ناول: #جنونِ یار
قسط: 23
از قلم: #امرینےقیس
اٹلی ایئرپورٹ پر اپنے اپنے بیگز کے ساتھ وہ سب گول دائرہ بنائے ارسل کی لائی ہوئی بلی کو بار بار اٹھا کر اس سے بے باک سوال پوچھ کر اس معصوم جانور کا انٹرویو کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ بیچاری معصوم بلی ان کنوارے لوگوں کے ہاتھ لگ کر پھنس چکی تھی۔ اس لئے میاؤں میاؤں کی معصوم آوازیں نکال کر انکو اپنی جان بخشی کا کہنے لگی۔ لیکن دوسری طرف کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔۔
جبکہ ارسل جو یہ فلائٹ خود فلائے کرنے والا تھا۔ وہ اپنے سٹاف کے ساتھ میٹنگ کرنے کی غرض سے ائیرپورٹ کے آفس کی طرف گیا ہوا تھا۔ اس لئے وہ یہاں پر موجود نہیں تھا۔ آج وہ اٹلی کی لاسٹ آفیشلی فلائیٹ کر رہا تھا۔ کیونکہ اسکے بعد ارسل خان نے پاکستان ایئر فورس کو جوائن کر لینا تھا۔
سب کو ایک دوسرے کے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے دیکھ کر غازیان نے اچانک چہرہ اٹھاتے ہوئے نظریں گھما کر کسی کو ڈھونڈنا چاہا تو فارس اور کبیر پر نظر پڑتے ہی اسکے دل میں بے انتہا سکون اترتا چلا گیا۔۔۔
سب کو باتوں میں گم دیکھ کر غازیان پاشا قدم اٹھاتے ہوئے فارس اور کبیر کی جانب بڑھا۔ جو کالز پر نجانے کس کے ساتھ مصروف تھے۔ غازیان سے انکی پشت تھی۔
بھائی۔۔۔! غازیان نے انکے قریب پہنچ کر کبیر کو پکارا۔ تو کبیر نے اپنے نام کی پکار پر مڑتے ہوئے دیکھا۔ فارس بھی اسکے پکارنے پر طرف متوجہ ہو گیا تھا۔۔۔
بھائی آپ دونوں ٹھیک ہیں نا۔۔۔؟ غازیان نے پریشانی سے پچھلے کچھ دنوں والا جملہ ادا کیا۔ اسکے سوال پر فارس اور کبیر ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے غازی کو تاسف سے گھور گئے ۔۔۔
غازی اگر اب تم نے ہم سے یہ سوال کیا تو میں بتا رہا ہوں۔ کہ تم بری طرح پٹنے والے ہو۔۔۔" کبیر اسے گھورنے کی کوشش کرتے ہوئے ڈپٹ کر دھمکی دینے والے انداز میں بولا ۔۔۔ جبکہ فارس کا بھی کچھ ایسا ہی ری ایکشن نظر آ رہا تھا ۔۔
بھائی پلیز بتائیں۔۔! آپ کی طبعیت ٹھیک ہے نا۔۔؟ فارس اور کبیر کی ڈانٹ کا بنا اثر لیے غازی نے دونوں کا ایک ایک ہاتھ تھامتے ہوئے فکر و محبت سے دوبارہ اپنا سوال دہرایا ۔۔۔
یار ہم بالکل ٹھیک ہیں۔۔! اور تم یہ سوال بار بار پوچھ کر ہمیں وہ دمے کے مریضوں والی فیلنگ دیتے ہو۔۔! جن کی ہر وقت سانس اٹکی رہتی ہے۔۔" غازی کی پریشانی برقرار رہنے پر فارس برا مناتے ہوئے ناراضگی سے بول گیا۔۔۔
غازی اس حادثے کو اب ایک مہینہ سے بھی اوپر گزر چکا ہے۔۔! اور ہم دونوں بالکل فٹ فاٹ اور تندرست تمہارے سامنے کھڑے بھی ہیں۔۔" اس لئے اب دوبارہ ہم سے یہ سوال نہیں پوچھنا۔۔! ورنہ مار کھاؤ گئے۔۔" غازی کی سرمئی آنکھوں میں نمی دیکھتے ہوئے کبیر اسے کھینچ کر گلے لگاتے ہوئے ڈانٹتے ہوئے حکم سنا گیا۔۔۔
جبکہ غازی نے شدت سے کبیر کو بھینچتے ہوئے محسوس کرنا چاہا۔ جس پر پاس کھڑا فارس مسکرا اٹھا تھا۔۔
غازی نے جب سے اپنی آنکھوں سے ان کو گولی لگتے ہوئے دیکھی تھی۔ وہ منظر چاہ کر بھی اس سے بھلایا نہیں جا رہا تھا۔ اس لئے انکے ٹھیک ہونے کے بعد بھی وہ اس سارے عرصے میں بار بار فکر مندی سے ان سے پوچھتا رہتا تھا۔ آج ان سب کی پاکستان واپسی تھی۔ جس پر سب ہی بے خوش نظر آ رہے تھے۔ لیکن غازیان بس اپنی بھائیوں کی فکر میں مبتلا تھا۔
