ہیر بچے یہ کیسی ضد ہے۔۔۔؟ سلطان نے بے بسی سے چھوٹی سی ہیر کی طرف دیکھا تھا۔ جو اس وقت ضدی سی نظر آ رہی تھی۔
بڑے بابا آپ نے ناز آپی اور بہار آپی کو بھی تو انکا پارٹنر دیا ہے نا تو کیا آپ مجھے میرا پارٹنر نہیں دے سکتے۔۔۔؟
سبز آنکھوں میں آنسوں کی رقم لیے ہیر نے سلطان کی آنکھوں میں دیکھا تو سلطان نے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سب کی طرف دیکھنا چاہا تھا۔
اپکو اپنا پارٹنر کیوں چائیے؟ سلطان نے حتمی فیصلہ کرتے ہوئے آخری بار پھر استفسار کیا۔
مجھے اپنا پارٹنر چائیے۔ تاکہ شامی بھی صرف میرا بن کر رہے۔ میرے علاؤہ وہ کسی کے ساتھ بھی نہ کھیلے اور نہ ہی بات کرے۔۔۔
بڑے بابا سکول میں بھی جب وہ کسی سے بات کرتا ہے تو مجھے بلکل بھی اچھا نہیں لگتا ہے۔ مجھے اس پر بہت غصہ آنے لگتا ہے۔ تب میرا دل کرتا ہے کہ میں شامی کو بہت ماروں۔ آپ میری اس سے شادی کروا دیں تاکہ وہ صرف میرا بن کر رہے۔۔ کیونکہ ڈیڈ نے مجھے بتایا تھا کہ جب ہم کسی سے شادی کرتے ہیں تو وہ صرف ہمارا بن جاتا ہے۔۔”
سبز کانچ سی آنکھوں میں بخار کی سرخی لیے ہیر نے معصوم لہجے میں بولتے ہوئے انجانے میں ہی سہی پر سٹڈی روم میں بیٹھے ہوئے سب لوگوں پر بہت کچھ واضح کر دیا تھا۔
ہیر کی باتوں پر حتمی فیصلہ کرتے ہوئے سلطان نے چہرہ موڑتے ہوئے سب کی طرف دیکھا تو سب سے زیادہ بے بسی ضرار پاشا کے چہرے پر نظر آ رہی تھی۔ نجانے کیوں اسکی آنکھیں نم ہو چکیں تھیں۔ فارس اور کبیر کے نکاح کی رات سے ہیر نے ایک عجیب سی ضد پکڑ لی تھی۔ کہ اسے بھی شادی کرنی ہے۔ اسے بھی اپنا پارٹنر چائیے۔
منیزے اور ضرار نے باتوں ہی باتوں میں ہیر کو بہلانے کی بہت کوشش کی تھی۔ کیونکہ وہ صرف یہ ہی سمجھ رہے تھے۔ کہ شاید گل ناز اور گل بہار کو دلہن بنے دیکھ کر وہ ضد کر رہی ہے۔ لیکن پچھلے دو دن سے وہ شدید بخار میں مبتلا ہو چکی تھی۔ اتنے تیز بخار میں بھی وہ صرف ایک ہی بات کر رہی تھی۔ کہ اسے بھی اپنا پارٹنر چائیے۔ اس ضد کے چکر میں وہ کھانا پینا بھی چھوڑ چکی تھی۔ جس کی وجہ سے ڈاکٹر نے ضرار کو صاف صاف کہہ دیا تھا۔ کہ اگر ہیر کا بخار کم نہ ہوا تو اسکی کنڈیشن بہت بگڑ سکتی ہے۔
صرف دو دن کے بخار میں اسکا سفید رنگ زرد پڑ چکا تھا۔ چہرے پر ہمہ وقت رہنے والی شرارت وہ ہنسی تک غائب ہو گئی تھی۔ اپنی بیٹی کی ایسی حالت دیکھ دیکھ کر منیزے کا الگ برا حال تھا وہیں دوسری طرف ضرار بھی امتحان میں پڑ چکا تھا۔
اگر اسکی بیٹی کسی اور چیز کی خواہش کرتی تو شاید وہ اپنی جان دینے سے بھی گریز نہ کرتا پر ہیر جو مانگ رہی تھی۔ وہ نا ممکن تھا۔ کیونکہ شادی کوئی چھوٹا فیصلہ نہیں تھا۔ جو ضرار پاشا بنا سوچے سمجھے ہاں کر دیتا۔۔ ہیر کی ضد اور پھر بخار کی شدت دیکھتے ہوئے ضرار اور منیزے نے ایک بار بھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی تھی۔ کہ ہیر پاشا آخر کس کو اپنا پارٹنر بنانے کے لئے اس حد تک جنونی ہو گئی ہے۔
ہیر کے بیمار ہونے کی وجہ جیسے ہی سب کو معلوم ہوئی ویسے ہی سب نے ضرار کو کھڑی کھڑی سنا دی تھی۔ کہ آخر اس بات کا ذکر ضرار نے ان سب سے کیوں نہیں کیا۔۔۔
فارس اور کبیر کے نکاح کے بعد گھر کے سب بڑے کسی رشتہ دار کی شادی میں چلے گئے تھے۔
آج دن میں سلطان جب ہیر کے کمرے میں اسے دیکھنے گیا تھا تو ہیر نے اپنے بڑے بابا سے ریکوسٹ کرتے ہوئے کہا تھا۔ کہ وہ اسے اسکا پارٹنر دلا دیں۔
