ناول: #جنونِ یار
قسط: 05
از قلم: #امرینےقیس
کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں؟ کہ اپکے بچوں نے اپنے کلاس فیلو کے ساتھ کیسی حرکت کی ہے۔۔۔!
سکول کا پرنسپل غصے سے بول رہا تھا۔
اگر ہم اندازہ لگا سکتے تو یہاں آپکے سامنے بیٹھنے کی بجائے گھر سے ہی فون کر کے اپکو کہہ دیتے۔ کہ جی ہمیں ہمارے بچوں کی اس حرکت کے بارے میں پتہ ہے۔ تو ہمارے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔۔۔!
پرنسپل کو کب سے فضول بولتے دیکھ کر عیس نا چاہتے ہوئے بھی خود کو طنز کرنے سے باز نہیں کر پایا تھا۔
سلطان اور عیس آفس سے سیدھا سکول آ رہے تھے۔ سکول سے جانے والی شکایت کی وجہ سے انکو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں پر آنا پڑا تھا۔ سکول سے جب کمپلین کے سلسلے میں گھر پر کال گئی تھی۔ تو کمپلین کرنے والی ٹیچر نے علیزے خان کے ساتھ کافی روڈ طریقے سے بات کی تھی۔ جس کی وجہ سے علیزے خان نے شدید پریشانی کے عالم میں فوری طور پر سلطان کو آگاہ کیا تھا۔ اسی وجہ سے وہ دونوں سارا کام چھوڑ کر سکول چلے آئے۔ اس وقت آفس میں حیدر ابراہیم کے والدین کے ساتھ ساتھ سلطان اور عیس بھی موجود تھے۔
عیس کے طنز کرنے پر یونیفارم میں کھڑے فاتح اور شہرام نے سنجیدہ انداز میں منہ بنا کر پرنسپل کی طرف دیکھا تو وہ تلملا کر رہ گیا ۔۔
حیدر کے ساتھ ہوئی حرکت پر پرنسپل کو کافی کچھ سننے کو ملا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ آج کافی بھڑکا ہوا نظر آ رہا تھا۔
اگر آپ نے ادھر ادھر کی باتیں کر لیں ہوں۔ تو اب ہمیں صاف صاف لفظوں میں بتائیں کہ کیا مسلہ ہوا ہے ۔۔!
سلطان نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے عیس کو کول ڈاؤن رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔ جبکہ دوسری طرف حیدر کے والدین ماتھے پر ہزاروں بل لیے سلطان اور عیس کو گھور رہے تھے۔ جن کے بچوں نے اتنی گندی حرکت کی تھی۔
آپ مجھ سے پوچھنے کی بجائے اپنے بچوں سے کیوں نہیں پوچھ لیتے کہ انہوں نے کل کیا حرکت سر انجام دی ہے۔۔۔!
پرنسپل کو شاید بتاتے ہوئے شرم محسوس ہو رہی تھی یا وہ اپنے منہ سے بتانا نہیں چاہ رہا تھا۔ عیس اور سلطان چاہ کر بھی سمجھ نہیں پائے۔
ان دونوں نے نظریں گھما کر اپنے سپوتوں کی طرف دیکھا جو اس وقت انتہائی سیریس لک دے رہے تھے۔ شہرام اور فاتح کے تاثرات کہیں سے بھی یہ ظاہر نہیں کر پا رہے تھے۔ کہ انہوں نے کوئی گناہ کیا ہے۔۔ اپنے گھر کے اتنے پکے مجرموں کو دیکھ کر عیس متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکا تھا۔
"سر اپکو کوئی شدید قسم کی غلط فہمی ہو گئی ہے۔ کیونکہ ہم نے کچھ بھی نہیں کیا ہے! اور جس وقت یہ ہنگامی حادثہ پیش آیا تھا, تب اس وقت ہم کینٹین میں اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر لنچ کر رہے تھے۔۔"
کمر پر پیچھے ہاتھ باندھے فاتح سلطان انتہائی سیریس لہجے میں پرنسپل کو مخاطب کرتے بولا تھا۔ جبکہ اسکے ہنگامی حادثہ کے الفاظ پر عیس اور سلطان کی ہنسی نکلتے نکلتے رہ گئی۔
جی سر ! اگر اپکو ابھی بھی ہم پر یقین نہیں ہے تو آپ ہمارے دونوں بڑے بھائیوں کو بلا کر پوچھ سکتے ہیں۔۔! کیونکہ ہم تو کل کینٹن میں کھانا کھانے کی دعا یاد کر رہے تھے ۔۔۔! اس بار شہرام ہمدانی نے آخری داؤ کھیلا تو انکے باپ انکو بغور دیکھ گئے۔
پرنسپل نے بنا کچھ بولے غصے سے لال ہوتے فون کر کے فارس ہمدانی اور کبیر خان کو بلانے کا حکم دیا تھا۔۔۔
سر جس کے ساتھ یہ ہنگامی حادثہ پیش آیا ہے پلیز اسکو بھی بلا لیں، تاکہ ایک بار میں ہی ساری بات کا صفایا ہو جائے ۔۔!
