Akhri Ishq Novel by Ayesha Ali - Episode 15 and 16 - urdu novels pdf download

ناول: #آخری- عشق🍂

راٹیر: #عاٸشہ -علی

قسط نمبر:#__16--- 15


#سٹوری:حویلی بیسڈ ایج ڈیفرنس بیسڈ آفٹر میرج لو  روڈ ہیرو، بیسڈ رومانٹک

🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋

_________________________


ابان شاہ اور ابرار شاہ کو USA آۓ ہوۓ تین ہفتے گزر چکے تھے ان تین ہفتوں میں ابرار شاہ کے ہر طرح سے ٹیسٹ ہو چکے تھے جن کی ریپوٹس پوزٹیو آٸی تھی جو کے خوش کن بات تھی ڈاکٹر جیک کا کہنا تھا کے ریپوٹس کا نارمل ہونا اس لیے لیے بھی اچھا ہے کے آپرشن جلد ہو سکے گا اس طرح ان کو یہاں کم عرصہ قیام کرنا پڑے گا جو کے ابان شاہ کے لیے فاٸدے مند تھے پاکستان میں اس کے کافی کام پیڈنگ پڑے ہوۓ تھے 


آپرشن اگلے ہفتے تک تھا اس لیے ابھی وہ فلیٹ میں رہاٸش پزیر تھے وہ ڈاکٹر جیک نے ہی ان کو دے رکھا تھا 

ابرار شاہ ابھی ابھی حسالہ سے وڈیو کال پے بات کر کے فری ہوۓ تھے حسالہ کافی فکر مند تھی باپ کو لے کر پر ابرار شاہ کے تسلی دینے پر وہ کچھ بہتر ہوٸی تھی ابرار شاہ نے ایسے پڑھاٸی پر توجہ دینے کا کہا تھا کیوں کے ان کے ساتھ ابان شاہ تھے جو ان کا اچھے سے خیال رکھ رہے تھے اور پھر کچھ دنوں تک وہ بغیر سہارے کے بھی چلنا شروع ہو ہی جاتے ڈاکٹروں نے کافی امید دلاٸی تھی ان کو ...


_________________


عیشاہ اپنے روم میں سو رہی تھی جب اس کے فون پر کال آنے لگ گی تھی پہلے تو وہ ڈھیٹ پڑی سو رہی پر فون کرنے والا وہ کوٸی ڈھیٹ بندہ تھا بل آخر فون کان کو لگا کر بولنا ہی پڑا 


کیا موت آ گی جو دوسروں کو بلا وجہ تنگ کیا جا رہا ہے کیا تھمارے گھر ماں بہن نہی ہے وہ نان سٹاپ شروع ہو چکی تھی 


محترمہ ماں بہن تو ہے پر بیوی کی کمی ہے آخر آپ کی رضا مندی ہو تو وہ بھی پوری ہو سکتی سامنے والا بھی بڑا بے شرم انسان تھا عیشاہ فون کان سے ہٹا کر گھورنے لگی جیسے وہ سامنے ہی ہو 

او مسٹر کون ہو تم اور کیوں پیچھے پڑے ہو ہاتھ دھو کر میرے دیکھو میں کوٸی ایسی ویسی لڑکی نہی اس لیے اپنا فلرٹ کسی اور پر جھاڑرو جا کر 


میں ہاتھ کے ساتھ ساتھ منہ بھی دھو کر پیچھے ہو آپ کے اور مجھے فلرٹی کہا کر میری پاکیزہ محبت کی توہن نہی کرو 


فلحال میں یہ کہنے کے لیے فون کیا نچے گیٹ کے پاس جاۓ آپ کو تازہ پھول پیش کیے ہمیں امید ہے ان کی خوشبو سے آپ کو اچھا فیل ہو گا عیشاہ اس کی بات سن کر کھڑکی سے نچے لان میں دیکھتی جہاں گارڈ پھول کا گلدستہ لیے اندر کی اور بڑھ رہا ہوتا اس سے پہلے کے وہ پھول کسی اور کے ہاتھ لگتے عیشاہ بھاگ کر نچے جاتی اور پھولوں کا گلدستہ پکڑ کر جلدی سے روم میں لے جاتی وہ سرخ گلاب کے پھولوں سے بنا گلدستہ تھا عیشاہ نے آنکھیں بند کر کے ان کی خوشبو اپنے اندر اتارٸی 


ابھی وہ پھول ہاتھ میں لیے کھڑی تھی جب مسیج کی ببپ ہوٸی اس نے مسیج کھول کر دیکھا تو لکھا تھا 


امید ہے میرے پھول  کو میرا یہ سرخ پھولوں کا چھوٹا سے تحفہ پسند آیا ہو گا 😍😍


عیشاہ بنا جواب دے فون رکھ کر ایک بار پھر خوشبو سونگ کر فریش ہونے واشروم چلی جاتی ہے .....