سلطان نے جب اس سے پوچھا کہ وہ کسے اپنا پارٹنر بنانا چاہتی ہے۔ تو ہیر پاشا کے الفاظ کچھ یوں تھے۔ “کہ وہ شام کی دلہن بننا چاہتی ہے”
ایشام کے لئے اسکی اس حد تک دیوانگی کو دیکھتے ہوئے وہ سب سوچ میں پڑ چکے تھے۔ اب شام کے وقت سلطان نے سب کو بلا کر ایک آخری بار ہیر سے بات کرنا چاہی تو اب بھی وہ وہی الفاظ دہرا رہی تھی۔
ہیر کی زبان سے ایشام کا نام سننا سلطان کے علاؤہ باقی سب کے لیے ہی کافی غیر متوقع تھا۔ کیونکہ گھر کے سب ہی افراد جانتے تھے۔ کہ ہیر پاشا کس حد تک ایشام صدیقی سے چڑتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایشام کو اپنی حرکتوں سے تنگ کرنے سے بھی کبھی باز نہیں آتی تھی۔ پھر ایشام کو ہی پارٹنر بنانا سب کی سمجھ سے باہر تھا۔
“سنی، عیس جا کر نکاح کے سارے ضروری انتظامات کرو۔ تقریباً ایک گھٹنے میں ہیر پاشا کا ایشام صدیقی کے ساتھ نکاح ہے”
سٹڈی روم میں سلطان کے گونجنے والے الفاظ نے سب کو اپنی جگہ پر شاکڈ کیا تو وہ سب ہی اسے دیکھتے چلے گئے۔
اور ہاں جانے سے پہلے سب سے یہ بھی کہنا کہ ہیر گڑیا کو پیاری سی دلہن بھی بنا دیں۔۔۔! میری گڑیا دلہن بنے گی نا؟
سلطان نے مسکراتے ہوئے ہیر سے پوچھا تھا۔ جبکہ سلطان کے الفاط پر ہیر پاشا کی سبز آنکھوں میں پیدا ہونے والی چمک قابل دید تھی۔
ہیر کی آنکھوں کی چمک دیکھ کر سلطان ایک
لمحے کے لیے اپنی جگہ پر ٹھٹک چکا تھا۔
تھینک یو بڑے بابا۔۔! ہیر نے چہکتی آواز میں سلطان کے گرد اپنی چھوٹی چھوٹی بانہیں ڈالیں تو سلطان نے مسکراتے ہوئے اسکے ماتھے پر ہونٹ رکھ دیے۔
تھینک یو مجھے نہیں بلکہ اپنے ڈیڈ کو بول کر آؤ میری جان! دیکھو آپ نے بیمار ہو کر انہیں کتنا پریشان کر دیا ہے”
سلطان نے ضرار کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے ہیر کی توجہ اس طرف کروائی تو وہ بھاگتے ہوئے جا کر ضرار کے گلے لگ گئی تھی۔
ایم سوری ڈیڈ میں اپکو ائندہ بلکل بھی پریشان نہیں کروں گی۔۔! اپنے باپ کی نم آنکھیں صاف کرتے ہوئے ہیر نے ضرار کے گال پر ہونٹ رکھے تو ضرار مسکراتے ہوئے اسے خود میں بھینچ گیا تھا۔ ضرار نے اپنی بیٹی کا ماتھا چوم کر اسے عیس کے حوالے کیا تو وہ خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوئے دلہن بننے چلی گئی تھی۔
کیا یہ فیصلہ ٹھیک ہو گا خان؟ کیونکہ ایشام، ہیر کو پسند نہیں کرتا ہے۔۔!
ہیر کے جاتے ہی ضرار تیزی سے اسکی طرف آیا تھا۔ جبکہ وہاج الگ پریشان دیکھائی دے رہا تھا۔ کیونکہ آج دن میں اس نکاح کے لئے اس نے ایشام کو راضی کرنا چاہا تو وہ سنتے ہی بھڑک گیا تھا۔ کیونکہ وہ نا سمجھ نہیں تھا۔ گیارہ سال کی عمر میں وہ کافی سمجھ بوجھ رکھتا تھا۔ اور پھر ان سب کو نکاح کا مطلب سمجھانے کے لیے فارس اور کبیر خان ہی کافی تھے۔
ہیر کی آنکھوں کی چمک سے ابھی تک یہ فیصلہ ٹھیک ہی لگ رہا ہے۔ ویسے بھی اگر اس گھر میں ہم اپنے بیٹوں کی چاہ دیکھتے ہوئے انکا نکاح کروا سکتے ہیں۔ تو کیا اپنی بیٹی کی چاہ کو غیر اہم قرار دیں؟ سلطان نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے الٹا استفسار کرنا چاہا تو ضرار اور وہاج اضطراب سے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگے تھے۔
کبیر خان اور فارس ہمدانی تو لڑکے ہیں، جو اپنے نکاح میں موجود لڑکیوں کو خود سے غافل نہیں ہونے دیں گئے۔ کیونکہ مرد اپنے فیصلوں میں ہمیشہ مضبوط پائے گئے ہیں۔ لیکن لڑکیوں کے فیصلوں کی پختگی نہیں ہوتی خان۔۔!