فاتح نے دوبارہ بولتے ہوئے پرنسپل کو مشورہ دیا تو عیس اور سلطان ایک دوسرے کو دیکھ گئے۔
تقریباً تھوڑی دیر بعد کبیر خان اور فارس ہمدانی کے ساتھ ساتھ "حیدر ابراہیم" بھی آفس میں داخل ہوا تھا۔
یس سر آپ نے بلایا۔۔۔؟ اپنے ازلی سنجیدہ انداز میں وہ دونوں پرنسپل کے سامنے آئے تو حیدر اپنے باپ کے پاس جا کر بیٹھ گیا تھا۔
بھائی! پرنسپل سر کہہ رہے ہیں کہ کل حیدر کے ساتھ جو حادثہ پیش آیا تھا وہ ہم نے سر انجام دیا ہے۔۔! شہرام نے دکھی انداز میں کبیر خان کو مخاطب کیا تھا۔
عیس اور سلطان جانچتی نظروں سے اپنے لاڈلوں کی زبان سن رہے تھے۔ اردو کے خاص الفاظ بولتے ہوئے فاتح اور شہرام ایک نمبر کے دھوکے باز معلوم ہو رہے تھے۔ آخر سلطان اور عیس باپ تھے۔ اپنی اولاد کی رگ رگ سے واقف ہونے والے ۔۔۔۔
سر اپکو غلط فہمی ہوئی ہے۔ کیونکہ کل یہ دونوں ہمارے ساتھ کینٹین میں لنچ کر رہے تھے، اس بات کی تصدیق آپ ہمارے کسی بھی کلاس فیلو سے کروا سکتے ہیں..!
فارس نے ٹھہرے انداز میں سنجیدہ لہجے میں بولتے ہوئے جواب دیا تھا۔۔۔
یہ دونوں جھوٹ بول رہے ہیں۔۔! کل واش روم میں یہ دونوں ہی تھے۔۔۔! حیدر نے چینختے ہوئے تیزی سے فارس کی بات کاٹی تھی۔۔۔
رئیلی؟ حیدر کے چینخنے پر فاتح نے مڑتے ہوئے ایبرو اچکاتے ہوئے اسکی طرف دیکھا۔ فاتح کے ایٹیٹیوڈ پر جہاں حیدر کے ماں باپ ششدر ہوئے وہیں سلطان اور عیس حیران ہو گئے تھے۔ کیونکہ وہ بلکل سلطان کا عکس معلوم ہو رہا تھا۔
مسٹر حیدر ہماری آپ سے دوستی تک نہیں ہے، تو دشمنی کیوں ہی ہو گی۔۔۔؟ اور اگر ان دونوں میں سے کسی ایک چیز کا تعلق بھی ہمارے بیچ نہیں ہے، تو ہم اپکے ساتھ یہ حرکت کر کے کیوں وقت ضائع کریں گئے۔۔۔؟
پاکٹس میں ہاتھ ڈالے شہرام بھی بے اختیار مڑ گیا تھا۔ اپنے چھوٹے بھائیوں کے انداز و لہجے پر فارس اور کبیر نے مسکراہٹ دبا لی۔۔۔
یہ ساری بحث تو بعد کی ہے، پر کیا آپ لوگ پہلے یہ بتا سکتے ہیں آخر ہوا کیا ہے۔۔؟ عیس نے تپ کر اس بار پوچھا تھا۔۔وہ دونوں کب سے یہاں پر مسلہ جاننے کے لیے بیٹھے تھے، بجائے انکو مسلے سے آگاہ کرنے کے، سب اپنی ہی بحث میں الجھے ہوئے نظر آ رہے تھے۔
ڈیڈ کل واش روم میں کسی نے حیدر کی پینٹ میں ایک بڑا سا مینڈک ڈال دیا تھا۔ اور مینڈک ڈالنے کے بعد پینٹ کو نیچے سے پن لگا دیں تھیں تاکہ مینڈک کسی بھی صورت میں باہر نہ نکلے ۔۔۔!
