ناول: #آخری- عشق🍂
راٹیر: #عاٸشہ -علی
20__قسط نمبر:19
#سٹوری:حویلی بیسڈ ایج ڈیفرنس بیسڈ آفٹر میرج لو روڈ ہیرو، بیسڈ رومانٹک
🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋
_________________________
شادی کے بعدسب کچھ اپنی روٹین پر آ چکا تھا اگر کچھ نہی بدلہ تھا تو باطشہ اور ابان شاہ کا رشتہ ابھی ہی ابان شاہ کی وہی سرد مہری تھی باطشہ صبح اس کے اٹھنے سے پہلے کمرے سے نکل جاتی تھی اور رات کو جب تک وہ حویلی لوٹتا وہ اپنے بیڈ پر پھیل کر سو رہی ہوتی تھی ابان شاہ کے لیے جگہ کم پڑھتی تھی اس لیے وہ صوفے پر جلتا کڑھتا سو جاتا کبھی کبھار تو ایسے لگتا باطشہ جان بوجھ کر یہ سب کرتی صرف ایسے تنگ کرنے کے لیے
آج بھی وہ اس کے اٹھنے سے پہلے کمرے سے جا چکی تھی وہ اٹھتا فریش ہونے چلا گیا ایسے پتہ تھا اس کے کپڑے واشروم میں روز کے طرح لٹک رہے ہو گی ابان شاہ کے سارے کام اب باطشہ ہی کرتی تھی اس کی چھوٹی سے چھوٹی چیز کا خیال رکھتی تھی ابان شاہ کو یہ عادت باطشہ کی اچھی لگتی تھی ابھی ابھی وہ فریش ہوتا باہر نکلا اور آٸینے کا سامنے جا کر برش سے بال بناتا بال بنانے کے بعد وہ خود پر پرفیوم چھڑکتا نچے چلا جاتا اج اس نے آفس نہی جانا تھا کچھ مسلہ تھا گاوں کا اس لیے سردار ہونے کے ناطے اس ابان شاہ کا بھی وہاں ہونا ضروری تھا
جب وہ نچے آیا تو باطشہ اس کے لیے کچن میں کھڑی ناشتہ بنا رہی تھی وہ جیسے ڈاٸینگ ڈیبل پر بیٹھا باطشہ نے اس کے سامنے ناشتہ رکھا وہ چپ چاپ ںاشتہ کرنے شروع ہو چکا تھا باطشہ وہاں سے سدھا لاونج میں حسالہ کے ساتھ آ کر بیٹھ جاتی اور ابان شاہ ناشتہ کرنے کے بعد دادا ساٸیں کے پاس مردان کھانے چلا جاتا
___________________
امتثال شاہ کے اسرار پر انوشے اور وہاب شاہ حسالہ کے رشتے کے لیے لال حویلی آۓ ہوُۓ تھے
چاۓ ناشتے سے فارغ ہو کر انوشے شاہ ابرار شاہ کے پاس جا کر بیٹھی اور بولی بھاٸی سا آج ہم آپ سے آپ کی سب سے قیمتی چیز لینے آۓ ہیں سب ہی ان کی طرف متوجہ ہو چکے ہوتے ہیں جب ابرار شاہ بولتے میرے پاس کون سی قیمتی چیز ہے اور اگر کچھ ہے بھی تو میری بہن سے زیادہ اہم تو نہی ہو گی
نہی بھاٸی سا مجھ سے بھی زیادہ اہم ہے ابرار شاہ بہرام شاہ کی طرف دیکھتے سوالیہ نظروں سے جب بہرام شاہ بولتے انوشے بچا کیا چاھے بولوں پہلے کبھی اپنے بچے کی کسی بات سے انکار کیا جو اب ہو گا تو انوشے وہاب شاہ کی طرف دیکھ پھر بہرام شاہ کو بولتی بابا ساٸیں ہم اپنے بیٹے امتثال شاہ کے لیے ابرار بھاٸی سا کی بیٹی حسالہ کا رشتہ مانگنے آۓ ہیں ہے مجھے میری خواہش ہے حسالہ بیٹی میری گھر کی بہو بنے سب لوگ انوشے کی بات سن کر حیرت اور خوشی کے ملے جلے جزبات لیے ایسے دیکھ رہے تھے جب بہرام شاہ کی آواز آٸی