ضرار بے چینی سے بولتے ہوئے کہنا چاہ رہا تھا۔۔ وہیں وہاج سنجیدہ تاثرات سے ان دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔
ہمم۔۔! تم سہی کہہ رہے ہو پاشا، کہ مرد اپنے فیصلوں میں مضبوط ہوتے ہیں۔ پر کیا کبھی ہم سب نے اس بات پر غور کرنے کی کوشش کی ہے۔ کہ لڑکیاں ہی کیوں ہر چیز میں کمزور ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بعد اس دنیا میں انسانوں کی تخلیق کے لئے عورت کو ہی چنا ہے۔ جو ایک بچے کی پیدائش کے نو ماہ تخلیق جیسے مشکل ترین مرحلے سے گزر کر ایک انسان کو س دنیا میں پیدا کرتی ہے۔ جب وہ انسان کو پیدا کر سکتی ہے تو صرف اپنے فیصلوں میں ہی کیوں کمزور قرار دی گئی ہے؟
پاشا میں نے اس دنیا کو جتنا آبزرور کیا ہے اس کے نتیجے میں صرف اس فیصلے پر پہنچا ہوں۔ کہ اس دنیا میں زندگی گزارنے کے بہت سیدھے سیدھے قانون ہیں. لیکن ہم انسانوں نے مل کر ان قوانین کو بہت مشکل بنا دیا ہوا ہے یار۔..! عورت اپنے فیصلے میں اس لئے کمزور ہے. کیونکہ ہم مرد ہی اسے کمزور کہتے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ خدا نے عورت کے وجود میں کیا خاص بات رکھی ہے۔۔؟
سلطان نے بولتے ہوئے اچانک ضرار کو سوالیہ نظروں سے دیکھا تو ضرار اسکے مزید بولنے کا منتظر ہوا تھا۔
اللہ نے عورت کو موم کے وجود سے بنایا ہے! وہ موم جس کو پیار اور توجہ سے جس سانچے میں ڈالا جائے یہ ویسی شکل اختیار کر لے گا۔ اس لئے ہمیں بھی اپنی بچیوں کے ساتھ یہ کرنا ہے۔ ہمیں انہیں کمزور نہیں بلکہ مضبوط بنانا ہے۔ تاکہ وہ اپنے فیصلوں میں ڈٹ سکیں۔ اور پھر مت بھولو کہ ہیر پاشا اپنی ماں “منیزے سکندر” کا عکس ہے۔ آگر منیزے سکندر “ضرار پاشا” جیسے مشکل مرد کو اپنی محبت میں گرفتار کر سکتی ہے تو کیا ہیر پاشا نہیں کر پائے گی!؟ ہمیں ہیر پاشا کو یہ بھولنے نہیں دینا ہے۔ "کہ آج اس نے ایک فیصلہ کیا ہے۔" اگر ہم اسے اس فیصلے میں مضبوط رہنا سیکھائے گئے تو وہ کبھی بھی نہیں لڑکھڑائے گی۔۔! سلطان نے گہری سانس خارج کرتے ہوئے بات ختم کر دی تھی۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ابھی وہ نہیں، بلکہ آنے والا وقت ہی ان سب کو ہر چیز سمجھا سکتا ہے۔
ٹھیک ایک گھٹنے بعد لاؤنج میں نکاح کی تقریب ادا کی گئی تھی۔ جس میں اگر ہیر دلہن بنی چہچہا رہی تھی۔ تو ایشام صدیقی ضبط سے بھرا ہوا بیٹھا تھا۔ کیا محبت کی یہ کھٹی میٹھی الجھی ہوئی داستان ہیر کو مضبوط رہنے دے گی؟ کیا ایشام صدیقی اس لڑکی سے محبت کر پائے گا جس نے اس پر زبردستی حق حاصل کیا ہو۔۔۔؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بڑے سے کمرے میں بلیک کمپنی کے پانچوں پارٹنرز کی اس وقت بہت اہم میٹنگ چل رہی تھی۔ جب بغیر اجازت کے مینجر گھبرائے ہوئے چہرے کے ساتھ اچانک روم میں داخل ہوا تھا۔۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر سب کی توجہ میں
خلل پڑا تو وہ سب مڑ کر اندر آنے والے کی طرف دیکھنے لگے تھے۔ جہاں دروازے میں سیکرٹری اور مینجر دونوں ہی گھبراہٹ کا شکار نظر آ رہے تھے۔
اس ڈسٹربنس کی وجہ جان سکتے ہیں؟ وہاج جو اس وقت پریزنٹیشن دے رہا تھا۔ دروازے کی سمت دیکھتے ہوئے وہ ناگواری سے بولا تھا۔
سر وہ۔۔۔ مینجر نے گھبرائے تاثرات سے بولنا چاہا تھا۔
