Janoon-e-Yaar Novel Complete by Amreeney Qais - Episode 04 - urdu novels pdf download

 ناول: #جنونِ یار


قسط: 04
از قلم: #امرینےقیس
گاڑیوں نے آ کر سب بچوں کو سکول کے سامنے اتارا تو سب باری باری گاڑیوں سے اترنے لگے تھے۔ ہمیشہ کی طرح ناز اپنے منکوح کا ہاتھ پکڑے اتری تھی۔ تو دوسری طرف کبیر خان
زبردستی گل بہار کا ہاتھ جکڑے اتر آیا تھا۔
کبیر خان کی موجودگی سے جہاں ننھی سی گل بہار کا دل ڈر کے مارے دھڑک رہا تھا۔ وہیں دوسری طرف گل ناز پورے سویگ کے ساتھ فارس کے ساتھ آگے آگے چل رہی تھی۔۔۔
فاتح اور شہرام نے گاڑی سے اتر کر مڑتے ہوئے ماہ پارہ اور مہر ماہ کو باری باری اٹھا کر نیچے اتارنے میں مدد دی تھی۔ جبکہ ہیر کو غازیان نے ہی اٹھا کر نیچے کھڑا کر دیا تھا۔
باسم کہاں ہے۔۔۔؟ سب پر نظر ڈال کر کبیر خان نے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔۔ کبیر خان کی آواز پر فارس کے قدموں کو بریک لگی تو وہ مڑ کر دیکھ گیا۔
باسم تو دوسری گاڑی میں غازی لوگوں کے ساتھ آیا تھا نا۔۔! فارس نے کبیر کے پاس آتے ہوئے بتایا۔
باسم کی غیر موجودگی محسوس کرتے فارس اور کبیر کو یک دم فکر ہوئی تھی۔ یہ ان دونوں کی ایک خاص عادت تھی، کہ سکول پہنچ کر وہ سب کی موجودگی کو یقینی بنا کر ہی آگے بڑھتے تھے۔ اب بھی سارے بچے فارس اور کبیر کے پاس ایک سائیڈ پر کھڑے ہو گئے تھے۔ جب تک ان کے دونوں بڑے بھائی حکم نہیں دیتے تھے تب تک وہ لوگ آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔۔
میں دیکھتا ہوں۔۔! گل بہار کا ہاتھ غازی کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کبیر گاڑی کی طرف بڑھا تو فارس بھی ناز کو وہیں کھڑے رہنے کا اشارہ کرتے اسکے پیچھے ہوا تھا۔ تینوں گاڑیاں ابھی تک وہیں پر کھڑی تھیں۔ کبیر خان اور فارس کے حکم پر ہی گاڑیاں واپس جاتی تھیں۔
کبیر خان اور فارس گھوم کر سب سے آخری والی گاڑی کے پاس آئے تو دروازہ کھولنے پر باسم کاظمی انکو اندر سویا ہوا ملا تھا۔
پتہ نہیں یہ کب سدھرے گا۔۔! تاسف سے سر ہلاتے وہ دونوں بول گئے۔ بلیک مینشن میں صبح کے وقت سب بچوں میں سے اگر کسی کو اٹھانا ناممکن ہوتا تھا تو وہ باسم کاظمی تھا۔ جس کے پاس اگر ڈھول بھی بجا دیے جائیں تو تب بھی اسکی نیند ڈسٹرب نہ ہو۔۔۔ کبیر نے آگے بڑھ کر باسم کا سکول بیگ اٹھایا تو فارس نے سوئے ہوئے باسم کو کندھے پر اٹھا لیا تھا۔
کبیر خان اور فارس ہمدانی وقت سے پہلے دونوں بڑے بھائی بن چکے تھے۔۔وہ بھائی جو اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے لئے ٹھنڈا سایہ بننے والے تھے۔ فارس نے جس طرح باسم کو اٹھایا تھا دیکھنے والوں کو گمان ہو رہا تھا جیسے وہ ننھا کاکا ہو پر حقیقت میں ایسا ہر گز بھی نہیں تھا۔
باسم کو اٹھا کر کبیر نے گاڑیوں کو نکلنے کا اشارہ کیا تو گاڑی آگے پیچھے واپسی کے لئے مڑ گئیں تھیں۔