بھائی۔۔۔!!! اچانک ارسل کی جھنجھلاہٹ بھری آواز انکے کانوں میں پڑی تو وہ اسکی آواز پر متوجہ ہوتے طرف دیکھنے لگے۔ جو چہرے پر غصہ لیے انہی کی طرف آ رہا تھا ۔۔
کیا ہوا چھوٹے خان ۔۔؟ غصے میں کیوں ہو۔۔؟ فارس نے پریشان ہوتے اسکے غصے کی وجہ پوچھی۔۔۔
بھائی میں بتا رہا ہوں۔۔! کہ ان دو کمینوں کو مجھ سے دور کر لیں ۔۔! ورنہ میں آج انکا قتل کر دوں گا۔۔! ارسل نے انکی جانب آتے ہوئے فاتح اور شہرام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دانت پیسے۔ ایشام اور باسم ہنسی دبا گئے تھے۔ جبکہ باقیوں نے ناسمجھی سے دیکھا تھا۔۔ انکے برعکس فاتح اور شہرام خود میسنے بننے کی کوشش میں تھے ۔
کہا کہہ رہے ہیں یہ اب۔۔۔! شہرام اور فاتح پر نظر ڈال کر کبیر نے استفسار کیا۔۔انداز صاف ایسا تھا۔ جیسے وہ پہلے سے ہی جانتا ہو کہ ضرور انہوں نے کوئی الٹی بکواس کی ہو گی۔ کبیر کے پوچھنے پر ارسل خان تیزی سے دانت پیستے ہوئے زہر بھری نظروں سے انکو دیکھ کر بتانے لگا۔۔
یہ سالے مجھے کہہ رہے ہیں۔ کہ جب میں جہاز اڑاؤں تو انکو بھی ایک دفعہ چلانے کی باری دوں۔۔۔! ارسل خان نے چباتے ہوئے انکے الفاظ دہراتے ہوئے بتایا تو کبیر اور فارس نے اچھبنے سے انکو دیکھا تھا۔
جبکہ اگلے ہی پل نہ چاہتے ہوئے بھی سب کا ہنس ہنس کر برا حال ہونے لگا۔۔۔ ارسل خان ملامتی نظروں سے انکو گھور رہا تھا۔ وہ دونوں میسنے، بے غیرت فضول کی ضد لگائے اسکا جینا حرام کیے ہوئے تھے۔ جیسے جہاز نہ ہو ہوا گدھا گاڑی اڑتی ہو آسمان میں۔۔۔! جو انکو بھی ایک بار چلا کر دیکھنی تھی۔۔۔
بھائی یہ دونوں تھوڑی دیر پہلے اسکے ساتھ یہ بھی ضد کر رہے تھے۔ کہ انکو جہاز میں ونڈو سیٹ چائیے۔ اور جہاز کی ونڈو کھول کر بیٹھنا بھی ہے۔۔۔! باسم نے قہقہ لگاتے ہوئے مزید بتایا تو سب کا پھر قہقہ گونج اٹھا۔۔
شرم کرو کمینوں کیوں جان بوجھ کر اسکا خون جلا رہے ہو۔۔۔! شہرام اور فاتح کو کھسیانی ہنسی ہنستے دیکھ کر فارس نے آنکھوں سے گھورتے ہوئے انکو شرم دلائی۔۔۔
بھائی ہم نے کیا بولا ہے اس چھوٹے خان کو۔۔۔! صرف اتنا ہی تو بول رہے ہیں۔ کہ ایک بار ہمیں جہاز کا اسٹرینگ گھمانے دے اور اپنے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھا لے بس۔۔۔! فاتح نے منہ بسور کر اپنی معصوم خواہشات کا دوبارہ اظہار کیا تو ارسل ضبط کے مارے غصے سے ان پر نظر ڈال کر کبیر اور فارس کو دیکھ گیا۔۔ جیسے کہنا چاہ رہا ہوں۔ کہ سن لیں ان خبیثوں کا فرمائشی پروگرام ۔۔۔
ہاں تو اب یہ پائلٹ بن گیا ہے تو اسکے جہاز چلانے کا ہمیں کوئی تو فائدہ ہونا چاہیے نا۔۔۔" شہرام بھی معصوم لہجے میں فاتح کی تائید کرتے ہوئے اپنے ذاتی ڈرائیور کے فائدے گنواتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
کیوں غصہ کر کے اپنا خون جلا رہے ہو چھوٹے خان۔۔! ان دونوں کی تو بکواس کرنے کی ویسے ہی عادت ہے۔۔۔" فارس نے ارسل خان کے کندھے پر بازو رکھتے ہوئے مسکرا کر اسے ٹھنڈا کرنا چاہا تو وہ نروٹھے پن سے بھائی کے کندھے پر سر رکھ گیا تھا۔۔۔