جی بولیں.۔۔۔! ادھوری بات پر ضرار نے بھی سخت لہجے سے ان سے اندر آنے کا مقصد پوچھا تھا۔ کیونکہ اس وقت میٹنگ روم میں
انکے ساتھ انٹرنیشنل کلائنٹ بیٹھے ہوئے تھے۔
سر شہر کا سارا میڈیا اس وقت بلیک ہوٹل پر اکھٹا ہو چکا ہے۔ مینیجر نے پریشانی سے اسکو بتانا چاہا تھا۔
بلیک ہوٹل پر؟ وہاں پر ایسی کیا آفت آن پڑی ہے۔۔۔؟ سنان کاظمی ناسمجھی سے بولا تھا۔
کیا تم ایک ہی بار میں ساری بات بتانا پسند کرو گئے۔۔۔؟ بار بار بات ادھوری چھوڑنے پر وہاج کا بے اختیار غصہ امڈا تو سیکرٹری نے خود آگے بڑھ کر ان سب کو آگاہ کرنا مناسب سمجھا تھا۔
سر دراصل ایک مسلہ ہو گیا ہے۔ ہمیں ابھی کچھ دیر پہلے بلیک ہوٹل سے لاتعداد کالز آئیں ہیں۔ کہ وہاں پر شہر کا سارا میڈیا اکھٹا ہو چکا ہے۔ جو پورے ہوٹل کی کوریج کر رہے ہیں۔ اور اسکے ساتھ ہی ہوٹل میں ہر کام کو روک بھی دیا گیا ہے۔ کیونکہ ہوٹل کی اوپننگ سرمنی کا ایونٹ ارینج کروایا جا رہا ہے۔
بنا رکے کیا تم لوگ پوری بات بتا سکتے ہو۔۔؟ سیکرٹری اور مینجر کے بار بار بات ادھوری چھوڑنے پر عیس ان دونوں کو گھورنے لگا تھا۔
اس سے پہلے کہ مینجر یا سیکرٹری ایک بار پھر سوچ بچار کا شکار ہوتے۔ کہ تبھی میٹنگ روم میں نعمان خان بھی عجلت میں داخل ہوا تھا۔
سر ڈسٹرب کرنے کے لیے معذرت، پر پلیز پہلے ایک بار یہ دیکھ لیں۔۔!
نعمان خان نے تیزی سے بولتے ہوئے ریمورٹ اٹھا کر ایل ڈی آن کرنا چاہی تھی۔ نعمان خان کے جلدی سے ایل ڈی آن کرنے پر وہ سب الجھن کا شکار نظر آنے لگے تھے۔
نعمان خان نے مطلوبہ چینل پلے کرتے ہوئے آنکھوں سے ایل ڈی کی طرف دیکھنے کا اشارہ کیا تو وہ سب متوجہ ہو کر دیکھنے لگے۔ پر جیسے ہی ان سب کی نظر ایل ڈی پر چلتے ہوئے منظر پر پڑی تھی ویسے ہی ان سب کیآنکھیں حیرت انگیزی سے بڑی ہوتی چلی گئی تھیں۔
کیونکہ ایل ڈی پر چلنے والا منظر کچھ یوں تھا۔ بلیک مینشن کے سب لڑکے اس وقت سنجیدہ تاثرات لیے ہوٹل کے فرنٹ ایریا میں کھڑے تھے۔ سب لڑکوں کے ارگرد میڈیا کے لوگ ایک بڑی تعداد میں کھڑے تھے۔ جو اپنے کیمروں سے ان سب کو لائیو ریکارڈ کر رہے تھے۔
میڈیا کے علاؤہ ہوٹل کے مینجمنٹ کے سب لوگ بھی ایک سائیڈ پر مؤدب انداز میں ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ جبکہ سب بچہ پارٹی اس وقت ریڈ ربن کے آگے سنجیدگی سے کھڑی کسی بحث میں مصروف تھی۔۔ تو دوسری طرف فارس ہمدانی اور کبیر خان ایک اینکر کو اپنا انٹرویو ریکارڈ کروا رہے تھے۔
اپنے انٹرویو میں وہ دونوں صاف کہہ رہے تھے۔ کہ بلیک کمپنی کے پارٹنرز نے پچھلی دفعہ جو اس ہوٹل کی "اوپننگ ارمنی" سرم کی تھی۔ وہ کچھ ٹھیک نہیں ہو پائی تھی۔ اس سرمنی میں بہت سی غلطیاں تھیں۔ اسی لئے آج وہ دونوں اپنے سب چھوٹے بھائیوں کے ساتھ مل کر دوبارہ سرمنی کرنے کے لیے اکھٹے ہوئے ہیں۔
کبیر خان اور فارس ہمدانی کے لہجے و انداز کو دیکھ کر میٹنگ روم میں ان سب کے سر بے ساختہ ایک دوسرے کی طرف گھوم گئے تھے۔ شاید وہ نظروں ہی نظروں میں ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ پچھلی بار ان سے کونسی ایسی غلطیاں سر انجام ہوئی ہیں۔ جن کو ٹھیک کرنے کے لیے آج ان کے بچے اکیلے ہوٹل پہنچے ہوئے ہیں ۔۔۔
ایک دوسرے کی طرف بے بسی سے دیکھ کر وہ دوبارہ سکرین کی طرف متوجہ ہوئے تو ایل ڈی پر چلتا منظر دیکھ کر ان سب کا دل یکبارگی سے دھڑک اٹھا تھا۔