وہ دونوں باسم کو لیے سب کے پاس گئے تو باسم کو سوئے دیکھ کر سب ہنس دیے تھے۔ ہفتے کے چار دن تو سوئے ہوئے باسم کو اسکی کلاس میں پہنچایا جاتا تھا۔۔اور جس دن باسم کاظمی کھلی آنکھوں سے سکول جاتا تھا۔ وہ دن سب کے لیے یادگار ہونے کے ساتھ ساتھ چڑچڑا بھی ہو جاتا تھا۔ کیونکہ باسم کاظمی بھی خود میں ایک عجیب ہی بلا کا نام تھا۔۔۔
ارسل ابھی تک کیوں نہیں آیا ۔۔۔؟ کلائی میں پہنی ڈیجیٹل واچ میں وقت دیکھتے ہوئے ایشام صدیقی نے سوال کیا تھا۔
آ گیا ہے۔۔۔! ایشام کے پوچھنے پر کبیر نے اسکی توجہ سامنے کی طرف کروائی تھی۔۔جہاں سے سرمئی آنکھوں والا ارسل خان گاڑی سے ہنستے ہوئے نکل کر بھاگتے ہوئے ان سب کی طرف آ رہا تھا۔ "ارسل خان" نعمان خان کا بیٹا تھا۔ اپنے باپ جیسے نقوش والا ارسل خان انتہائی کیوٹ بچہ تھا۔ سرخ و سفید رنگت میں پٹھانی نقوش والا ارسل خان ان سب کے لیے بے حد ضروری تھا۔
گاڑی میں بیٹھے نعمان خان نے اپنے بیٹے کی سپیڈ پر آنکھیں بڑی کر لی تھیں۔
بدتمیز اولاد..! جاتے ہوئے باپ کو چومی بھی نہیں دے کر گیا اور گھر پر میری خانم کا منہ چومتے ہوئے نہیں تھکتا کمینی اولاد۔۔۔! نعمان خان بڑابڑاتے ہوئے بے ساختہ گاڑی سے باہر نکل آیا تھا۔
کبیر اور فارس ہاتھ ہلاتے ہوئے نعمان خان کو واپس جانے کا کہہ کر وہ سب کو ساتھ لیے سکول کے اندر چلے گئے تھے۔
کبیر اور فارس کی اتنی فکر پر نعمان خان نثار ہوتے ان دونوں کو دیکھ گیا۔ جو اتنی سی عمر میں بڑے ہونے کا پورا پورا کردار ادا کر رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلاس میں اس وقت شہرام اور انتہائی بے زاری سے بیٹھے بریک ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔
فارس اور کبیر خان کے ساتھ جڑواں پیدا ہونے کے باوجود یہ دونوں اپنے بھائیوں سے ایک کلاس پیچھے تھے۔ کیونکہ پیچھے رہنے کی مرضی بھی انکی اپنی ہی تھی۔
اپنے بھائیوں کے ساتھ ایک کلاس میں ہی پڑھتے ہوئے وہ شریف ہونے کا ڈھونک نہیں رچا سکتے تھے۔ اس لئے تین سال پہلے وہ جان بوجھ کر فیل ہو گئے تھے۔۔مقصد صرف ایک کلاس پیچھے ہو کر اپنے بڑے بھائیوں سے پیچھا چڑھانا تھا۔
اچانک بریک ہوئی تو شہرام اور فاتح کی آنکھوں میں ایک عجیب چمک نمودار ہو گئی تھی۔
بریک ہوتے ہی کلاس میں شور مچا تو ٹیچر کلاس سے باہر نکلتی چلی گئی۔
ٹیچر کے جاتے ہی شہرام اور فاتح نے مڑتے ہوئے اپنے کلاس فیلو حیدر کو عجیب نظروں سے دیکھا تو وہ بھی متوجہ ہوتے دیکھ گیا۔
شہرام اور فاتح ایک نظر ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے اٹھ کر کلاس سے باہر چلے گئے تھے۔
وہ دونوں پاکٹس میں ہاتھ ڈالے اپنی دھن میں چلتے ہوئے واش روم والی سائیڈ پر آئے تھے۔
شہری اس حیدر کا کام جلدی تمام کرنا یے، کیونکہ بھائی لوگ کینٹین میں ہمارا انتظار کر رہے ہونگے۔۔۔!