تم دونوں اب زبان بند کرو اور چلو سب فلائٹ کا ٹائم ہو گیا ہے۔۔! کبیر نے گھڑی پر ٹائم دیکھتے ہوئے ان سب سے کہا تو وہ مستیاں کرتے ہوئے فلائٹ کی جانب بڑھ گئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلیک مینشن کے سب افراد آج اتنے عرصے بعد اپنے بیٹوں کو ریسیو کرنے کے لیے ائیرپورٹ پر کھڑے تھے۔ سب کی بے تاب نظریں ائیرپورٹ سے نکلنے والے مسافروں پر ٹکیں ہوئیں تھیں۔
اتنے سالوں بعد اپنے بیٹوں کو ملنے کے لئے بے تاب مائیں آج وقت سے پہلے ہی ائیرپورٹ پر پہنچ چکی تھیں۔
انکے یوں وقت سے پہلے آنے پر ان سب کے شوہروں نے تاسف سے دیکھتے ہوئے ٹھنڈی آہ بھری تھی۔ جو ایسے بے چینی کا شکار نظر آ رہیں تھیں۔ جیسے انکے بیٹے اٹلی سے نہیں بلکہ جنگ میدان سے واپس لوٹ رہے ہیں۔۔۔
کیا ضرورت تھی اتنی جلدی سب کو یہاں پر لانے کی۔۔؟ بے کار میں دو گھٹنے ویٹ کروا دیا۔ جیسے بیٹے نہ ہوئے پتہ نہیں کیا ہو گیا۔۔۔! عیس ہمدانی اپنے ساتھ کھڑی مشعل علی کو دیکھتے ہوئے بے زاری سے بولا تو جواب میں مشعل اپنے شوہر کو تیز گھوریوں سے نوازنا شروع ہو گئی۔۔۔
اگر اپکو زیادہ مسئلہ ہو رہا ہے، تو واپس چلے جائیں۔۔! اور جا کر اپنی فائلوں کے ساتھ مغز ماری کریں۔۔! پر خبردار۔۔! اگر آج آپ نے میرے بیٹوں کے بارے میں کچھ الٹا سیدھا بول کر میرے ساتھ مغز ماری کرنے کی زرا بھی کوشش کی تو اچھا نہیں ہو گا۔۔۔! بلکہ میں سیدھا سیدھا اپکو گھر سے نکال دوں گی۔۔۔"
اپنے شوہر کے الفاظ سننے کے بعد مشعل علی نے عیس ہمدانی کی جانب مڑتے ہوئے تڑکتا بھڑکتا جواب دیا تو سب عیس کے بری حالت پر ہنسی دباتے چلے گئے۔
جو منہ کھولتے ہوئے اپنی بیوی کی جانب مسلسل دیکھتے شاید اسکے گھر سے نکالنے والی بات پر یقین کرنا چاہ رہا تھا۔۔
مشعل علی اپنے شوہر کو خطرناک گھوریوں سے نواز کر بے نیازی سے دوبارہ ائیرپورٹ کی طرف متوجہ ہو گئی۔ جس پر سنان مصطفیٰ نے ہنسی دباتے ہوئے عیس ہمدانی کے کھلے منہ کو بند کیا ۔۔
کیوں تو آج کے دن ان لیڈی ڈان ماؤں کو چھیڑ کر شہید ہونا چاہ رہا ہے۔۔۔" سنان مصطفیٰ جس نے ابھی خود اپنی بیوی سے اچھی خاصی باتیں سنی تھیں۔ تو وہ عیس ہمدانی کو سمجھاتے ہوئے بولا کہ بیٹا زبان کو بند رکھ لے۔ ورنہ سچ میں حالات خراب ہو جائیں گئے۔۔
ناز اور گل کیوں نہیں آئیں ۔۔؟ وہاج نے اپنی دونوں جڑواں بیٹیوں کو غائب دیکھ کر پاس کھڑی بیہ سے استفسار کیا۔۔ گھر سے نکلتے ہوئے وہ نہیں جانتا تھا۔۔کہ اسکی بیٹیاں ساتھ نہیں ہیں ۔۔! ورنہ تبھی یہ سوال پوچھ لیتا۔۔۔
آپکی ایک بیٹی ہمیشہ کی طرح اپنے منکوح بیر (کبیر) سے ڈرتے ہوئے بہانے بنا کر گھر پر ہی رک گئی تھی۔ یا یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا۔ کہ اپنے کمرے میں چھپی بیٹھی ہے۔ بقول اسکے اسے بہت تیز بخار ہو گیا ہے۔ اس لئے وہ سفر کر کے ائیرپورٹ پر نہیں جا سکتی۔۔" بیہ ہنسی ضبط کرتے ہوئے اپنے شوہر کو دیکھتے ہوئے بولتے چلی گئی۔ جو دلچسپ نظروں سے مزید جاننا چاہ رہا تھا۔
جبکہ اپکی دوسری بیٹی جو اتنے سال اپنے فاری کے جانے کا غم مناتی رہی ہے۔۔! بقول اسکے وہ آج کسی فارس ہمدانی کو نہیں جانتی۔۔! تو کسی بھی ایرے غیرے کے لیے وہ اپنا قیمتی وقت نہیں برباد کر سکتی۔ اس لئے وہ بھی نہیں آئی۔۔۔" بیہ نے ہنسی دباتے ہوئے اپنی دوسری بیٹی کی ال لاجیکل باتیں بتائیں تو وہاج اس بار سن کر حیرت کا شکار ہو گیا۔۔۔
