دیکھنے لگے۔ جہاں وہ کھڑے تینوں غصے سے انکو گھور رہے تھے۔
مجھے کیوں گھور رہے ہو۔۔؟ اس کمینے کو ہی کوئی دورہ پڑا ہوا ہے۔۔ جو دھوکے سے مجھے یہاں بلا کر اس نے مارنا شروع کر دیا ہے۔۔ میں بتا رہا ہوں۔ اسکی نیت میری جائیداد پر کالی ہو گئی ہے۔۔! سنان کے نیچے دبے ہوئے عیس نے دہائی دیتے ہوئے ان تینوں کو بتانا چاہا تھا۔۔
کمینے انسان تیری سڑی ہوئی جائیداد کا میں اچار بھی نہ ڈالوں ۔۔! تو بس مجھے یہ بتا کہ جب تو خود براؤن رنگ کا ہے ۔ تو تو نے اپنے بیٹے کیوں گورے پیدا کیے ہیں۔۔۔! سنان نے عیس کی پیٹھ پر بیٹھتے ہوئے زور سے اسکے لمبے بالوں کی پونی کھینچ ڈالی تھی۔
خبیث انسان جب انکی ماں گوری ہے۔ تو بیٹے بھی تو گورے ہی پیدا ہونے تھے نا۔۔۔! میرے آڈر پر اگر بچے تیار ہوئے ہوتے تو ان دونوں گندی اولادوں کی جگہ پر آج یہاں میری پریاں نہ کھڑی ہوتیں ۔۔! سنان کے الفاظ پر عیس نے رخ موڑتے ہوئے غصے سے سنایا تھا۔ ایک تو اپنی بیٹیوں کے نہ آنے کا غم اسکا سالوں سے دکھ رہا تھا۔ اوپر سے آج اسکا کمینا یار اسکے زخموں پر نمک چھڑک کر پتہ نہیں کیا کرنا چاہ رہا تھا۔ ان دونوں کے برعکس دروازے پر کھڑے وہ تینوں ناسمجھی کا شکار نظر آ رہے تھے۔
سنی بات کیا ہوئی ہے۔۔؟ وہاج نے آگے بڑھ کر اسے عیس کے اوپر سے ہٹایا تو عیس کو جیسے کھلی فضا میں سانس لینے کا موقع مل گیا تھا۔ وہ ہانپتے ہوئے لمبے لمبے سانس لینے لگا تھا۔۔
میری بیٹی کو گورا نہیں براؤن رنگ کا پرنس چائیے ہے۔۔! جیسے اس سالے کا رنگ ہے بالکل ویسا۔۔۔! اب بتاؤ میں کہاں سے اسے لا کر دوں براؤن رنگ کا منحوس شہزادہ ۔۔۔؟ گھر کے جتنے بھی لڑکے ہیں۔ سب کے سب گورے ہیں۔۔۔! اور اس خبیث نے بھی اپنے جیسا کوئی پیدا نہیں کیا ہے ۔۔!
سنان دکھ و پریشانی کے ملے جلے تاثرات سے بولتا چلا گیا تھا۔۔ جبکہ بدلے میں وہ سب سنان مصطفیٰ کاظمی کے دکھ کی نوعیت جان کر اچانک قہقہے لگاتے ہوئے لوٹ پوٹ ہونے لگے تھے۔۔
میں صدقے جاؤں ۔۔! میری نیلی پری کو میرے جیسا ہینڈسم لڑکا چائیے کیا۔۔۔؟ عیس نے اپنی تعریف پر اتراتے ہوئے اشتیاق سے دوبارہ پوچھا تھا۔ جس پر سنان نے اسکو زہر بھری نظروں سے گھوری ڈالی تھی ۔۔
تو فکر نہ کر میں کل ہی گھر سے کوئی بچہ اٹھا کر اسے براؤن رنگ کروا کے لاتا ہوں۔۔! تو بس نام بتا۔۔؟ تجھے کون سا بچہ براؤن رنگ میں چائیے ہے۔۔؟ غازیان ؟ فاتح ؟ شہرام؟ ایشام؟ یا پھر وہ ارسل خان۔۔؟
عیس نے انگلیوں پر سارے آپشنز گنواتے ہوئے رائے لینا چاہی تھی۔۔۔ عیس کے تاثرات سے صاف نظر آ رہا تھا۔ کہ وہ اپنے کہے پر عمل کرنے سے باز بھی نہیں آئے گا۔۔ اگر سچ میں سنان نے کوئی نام بتا دیا تو ۔۔
ان دونوں کی گفتگو سنتے ہوئے وہ تینوں ہنسی کنٹرول کرنے کی کوشش میں متجسس ہوتے جا کر صوفے پر بیٹھ گئے تھے۔۔۔
وہ کہتی ہے۔ کہ اسے اپنا کوئی گورا کزن نہیں چائیے ہے۔۔ بلکہ براؤن رنگ کا پرنس ہی چاہیے ہے۔۔! عیس کے آپشنز گنوانے پر سنان الجھن کا شکار ہوتے سوچ میں پڑ چکا تھا۔ عیس اور سنان کا انداز یہ ظاہر کرنے کے لئے کافی تھا۔ کہ وہ گھر کے کسی بھی بچے کی "Transformation" کے لیے بہت زیادہ سنجیدہ ہو چکے ہیں ۔۔
میں کچھ نہیں جانتا۔۔ پر اگر مستقبل میں میری بیٹی کو اس گھر میں براؤن رنگ کا لڑکا نہ ملا تو میں بتا رہا ہوں۔ کہ عیس علی ہمدانی میرے ہاتھوں سے ذندہ نہیں بچے گا۔۔۔! سنان نے کچھ سمجھ نہ آنے پر انگی اٹھاتے ہوئے عیس کو دھمکی دے ڈالی تھی ۔