____________________


عیشاہ فریش ہو کر نکلتی آٸینے کے سامنے کھڑی ہوکر بال بناتی پھر کاجل لگاتی کاجل لگانے  کے بعد ہونٹوں پر لیپ بام لگا کر ڈوپٹہ اچھے سے سر پر اوڑھ کر کمرے  سے باہر جانے لگتی پر پھولوں کا وہ خوبصورت گلدستہ ایسے اپنی جانب متوجہ کر لیتا وہ گلدستے سے سارے پھول نکال کر بیڈ کی ساٸیڈ پر پڑے گلدان میں سجاتی اور سوچتی کون ہے یہ اجنبی جو کبھی اس کی خوبصورتی کی تعریف کرتا تو کبھی اس کو بلا وجہ فون کر کے تنگ کرتا آج تو گھر تک پہنچ گیا ہے وہ انہی سوچوں میں ہوتی جب ملازمہ ایسے انوشے بیگم کا پیغام دیتی وہ اچھا بول کر گلدان کو اچھے سے سجا کر نچے کی اور بڑھ جاتی جہاں انوشے بیگم ملازمہ کو رات کے کھانے کی ہدایت دے رہی تھی 


اسلام و علیکم اماں ساٸیں 


وعلیکم سلام کہاں بزی ہو عیشو دوپہر کا کھانا بھی نہی کھایا اب بھی نچے نہی آ رہی تھی سب خریت ہے طبیت صیح میرے بچے کی انوشے بیگم پیار سے اس کے گال چھوتی اور عیشاہ مسکرا دیتی اور بولتی 


اماں ساٸیں میں بالکل ٹھیک ہوں میں سوٸی ہوٸی تھی تو آنکھ ابھی کھولی اور دوپہر میں بھوک نہی تھی اس لیے نچے نہی آٸی تھی آپ سناۓ آپ ٹھیک ہے اور بابا ساٸیں کدھر ہیں میں کل سے آٸی وہ نظر نہی


آرہے تھمارے بابا ساٸیں شہر سے باہر گے ہیں آج لوٹ آۓ گے ..


__________________

حیا بیگم کی طبیت کچھ ٹھیک نہی تھی اس لیے اسرار شاہ ایسے اپنے ساتھ لیے ڈاکٹر کے ہاں گے ہوۓ تھے امینہ بیگم خود ہے کھانے پکانے کا انتظام کر رہی تھی ابھی بھی وہ دوپہر کا کھانا تیار کر رہی تھی جب باطشہ نہا دھو کر ہلکا سے تیار ہوٸی کچن کی جانب آتی اور ماں کو اکیلا کام کرتے دیکھ بولتی اماں ساٸیں تاٸی جان کدھر آج بس آپ اکیلی کام کررہی 

ہاں وہ تھماری تاٸی کی طبیت خراب ہے تو اسرار بھاٸی بھابھی کو ڈاکٹر کے پاس لے کر گے 

اچھا اچھا باطشہ بولتی اور پھر ماں کے پاس آ کر کھڑی ہو جاتی یہاں امینہ بیگم بھنڈی فراٸی کر رہی ہوتی توباطشہ بولتی 


اماں ساٸیں کوٸی کام کرنے والا ہے تو بتاۓ میں ابھی کر دیتی 

کام تو کوٸی نہی ہے تقربن سب کھانا تیار ہے تم شمو (ملازمہ) کے ساتھ مل کر کھانے کا ڈیبل سیٹ کرو باطشہ ٹھیک ہے بول کر ڈیبل سیٹ کرنے چلی جاتی پیچھے امینہ بیگم جلدی جلدی روٹی بنانے لگ جاتی ہے 