ہاں وہ کسی فارس ہمدانی کو نہیں جانتی۔.! اس لئے تو اپنے فاری کی ناراضگی میں وہ بھائیوں کو دیکھنے بھی نہیں آئی ۔۔! آئرہ جو پاس کھڑی تھی۔ کہ بیہ کی ساری بات سننے کے بعد اس نے ہنسی ضبط کرتے ہوئے ناز کی جان ، پہچان کو اچھے سے کلئیر کیا۔ جس پر بیہ کے ساتھ ساتھ وہاج صدیقی بھی بے ساختہ ہنس دیا تھا۔۔۔
بے شک ایرہ کاظمی کی بات میں پوائنٹ تو تھا۔ اگر ناز اپنے کہے کے مطابق فارس ہمدانی کو واقعی ہی نہیں جانتی تھی۔ تو پھر بھائیوں سے ملنے کیوں نہیں آئی ۔۔۔! وہ کیوں گھر پر رک کر اپنا غصہ دیکھانے کی کوشش میں تھی۔۔؟
اپنی بیٹیوں کی حرکتوں پر ایرہ اور بیہ ہنستے ہوئے باتوں میں مشغول ہو گئیں تھیں۔۔۔
خان۔۔! کبیر اور فارس کب آئے گئے۔۔؟ سفید گاؤن میں مکمل طور پر خود کو چھپائے علیزے خان اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لیے بے انتہا بے چین تھی۔ اس لئے پاس کھڑے سلطان احمد خان کو پیار سے پکارتے ہوئے پوچھ گئی۔۔۔
آج سب کے دل فارس، کبیر کو دیکھنے کے لیے اندر ہی اندر بے حد منتظر ہوئے پڑے تھے۔ آخر اتنے سال ان دونوں نے اپنی چہرہ جو نہیں دیکھایا تھا۔ یہاں تک کہ کبیر اور فارس جب ہاسپٹل میں ایڈمٹ تھے۔ تو تب بھی سلطان اور عیس انکو بنا دیکھے انکے ٹھیک ہونے کی یقین دہانی کر کے دو دن بعد وہ واپس آ گئے تھے۔
خان کی پیاری خانم۔..! بس تھوڑا سا مزید ویٹ کر لیں ۔۔! آپکے دونوں شہزادے سلیم بس آنے والے ہو نگے۔۔۔" اپنی خانم کو بازو کے حصار میں لیتے ہوئے سلطان نے اسے تسلی دی۔ تو علیزے نے اداسی سے سلطان کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
جبکہ سلطان جو اندر ہی اندر اسے عیس کی طرح یہ کہنا چاہ رہا تھا۔ کہ وقت سے پہلے آ کر انہوں نے غلط کیا ہے۔ اس لئے اب اتنا انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن تھوڑی دیر پہلے عیس کی حالت یاد کرتے وہ خود کو یہ سوچ کر باز کر گیا۔ کہ نہ بھئی آج سچ میں ان بیٹوں کی ماؤں کو چھیڑ کر غلطی نہیں کرنی۔ کیونکہ اسکی خانم تو پہلے ہی کبیر اور فارس کی وجہ سے سلطان سے ناراض ہونے کے بعد رونے کے بہانے تلاش کرتی رہتی تھی ۔۔ اس لئے وہ بھی ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے پاس کھڑے ضرار سے باتیں کرنے لگ گیا۔۔۔
فلائٹ کا وقت تو ہو چکا ہے۔۔! پھر یہ لوگ آ کیوں نہیں رہے۔۔؟ گل جہاں بیگم نے مسافروں کو باہر نکلتے دیکھ کر پاس کھڑی منیزے کو مخاطب کیا۔۔ جو باقیوں کی ہی طرح رش میں اپنے بچوں کے چہرے ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔
مام پتہ نہیں کہاں رہ گئے ہیں یہ لوگ۔۔۔؟ منیزے انتظار سے تنگ آ کر چڑتے ہوئے جواب میں بولی تو بدلے میں ضرار نے اسے کچھ بولنا چاہا تو سلطان نے بروقت آنکھوں سے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔
جبکہ نعمان خان تو ان سب کو اپنی اپنی بیویوں سے ڈرتے ہوئے دیکھ کر ہنسی ضبط کرنے کی کوشش میں مذاق اڑاتی نظروں سے عیس علی ہمدانی اور سنان مصطفیٰ کاظمی کو چھیڑ رہا تھا۔ جہنوں نے اسے گھورتے ہوئے بتیسی اندر کرنے کی وارننگ دی تھی۔اب ہر کوئی اسکی علینہ خانم جیسی معصوم بیوی تھوڑی تھی۔ نعمان خان اپنی خانم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اترانا شروع ہو گیا۔۔۔