انوشے بچہ امتثال شاہ بھی ہمارے گھر کا بچہ ہے پر حسالہ کی بھی میری پوتی ہے مجھ سے زیادہ اس فیصلے کا حق ابرار شاہ کو ہے کیوں کے وہ اتنے سالوں سے ہم سے الگ رہیں ہیں ان کا نظریہ الگ بھی ہو سکتا اور یہ بھی ہو سکتا حسالہ بیٹی کی بات وہی شہر میں نہ طے کر رکھی ہو بہرام شاہ کی بات سے سب لوگ متفیق ہوتے
ابرار شاہ انوشے کو بولتے مجھے خوشی ہوٸی میرے ماضی کی غلطیوں کو درگزر کر کے آپ نے میری بیٹی کے سوچا ایک باپ ہونے کے ناطے میرا فرض ہے میں اپنی بیٹی کو خوش دیکھوں میں اپنا کوٸی بھی فیصلہ زبردستی اپنی بیٹی پر تھوپنا نہی چاہتا میری بیٹی ساری زندگی پہلے ماں کے پیار کو ترسی ہے میں حسالہ سے پوچھ کر ہی کوٸی جواب دوں گا
جی بھاٸی سا آپ کا ڈر اپنی جگہ صیح ہے پر میں اس بات کی زمیداری خود لیتی حسالہ بیٹی کو میں ہر خوشی دوں کی اور مجھے یکین ہے امتثال شاھ ایک اچھا ہمسفر ثابت ہو گا پر پھر بھی آپ اپنی بیٹی سے پوچھ لے ایک بار وہی ہو گا جو حسالہ چاہتی انوشے کی بات سن کر ابرار شاہ ہاں میں سر ہلاتا اور اٹھ کر حسالہ کے روم کی طرف بڑھ جاتا
حسالہ کو انوشے شاہ کے آنے کے بارے امتثال شاہ پہلے ہی انفارم کر چکا تھا اس لیے وہ کمرے سے ہی نہی نکلی تھی شرم و حیا کے مارے ابھی بھی وہ بیڈ پر بیٹھی اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھ رہی تھی جب ابرار شاہ اندر آۓ حسالہ ان کو دیکھتی اٹھ کھڑی ہوٸی ارے بابا آپ ہاں مجھے اپنی بیٹی سے بات کرنی تھی جی بابا بولیں وہ ان کو بیڈ پر بیٹھاتی خود بھی ساتھ بیٹھ گی
حسالہ بیٹا میری بات غور سے سننا اور سوچ سمجھ کر مجھے جواب دینا جی بابا بولیں ایسی بھی کیا بات ہے
بیٹا نچے آپکی انوشے پھوپھو آٸی ہیں وہ امتثال بیٹے کا آپ کے لیے رشتہ لاٸیں ہیں مجھے تو اتنے مہنیوں میں امتثال شاہ میں کچھ غلط نظر نہی آیا پر پھر بھی میں آپ سے رضا مندی لینا چاہتا آپ جو بولوں گی میں مان لوں گا
بابا جیسے آپ کو مناسب لگے مجھے آپ کا ہر فیصلہ قبول ہے وہ سر جھکا کر ہاں کرتی جیتا رہے میرا بچہ اللّہ میرے بچے کے نصیب اچھے کریں اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر باہر نکل جاتا پیچھے کی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر گال پر جزب ہو جاتا
_________________
تھوڑی دیر بعد ابرار شاہ نے اکر انوشے اور وہاب کو رشتے کی رضامندی دے دی تھی انوشے تو خوشی سے چہک اٹھی تھی وہ اپنے ساتھ لاٸی مٹھاٸی سے سب گھر والوں کا منہ میٹھا کرواتی اور سب ایسے مبارک بعد دینے لگ جاتے بشک کچھ ہی مہنیوں میں حسالہ بھی سب کو باطشہ کی طرح عیزیز ہو چکی تھی