حیا بیگم کچھ دیر پہلے ہی ڈاکٹر کے ہاں سے واپس آٸی تھی  


BP لو ہونے کی وجہ سے طبیت خراب ہو چکی تھی ڈاکٹر نے دواٸی دی تھی اور کچھ ہلکا پھلکا کھانے کو بولا تھا 


تبھی باطشہ ان کے لیے ہلکا سے نمک مرچ ڈال کر سوپ بنا کر لاٸی تھی کمرے میں آنے سے پہلے وہ نوک کرتی اور اجازت ملنے پر وہ اندر چلی جاتی 


باطشہ کو اندر آتے دیکھ کر حیا بیگم مسکراتی ہوٸی اٹھ کر بیٹھ جاتی 


تاٸی جی ہم آپ کے لیے سبزیوں کا سوپ بنا کر لاۓ ہیں گرما گرم چلیں جلدی پی لے پھر ہم آپ کو دواٸی کھلا کر ہی یہاں سے جاٸیں گے بیٹا ابھی دل نہی  ہے کچھ کھانے کو 


تو ہم کب کھانے کا بول رہے ہم تو پینے کا بول رہے چلیں جلدی 


آں کریں وہ سوپ کا باول پکڑے ایک ہاتھ سے اور دوسرے ہاتھ سے چمچ میں سوپ ڈال کر حیا بیگم کے منہ کے قریب لاتی اور مجبورن سوپ پینا ہی پڑتا سوپ پلا کر دواٸی کھلا کر وہ ان کو آرام کرنے کا بول کر کمرے سے نکل جاتی پیچھے حیا بیگم دواٸی کے زیر اثر پر سکون ہو کر کچھ دیر بعد سو جاتی ہے ....


__________________


امثتال شاہ کو آفس جاتے ایک ماہ سے زیادہ کا ہر عرصہ ہو چکا تھا اس ایک ماہ میں اس نے آفس کا تقربن سارا کام سمج لیا تھا اس لیے آج لاشعاری انڈسٹری کے ساتھ جو میٹنگ تھی وہ وہاب شاہ نے امتثال شاہ کے ساتھ رکھواٸی تھی تاکے وہ جان سکے یہ کام کو لے کر کس حد تک سریس ھے 


میٹنگ بہت کامیاب رہی تھی ٹینڈر ان کو مل چکا تھا اور جو تھوڑا بہت وہاب شاہ کو شک تھا وہ بھی ختم ہو چکا تھا اب وہ پر سکون تھے کے چلو ان کا کام باٹنے کو امتثال شاھ تھا اب 


امتثال شاہ ابھی ابھی میٹنگ سے واپس اپنے آفس آیا تھا اس کے آتے ہی اس کی پرسنل سیکڑیری اس کے لیے کافی کا گرم گرم  مگ لیے ہاظر ہوتی 


سر آپکی کوفی 


شکریہ رابی مجھے سچی اس کی کافی طلب ہو رہی تھی وہ مسکرا کر باہر چلی جاتی پیچھے وہ سیدھا ہو کر کافی پینے لگ جاتا بیشک رابی کے ہاتھوں سے بنی کوفی کا ذاہقہ بہت لا جواب تھا ابھی وہ کافی پی رہا ہوتا کے فون پر کال آنا شروع ہوجاتی وہ کال سنتا اور سامنے والے کی بات سن کر کافی بیچ میں چھوڑے کوٹ اٹھاۓ آفس سے نکل جاتا 


وہ مطلوبہ جگہ پر پہنچ کر گاڑی سے اپنی بھر پور وجاہت سے اترتا جو بھی اس خوصورت شخص کو دیکھتا تھا تو دوسری نظر ضرور دیکھتا تھا پر وہ جس کام کے لیے آیا تھا ایسے صرف اپنے اس کام سے مطلب تھا .....