فارس نے چمکتی آنکھوں سے شہرام اور فاتح کو دیکھتے ہوئے مسلہ بیان کیا۔ جبکہ دوسری طرف مسئلہ جان کر سلطان اور عیس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں۔۔۔
اور سننے میں یہ ملا تھا کہ جس نے پینٹ میں مینڈک ڈالا تھا اسنے پینٹ کی پچھلی سائیڈ پر کاکروچ بھی ڈال دیا تھا۔۔۔! حیدر ایسا ہی تھا نا۔۔!
کبیر خان نے آخر چھپے ہوئے راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے مظلوم حیدر سے جاننا چاہا تو وہ شرمندگی کے احساس سے بامشکل سر ہلا پایا تھا۔
سارا مسلہ جان کر عیس اور سلطان کے تاثرات سے صاف نظر آ رہا تھا۔ کہ وہ مسلہ جان پر بے حد پچھتا رہے ہیں ۔۔۔! اتنا گھناؤنا مسئلہ ۔۔؟ اچھا تھا بات رولے میں چل رہی تھی تو چلتی جاتی ۔۔ خوامخواہ انہوں نے مسلہ جاننے پر زور دیا تھا۔
ساری بات جان کر عیس کا حلق قہقہے کے زور سے خراب ہونے لگا تو سلطان نے مصنوعی کھانستے ہوئے اسکا ہاتھ دبا کر سیریس رہنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔۔
یہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ ان دونوں نے ہی میرے ساتھ یہ سب کیا تھا۔۔۔! حیدر خود پر ہوئے ظلم پر پھر چینخ گیا۔ کیونکہ کل مینڈک اور کاکروچ کے خوف سے وہ بے ہوش ہو گیا تھا۔ ٹیچرز اور سٹوڈنٹس کے سامنے پینٹ اترنے پر اسکی الگ سے جگ ہنسائی بھی ہو گئی تھی۔ اب معاشرے اور سکول میں حیدر ابراہیم کی دو آنے کی بھی عزت نہیں بچی تھی۔ کل سے وہ یہ ہی محسوس کر رہا تھا
حیدر تم غلط بیانی سے کام لے رہے ہو، وہ کیوں تمہارے ساتھ یہ سب کریں گئے۔۔۔!؟ ایک ہی رٹ سن سن کر کبیر خان نے مڑتے ہوئے اکھڑ کر پوچھا تھا۔
ان دونوں نے مجھ سے بدلہ لیا ہے۔۔۔! حیدر غم و غصے سے جواب میں بولتے ہوئے اچانک رک چکا تھا۔ جبکہ اسکے بدلہ کہنے پر شہرام اور فاتح کی آنکھوں میں بیک وقت ایک عجیب سی چمک پیدا ہو گئی تو وہ دونوں مسرور انداز میں کھڑے ہو گئے۔ آخر دشمن نے انکے وار کا مقصد جو جان لیا تھا۔
کیسا بدلہ؟ کیا تم نے ان دونوں کے ساتھ کچھ غلط کیا تھا۔۔؟ فارس نے اسے مزید بولنے کے لئے اکسایا تو حیدر نے شدید غصے سے لب بھینچ لیے تھے۔ وہ مزید نہیں بول سکتا تھا کیونکہ اگر کچھ بولتا اسے اپنی کی ہوئی حرکت کے بارے میں بھی سب بتانا پڑتا۔۔۔! الٹا اسے سننے کو مل سکتا تھا۔
بولو حیدر کیا تم نے ان دونوں کو وہ سب کرتے دیکھا تھا۔۔؟ حیدر کے خاموش ہونے پر اسکی ماں بھی بول گئی۔
نو مام! میں نے کسی کو بھی نہیں دیکھا! میں نہیں جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کس نے وہ سب کیا تھا۔۔۔! سر جھکاتے ہوئے حیدر نے ضبط کرتے آخری الفاظ ادا کیے۔ جن کو سن کر شہرام اور فاتح فتح مندی سے کندھے اچکا گئے تھے۔۔