کیونکہ ایل ڈی پر دیکھائے جانے والے منظر میں ان سب کو اپنا عکس صاف نظر آتا محسوس ہو رہا تھا۔
فاتح سلطان ہو بہو "سلطان احمد خان" کے انداز میں سنجیدہ انداز میں کھڑا تھا۔ تو اسکے پاس غازیان پاشا "ضرار پاشا حیدر" کی طرح تین نمونوں کی طرف دیکھ کر آنکھیں گھمائے جا رہا تھا۔ غازیان کے آنکھیں گھمانے کی وجہ ایشام صدیقی، باسم کاظمی اور شہرام ہمدانی تھے۔ کیونکہ شہرام ہمدانی اپنے باپ "عیس ہمدانی" کی طرح کبھی باسم کاظمی کو چھیڑ رہا تھا تو کبھی ایشام صدیقی کو۔۔
شہرام کے چھیڑنے پر جب باسم اسکے ساتھ مل کر ایشام کو چھیڑنے لگتا تھا تو جواب میں ایشام صدیقی اپنے باپ "وہاج صدیقی" کی طرح پاکٹس میں دونوں ہاتھ ڈالے چمکتی نیلی آنکھوں سے الٹا ان پر وار کر دیتا تھا۔ اور کبھی چڑ کر ان دونوں کو مکہ رسید کرنے لگتا تھا۔
بلیک گینگ کا فیوچر عکس شاید پہلے جیسے
ہی تھا، لیکن اس بار اس عکس کے رنگ پہلے سے بہت مختلف نظر آنے والے تھے۔
میٹنگ روم میں وہ پانچوں اپنا عکس دیکھ کر سینے پر ہاتھ رکھ چکے تھے۔ لیکن پھر اچانک جب بلیک گینگ نے اپنے عکس کو ایک ساتھ لال ربن کاٹتے ہوئے دیکھا تو ان کی نظریں کسی کی متلاشی ہوئیں تھیں۔ میٹنگ روم میں بیٹھے افراد کی تلاش جلد ختم ہو گئی تھی۔ جب کیمرہ مین نے اچانک کیمرہ گھماتے ہوئے فارس ہمدانی اور کبیر خان کے چہرے دیکھائے تھے۔
منہ میں ببل چباتے ہوئے چمکتی آنکھوں سے وہ دونوں پاکٹس میں ہاتھ ڈالے خاصی لاپرواہی سے ایک ساتھ کھڑے تھے۔ چہرے پر رقصاں ہنسی کے ساتھ ان دونوں کی نظروں کا مکمل رخ اپنے چھوٹے بھائیوں کی طرف تھا۔
اگر ربن کاٹتے ہوئے بلیک گینگ کا عکس مکمل تھا۔ تو پھر فارس ہمدانی اور کبیر خان کا کیا کردار ہونے والا تھا؟ شاید یہ کہانی پہلے سے زیادہ دلچسپ اور دلفریب چلنے والی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کا وقت تھا، جب بلیک مینشن میں ہر طرف شور برپا تھا۔ اور یہ شور بچوں کا مچایا ہوا تھا۔ کیونکہ اس وقت چونکہ سکول جانے کا وقت تھا۔ اس لئے وہ سب گھن چکر بنی اپنے اپنے بچوں کو تیار کر رہی تھیں۔
تم سب لوگ اب چھوٹے تو نہیں ہو! جو تیار ہونے میں تم لوگوں کو اپنی ماؤں کی مدد چاہیے ہوتی ہے! بلو کلر کے ٹریک سوٹ میں سلطان سیڑھیاں اترتے ہوئے سخت لہجے میں گرج کر بولنے لگا تو سب کی بولتی آوازوں کو یک دم بریک لگا تھا۔
بیڈ روم میں سلطان احمد خان کو اس وقت اپنی خانم کی شدت سے کمی محسوس ہو رہی تھی۔ جو بیچاری نیچے اپنی افلاطون اولاد کو تیار کرنے کے چکروں میں پاگل ہو رہی تھی۔ صرف علیزے خان ہی نہیں بلکہ باقی سب کا بھی سیم ایسا ہی حال تھا۔ اور سب سے برا حال تو بیہ کا ہوتا تھا۔ کہاں وہ کیپٹن بیہ آرمی کے رولز والی دبنگ لڑکی اس وقت وہاج صدیقی کی بیٹیوں کے ناز نخرے اٹھا اٹھا کر گھومی ہوئی تھی۔
اپنے بڑے بابا کو دیکھ کر ان سب میں سکوت چھایا تو انکی مائیں بے اختیار شکر ادا کرتے ہوئے انکی تیاری مکمل کرنے لگی تھیں۔ جبکہ سب بڑے اس وقت ڈائٹنگ ٹیبل پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ ناشتہ کرنے کے لیے باقی سب بھی لاؤنج میں آئے تو لاؤنج میں بکھرے پھیلاوے کو دیکھ کر وہ آنکھیں بڑی کر گئے تھے۔
لیکن پھر اپنی اولاد پر نظر پڑتے ہی وہ تاسف سے سر ہلاتے ہوئے لاؤنج میں پڑے صوفوں کی طرف بڑھ گئے۔