باطشہ تو بھاگ کر حسالہ کے کمرے میں جاتی اور ایسے مبارک باد دیتی بدلے میں حسالہ تو شرما ہی جاتی جیسے دیکھ باطشہ اس کا خوب ریکارڑ لگاتی دونوں کافی دیر ایک دوسرے سے مزاق کرتی رہتی پھر باطشہ اٹھ کر اپنے روم کی جانب جاتی کیوں کے ابان شاہ کے آنے کا ٹاٸم تھا
روم میں آکر وہ ابان شاہ کے کپڑے نکال کر بیڈ پر رکھتی اور دوبارہ نچے جاتی کیوں کے انوشے شاہ اور وہاب شاہ کو رات کا کھانا کھانے کا بول چکے تھے اس لیے وہ تای کی مدد کروانے کچن میں بڑھ جاتی
کھانے سے فارغ ہو کر وہ لوگ شاہ منشن کے لیے نکل چکے تھے امتثال شاہ کتنی بار کالز کر چکاتھا پر ایسے ستانے کے لیے ان لوگوں نے کال نہی اٹھاٸی تھی وہاب شاہ جانتے تھے وہ سامنے ہی ان کا انتظار کر رہا ہو گا اور ایسا ہی تھا جب وہ گھر پہنچے گاڑی کے ہارن کی آواز سن کر امتثال شاہ بھی لاونج میں آچکے تھے جیسے وہ لاونج میں آۓ
کیا ہوا موم ماموں سا نے کیا بولا اس کے بے تابی سے پھر پور آواز سننے کو ملی انوشے شاہ سامنے رکھے صوفے پر بیٹھ کر امتثال شاہ کو ہاں کی خبر سنا چکی تھی جسے سن امتثال شاہ تو خوشی سے جھوم اٹھا تھا تھنکس موم مجھے اتنی بڑی خوشی دینے کے لیے وہ مام کی پیشانی چوم کر ابنے کمرے جاتا تاکے حسالہ کو مبارک بعد دے سکے
________________
ابان شاہ حویلی واپس آیا تو سیدھا کمرے میں چلا گیا رات کافی ہو چکی تھی آج دوستوں نے شادی کی دعوت مانگی تھی تو ان کے ساتھ کافی لیٹ ہو گیا وہ جلدی جلدی سڑھیاں چڑھ رہا تھا جب پانی کا جگہ پکڑے باطشہ کمرے سے نکلتی دونوں کا زبردست تصام ہوتا اور جگ باطشہ کے ہاتھ سے چھوٹ جاتا اور سیدھا فرش پر گر کر کرچیوں میں منتقل ہو جاتا
اور کچھ کانچ کے ٹکڑے باطشہ کے پاوں پر لگتے جس سے اس کے پاوں سے خون نکلنا شروع ہو جاتا وہ سسکاری لیتی اپنی چیخ کا گلا گھونٹ لیتی وہ اس سنگ دل کے سامنے رونا نہی چاہتی تھی ابان شاہ جو غصہ سے پہلے باطشہ کو پر زمین پر گرے کانچ کو دیکھتا اور بولتا دیکھ کر نہی چل سکتی ہو ہر وقعت بندروں کی طرح اچھلتی رہتی ہو یہاں وہاں ایک انساں باہر سے تھکا ہارا گھر آتا اور آتے سامنے تھماری نوٹنکی شروع ہو جاتی
اس کی نظر ابھی باطشہ کے پاوں پر نہی پڑھی تھی جس سے خون نکل کر فرش پر پھیل رہا تھا وہ بنا چپل پہنے ہی نکل آٸی تھی اس لیے ننگے پاوں زخمی کروا لیے تھے اچانک ابان شاہ کی نظر نچے زمین پر پڑھتی تو باطشہ کے پاوں خون سے لال سرخ ہوۓ پڑے نظر آتے وہ جلدی سے اگے بڑھ کر اسے گود میں اٹھا کر روم کے اندر لاتا وہ جواس کی ڈانٹ سن رہی ہوتی اچانک اس یوں ابان شاہ کے اٹھانے پر کچھ بول نہی پاتی