سر ہم تو پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ بیچارے حیدر کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔! فاتح افسوس زدہ لہجے میں بولا تو پرنسپل اب کڑی نظروں سے حیدر کو دیکھنے لگا تھا۔
حیدر آپکی غلط بیانی کی وجہ سے ہم سب کا قیمتی وقت پہلے ہی بہت ضائع ہو چکا ہے۔ اب آپ کلاس میں جا سکتے ہیں۔۔!
پرنسپل انتہائی غصے سے اسے دیکھ گیا تھا۔ آنکھوں میں انتقام لیے حیدر آخری نظر ان پر ڈال کر نکلا تو اسکے والدین بھی معذرت کرتے اسکے پیچھے نکل گئے۔۔
سوری سر میں آپ سے معذرت کرتا ہوں۔۔۔! انکے جانے کے بعد پرنسپل عیس اور سلطان سے مخاطب ہوا۔
اٹس اوکے۔۔! آئندہ کسی بھی سلسلے میں اگر آپکے سکول سے ہمارے گھر میں کال جائے تو کسی تمیز دار بندے کو بات کرنے کا کہیے گا ۔۔۔! کیونکہ مستقبل میں ہم یہ بدتمیزی برداشت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔۔۔!
عیس نے گھور کر پرنسپل کو سنایا۔ سلطان نے جب اسے بتایا تھا کہ ٹیچر نے اسکی خانم بھابھی کے ساتھ کافی روڈ طریقے سے بات کی ہے وہ تب سے خود پر ضبط کر رہا تھا۔۔
اور پلیز مسئلے کی مکمل جانچ پڑتال کر کے گھر والوں کو بلانے کی زحمت کیا کریں۔۔۔! آنکھوں پر سن گلاسز لگاتے ہوئے عیس اور سلطان دونوں اٹھ کھڑے ہوئے تھے ۔۔۔جبکہ سلطان کے آخری الفاظ پرنسپل کو مزید شرمندگی نے آن گھیرا۔۔
سب کو کلاس میں واپس جانے کا کہہ کر عیس اور سلطان سکول سے باہر نکلے تو گاڑی میں بیٹھتے ہی آج کا مسلہ یاد کر کے عیس کا چھت پھاڑ قہقہہ گونج اٹھا تھا۔ عیس کے قہقہے پر نا چاہتے ہوئے سلطان بھی نفی میں سر ہلاتے ہنسنے لگ گیا۔ کیونکہ وہ اصل مجرموں کو پکڑنے کے ساتھ ساتھ جرم کی وجہ کو بھی جان چکے تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم دونوں نے آج ان گدھوں کو کیوں بچایا تھا۔۔..؟ سلطان نے کافی پیتے ہوئے فارس اور کبیر کو مخاطب کیا تو وہ چونک کر ایک دوسرے کی طرف دیکھ گئے۔۔۔
رات کا کھانا کھانے کے بعد سب ایک ساتھ بیٹھ کر کافی پی رہے تھے۔ جبکہ لڑکیاں اس وقت اپنی مستی میں گم سائیڈ پر کھیل رہیں تھیں۔ سلطان نے سب کی موجودگی میں کبیر اور فارس سے پوچھنا ضروری سمجھا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ فارس اور کبیر کی اٹینشن کے بارے میں جاننا چاہ رہا تھا۔۔۔
ڈیڈ ہم نے کسی کو بھی نہیں بچایا، حیدر نے اپکو بتا تو دیا تھا کہ اسے کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔! کبیر خان جواب میں انجان بنتے بول گیا ۔۔
کبیر خان جھوٹ بولنے کی بجائے سچ بولو، کیونکہ تم لوگ ساری دنیا سے جھوٹ بول سکتے ہو پر ہم سے نہیں۔۔!