فاتح آس پاس دیکھتے ہوئے شہرام سے بولا تو وہ جواب میں اپنی پاکٹ میں رکھے مینڈک کو دباتے ہوئے اسے آنکھوں سے تسلی دے گیا تھا۔
پانچ منٹ گزرنے کے بعد حیدر اپنے دوست کے ساتھ واش روم جانے کی غرض سے ادھر آیا تو اسے آتے دیکھ کر شہرام اور فاتح دونوں ایک ساتھ ایک ہی واش روم میں داخل ہو گئے۔
اپنے دوست کو وہیں رکنے کا کہہ کر حیدر بے دھیانی میں واش روم کے اندر چلا گیا تھا۔
حیدر نے اپنے دھیان میں واش روم میں جا کر ابھی دروازہ اندر سے بند کیا ہی تھا۔
کہ پیچھے کھڑے فاتح نے آگے بڑھ کر جلدی سے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ جس پر حیدر یک دم ڈرتے ہوئے جھپٹانے کی کوشش کرنے لگا تھا۔
حیدر خود کو آزاد کروانے کی کوشش میں مچلنے لگا تو شہرام نے جلدی سے اپنی پاکٹ سے شاپر باہر نکال لیا تھا۔
شہرام نے شاپر باہر نکالا تو اس میں ایک موٹا سا مینڈک قید تھا۔۔جبکہ شاپر کو اوپر سے باندھ کر مینڈک کو قید کیا گیا تھا۔ شاپر میں صبح سے بند رہنے کی وجہ سے میڈل بھی اب نیم بے ہوش نظر آ رہا تھا۔۔۔۔
فاتح کی قید میں پھڑپھڑاتے ہوئے حیدر نے خود کو آزاد کروانے کی لاکھ کوشش کی تھی۔ پر وہ فاتح سلطان کی گرفت میں ہل بھی نہیں پایا۔
شہرام نے مینڈک کو باہر نکالتے ہوئے جلدی سے حیدر کی پینٹ پر لگے بیلٹ کو لوز کرتے اندر مینڈک رکھ دیا تھا۔ اور اگلے ہی پل وہ ساتھ لائے سٹیپلر سے حیدر کی پینٹ کو نیچے سے پن لگانے میں مصروف ہو گیا۔ تاکہ مینڈک کسی بھی صورت میں پینٹ سے باہر نہ نکلے۔ پانچ منٹ میں اپنا کام تمام کر کے فاتح اور شہرام حیدر کا رخ موڑ کر دروازہ کھولتے ہوئے تیزی سے بھاگ نکلے تھے۔۔
انکی بجلی کی سی رفتار پر حیدر چاہ کر بھی دیکھ نہیں پایا تھا۔ کہ اسکے ساتھ یہ ظلم کرنے والے کون تھے۔ اپنی پینٹ میں کوئی چیز محسوس کرتے ہیں اگلے پل حیدر ابراہیم کی خوف کے مارے دلخراش چینخیں بلند ہونے لگیں تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہرام اور فاتح نارمل چال چلتے ہوئے کینٹین میں داخل ہوئے تو سامنے سب کو اپنے انتظار میں دیکھ کر وہ تیزی سے ٹیبل کی طرف بڑھ گئے۔