____________________


حسالہ کا کالج میں آخری سال تھا اس لیے وہ دل لگا کر پڑھاٸی کر رہی تھی کیوں کے اس کا خواب آرمی فورس جواٸن کرنے کا تھا جو اب اس کا جنوں بنتا جا رہا تھا کچھ دنوں بعد اس کے پیپر شروع تھے جس کی اس نے کافی تیاری کر رکھی تھی آج بھی وہ زاہشہ کے ساتھ چھٹی کے وقعت کچھ چیزیں لینے پاس کے بازار میں گٸی تھی 

ابھی وہ چیزیں لے ہی رہی تھی جب ایسے لگا کوٸی ان کو دیکھ رہا ہے اس نے آس پاس دیکھا پر کوٸی نہی تھا وہ اپنا وہم سمجتی سر جھٹک کر دوبارہ چیزوں کی طرف متوجہ ہو گی 


کچھ دیر بعد وہ ساری چیزیں لے کر واپسی کے لیے چل پڑی ابھی وہ بازار سے نکل کر کالج کی طرف جا رہی تھی کے ان کے سامنے ایک گاڑی آ کر روکی زاہشہ اور حسالہ ڈر کے مارے پیلی پڑتی جا رہی تھی جب گاڑی سے امتثال شاہ نکل کر ان کے سامنے  آیا اور اپنا چشمہ اتار کر ان کو گھورنے لگا تھا 


حسالہ تو امتثال شاہ دیکھ کر پرسکون ہو چکی تھی پر زاہشہ ابھی بھی خوف کے زیر اثر تھی جب وہ حسالہ سے مخطب ہوا 


حسالہ چلو بیٹھو حویلی چھوڑ دیتا ہوں اور مجھے تم سے کچھ بات بھی کرنی ہے وہ حسالہ کوبول کر واپس گاڑی میں جا کر بیٹھ چکا تھا  حسالہ جانے نا جانے کی کشمکش میں وہی کھڑی تھی جب  زاہشہ نے پوچھا حسالہ یہ ہینڈسم لڑکا کون ہے 


میرا کزن ہے پھوپھو کا بیٹا حسالہ یہ بول کر امتثال شاہ کی طرف مڑ جاتی جب کے زاہشہ تو اس خوبصورت شہزادے کو ہی دیکھتی جا رہی تھی پر اس نے تو اس کی طرف ایک نظر ڈالنا بھی ضروری نہی سمجا تھا ....


___________________


آخر وہ دن بھی آ ہی گیا تھا جس دن کا لال حویلی والوں کو بڑی شدت سے انتظار تھا 


آج برار شاہ کی ٹانگوں کا آپریشن تھا جس کے کامیاب ہوتے ہی وہ دوبارہ سے اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکے گا ابان شاہ نے حویلی فون کر کے سب کو دعا کرنے کا کہا تھا حسالہ تو تب سے ہی اللّہ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھاۓ دعا گو تھی باقی سب بھی ابرار شاہ کے لیے دعاٸیں کر رہیں تھے 

حسالہ نے نفل پڑھنے کے بعد دعا کے لیے ہاتھ اٹھاۓ تو آنسوں خود ہی لڑیوں کی طرح گالوں پر بہے رہے تھے وہ دعا میں اپنے بابا کی آپریشن کی کامیابی کی دعاٸیں کر رہی تھی اور دوسرے جانب ابرار شاہ کو آپریشن کے لیے اندر لے جا چکے تھے ابان شاہ وہی باہر آپریشن تھیٹر کے سامنے چکر لگا رہا تھا پریشانی تو اپنی جگہ تھی پر وہ اللّہ کی طرف بھی پر امید تھا جس نے جہاں تک راستے صاف کیے وہ اگے بھی بہتر کریں گا بشک وہ اپنے بندوں کو تکلیف دیں کر آزماتا ہے 

کوٸی تکلیف سہے کر اللّہ کے نزدیک ہو جاتا تو کوٸی پھر بھی سبق حاصل نہی کرتا بشک فاٸدے میں وہی رہتا جیسے اللّہ نے موقع دیا ہو اور اس نے اس سے فاٸدا اٹھایا ہو 


چار گھنٹے گزر چکے تھے ڈاکٹر کو اندر گے پر ابھی کچھ خبر نہی تھی ابان شاہ وہی رکھے صوفے پر بیٹھا دادا ساٸیں سے بات کر رہا تھا نرسیں کبھی اندر تو کبھی باہر بھاگتی پھر رہی تھی 

وہی حویلی میں حسالہ رو رو کر اللّہ کی بارگاہ میں اپنے جان سے پیارے بابا کے لیے ہاتھ پھیلاۓ بیٹھی تھی  وہ جس نے مشکل گھڑی میں اپنے رب کو پکارہ وہ وہ بھلا اپنے بندے کی پکار کو کیسے رد کر سکتا 

بشک ہمارا رب ستر ماٶں سے بھی زیادہ پیار کرنے والا ہے اس نے اپنی اس بندی کی پکار بھی سن لی تھی جو بہت جلدی کن میں بدلنے والی تھی ......