سلطان نے گھور کر اپنے بیٹے کو دیکھا۔ جبکہ شہرام اور فاتح تو یہاں ہو کر بھی محسوس نہیں ہو رہے تھے۔ ان دونوں نے موقع جان کر وہاں سے نکلنا چاہا تو سنی اور وہاج انکو دبوچ گئے تھے۔۔
ڈیڈ کچھ دن پہلے حیدر نے ماہ پارہ اور مہرماہ کے ساتھ بدتمیزی کی تھی، اسی وجہ سے یہ دونوں اسکو سبق سیکھانے پہنچ گئے تھے۔۔۔! سب کو حاوی ہوتے دیکھ کر فارس نے آخر کار سچ بولنا ضروری سمجھا تھا۔۔
کیسی بدتمیزی ۔۔؟ ضرار نے الجھ کر پوچھا۔۔۔۔
کچھ دن پہلے مہرماہ اور ماہ پارہ بریک کے وقت میں انکی کلاس میں گئیں تو کلاس میں حیدر کے سوا کوئی بھی موجود نہیں تھا۔
ماہ پارہ اور مہر ماہ کو اکیلے دیکھ کر حیدر نے پہلے سٹور روم میں بند کر انکو تنگ کیا اور بعد میں اس نے ماہ پارہ کو ٹچ کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔ ان دونوں نے روتے ہوئے جب وہاں سے نکلنا چاہا تو حیدر نے پاؤں آگے کرتے ہوئے ماہ پارہ کو گرا دیا تھا۔۔ اسی وجہ سے اس دن اسکے ماتھے پر چوٹ آئی تھی۔۔۔" فارس نے سرد سانس خارج کرتے ہوئے انکو ساری بات بتا دی۔۔۔
تم لوگوں نے اس دن ہمیں اس بارے میں آگاہ کیوں نہیں کیا..؟ ساری بات جان کر سنان بھڑک گیا۔۔۔
اور پھر آج بھی تو بتا سکتے تھے۔ جب وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ وہاں پر موجود تھا، ہم خود اچھی طرح اس سے پوچھ گچھ کرتے۔...؟ عیس بھی غصے سے بولنے لگا تھا۔۔
ڈونٹ وری چھوٹے بابا۔۔! میں اور فارس اسکو سبق سیکھانے ہی والے تھے لیکن اس سے پہلے ہی ان دونوں نے اس پر وار کر دیا۔ اب وہ بھول کر بھی ان سے نہیں الجھے گا۔۔۔
سب کو غصے میں آتے دیکھ کر کبیر نے انکو ریلیکس کرنا چاہا تھا۔
جو بھی ہو پر تم لوگ ابھی اتنے بڑے نہیں ہوئے ہو، کہ ان مسائل کا سامنا کر سکو۔ اس لئے آئندہ کچھ بھی ہو، تم لوگ ہمیں اس بارے میں ضرور آگاہ کرو گئے۔۔۔!