اس وقت ٹیبل پر بیٹھے سب گھر سے لائے لنچ کرنے میں مصروف تھے۔ لیکن کبیر اور فارس ان دونوں کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔
کہاں رہ گئے تھے تم دونوں ۔۔۔؟ فارس نے گھور کر پوچھا تھا۔۔
سوری بھائی بس چیزیں سمیٹنے میں وقت لگ گیا۔۔! فاتح جواب دیتے ہوئے اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔ ان کے انتظار میں ابھی تک چونکہ فارس اور کبیر خان نے کھانا شروع نہیں کیا تھا۔ تو اپنے دونوں بڑے بھائیوں کو کھاتے نہ دیکھ کر باقی سب نے بھی ابھی تک کھانے کا ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ جبکہ ٹیبل پر اس وقت صرف بچیاں ہی کھانا کھا رہیں تھیں۔
تم دونوں اتنا پڑھتے تو نہیں ہو، جتنا چیزیں سمیٹنے کا بتا رہے ہو۔۔۔! کبیر خان نے مشکوک نظروں سے انکی طرف دیکھا تھا۔
بھائی، اب ایسی ہی بات نہیں ہے۔۔۔! شہرام اپنی بے عزتی پر ابھی منہ بگاڑ کر بولا ہی تھا کہ اسی وقت کینٹن میں شور اٹھ گیا۔۔کہ واش روم والی سائیڈ پر کسی لڑکے کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ گیا ہے۔
سب چونک کر دیکھنے لگے تھے۔ لیکن جب فارس اور کبیر نے اپنے کلاس فیلو کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ 9th کلاس کے حیدر ابراہیم کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آیا ہے تو وہ دونوں حیران ہوتے ایک دوسرے کو دیکھ گئے۔
جبکہ شہرام اور فاتح انجان بنتے سامنے بیٹھی ماہ پارہ کے ماتھے پر زخم کو دیکھ رہے تھے۔
فارس اور کبیر نے مڑتے ہوئے گھور کر اپنے سامنے بیٹھے نمونوں کو دیکھا تھا۔ جو لنچ کرنے میں اس طریقے سے مگن تھے، جیسے پتہ نہیں کونسا من و سلویٰ کھا رہے ہوں۔۔۔
شہری! اگر کھانا شروع کرنے سے پہلے کھانے کی دعا بھول جائے تو کھانے کے بیچ میں پڑھ سکتے ہیں نا۔۔؟
فاتح نے مکمل انجان بنتے پاس بیٹھے شہرام سے اچانک اہم ترین مسلہ پوچھا تھا۔ انداز صاف ظاہر کر رہا تھا کہ کھانا شروع کرنے سے پہلے دعا نہ پڑھنے کی بجائے وہ بہت دکھی ہے۔
ہاں نہ فاتح ہم بیچ میں پڑھ سکتے ہیں..! جلدی سے پڑھ لے، کیونکہ شیطان مفت میں تیرا برگر کھائے جا رہا ہے۔۔!