ابان شاہ کے سینے میں منہ دیے وہ بے آواز روۓ جا رہی تھی وہ ایسے لا کر صوفے پر بیٹھاتا اور بیڈ کی دراز سے فرسٹ ایڈ باکس نکال کر لیتا پہلے وہ روٸی کے ساتھ سارا خون صاف کرتا ساتھ ساتھ منہ سے پھونک بھی مارتا رہتا تاکہ جلن نہ ہو پھر دواٸی لگا کر پٹی کرتا اس بیچ باطشہ یک ٹک اپنا درد بھلاۓ ایسے ہی دیکھتی رہتی ابھی تھوڑی دیر پہلے کیسے لڑ رہا تھا اور اب اتنی فکر وہ بالکل دھوپ چھاٶں جیسا لگ رہا تھا ابان شاہ باطشہ کی نظروں خود پر محسوس کر رہا تھا پر کچھ بولا نہی پٹی کرنے کے بعد اپنے ہاتھ دھو کر آیا اور پھر باطشہ کو گود میں اٹھا کر کے بیڈ پر لا کر لیٹا دیتا اس پر کمبل اوڑھ کر باہر نکل جاتا باطشہ کو ابھی بھی درد ہو رہا تھا پر پہلے سے کم تھا جب وہ دس منٹ بعد ٹرے میں گلاس رکھے دودھ لے کر کے آتا اور بولتی تاشی اٹھو یہ ہلدی والا دودھ پیوں اس سے درد سے راحت ملے گی
مجھے نہی پینا دودھ
میں پوچھا کب میں بول رہا ہوں چلو اٹھو اتنا ٹاٸم نہی کے تھمارے سر پر کھڑا رہوں وہ جو اٹھ کر بیٹھ رہی ہوتی اس کے آخری بولوں پھر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی دودھ پی کر گلاس ساٸیڈ ڈیبل پر لکھ کر لیٹ جاتی
اور ابان شاہ اپنے کپڑے لیے فریش ہونے چلا جاتا اس کے جاتے ہی وہ دبی دبی سیکیوں سے رونے لگ جاتی ہے پھر ....
___________________
ابان شاہ جب باہر نکلتا جب تک باطشہ سو چکی ہوتی وہ ٹاول سے ہاتھ منہ صاف کرتا آٸینے کے سامنے جا کھڑا ہوتا بال بنا کر وہ پرفیوم چھڑکتا خود پر اور پھر ایک نظر باطشہ کو دیکھ جس کی گالوں پر آنسوں کے نشان نظر آرہے تھے وہ لب بھنچتا صوفے پر جا کر لیٹ گیا پر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی
اس نے شادی کی پہلی رات باطشہ کے ساتھ جو کچھ کیا جب غصہ ٹھنڈا ہوا خود کو کافی ملامت کیا مجھے باطشہ کو ایسا نہی بولنا چاھے تھا جو کچھ بھی ہوا اس میں اس کا کیا قصور اس نے سوچ لیا تھا وہ اپنے رشتے کو ایک موقع اوردیں گا اور کوشش کریں گا اس کی وجہ سے اس نازک لڑکی کی آنکھوں سے آنسو نہ لاۓ پر وہ اپنی کی گٸی بات سے ہی مکر گیا تھا شادی کے پہلے جہاں باطشہ ایک نظر اچھی نہی لگتی تھی پر جب سے نکاح ہوا وہ پہلے جیسی نہی لگتی تھی شاہد یہ حلال رشتے کی بدولت ہی تھا کے وہ لڑکی اس کی عادت بنتی جا رہی تھی اور عادت تو محبت سے بھی زیادہ خطر ناک ہوتی
وہ کب سے سونے کی کوشش کر رہا تھا پر نیند نہی آرہی تھی وہ اٹھ کر بالکونی میں آ گیا اور سگریٹ سلگا کر پینے لگ گیا کافی دیر وہی کھڑے رہنے کی وجہ سے جسم ٹھنڈا ہو گیا تھا سردی کی شدت زور پکڑتی جا رہی تھی وہ دوبارہ کمرے میں آ کر لیٹ گیا اور کچھ دیر بعد اخر کار نیند مہربان ہو ہی چکی تھی اس پر.....