یا ہو۔۔۔!! بھیا لوگ آ گئے۔۔۔! ماہ پارہ اچانک سامنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خوشی سے چلائی تو سب نے اسکے اشارے کی تقلید میں دیکھا۔ دور کھڑے فاتح اور شہرام پر نظر پڑتے ہی سب کے اندر تیزی سے خوشی کی لہر ڈوری تو چہروں کے اکتاہٹ بھرے تاثرات یک دم بدلتے ہوئے خوشی کے مارے چمکنا شروع ہو گئے۔
سب خوشی و مسرت سے دور کھڑے شہرام اور فاتح کو دیکھ کر مسکرانا شروع ہو گئے تھے۔
جو ہمیشہ کی طرح پوری دنیا سے بے خبر بس ایک دوسرے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے تھے۔ شہرام نے پاکٹ سے الائچی نکال کے فاتح کے منہ کے اندر پھینکی تو فاتح اگلے ہی پل الائچی چباتے ہوئے اسے مکہ جھڑ گیا۔ شہرام کے یوں کرنے پر فاتح نے اسے آنکھیں سکیڑتے ہوئے گھورا تھا۔ جس نے الائچی ہاتھ میں پکڑانے کی بجائے اسکے منہ کا نشانہ باندھ کر دی تھی۔
دیکھتے ہی دیکھتے باقی بھی ایئرپورٹ کے اندر سے نکل کر انکے پاس آ کر کھڑے ہو گئے تھے۔ جبکہ شہرام اور فاتح جان بوجھ کر اپنا سامان وہیں چھوڑ کر پہلے جلدی سے باہر نکل آئے تھے۔ تاکہ اپنے بیگز خود نہ گھسیٹنے پڑیں۔۔ غازی اور ایشام نے تاسف سے انکو گھورتے ہوئے بیگ پکڑائے ۔ تو وہ بے شرموں کی طرح دانت نکال گئے۔ کچھ سیکنڈز کے بعد اب باسم اور ارسل بھی نمودار ہو کر انکے پاس ہی کھڑے ہو گئے تھے۔ انکے باری باری سامنے آنے پر انکے گھر والے مزید بے چینی کا شکار ہو گئے تھے۔
ان کے گھر والوں نے دھڑکتے دل کے سب پر نظر ڈال کر ان دو چہروں کو ڈھونڈا۔ جنہوں نے اتنے سال ناراضگی کا اظہار کرتے ستایا تھا۔ گھر والوں کو اب زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا۔ کیونکہ آنکھوں پر سن گلاسز لگائے آخر کار کبیر خان اور فارس ہمدانی نے اپنا دیدار جو کروا دیا تھا۔۔۔
کبیر اور فارس کے نکلتے ہی وہ قہقہے لگاتے ہوئے چلنا شروع ہوئے تو انکی ماؤں کی آنکھیں نم ہوتی چلی گئیں۔ تھری پیس سوٹ پہنے اپنی اپنی سنجیدہ شخصیت میں کبیر خان اور فارس ہمدانی آگے چل رہے تھے۔ جبکہ باقی سب اپنے بھائیوں کے پیچھے ہنستے ہوئے قدم اٹھانے لگے ۔
ارسل خان اپنے پائلٹ یونیفارم میں سر پر کیپ پہنے علینہ خانم کی آنکھیں تیزی سے اشکبار کر گیا تھا۔۔ جبکہ ڈاکٹر باسم اپنے اٹلی ہاسپٹل کے نیلے یونیفارم میں ائرہ کا دل مغرور کرتا چلا گیا تھا۔۔۔
دوسری طرف غازیان آنکھوں پر گلاسز لگائے بلیک تھری پیس سوٹ میں بیرسٹر غازیان پاشا بنا مغرور بھری چال چلتے ہوئے انہی کی جانب آ رہے تھے۔ ان سب کے برعکس ایشام صدیقی جینز کے ساتھ اپنی بلیک ہوڈی پہنے ہوئے تھا۔ ہوڈی کی کیپ سر پر ٹکائے، دائیں کان میں چھوٹی سی چاندی کی بالی پہنے ایشام صدیقی چلتا پھرتا ریڈ الارم تھا۔ وہ اگر ہیکنگ کلر تھا۔ تو اسکا حلیہ و شخصیت بھی اتنی ہی سامنے والے کے لئے کلنگ ہی تھی۔
ان سب کے آگے چلتے ہوئے کبیر خان اور فارس ہمدانی آج کامیاب بزنس مین بن چکے تھے۔ وہ سب اٹلی سے کچھ نہ کچھ بن کر لوٹے تھے۔۔ لیکن صرف دو نمونے ایسے تھے۔ جن کا کچھ اتہ پتہ نہیں تھا۔ کہ یہ کامیاب ہو کر لوٹے ہیں، یا پھر دوسروں کی کامیابی کے چھوارے کھا کر آ رہے ہیں۔ اور وہ کوئی اور نہیں ہمارے دی گریٹ، شہرام علی اور فاتح سلطان ہی تھے۔ جو اپنی اپنی آوارہ لک میں دل کے تار ہلانے میں کامیاب ٹھہر رہے تھے۔