شہرام نے بھی اتنے ہی سنجیدہ انداز میں جواب پیش کیا تھا۔ جس کو سن کر فاتح فوری طور پر اگلے ہی پل کانوں کو ہاتھ لگاتے دعا پڑھنے میں مصروف ہو گیا۔۔
فارس اور کبیر جانچتی نظروں سے اپنے نمونوں دیکھ رہے تھے۔ جو مکمل طور پر نیک بننے کا ناٹک کر رہے تھے۔
بھائی آپکے کسی کلاس فیلو کے ساتھ حادثہ پیش آ گیا ہے۔۔! ارسل نے اطلاع دینے والے انداز میں ان دونوں کو آگاہ کرنا چاہا۔
ہیں! کونسا حادثہ؟ ہنگامی حادثہ؟ شہرام نے حیران ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے ایک ساتھ کئی سوال کیے تو اسکا ہنگامی حادثہ سن کر سب کی ہنسی نکل گئی۔
شہری ہنگامی حادثے کی صورت میں تو 1122 کو بلایا جاتا ہے نا۔۔؟ فاتح نے سیریس انداز میں پوچھنے کے ساتھ ساتھ بتانا چاہا تھا۔
ہاں یار 1122 سے یاد آیا، کیا حیدر لال گاڑی میں ہاسپٹل جائے گا .۔۔؟ شہری نے جواب دینے کے بعد الٹا پھر سوال کیا تو ان دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ سوال و جواب کرتے دیکھ کر کبیر، فارس ایبرو اچکا گئے۔
بھیا میرے بال۔۔! اچانک ماہ پارہ نے اپنے بکھرے بالوں سے تنگ آ کر دور بیٹھے کبیر کو پکارا تھا۔
پاس بیٹھے باسم نے مڑتے ہوئے ماہ پارہ کو دیکھا جس کے سلکی میرون بال پونی سے باہر نکل کر اسے تنگ کر رہے تھے۔ علیزے کے بال چونکہ میرون رنگ کے تھے۔ ایسے میں ماہ پارہ نے وارثت میں اپنی ماں سے بالوں کا رنگ ضرور چرایا تھا۔ پر اسکے بال گھنگریالے ہونے کی بجائے سلطان جیسے سلکی تھے۔
بھائی رکیں میں سیٹ کر دیتا ہوں۔۔! کبیر کو اٹھ کر ماہ پارہ کے پاس آتے دیکھ کر باسم نے منع کر دیا تھا۔
اپنا برگر پلیٹ میں رکھ کر ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے باسم نے پاکٹ میں ہاتھ ڈالتے ہوئے ایک ساتھ کئی ہیر پن نکالیں تو سب تعجب سے اسکو دیکھتے رہ گئے۔جو پاکٹ میں ہیر پن لیے گھوم رہا تھا۔
باسم نے ایک ایک کر ہیر لگاتے ہوئے ماہ پارہ کے بال سکیور کیے تو وہ خوشی سے باسم کو دیکھ گئی۔ ماہ پارہ کے خوش ہونے پر باسم نے اسکا ناک کھینچتے ہوئے باقی کی ہیر پن دوبارہ پاکٹ میں رکھ لیں تھیں۔۔
تم نے یہ گرلز ہیر پن کا سٹاک پاکٹ میں کیوں رکھا ہوا ہے۔۔؟؟ غازیان نے سوالیہ نظروں سے پوچھا تھا۔
ضرورت کے لئے رکھی ہیں بھائی۔۔! کبھی کبھی کسی کو ضرورت کے وقت انجیکشن لگانا پڑ جاتا ہے۔۔۔!
اپنا برگر دوبارہ اٹھاتے ہوئے باسم کاظمی نے بے نیازی سے ہیر پن کا مقصد سمجھایا تھا۔ اسکی کھلم کھلا اپنی کمینگی بتانے پر کبیر اور فارس تاسف سے سر ہلا چکے تھے۔ کوئی ایک بھی انکو دودھ کا دھلا ہوا نہیں ملا تھا۔ دودھ میں دھلا ہونے سے مراد معصوم ہونے سے تھا۔
بھائی کلاس میں جب بھی کوئی باسم سے پنگا لیتا ہے تو تھوڑی دیر بعد باسم اسکی سیٹ پر ہیر پن لگا دیتا ہے۔۔!