چونکہ ان سب کو تھوڑی دیر بعد آفس کے لئے نکلنا ہوتا تھا۔ اس لئے وہ سب بچوں کے جانے کے بعد ہی سکون سے ناشتہ کرتے تھے۔
گل ناز نے تیار ہو کر فارس کا ہاتھ پکڑا تو فارس چمکتی آنکھوں سے اسکی طرف متوجہ ہو گیا۔ ناز اور فارس کا "بچپن کا پیار" دیکھ کر سنان تاسف سے سر ہلا چکا تھا۔
یہ شہری اور فاتح کہاں ہیں۔۔؟ شہرام اور فاتح کو غائب دیکھ کر سنان نے بے اختیار پوچھا تھا۔ کیونکہ اس وقت تقریباً سب بچے وہاں موجود تھے سوائے ان دونوں کے۔۔۔
بھیا وہ دونوں کب کے تیار ہو کر باہر چلے گئے ہیں۔۔! مشعل نے مڑتے ہوئے سنان کو جواب دیا
باقی سب یہاں ہیں تو یہ دونوں باہر اکیلے کیا کر رہے ہیں۔۔؟ وہاج کافی کا سیپ لیتے ہوئے بولا تھا۔۔۔
کیا کر رہے ہونگے۔۔! دونوں کے دونوں ایک نمبر کے چھپے ہوئے غنڈے ہیں! کہیں مل بیٹھ کر نشہ کرتے ہوئے کوئی خرافاتی
پلین بنا رہے ہونگے اور کر بھی کیا سکتے ہیں ۔۔۔!
وہاج کے استفسار کرنے پر عیس ہونہہ کرتے جواب میں کلس کر بول گیا تھا۔ کیونکہ یہ حقیقت بھی تھی۔ بلیک مینشن کے سب بچوں میں اگر کسی کی شخصیت چھپی ہوئی تھی۔ تو ان میں شہرام ہمدانی اور فاتح سلطان بس شامل تھے۔
ان دونوں کے بارے میں کوئی آج تک اندازہ ہی نہیں لگا پایا تھا۔ کہ وہ شریف ہیں یا پھر شرافت کے نام پر دھبے۔۔۔
لاؤنج میں اچانک ہی گل بہار نے اونچی آواز میں رونا شروع کیا تو سب اسکی طرف متوجہ ہوتے چلے گئے۔ گل بہار روتے ہوئے دوڑ کر سلطان کے پاس آئی تھی۔ بہار کو روتے دیکھ کر سلطان نے فکر مندی سے اسکو اٹھا کر گود میں بٹھا لیا۔
بڑے بابا بیر (کبیر) مجھ پر پھر غصہ کر رہے ہیں۔۔! بہار نے سلطان کے کندھے میں منہ چھپاتے ہوئے شکایت لگائی۔ تو سلطان کو اچانک غصے نے آن گھیرا۔۔۔
کبیر خان۔۔۔! بہار کے تیزی سے بہتے آنسوؤں کو دیکھتے ہوئے سلطان نے گرج کر اپنے صاحب زادے کو آواز لگائی تو سب سے پہلے علیزے کا سانس خشک ہوا تھا۔ اور اسکے ساتھ ہی بیہ بھی اپنی معصوم بیٹی کو گھورے بنا نہیں رہ سکی تھی۔ ابھی بیہ نے اسے کتنا سمجھایا تھا کہ وہ کبیر کی ہر بات مانے گی۔ لیکن نہیں ڈیڈ کی لاڈلی پھر روتے ہوئے جنگ لگوانے پہنچ چکی تھی۔
سلطان کی گرج بھری پکار پر کبیر خان اپنے ازلی سنجیدہ لاپرواہ انداز میں یونیفارم میں بلکل تیار اسکے سامنے حاضر ہو گیا تھا۔
یس ڈیڈ۔۔۔؟ ببل چباتے ہوئے وہ پینٹس میں ہاتھ ڈالے خاصے سکون سے بولا تھا۔۔۔
تمہارے ساتھ آخر تکلیف کیا ہے..؟ کیوں تم بہار کو بار بار رولاتے ہو۔۔؟ جب وہ تمہارے ساتھ کمفرٹیبل فیل نہیں کرتی ہے تو کیوں زبردستی کرتے ہو ۔۔۔؟
اپنے بیٹے کے سکون میں کمی نہ دیکھتے ہوئے سلطان کافی بگڑ کر بولا تھا۔ جبکہ بہار اپنے بڑے بابا کے سینے میں چہرہ چھپائے رونا بھلا کر اب کن اکھیوں سے اس جن کو دیکھ رہی تھی۔ جس کی آئس بلو آنکھوں کی وحشت سے وہ حد سے زیادہ خوف کھاتی تھی۔
جب تک آپ سب بڑے میری منکوحہ کی جان نہیں چھوڑیں گئے تو وہ کیا خاک میرے ساتھ کمفرٹیبل فیل کرے گی؟ وہ فارس اور گل ناز کو ہی دیکھ لیں کتنے سکون سے ایک دوسرے کے ساتھ ہر کام کرتے ہیں۔ پر آپکی یہ رونے والی مشین کے ساتھ پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے۔ ادھر میں کچھ بولتا بعد میں ہوں اور یہ رونا پہلے شروع کر دیتی ہے۔۔!