انکی چھیڑ خانی کو بڑھتے ہوئے سن کر کبیر اور فارس نے بیک وقت مڑتے ہوئے مسکراتی آنکھوں سے انکو مصنوعی گھوری ڈالتے ہوئے باز کرنا چاہا۔ تو وہ سب ہنستے ہوئے بڑے بھائیوں کو آنکھ ونک کر گئے۔ جس پر فارس اور کبیر ہنستے ہوئے تاسف سے سر ہلا کر اپنے گھر والوں کی طرف بڑھنے لگے۔۔۔ جو ان سب کو یوں آتا دیکھ کر بے حد اموشنل ہو چکے تھے۔ ان سب کا اپنی اپنی کامیابی کا لباس پہن کر آنے والے آئیڈیے نے انکی ماؤں کی آنکھوں کو خوشی سے نم کر دیا تھا۔۔۔
کبیر اور فارس نے انکے سامنے پہنچ کر قدموں کو بریک لگائی تو ان دونوں کی مائیں بے یقینی سے انکے قد آور وجود کو دیکھتے ہوئے سانس روک گئی تھیں۔ انکے بیٹے تو خوبصورتی میں اپنے اپنے باپ کو بھی پیچھے چھوڑ گئے تھے۔ علیزے اور مشعل بے خودی میں بے یقینی سی کیفیت میں ایک قدم آگے بڑھیں تو انکی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر وہ دونوں تڑپ کر باقی کا فاصلہ خود طے کرتے ہوئے تیزی سے انکو گلے لگا گئے۔۔۔
میری حیسن مورے...! کبیر نے تڑپتے ہوئے علیزے خان کو گلے لگاتے ہوئے بچپن والے الفاظ ادا کیے تو علیزے شدت سے رو پڑی۔ وہ اسکے لئے کتنا تڑپی تھی ۔۔سلطان کی گلاسز کے پیچھے چھپی ہوئی نیلی آنکھوں میں بھی تیزی سے نمی اتری تھی۔۔۔
میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گی فاری۔۔! مشعل علی نے اپنے بیٹے فارس کے گلے لگتے ہوئے روتے ہوئے ناراضگی کا اعلان کیا تو فارس نے نم آنکھوں سے مسکراتے ہوئے اپنی کیوٹ سی مام کے سر پر لب رکھ دیے۔ مشعل ہائیٹ میں اب ان تینوں باپ، بیٹے کے سینے تک آنے لگی تھی۔ فارس مکمل طور پر جھکتے ہوئے اپنی پیاری و کیوٹ مام کو گلے لگائے منانے کی کوشش کر رہا تھا۔ جو اس سے کافی روٹھی ہوئی لگ رہیں تھیں۔۔۔
باقی سب بھی اپنے اپنے ماں باپ کو ملنا شروع ہو چکے تھے۔۔
میرا خوبصورت ہینڈسم بیٹا۔۔۔! ایرہ اپنے بیٹے کے چہرے کو ہاتھوں میں بھرتے ہوئے اسکے ماتھے کو چوم کر بھیگی آنکھوں سے سنان کو سنانے کی غرض سے تعریف کرتے بولی تو باسم ہنستے ہوئے ماں کو سینے سے لگا گیا۔
جبکہ سنان مصطفیٰ تو بس ہونہہ کرتا رہ گیا تھا۔ اسکی بلا سے۔۔۔! بڑی آئی بیٹے کو ہینڈسم کہنے والی۔۔ سنان اپنی بیٹی کو بازو کے حصار میں لیے جیلسی کی حد پر تھا۔۔۔
مام۔..! آئی مسڈ یو یار۔۔۔! غازیان نے عقیدت سے اپنی ماں منیزے پاشا کی سبز آنکھوں کو چومنے کے بعد اپنے باپ سے چرائی ہوئی عادت کے مطابق منیزے کے ہاتھوں کو بھی احتراماً لبوں سے لگایا تو منیزے اپنے بیٹے کو یونیفارم میں دیکھتے ہوئے اسکے صدقے واری ہوتی چلی گئی۔۔۔ سب ہی ابھی تک اپنی ماؤں سے مل رہے تھے۔ جبکہ پاس کھڑے ان سب کے باپ کے چہرے تو اترنے والے ہو گئے تھے۔ جن کو کوئی اہمیت ہی نہیں مل رہی تھی۔۔۔
اگر اپنی ماں سے پیار ہو گیا ہو۔۔! تو ایشام صدیقی ہوش کر لو۔ یہاں پر تمہارا باپ بھی شاید کھڑا ہے۔۔۔! ایشام کو ابھی تک اپنی ماں سے چپکے اور بیوی کو بیٹے پر پیار نچھاور کرتے ہوئے دیکھ کر وہاج علی صدیقی نے دانت پیستے ہوئے اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔۔۔ وہاج کے طنز پر سب کو ہوش آئی تو وہ ماؤں کو ساتھ لگائے اپنے اپنے باپ کے مقابل ہو گئے ۔۔