#قسط نمبر:16


 

ابان شاہ کب سے آپریشن تھیٹر کے سامنے کھڑا تھا ابھی تک کوٸی خبر نہی ملی تھی ایسے پاکستان سے سب کے بار بار فون آ رہے تھے ابھی بھی وہ بہرام شاہ سے بات کر کر فری ہوا تھا کے اندر سے ڈاکٹر کو نکلتے دیکھا تو تیزی سے ڈاکٹر کی جانب آیا 


مبارک ہو مسٹر شاہ 

آپریشن کامیاب ہوا  کچھ دیر تک ابرار شاہ کو روم میں شفٹ کر دیں گے تب آپ ان سے مل سکتے پر ایک چیز کا دھیان رکھیے گا کے ابھی کچھ دنوں تک وہ بغیر سہارے کا نے چلے اور وہ ہفتوں کے بعد ان کو آہستہ آہستہ قدم خود بڑھانے دیجیے گا 


اوکے تھنکس ڈاکٹر جیک ابان شاہ بولتا اور ڈاکٹر مسکرا کر اپنے کیبن کی طرف چلا جاتا جبک ابان شاہ فون نکال کر واپس گھر کال ملا لیتا 


ایک گھنٹے بعد ابرار شاہ کو روم میں شفٹ کر دیا جاتا ہے اور اس وقعت ابان شاہ ان کے پاس بیٹھے ہوۓ تھے ابان شاہ ڈاکٹر کی جاری کر دہ ہدایت ابرار شاہ کو بتاتا اور ابرار شاہ پوچھتے ہیں کے ہم واپس کب تک پاکستان جاۓ گے 


بس چاچو کچھ دنوں تک چلیں گے ابھی آپ ممکل صحت یاب نہی ہوۓ اور اگر جلدی چلے جاتے تو یہ نہ ہو مذید کچھ مسلے بنے ابھی تو آپکا علاج چل رہا  پھر وہاں سے دوبارہ یہاں آنا مشکل ہے ابھی تو ہم لوگ یہی ہے تو کیوں نہ ااطمنان کر کے ہے واپس لوٹے ابرار شاہ ہاں میں سر ہلاں ہلاتا اور آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرتا


_______________


حسالہ کا آج آخری پیپر تھا وہ پیپر دیں کر جیسے ہے باہر نکلی سامنے گاڑی کی  بونٹ پر ٹیک لگاۓ کھڑا تھا جیسے کب سے کسی کاانتظار کر رہا ہو 


وہ حسالہ کو باہر نکلتے دیکھ اس کے اور بڑھتا اور ایسے اپنے ساتھ آنے کا بولتا جیسےدیکھ حسالہ کو انجان سی خوشے محسوس ہوتی ہے اور وہ بنا بولے گاڑی میں جا گر بیٹھ  جاتی 


اس کے بیٹھتے ہی وہ گاڑی ظن س بھگا کر لے جاتا ہے گاڑی دس منٹ بعد ایک ہوٹل کے سامنے روکتی وہ ایسے اپنے ساتھ لیے ہوٹل کی طرف بڑھ جاتا 


ہوٹل میں آ کر وہ آڈر کرتا وہ کھانے کا ویٹ کرنےلگ جاتا حسالہ تو بس اس کی منمانیاں دیکھتی رہتی اور پھر پوچھتی آپ مجھے کیوں کالج سے لینے آۓ ڈراٸیور لینے آنے والا تھا مجھے کیوں سب کے سامنے شرمندہ کروانے چاھتے آپ 

دادا ساٸیں کو پتہ چلا تو وہ کیا سوچے گے ہمارے بارے آپ کو یہ سب نہی کرنا چاھے تھا 


دیکھو حسالہ حویلی میں میرا اتنا آنا جانا نہی ہے فون نمبر تھمارا میرے پاس نہی ھے تو کیسے بات کرتا میں مجھے بات کرنی تھی اس لیے آیا 