وہاج سب کو ہدایت دیتے ہوئے نرمی سے بولا تھا۔۔۔
بڑے بابا حیدر کے ساتھ جو ہنگامی حادثہ پیش آیا ہے، اس کے بعد بھی اپکو لگتا ہے کہ ہم ان مسائل کو حل نہیں کر سکتے۔۔؟
شہرام چمکتی آنکھوں سے معنی خیزی انداز میں فورآ بولا تو وہاج ہنستے ہوئے اسکو جھنجھوڑ گیا تھا۔ ان دونوں کے اتنے خطرناک وار کو یاد کرتے ہوئے سب قہقہ لگا گئے تھے۔۔ جبکہ انکی مائیں مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلا گئیں تھیں۔
ویسے تم لوگوں نے یہ مینڈک اور کاکروچ کہاں سے لیا تھا۔۔۔؟ اچانک یاد آنے پر ضرار نے پوچھنا ضروری سمجھا، کیونکہ بلیک مینشن میں یہ دونوں چیزیں ناپید تھیں۔
ایک رات پہلے ہم نے پچھلے لان میں بہت ڈھونڈ ڈھونڈ کر مینڈک تلاش کر لیا تھا۔ پھر ایک گڑھا کھود کر ہم نے مینڈک وہاں پر رکھا اور اوپر سے کور بھی کر دیا تھا۔۔تاکہ مینڈک بادشاہ بھاگنے کی کوشش نہ کرے۔۔۔!
فاتح شیطانی ہنسی کے ساتھ اپنا کارنامہ بتا رہا تھا۔۔جس کو سن کر وہ سب دوبارہ ہنسنے لگے تھے۔۔۔
اور کاکروچ کہاں سے ملا۔.؟ اس بار مشعل نے آنکھیں پھیلائے پوچھا تھا۔۔۔
مام کاکروچ تو بہت آسانی سے مل گیا تھا، کل صبح جب ہم مینڈک اٹھانے جا رہے تھے تو وہیں پاس میں ہی کاکروچ بھیا بھی رینگتے ہوئے جا رہے تھے۔ میری کاکروچ پر نظر پڑی تو میں نے اٹھا کر اسکو بھی مینڈک کے ساتھ شاپر میں ڈال لیا۔۔۔!
شہرام اترا کر یاد کرتے ہوئے بتانے لگا تو وہاں بیٹھے سارے انسانوں کو سمجھ آ گئی تھی کہ کل صبح وہ جلدی جلدی تیار ہو باہر کیوں چلے گئے تھے۔۔۔
جب مینڈک لے کر جا ہی رہے تھے تو کاکروچ کیوں ساتھ لیا۔۔۔؟ ایرہ نے بھی اچانک سوال کیا تھا۔۔۔ آخر کو انکے بچے اتنا عظیم اور دلچسپ حملہ جو کر کے آ رہے تھے۔
حیدر کی پینٹ میں چلتے ہوئے مینڈک اکیلا بور نہ ہو۔۔! اس لئے ہم نے کاکروچ بھی اٹھا لیا تھا۔۔تاکہ وہ دونوں پینٹ میں ایک دوسرے کے ساتھ اچھا فیل کریں۔۔۔!