ارسل نے ہنسی دباتے ہوئے باسم کا بھانڈہ پھوڑا تو سب سے پہلے شہرام اور فاتح نے قہقہ لگایا تھا۔۔ کیونکہ وہ دونوں بھی ابھی یہی کر کے آ رہے تھے۔ نجانے وہ سب نازک حصے پر ہی وار کیوں کرتے تھے۔ شہرام اور فاتح نے دماغ میں بے اختیار سوچا تھا۔
کمینے میں سیٹ پر صرف ہیر پن لگاتا ہوں اور تو کیا کرتا ہے وہ بھی بتا نا۔۔؟
اپنا بھانڈہ پھوڑتے دیکھ کر باسم نے گھور کر پاس بیٹھے ارسل کو مکہ رسید کیا تھا۔
باسم اور غازیان ایک کلاس میں تھے۔ جبکہ ارسل اور ایشام کلاس فیلو تھے۔ ان سب کے پیدا ہونے میں زیادہ فرق تو نہیں تھا۔ اس لئے جب ان سب کا سکول میں ایڈمیشن کروایا گیا تھا تو ایک ساتھ اور ایک کلاس میں ہی سب کو بھیجا گیا تھا۔ لیکن پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کون کون پیچھے رہ گیا۔ اس سب کی سمجھ انکے بڑوں کو نہیں آئی تھی۔ جیسے ارسل خان پیچھے رہ کر ایشام کا پارٹنر بن چکا تھا۔
میں کب کوئی کچھ کرتا ہوں۔۔۔! خود پر بات آتے دیکھ کر ارسل معصوم بن گیا۔۔
بکواس کر رہا ہے یہ بھائی۔۔! میں تو بس ہیر پن لگاتا ہوں نا، یہ خانم چاچی کا سارا میک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔۔ ابھی دو دن پہلے اس نے اپنے کلاس فیلو کی ٹانگ پر وہ ویکس والی پٹی لگا دی تھی۔۔۔!
باسم نے گھورتے ہوئے ارسل کا دو دن پہلے والا کارنامہ ان سب کو بتایا۔۔۔
یہ ایک معصوم اور کیوٹ حرکت کہلاتی ہے۔۔! تیری طرح میں میزائل تھوڑی پھینکتا ہوں۔۔! ارسل نے اپنی ویکس والی حرکت کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا۔
ان شارٹ تم سب مان کیوں نہیں لیتے کہ سب کے سب ہی کمینے ہو۔۔۔! کبیر خان نفی میں سر ہلاتے ہوئے سکون سے گویا ہوا۔
بھائی ہم نے کب کسی کو تنگ کیا ہے۔..؟ کبیر کے تبصرے پر غازیان اور ایشام یکجا ہو کر تیزی سے بولے تھے۔۔۔ ان دونوں کے معصوم بننے پر سب کا نا چاہتے ہوئے بھی قہقہ نکل گیا۔۔ کیونکہ غازیان اور ایشام کا وار سچ میں کسی سے نہیں ملتا تھا۔۔
بھائی ابھی کل ہمارا ایک کلاس فیلو روتے ہوئے بتا رہا تھا۔۔کہ کوئی اسکی اسکی کلر فل پک بنا کر بلیک میل کر رہا ہے۔۔۔! ارسل معنی خیزی سے کہنے لگا تو سب نے تیزی سے اسے آنکھیں دیکھائیں۔۔
کتنی دفعہ منع کیا ہے کہ لڑکیوں کے سامنے ایسی بکواس نہ کیا کر ۔۔! ایشام اسکی کمر پر مکہ رسید کرتے تیزی سے بول گیا۔۔
ایشام اور غازیان ڈیجیٹل دنیا کے بادشاہ تھے۔ اپنے دشمن پر انرجی ضائع کرنے کی بجائے اسکی کمزوری پر وار کرتے تھے۔ کچھ دن پہلے انکے ایک کلاس فیلو نے ان سے پنگا لیا تو بدلے میں ایشام صدیقی اور غازیان پاشا نے چپکے سے اسکی نیوڈ پک بنا لیں تھیں۔ اپنے اتنے عظیم کارنامے کے بعد وہ ابھی تک اسکو بلیک میل کر رہے تھے۔
بریک ختم ہوئی تو فارس اور کبیر خان نے سب کو اٹھنے کا اشارہ کیا۔۔ لڑکیوں کو انکی کلاس میں بھیج کر وہ دونوں شہرام اور فاتح پر گھوری ڈال کر چلے گئے تھے۔۔ ان دونوں کے غائب ہوتے ہی شہرام اور فاتح نے مزے سے باقیوں کو اپنا کارنامہ بتایا تو وہ قہقہے لگاتے لوٹ پوٹ ہو گئے۔
Post a Comment (0)
Previous Post Next Post