اچھا بولوں کیا بات کرنی وہ منہ بنا کر بولتی تو امتثال شاہ کہتا میرے اس دن کے اظہار کا جواب چاھے مجھے حسالہ جس چیز سے بچتی آرہی تھی آ،خر وہ ہی ہوا 


میں،،،،میں کیا جواب دوں وہ اٹک کر بولتی پوچھتی تو جوابا امتثال شاہ مسکراتا اور بولتا اتنی مشکل بات تو نہی جو ابھی تک تم کچھ سوچ نہی سکی 


امتثال آپ بہت اچھے ہیں کوٸی اچھی لڑکی آپ کے نصیب میں اللّہ نے لکھی ہو گی جو آپ کو بہت پیار دیں گی وہ امتثال شاہ کے بدلتے تاثرات دیکھے بنا بولتی جا رہی تھی 


میں محبت کے معاملے میں بہت بد نصیب ہوں مجھے تو ماں کی محبت نہ کبھی مل سکی جس کی چاہ میں نے بچپن سے لے کر جوانی تک کی میں آ۔۔۔۔۔


بس حسالہ شاہ بس کریں کس نے بولا آپ بدنصیب ہے نصیب لکھنے والا اللّہ ہے وہ ہمارا نصیب بدل بھی سکتا اور میں کوٸی اچھا نہی ہوں دنیا جہاں کی براٸیاں تھی میرے اندر یوں سمج لو گناہوں کی دلدل میں پھنسا ہوا تھا پر جب سے تمھیں دیکھا میری پوری دنیا بدل چکی ہے تھماری محبت سے میرا ہر غلط کام سے اکتا چکا ہے 


مجھے نہی پتہ میں اتنا بے بس کیوں ہو جاتا تھمارے سامنے میں بس اتنا چاہتا میری محبت قبول کر لو میں شادی کرنا چاہتا تم سے حسالہ بدلے میں محبت کی چاھ بھی نہی کرتا بس تم میری ویران دنیا میں آ کر ایسے آباد کر دو اتنا بول کر وہ اس کے سامنے اپنی چوڑی ہتھلی کرتا وہ جو تب سے دم سدھے اس کی باتیں سن رہی تھی وہ ایک دم ہوش میں آتی اور بولتی مجھے نہی پتہ میرا محبت پر یقین کب بحال ہو گا پر یہ بھی سچ ہے بابا نے  کہی تو کسی نہ کسی سے میری شادی کرنی ہی ہے تو وہ کسی آپ کیوں نہی ہو سکتے یہ بول کر وہ اس کی ہتھلی پر اپنا نازک ہاتھ رکھ دیتی جیسے وہ بڑے پیار سے تھام لیتا 


________________

حیا بیگم کی طبیت کل سے بہتر تھی ایسی لیے وہ بجاۓ کمرے میں بیٹھنے کے باہر نکل آٸی تھی ابھی وہ لاونج میں آٸی ہی تھی کے باطشہ کچن سے ناشتے کی ٹرے اٹھاۓ نکل رہی تھی ارے تاٸی جی آپ کیوں باہر آٸی میں ناشتہ لا رہی تھی چلیں اندر  چلیں ابھی آپ کو آرام کی ضرورت ہے ارے نہی تاشی میں اکتا چکی کل سے لیٹ لیٹ کر اب تو کمر میں اکٹر چکی ہے اور میں بالکل ٹھیک ہو 

امینہ کل سے اکیلی سنبھال رہی سب میں تھوڑی مدد کروا دیتی 


ارے نہی بھابھی آپکی لاڈلی بہو نے کل سے میری ساری مدد کروا رہی آپ ریسٹ کریں کام تو ہوتے رہتے اچھا ٹھیک ہے پر مجھے ابھی کمرے میں نہی جانا میں کچھ دیر یہی رہنا چاھتی 

لاو تاشی بیٹا ناشتہ میں یہی کر لیتی جی اچھا تاٸی جی وہ ناشتے کی ٹرے حیا بیگم کے سامنے ششے کے ڈیبل پر رکھتی اور دوبارہ کچن میں چلی جاتی 