اپنے باب کے سینے میں چھپی ہوئی بہار کو گھورتے ہوئے کبیر خان نے کافی تڑکتا بھڑکتا جواب دیا تھا۔
ابھی کچھ دیر پہلے کبیر خان نے صرف بہار میڈم کا چھوٹا سا ہاتھ پکڑتے ہوئے یہ کہا تھا کہ وہ گاڑی میں اسکے ساتھ بیٹھ کر اب سکول جایا کرے گی۔ ادھر کبیر خان نے اسے حکم سنایا تھا ادھر بہار میڈم روتے ہوئے اپنے سسر کے پاس شکایت لگانے پہنچ بھی چکی تھی۔
انسان کو خود کا پتہ ہوتا ہے۔ کہ کیوں سامنے والا ہم سے خوف کھا رہا ہے۔۔! تمہاری اس بگڑی ہوئی شکل اور ڈراؤنی آنکھوں سے بچی ڈرتی ہے۔ اس لئے وہ تمہیں دیکھتے ہی ڈر کے مارے رونا شروع کر دیتی ہے۔۔۔!
سلطان نے بہار کے سر کو چومتے ہوئے اپنے بیٹے کو آئینہ دیکھانا چاہا تھا۔ جبکہ باقی سب کافی پیتے ہوئے دلچسپی سے باپ بیٹے کی گفتگو سنتے ہوئے فارس اور ناز کو بھی دیکھ رہے تھے۔ کیونکہ وہ دونوں سارے جہاں کو آگ لگائے بس ایک دوسرے میں گم تھے۔
فارس اور ناز کو پیار و محبت سے ایک دوسرے کو ناشتہ کھلاتے دیکھ کر عیس اور سنی کا کافی حلق سے اتارنا مشکل ہو رہا
تھا۔ لیکن پھر وہ خود پر کنٹرول کرتے ہوئے دوبارہ کبیر اور سلطان کی طرف متوجہ ہو گئے تھے۔
ڈیڈ آپ تو ایسے کہہ رہے ہیں۔ جیسے یہ شکل اور آنکھیں میں نے خود سے بنوائیں ہوں! اب جیسا سٹریکچر آپکے چہرے میں تھا خدا نے سیم ٹو سیم ویسا تو نہیں پر آپ سے اچھا ہی بنا کر بھیجا ہے! سکول کی آدھی لڑکیاں میرے پیچھے پاگل ہیں۔۔۔!
باپ کی بات کا برا منائے بغیر کبیر خان کندھے اچکاتے ہوئے خود کی تعریف میں بولا تو اسکے الفاظ پر عیس اور سنی کے منہ سے کافی کا فوارا چھوٹ پڑا تھا۔۔
جبکہ ضرار اور وہاج بھی ہاتھ کی مدد سے مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کرنے لگے تھے۔ کیونکہ آج پہلی بار دی گریٹ سلطان احمد خان کو کسی نے خود سے کم ہینڈسم کہا تھا۔ اور ساتھ ہی ساتھ اپنا "سگما ریپلائے" دے کر خاموش ہونے پر بھی مجبور کر دیا تھا۔۔۔
کبیر خان کے جواب پر سلطان ابھی اسے زہر بھری نظروں سے دیکھ ہی رہا تھا جب اچانک پیچھے سے علیزے خان کی تنبیہ کرتی آواز سنائی دی تھی۔۔۔
کبیر خان۔۔۔! اپنے بیٹے کے جواب پر علیزے نے اسے بے اختیار ٹوکا تھا۔ بھلا وہ کہاں اپنے خان
کی شان میں گستاخی ہونے دے سکتی تھی۔۔۔
سوری مورے! پر ڈیڈ میری بیوی کے سامنے میری بے عزتی کر رہے تھے. اس لئے بس کلئیر کر رہا تھا۔۔! علیزے کی تنبیہ کرتی آواز پر کبیر خان نے رخ موڑتے ہوئے وضاحت کی تھی۔
جبکہ ابکی بار کبیر کی زبان سے ''اپنی بیوی'' سن کر سلطان سمیت ان سب کا منہ کھل چکا تھا۔
ہوش کے ناخن لیں کبیر خان! بہار ابھی آپکی بس منکوحہ ہے۔۔۔! ضرار نے بے اختیار طنزیہ آواز میں سامنے کھڑے میٹرک کے اسٹوڈینٹ کی تصحیح کرنا چاہی تھی۔
میری زبان میں اسے بیوی ہی کہتے ہیں چھوٹے بابا۔۔! کبیر خان ابھی بے پرواہی سے بولا ہی تھا۔ جب شہرام اور فاتح شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ اچانک وہاں نمودار ہوئے تو سب انکی طرف متوجہ ہو گئے۔۔۔ کیونکہ وہ دونوں ایک دوسرے میں گم عجیب انداز میں ہنستے ہوئے اندر آ رہے تھے۔۔۔
لو آ گئیں اس گھر کی کالی بلائیں بھی۔۔۔!