اور سنائیے ناکارہ ڈیڈ۔۔۔! میرا مطلب ہے بڈھے ببر شیر ۔۔! اس عمر میں کہیں گھٹنوں میں درد ورد تو نہیں ہوتا نا۔۔۔؟ شہرام نے الائچی چباتے ہوئے عیس کے سامنے کھڑے ہو کر شرارتی آواز میں چھیڑتے ہوئے فکر دیکھائی تو بدلے میں عیس نے اپنی منحوس اولاد کو زہر بھری نظروں سے دیکھا تھا ۔۔
گھٹنوں کا تو پتہ نہیں۔۔! پر ہاتھ میں بہت درد ہو رہا ہے۔۔! اور اسی ہاتھ کا اگر ایک الٹا جھانپڑ جب تمہیں پڑ گیا۔ تو اگلی بار باپ کو چھیڑنے سے پہلے سو بار سوچو گئے بیٹا۔
۔۔! عیس نے الٹے ہاتھ کو ہوا میں بلند کرتے ہوئے شہرام کو پنگا لینے سے قبل وارننگ دی۔ جس کو سن کر شہرام ہنستے ہوئے آگے بڑھ کر جلدی سے باپ کے سینے لگ گیا تھا۔ جس پر عیس نے بھی مسکراتے ہوئے اسے شدت سے خود میں بھینچتے ہوئے گردن پر رسید کر دی تھی۔ مشعل نے انکی حرکتوں پر مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تھا۔۔۔
مورے۔۔! میری بہن کہاں پر ہے۔۔؟ ارسل جو ابھی تک باپ کو نہیں ملا تھا۔ باپ کی نظروں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے ہر کسی پر نظریں دہرانے کے بعد اپنی بہن کو تلاش کرنا چاہا۔ جس کو اس نے صرف پیدا ہوتے وقت ہی دیکھا تھا۔
ارسل کے پوچھنے پر علینہ خانم ہنسی ضبط کرتے ہوئے انجان بن گئی ۔ جبکہ نعمان اور علینہ کے پیچھے چھپی ہوئی سترہ سالہ محبت نے اپنے بھائی کو خود کی تلاش کرتے دیکھ کر چمکتی آنکھوں سے مسکراہٹ ضبط کی۔ لیکن پھر وہ زیادہ دیر نہیں چھپ سکی تھی۔ کیونکہ بھائی کو تنگ کرنے کا پلین کینسل کر کے محبت نے نعمان خان کے پیچھے سے چہرہ باہر نکالتے ہوئے ارسل خان کو بے ساختہ اپنی کھنکتی آواز میں پکار لیا تھا۔۔۔۔!
بھیا۔۔۔۔!!!؟ محبت نے ارسل کو شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کھنک دار آواز میں پکارا تو ارسل اچانک اسکی آواز سن کر اپنی بہن کو چھپے ہوئے دیکھ کر مسکراتے ہوئے قربان ہو گیا۔۔۔ نعمان اور علینہ نے محبت پاش نظروں سے بہن ،بھائی کا پیار دیکھا تھا۔۔
بھیا سو بار قربان اس پکار پر۔۔۔! محبت کی لاڈ بھری پکار پر نچھاور ہوتے ارسل بے ساختہ بول کر اسکی طرف بڑھا۔۔ جس پر محبت اپنی جلترنگ ہنسی ہنستے ہوئے باہر نکل کر بڑے بھائی کے سینے سے لگ گئی تھی۔۔
محبت کی کھنک دار ہنسی پر میکانکی طور پر سب متوجہ ہوتے اسے دیکھنے لگے۔ سب کو ملنے ملانے کا سلسلہ ابھی ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ جب فارس اور کبیر اپنی ماؤں کو مطمئن کرنے کے بعد آگے بڑھتے ہوئے اپنے، اپنے باپ کے مقابل کھڑے ہو گئے۔۔۔ وہ ابھی تک ماؤں کے سوا کسی کو بھی نہیں ملے تھے۔۔۔
جی مسٹر عیس ہمدانی۔۔۔! ہو گیا میں ستائیس سال کا۔۔۔! اب بتائیں حساب کتاب یہاں پر ہی کرنا پسند کریں یا پھر گھر جا کر نمٹا لیں۔۔۔؟ فارس اپنے باپ عیس ہمدانی کے سامنے کھڑے ہو کر پورے اٹیٹیوڈ میں رعب سے بولا تو سب نے تیز دھڑکنوں کے بیچ اس منظر کو اپنے اپنے دل میں بسانے کی کوشش کی۔ جہاں اتنے سالوں کے بعد کبیر اور فارس اپنے اپنے باپ کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑے کھڑے نظر آ رہے تھے۔۔۔