وہ ناشتہ کر کے فارغ ہی ہوتی کے اسرار شاہ خوشی سے دمکتے چہرے کے ساتھ کمرے سے باہر آتے اور بولتے مبارک ہو سب کو ابرار شاہ کا آپریشن کامیاب ہوا وہ کچھ دنوں تک واپس اپنے پیروں پر چل کر آۓ گے


سب ایک دوسرے کو خوشی سے مبارک باد دینے لگ گے وہ تھے ہی سب ایسے سب کی خوشی میں خوش ہونے والے پیار محبت میں گوندھے ہوۓ شاہ گھرانا 


حسالہ کہاں ہے ایسے بھی تو خوشخبری دیں باطشہ بولتی اور اوپر اس کے کمرے کی طرف بڑھ جاتی .....


__________________


وہ کمرے کے سامنے کھڑی ہو کر دروازہ نوک کرتی اور حسالہ جو ابھی ابھی قرآن پڑھ کر شلف پر رکھ کر مڑی ہوتی دروازہ نوک ہونے پر جا کر کھولتی تو سامنے باطشہ مسکراتا چہرہ لیے کھڑی ہوتی وہ بھاگ کر حسالہ کے گلے لگ جاتی حسالہ تو اس کو دیکھ کر بوکھلا جاتی جب باطشہ کی آواز آتی حسالہ ابان شاہ نے فون کر کے بتایا تایا جی کی ٹانگوں کا آپریشن کامیاب رہا وہ اب اپنے پیروں پر چل سکتے باطشہ حسالہ کو گول گول گھامتے بتا رہی تھی اور حسالہ تو یہ سن کر اونچی اونچی رونے لگ گی تھی وہ تو یہ آس ہی چھوڑ چکی تھی کے اس کے بابا کبھی چل سکے گے اور آج وہ خبر ملی جیسے سن کر وہ خوشی سے آنسو بہانے لگ چکی تھی باطشہ اس کی حالت سمج چکی تھی تبھی ایسی کندھے سے لگاۓ چپ کروا رہی تھی 

ارے پاگل چپ کر بلکے اللّہ کا شکرا دا کرو جس نے تایا جی کو دوبارہ چلنے پھیرنے کی طاقت دی چلو رونا بند کرو اور نچے چلو ناشتے تیار ہے 


آپی آپ چلیں میں شکرانے کے نفل پڑھ کر آتی باطشہ ہاں میں سر ہلا کر چلی جاتی اور وہ نفل پڑھنے کے لیے کھڑی ہوتی 

  

(ہم انسان اتنی مطلبی ہیں کے اللّہ کی بارگاہ میں جھکتے بھی اپنے مطلب کے لیے ہیں اور جیسے ہمارا مطلب پورا ہوتا ہم اللّہ کو بھول جاتے ہونا تو یہ چاھے جب ہم غم کے موقعے پر اللّہ کی بارگاہ میں حاضری دیتے ویسے ہی خوشی کے موقعے پر بھی اللّہ کا شکرادا کرنا چاھے)


__________________

امتثال شاہ بہت خوش تھا جیسے ایسے جینے کی وجہ مل  گی ہو اور وجہ تو مل ہی گی تھی جیسے چاھ ایسے پاہ لینے کی امید جو مل چکی تھی امتثال شاہ کو اپنی محبت پر یقین تھا کے وہ ایک دن حسالہ کو بھی خود سے محبت کرنے پر مجبور کر دے گا اور جب انسان دل سے نیت کریں اچھی امید رکھیں تو ایسا کیسے ہو سکتا کے کے اس کی امید پوری نہ ہو 


وہ چابی کے چھلے کو انگلی میں گھماتے خوشی خوشی شاہ منشن آیا اور آتے ہی سامنے بیٹھی انوشے شاہ کے گلے لگ چکا تھا انوشے تو اپنے بیٹے کو یوں مسکراتا دیکھ دل ہی دل میں نظر اتارتی اور پھر وجہ پوچھتی خیر تو ہے میرے بیٹے کے چہرے پر خوشی ہی خوشی دیکھ رہی 

موم بات ہی ایسی ہے آپ بھی سنے گی تو خوش  ہو جاٸیں گی اچھا اگر ایسی بات ہے تو بتاٶ مجھے بھی پھر 