______________
#قسط نمبر:20
#
وہ آفس میں بیٹھا اپنے لیب ٹاپ پر مسٹر Jk کی ای میل دیکھ رہا تھا جب اس کے پرنسل نمبر پر کال آٸی وہ ویسے ہی بیٹھا ایک نظر فون کی جانب دیکھتا تو کال اس کے دوست زوایار کی تھی وہ فورن فون کی جانب متوجہ ہوا
ہاں بولوں زوایار سب اوکے ہے نہ
نہی سر کچھ ٹھیک نہی ہے جس یونی میں نے ایڈمشن لیا وہاں
ڈرگز اور لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسا کر ان کو بلیک میل کیا جاتا اور یہ کام ملک شہریار کے بھاٸی کا بیٹا اور اس کی گینگ کر رہی ہے زوایار ساری بات سنا کر اگلے حکم کا انتظار کرتا ہے جب سپیکر سے بھاری رعب دار آواز ابھرتی اوکے تم اپنے ساتھیوں کے ساتھ آج رات ملک کے بھتیجے اور ان کے دوستوں کو اٹھا کر ہمارے خاص اڈے پر چھوڑ آنا اگے کا کام مجھ پر چھوڑ دو اور خیال رہے کام کسی کی بھی نظر میں آۓ بغیر کرنا ہے اوکے سر اور کال کٹ جاتی پیچھے زوایار اپنے باقی ساتھیوں کو فون کر کے بوس کے پلان سے اگاہ کرتا اب ان کو رات کا انتظار تھا کیوں کے ملک کا بھتیجا رات کو اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ کلب میں لازمی جاتا تھا وہی سے اسے اور اس کے دوستوں کو کڈنیپ کرنا تھا ان لوگوں نے ....
_____________________
وہ آج لال ساڑھی پہنے ملک شہریار کے ساتھ پارٹی میں جانے کو تیار تھی ساڑھی پر بلاوز پہنے جس کے بازوں نہ ہونے جیسے تھے سلک کی ساڑھی میں اس کا دلکش سراپا دیکھنے والے کو اپنے طرف متوجہ ہونے پر مجبور کر دیتا تھااس نے 40 سال کی عمر میں بھی خود کواتنا فٹ رکھا ہوا تھا
چلیں وہ آٸینے کے سامنے کھڑی پرفیوم چھڑک رہی تھی جب ملک اندر آیا اور ایسے دیکھتا ہے خباثت سے مسکرانے لگا وہ بھی بدلے میں مسکرانے لگ گی یہ جانے بنا کے یہ اس کی شاہد آخری مسکراہٹ ہو وہ جانتی نہی تھی جس محبت کے لیے اس نے اپنی بیٹی پیار کرنے والا شوہر چھوڑا وہ ہی محبت آج ایسے رسوا کر دے گی
(پر یہ بھی سچ ہے جس مرد یا عورت کو حرام کی لذت پڑ جاتی وہ صیح غلط کی پہچان بھول جاتا ہے ہمارا اسلام ہمیں اسی لیے غیر مرد سے اکیلے میں ملنے سے منع کرتا کیوں کے اکیلا مرد اور عورت فتنہ ہے بشک اپنے نفس پر قابو پانے والا شخص آخرت میں جنت کا حقدار ہے پر لوگوں کو دولت اور گاڑیوں بنگلوں کی حواس میں صیح غلط کی پہچان بھول چکے ہیں)
وہ لوگ پارٹی میں پہنچ چکے تھے مسز انصاری ان کو ویکم کرتی اندر لا جا چکی تھی حنا تو اندر یا چکی تھی پر ملک کسی کو کال کرنے کے لیے باہر ہی روک گیا تھا
ہیلو ہاں میں ایسے لے کر پارٹی میں آچکا ہوں بس تم لوگ میرا اشارہ ملتے ہی اپنے اپنے کام پر لگ جانا اور میرے پیسوں کا انتظام ہوا کے نہی دوسری طرف سے نا جانے کیا کہا گیا ملک قہقہ لگا کر ہنس پڑا اور بولا بہت محنت کی ہے سا+لی پر بہت گھمنڈ ہے اپنی خوبصورتی پر آج اس کا غرور ٹوٹ جاۓ گا بہت پیسہ بہایا ہے آج سود سمیت واپس ملنے والا ہے وہ تو بس پیسوں کے لیے بے تاب تھا...