عیس نے ان دونوں کو دیکھ کر لقمہ دیا تھا۔۔
سب کی توجہ انکی طرف دیکھ کر ہیر پاشا کی سبز آنکھیں بے اختیار چمکیں تو وہ ایشام کو ٹارگٹ بھری نظروں سے دیکھ گئی۔ اور اگلے ہی پل ہیر پاشا انجان بنتے ہوئے جان بوجھ کر ایشام صدیقی کے پاؤں کو اپنے پاؤں تلے مسلتے ہوئے جا کر مصطفیٰ کاظمی کی گود میں بیٹھ گئی تھی۔
اسکی اس حرکت کو سنان نے بغور اپنی آنکھوں سے دیکھا تو اسکا قہقہ روکنا محال ہو گیا تھا۔ کیونکہ ہیر پاشا کا اوپر کی طرف دیکھتے ہوئے ایشام کا پاؤں کچل کر گزرنے کا انداز کافی مزے دار تھا۔ یہ انداز صاف ظاہر کر رہا تھا کہ وہ انجانے میں یہ کر رہی ہے۔۔۔
پاؤں کچلے جانے کے درد کے علاؤہ کسی چیز کے شدید چھبن کے احساس پر ایشام صدیقی بے ساختہ بلند آواز میں غرا اٹھا تھا۔
ہیر میں تمہارا خون کر دوں گا۔۔! ایشام غصے کی شدت سے بے اختیار چینخ اٹھا تھا۔۔۔
اسکے چیخنے پر سب چونک کر اب اسکی طرف دیکھنے لگے تھے۔ کیونکہ ایشام کا سفید چہرہ غصے سے سرخ ہو چکا تھا۔ جبکہ ڈارک بلو آنکھیں بھی تیش سے بھر چکیں تھیں۔۔۔
بلیک مینشن میں یہ ہر روز کا پلے تھا۔ سب بڑے روز صبح اس وقت ایسے ہی چہرے گھماتے ہوئے کبھی کسی کو دیکھ رہے ہوتے تھے تو کبھی کسی کا مسئلہ سلجھا رہے ہوتے تھے۔
شامی کیا ہوا۔۔؟ ایرہ جو اسکے پاس ہی کھڑی تھی ایشام کے چلانے پر فکر مندی سے اسکے سرخ چہرے کو دیکھ کر پوچھنے لگی جو آنکھوں میں غصے کی لالی لیے ہیر پاشا کو گھورے جا رہا تھا۔ جو اس سب سے انجان بنتے ہوئے آنکھیں مٹکا کر مصطفیٰ کاظمی کا ہاتھ پکڑ کر کھیلنے کی اداکاری کرنے لگی تھی۔
ہیر تم نے پھر شام کو تنگ کیا ہے نا۔۔؟ منیزے نے اپنی میسنی بیٹی کو گھور کر پوچھا تھا۔ سکول یونیفارم میں دو پونیاں کیے سبز آنکھوں میں چمک لیے جو انجان بننے کی ایکٹنگ کر رہی تھی۔ لیکن منیزے بھی اپنی بیٹی کی رگ رگ سے واقف تھی۔
میں؟ میں تو کچھ بھی نہیں کیا میں تو کب سے یہاں دا جان کی گود میں بیٹھی ہوئی ہوں۔۔! ہے نا دا جان۔۔؟ ہیر کندھے نے اچکاتے ہوئے مصطفیٰ کاظمی سے تصدیق کروانا چاہی تو وہ ہنس کر اقرار کرنے لگے۔۔
شام غصہ نہیں کرو میری جان دفع کرو اس چڑیل کو۔۔ آج جب تم واپس آؤ گئے۔ تو میں تمہارے لئے تمہارے فیورٹ کباب بناؤں گی۔۔۔! ایشام کو مسلسل ہیر کی طرف گھورتا پا کر منیزے نے آگے بڑھ کر اسکے بال سنوارتے ہوئے ٹھنڈا کرنا چاہا۔ تو وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر اپنی مامی کو دیکھ گیا۔ جو ہمیشہ کی طرح اپنی بیٹی کے تنگ کرنے کے بعد اسے منا رہیں تھیں۔۔
میں ٹھیک ہوں مامی جان۔۔! منیزے کو خود کے لئے فکر مند دیکھ کر ایشام نے آگے بڑھ کر منیزے کے ماتھے کو چوم کر تسلی دیتے ہوئے کہا تو منیزے اسکے صدقے واری ہو گئی تھی۔ اور پھر ایسے ہی تو تو، میں میں کرتے ہوئے یہ
بچے سکول جانے کے مینشن سے نکلے تو عیس اور سنان باقاعدہ ہاتھ اٹھا کر شکر ادا کرنے میں مصروف ہو گئے تھے۔ کم از کم اب آفس جانے سے پہلے وہ سب اپنی بیویوں کے ساتھ سکون سے وقت تو بتا سکتے تھے۔