فاتح بتیسی دیکھاتے ہوئے زو معنی انداز میں کہنے لگا تو اسکے الفاظ پر سب چھت پھاڑ قہقہے لگانے لگے تھے۔ جبکہ انکی مائیں تو شرم کے مارے لال پڑ گئیں تھیں۔ ایسی کوئی خطرناک رینجرز قسم کی اولاد پیدا ہوئی تھی اس مینشن میں۔۔۔
شرم تو نہیں آئی ہو گی تم لوگوں کو اتنی گندی حرکت کرتے ہوئے۔۔۔! کسی اور طریقے سے بھی تو بدلہ لے سکتے تھے نا۔۔۔! منیزے سرخ پڑتے ہوئے خود کو بولنے سے باز نہیں کر پائی تھی۔۔۔
بڑی ماما، اگر ہم کسی اور طریقے سے بدلہ اتارتے تو پھر ہمیں کیسے مزہ آتا۔۔۔؟ شہرام اپنی بڑی ماما کو سمجھانے والے انداز میں گویا ہوا۔۔
فارس میرے بال ٹھیک کر دو۔۔۔! اچانک گل ناز نے وہاں آ کر فارس کو مخاطب کیا تو وہ مڑ کر اپنی منکوحہ کو دیکھنے لگا۔ ساری لڑکیاں ایک سائیڈ پر کھیل رہیں تھیں جب گل ناز اپنے بال بکھرنے پر پریشان ہوتی بھاگ کر فارس کے پاس چلی آئی ۔۔۔
اس عمر میں ہم مٹی کھاتے تھے، جس عمر میں یہ عشق عشق کھیل رہے ہیں۔۔۔! فارس کو ناز کے بال سنوارتے دیکھ کر سنی جل کر بول گیا تھا۔ گل ناز کے ہر مسلے کے حل کا نام صرف "فارس ہمدانی" تھا۔۔
گل ناز کو وہاں بیٹھے دیکھ کر باقی سب بھی کھیل چھوڑ کر انکے پاس آ گئیں تھیں۔۔کیونکہ کھیل کھیل کر سب کو اس وقت نیند محسوس ہو رہی ہے۔
ہیر چلتے ہوئے منیزے کے پاس جانے لگی تو جاتے جاتے اس نے جان بوجھ کر ایشام کے بال کھینچ دیے تھے۔ ہیر کی اس حرکت پر جہاں ایشام تلملایا وہیں باقی ہنسی دبا کر ادھر اُدھر دیکھنے لگے۔
دیکھ لیا آپ سب نے یہ جان بوجھ کر میرے ساتھ پنگے لیتی ہے۔۔۔! ایشام نے بھڑکتے ہوئے سب کو تصدیق کروانا چاہی تھی۔ لیکن بدلے میں سب کو انجان بنتے دیکھ کر وہ غصے سے اٹھتے ہوئے بیہ کے سینے میں چہرہ چھپا گیا۔۔گویا یہ اپنا غصہ دبانے کی ناکام کوشش تھی۔ ایشام کو اپنی بہو سے تنگ ہوتے دیکھ کر بیہ کو بے اختیار اپنے بیچارے بیٹے پر شدید پیار آیا تھا۔ جبکہ ہیر ایک ادا سے اب منیزے کی گود میں بیٹھ کر کھکھلا رہی تھی۔
کبیر نے فدا ہونے والی نظروں سے بہار کی طرف دیکھ رہا تھا۔ جو علیزے کی گود میں چھپنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اپنے بھائی کو بیہ کے پاس دیکھ کر اس سے پہلے وہ وہاج کی طرف بڑھتی جب اچانک علیزے نے اسے اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا۔ اور اب وہ علیزے کی گود میں بیٹھ کر کبیر خان سے چھپنے کی کوشش میں تھی۔ جو اپنی مورے کے پاس بیٹھ کر اسکے گھنگریالے بالوں کو ہاتھ میں پکڑ محسوس کر رہا تھا۔
خان بابا۔۔۔! کبیر خان کے ہاتھ میں اپنے بال دیکھ کر بہار نے رونے والے انداز میں سلطان کو پکارا تھا۔جو ماہ پارہ کو گود میں لیے بیٹھا تھا۔۔۔
کبیر باز رہو۔۔۔! بہار کی فریاد پر سلطان نے اپنے بیٹے کو تنبیہ انداز میں پکارا تو اگلے ہی پل کبیر خان اچانک جھکتے ہوئے بہار کا گال چوم کر تیزی سے رفو چکر ہو گیا۔
اس اچانک حرکت پر جہاں سب کی آنکھیں بڑی ہوئیں وہیں ناز نے ہنستے ہوئے فارس کو اپنا گال بھی چومنے کا اشارہ کر دیا تھا۔ جس پر فارس بھی چمکتی آنکھوں سے اسکا گال چوم کر بھاگ نکلا تھا۔۔
رکو تم دونوں زرا کمینوں ۔۔۔! کبیر اور فارس کی حرکت پر ضرار اور سنان نے گھما کر جوتا مارنا چاہا تھا۔۔۔