موم آپ کے بیٹے کو محبت ہو گی ہے پہلی بار کسی لڑکی نے امتثال شاہ کو زیر کیا ھے 

بس اب آپ اور بابا اس لڑکی کے گھر میرا رشتہ لے کر جانا ہو گا


اچھا پہلے بتاو تو سہی لڑکی ہے کون لڑکی کو موم آپ بہت اچھے سے جانتی ہو کس کی بات کر رہے ہو کس لڑکی کو میں اچھے سے جانتی ہو مجھے تو کچھ سمج نہی آ رہی 


موم میں حسالہ شاہ کی بات کر رہا ابرار ماموں کی بیٹی سچی تم حسالہ کی بات کر رہے ہو انوشے تو خوشی سے چہک اٹھتی وہ ہاں میں سر ہلاتا سچی پوچھوں تو میں بھی اس بارے تم سے بات کرنا چاہتی تھی چلو میری مشکل توں نے خود آسان کر دی بھاٸی صاحب اور ابان شاہ واپس آتے USA سے تو بات کرتی ان سے تھمارے رشتے کی 

تھنکس موم یو آر دی بیسٹ موم اف دو ورلڈ 

اچھا اچھا اب مھکن نہ لگاو


امتثال شاہ کا قہقہ بلند ہوتا ماں کی بات سن کر اور وہ فریش ہونے اوپر کمرے میں چلا جاتا 


____________________

آج USA میں ابان شاہ کا آخری دن تھا آخر دو ماہ بعد ان کی واپسی ہو رہی تھی ابرار شاہ تو کٸی دونوں سے واپسی جانا چاھتے تھے پر ابان شاہ نہی مان رہے تھے کیوں کے ڈاکٹر کا کہنا تھا کے دوہفتوں کے ممکل ریسٹ سے ان کی صحت پر اچھا اثر پڑے کا پہلے کنیسر کا آپریشن ہوا تھا اور اس کے چند ہفتوں بعد ٹانگوں کا آپریشن ہو گیا اس لیے ان کو احتیاط کی سخت ضرورت تھی جو حویلی جا کر ابرار شاہ نے کرنی نہی تھی ایسی لیے سب کچھ یہاں پر ہے کر کرا کر جا رہے تھے رات آٹھ بجے کی ان کی ٹکٹ تھی 


دوسری طرف لال حویلی میں ان دونوں کے ویلکم کی تیاری اچھی خاصی کی جا چکی باطشہ اور  حسالہ نے آج حیا اور امینہ بیگم دونوں کو کچن سے چھٹی کرادی تھی اور خود ہی کچن میں گھسی نا جانے کون کون سی ڈیش تیار کر رہی تھی کیوں کے کسی اور کو کچن میں آنے کی اجازت نہی تھی جب تک سب کچھ تیار نہ ہو جاتا 


بہرام شاہ نے تو صبح ہی ابرار شاہ کا صدقہ دے دیا تھا اور ابرار شاہ کے ٹھیک ہونے کی خوشی میں گاوں کے تمام گھروں میں کھانے پینے کی چیزیں بھیجی تھی سب گاوں والے اپنے رحمدل سردار کے لیےطے دل سے شکر گزار ھے 


ابان شاہ اور ابرار شاہ پاکستان کی سر زمین پر قدم رکھ چکے تھے پاکستان اترتے ہی ان کے دل سکون سے بھر چکے تھے ابرار شاہ نے تو اٸرپورٹ سے نکلتے ہی  اپنے ملک کی ہوا کو سانس کھنچ کر اپنے اندر اتارا تھا شک اپنے ملک جیسے بات پوری دنیا کے کسی ملک میں بھی نہی ھے 


ڈراٸیور پہلے سے ہی گاڑی لے کر انتظار میں کھڑا تھا وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ کر گاوں حویلی کے لیے خیر خریت سے نکل چکے تھے 

حویلی پہنچتے ہی ان کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے سب ابان شاہ تو حویلی آتے ہی سب سے مل کر اپنے کمرے میں فریش ہونے چلا گیا تھا جب کے ابرار شاہ حسالہ کے گرد حصار بنا کر صوفہ پر بیٹھا سب سے باتیں کرنے لگ گیا تھا .......



Post a Comment (0)
Previous Post Next Post