_____________________
ابان شاہ صبح اٹھا تو دیکھا حسالہ بیڈ پر بیٹھی پاوں پکڑے رو رہی تھی وہ کمبل پھنکتا اس کی جانب آیا اور بولا کیا ہوا صبح صبح کیوں دماغ خراب کررہی وہ روتی نظروں سے اس کی طرف دیکھتی اور بولتی کیا اب روں بھی آپ سے پوچھ کر میری آنکھیں میری مرضی جو مرضی میں کروں یہ بول کر وہ پاوں پکڑ کر پھر سوں سوں کرنے لگ جاتی ابان شاہ اس کے پاوں کی طرف دیکھتا اور دراز سے فرسٹ ایڈباکس کا ڈبہ نکال کر اس کے پاس بیٹھ جاتا وہ جیسے ہی باطشہ کا پاوں پکڑتا وہ اپنی جگہ سن ہو جاتی کسی مرد نے پہلی پر چھوا تھا وہ تو پتھر کی بن گی تھی رات تو درد کی وجہ سے اس کی قربت محسوس ہی نہی کرسکی تھی پر اب شرم سے نظریں جھکالی تھی چہرے پر لال گلنار بکھر چکا تھا جب کے ابان شاہ اس سے بے خبر اپنا کام کر رہا تھا اس نے باطشہ کی پٹی اتار کر زخموں پر مرہم لگا دی تھی کٹ زیادہ گہرےنہی تھے اس لیے اب پٹی کی ضروت نہی تھی وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر اٹھ کھڑا ہوا اور بولا کوٸی کام کرنے کی ضروت نہی آج روم میں رہے کر ریسٹ کرنا اتنا بول کر وہ فریش ہونے چلا گیا آفس کے لیے کافی لیٹ ہو چکا تھا اس کے ساتھ کتنا حسین لگتا بشک کھڑوس ہے پر پھر بھی دل میں بستا ہے اس کا پاس ہونا ہی میرے لیے کافی ہے باطشہ یہ سوچ کر من ہی من مسکرا دیتی ...
________________________
عیشاہ کو اب اس نمبر سے اکثر مسیجز آنے لگ گے تھے صبح کو بھی اور رات کو بھی اب تو بے خبری میں عیشاہ کو بھی ان مسیج کا انتظار رہتا تھا
ابھی بھی وہ نہا کر نکلی تھی گیلے بال پشت پر بیکھرے وہ ششے کے سامنے جاکھڑی ہوتی جب اسکی کال آتی وہ نمبر دیکھتی تو نمبر وہی ہوتا جس سے مسیج آتے وہ کچھ سوچ کر کال یس کرتی تو دوسری طرف سے آواز آتی
شکر ہے ہم غریبوں پر بھی آپ کی کرم نوازی ہوٸی ہماری کال بھی یس ہوٸی بولوں کیوں کال کی ہو کون مجھے کیوں بار بار کال مسیجز کرتے ہو
دیکھوں عیشاہ میں کوٸی آوارہ لڑکا نہی مجھے آپ پہلی نظر میں اچھی لگی تھی میں آپ کو اپنی جیون ساتھی بنانا چاہتا آپ کے گھر اپنے والدین کو بھیجنا چاہتا ہو اور چاہنا غلط تو نہی بس آپکی رضا مندی چاھے مجھے بتاۓ کیا بنے کی میری جیون ساتھی عیشاہ تو اس کے اظہار پر حیران تھی
کیا ہوا مس عیشاہ بول کیوں نہی رہی وہ پھر بولتا تو عیشاہ بولتی دیکھں مسٹر میں کیسے کسی انجان شخص کی بات پر بھروسہ کر لوں اور تمھیں مجھ سے پیارہے پر میں کسے مان لو یہ بات میں تو آج تک دیکھا تک نہی آپکو
تو دیکھ لینا جب راشتہ لے کر آیا اور یقین کرو برا نہی ہو خوبصورت ہوں ہینڈ سم ہو اور سب سے بڑھ کر آپ سے پیار کرتا ہوں عیشاہ کچھ بولے بنا دھڑکتے دل کے ساتھ فون کٹ جاتی
________>_________
کال بند کرتے ہی وہ اپنی حساس خود سمج نہی پا رہی ہوتی اس شخص کی باتیں اپنے سحر میں جھگڑ رہی تھی ایسے اس کا اظہار کرنا ابھی تک کانوں میں گونج رہا تھا وہ آنکھیں بند کر کے لیٹ جاتی
_مجھے اچھی لگی ہو پہلی نظر میں
_دیکھوں عیشاہ میں آوارہ لڑکا نہی
شادی کرنا چاہتا آپ سے
عیشاہ کو ابھی بھی اس کا اظہار کان میں محسوس ہو رہا تھا وہ انجانے میں ہی مسکرا رہی تھی دل کے کسی کونے میں وہ اجنبی جگہ بنا چکا تھا بس احساس ہونا باقی تھا
جب نیند نہ آٸی تو وہ نچے انوشے کے پاس جاتی تاکے کچھ دیر ان کے ساتھ بیٹھ سکے نیند تو اب آنے سے رہی وہ نچے آٸی تو انوشے کی گود میں سر رکھیں امتثال شاہ لیٹا ہوا تھا
جیسے دیکھ وہ تھوڑا حیران بھی ہوتی
واہ جی واہ آج تو بڑا پیار لیا جا رہا ہے وہ امتثال شاہ کو بولتی وہ جو آنکھیں بند کر کے لیٹا ہوا ہوتا آنکھیں کھول کر عیشاہ کی جانب دیکھتا اور بولتا آگٸی چڑیل اب نظر نہ لگا دینا ہمارے
اوے چڑیل کس کوبولا اتنی خوبصورت لڑکی آپکو چڑیل لگتی خود ہی ہو جن نہی جن
انوشے شاہ ان کی بے توکی لڑاٸی دیکھ کر حیران ہو رہی تھی اس سے پہلے کے وہ مزید لڑنے لگتے انوشے عیشاہ کی طرف متوجہ ہوتی اور بولتی لڑنا بعد میں پہلے بھاٸی کو مبارک تو دو رشتہ طے ہو گیا ہے
حسالہ کے ساتھ اس کا سچی کب ہوا اور مجھے اب بتا رہے ہو آپ لوگ وہ ناراض سی ہوتی بولتی ارے بیٹا آج ہی ہوا ابھی تھوڑی دیر پہلے میں اور تھمارے بابا ساٸیں لال حویلی سے ہی واپس آۓ تھے
مبارک ہو بھاٸی حسالہ مجھے بھی بہت پسند ہے وہ کتنی مصوم سی لگتی بس ہاۓ کتنا مزا آۓگا شادی پر وہ تو بس اسی بات سے خوش تھی کے امتثال شاہ کی شادی ہو گی
(بہنیں چاھے لاکھ بھاٸیوں سے لڑتی ہوں پر ان کی خوشی میں ان سے بھی زیادہ خوش ہوتی )
____________________
زوایار اور اس کے ساتھی رات کو ہی افان اور اس کے دوستوں کو کلب سے باہر نکلتے ہی کڈنیپ کر کے اپنے بوس کے اڈے پر لا چکے تھے وہ رات سے بے ہوش ہی تھے ابھی ابھی ان کوہوش آرہی تھی AS کو اطلاع دی گٸی تھی وہ کالا ٹرواٸزر شرٹ پہنے چہرےپر ماکس لگاۓ کمرے میں داخل ہوتا جہاں ان سب کو الگ الگ کرسیوں پر بندھ رکھا تھا
ولی ...یس سر ان پر پانی پھینکوں ہوش میں آۓ یہ لوگ وہ جیسے ہی بولتا ولی پانی سے بھرا جگ لا کر افان کے اوپر انڈیل دیتا جس سے وہ ہوش میں آنے لگتا تھوڑی دیر بعد وہ مکمل ہوش میں آ جاتا جیسے ہی وہ آنکھیں کھولتا خود کو کسی انجان جگہ پر پاہ کر پہلے تو ڈر جاتا مگر پھر بولتا کون ہو تم لوگ اور کیوں مجھے یہاں لاۓ ہو جانتے نہی ہو کون ہوں میں
بہت اچھے سے جانتے کون ہو تم اور جس کے دم پر اچھل رہے ہو نہ چونٹی کی طرح منٹ سے پہلے مسلا جاۓ گا وہ تیرا چاچو ملک شہریار
افان ماکس پہنے شخص کی بات سن کر ڈرکے مارے چب ہو جاتا
بی .ایس اگے بڑھ کر اس کے منہ پر مکوں اور گھونسوں کی اچھی خاصی بارش کرتا وہ لڑکھڑا کر زمین پر جا گرتا کرسی سمایت اس کا جبڑا ٹوٹ جاتا
گارڈ جلدی سے ایسے کھڑا کرتا اور بی ..ایس بولتا جو پوچھو کا سچ بولنا اور اگر جھوٹ بولا تو تیری لاش کے ٹکرے ٹکرے کر کے چیل کوٶں کو ڈال دوں گا پھر تیرا وہ چاچا کیا کریں گا
افان کا تو جبڑا ہی ٹوٹ گیا تھا ساری اکڑ پل بھر میں اڑن چھو ہو گی تھی
تو بولوں ڈرگز سپلاٸی میں یونی میں اور کون کون تھمارے ساتھ ہے اور کب سے یہ دھندا شروع کر رکھا مجھے سچ سننا ہے یہ یاد رکھنا
افان کے ساتھیوں کی بھی دھلاٸی شروع ہو چکی تھی اب سچ کے علاوہ کچھ نہی بچا تھا.....
_______________
دوسال سے یہ کام جاری ہے اور یونی کے پروفیسر کے انڈر کام ہوتا وہ بھی اس کام میں برابر کے ملوث ہے ہم لڑکیوں کے ساتھ دوستی کا ناٹک کر کے آہستہ آہستہ ان کو ڈرگز کی طرف لاتے اور جب وہ ممکل عادی ہو جاتی
تو ان کو دھندے پر لگا دیتے ہیں لڑکیاں ڈرگز کے لیے غلط کام کرنے لگ جاتیں پھر ہم ان کے وڈیوز بنا کر بعد میں ان کو blackmail کرتے ہیں اتنا بول کر افان چپ ہو گیا
اچھا تو یہ بتاٶ یہ جو اب لڑکیوں کی باہر کے ممالک میں ڈیل ہوگی وہ کب ہے اور کس جگہ پر ہے بی .ایس کے پوچھنے پر افان اس کی طرف دیکھتا پر اس کی غصے اور وحشت سے بھری آنکھیں دیکھ کر حلق تر کرتا اور بولتا
آج سے چار دن بعد ڈیل ہو گی ڈیل فاٸنل انصاری کے کلب ہو گی جب کے لڑکیاں ملک شہریار کے بنگلے میں بنے طے خانے میں رکھی گٸی ہیں
ولی ان کا کام تمام کر کے لاشیں سڑک کنارے پھنک دینا اتنا بول وہ اپنا ماکس درست کرتا کمرے سے نکل گیا پیچھے افان روتا بلکتا معافیاں مانگتا رہا پر سننا کس نے........
________________
کسی لگی آج کی قسط لازمی بتانا سب ☺