جبکہ عیس تو فارس کا قد آور اور مضبوط وجود دیکھ کر سانس روک گیا تھا۔۔۔ اسکا سر پھرا بیٹا قد میں اس سے بھی اونچا لگ رہا تھا۔ جبکہ چوڑے شانے اور سینہ کسی بھی طوفان کو جھیلنے کی طاقت رکھتا معلوم ہوتا تھا۔
عیس علی ہمدانی کو بے ساختہ احساس ہونے لگا کہ سلطان کا انہیں اٹلی میں نہ دیکھنے کا فیصلہ بالکل ٹھیک تھا۔ کیونکہ اگر وہ اپنے بیٹوں کو ہاسپیٹل کے بیڈ پر بے ہوش دیکھ لیتے تو پھر یوں اپنے مقابل دیکھنے پر دل نہ دھڑک پاتے۔۔۔! وہ سب اپنی اپنی شخصیت میں خاص تھے۔ پر جو ٹھہراؤ، اور کشش کبیر خان اور فارس ہمدانی کے وجود اور شخصیت میں تھی۔ وہ سب سے منفرد اور دلکش انداز رکھتی تھی۔۔۔ شاید یہ انکے بڑے ہونے کا اثر تھا۔
مسٹر سلطان احمد خان مجھے یوں نہ گھوریں ۔۔! میں جانتا ہوں کہ کبیر خان آپ سے زیادہ خوبصورت اور دلکش ہے۔ پر اسکا مطلب یہ تھوڑی ہے آپ میری مورے کے اتنے خوبصورت بیٹے کو اب ایسے گھورتے ہوئے نظر لگا دیں۔۔! کبیر نے اپنے باپ کی آنکھوں سے گلاسز اتارتے ہوئے اپنی تعریف میں زمین و آسمان ایک کرتے ہوئے سلطان احمد خان کی طرف دلفریب مسکراہٹ اچھالی۔ تو سلطان کی نم آنکھیں بے ساختہ مسکرا دیں۔۔
پاس کھڑے فاتح نے ہنسی دباتے ہوئے انکی تکرار پر نظر ڈال کر سب لوگوں میں اپنی منکوحہ تلاش کرنی چاہی تھی۔ پر اسکی آنکھوں کو سلینہ کا چہرہ جب نہ دیکھا تو وہ پریشان ہو گیا۔ اب تک وہ یہ ہی سمجھا ہوا تھا کہ اسکے بھائیوں نے اسکی حق حلال کی منکوحہ کو اگر پاکستان میں منتقل کیا ہے تو وہ اپنے سسرال میں ہی ہو گی۔ پر یہاں تو سیلینہ کی پرچھائی تک نہیں تھی۔
ہیں۔۔۔! کہیں یہ میری منکوحہ کو پاکستان کا کہہ کر اٹلی میں تو نہیں چھوڑ آئے ! ہائے میری ماتھے والی کس۔۔۔! فاتح نے تڑپتے ہوئے پاس کھڑے شہرام کے کان کے سرگوشی کرتے کہنا چاہا۔
سالے ندیدے کہیں کے۔۔! صبر رکھ۔۔! کیوں اتنے اچھے ویلکم کے بعد ان بڑوں سے پٹوانا چاہتا ہے۔ خبردار اگر تو نے اب منکوحہ کا لفظ بھی زبان سے نکالا تو۔۔۔! بلکہ، فلحال تو یہ ہی سمجھ، کہ تو ابھی بھی اب سنگل اور چڑھا چھانٹ ہے۔ چل شاباش فیل کرنا سٹارٹ کر۔.."۔۔
شہرام نے پہلے چباتے ہوئے بول کر آخر میں اسے سمجھاتے ہوئے سنگل ہونے پر مجبور کیا۔ تاکہ وہ منکوحہ، منکوحہ کا رونا روتے اسکا دماغ نا چاٹ لے۔۔ لیکن فاتح نے منہ ٹیرھا کرتے ہوئے اسکی بات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔
شہرام اسکو گھوری ڈالنے لگا۔ لیکن پھر بے اختیار اسے خود پر کسی نظروں کی تپش محسوس ہوئی تو چاروں اطراف چہرہ گھماتے ہوئے اس نے دیکھنا چاہا۔۔۔
جہاں زرا دور ایک نازک وجود اس پر بری طرح نظریں ٹکائے ہوئے تھا۔ مقابل کی بے خود نظروں کو دیکھ کر وہ دل ہی دل میں میں محفوظ ہوتے دلکش انداز میں مسکراتے ہوئے بالوں میں ہاتھ پھیر گیا تھا۔ جس پر ہڑبڑاتے ہوئے اس صنفِ نازک نے تیزی سے اپنی نظروں کو ہٹاتے ہوئے پھیر لیا تھا ۔۔ شہرام بے اختیار ہنس کر سب کی طرف دوبارہ متوجہ ہو گیا۔
ان سب کے برعکس ایشام صدیقی جو کب سے بے خود ہو کر ٹکٹکی باندھے ہیر پاشا کی طرف دیکھ رہا تھا۔ پر یہ کیا۔۔۔؟ ہیر پاشا نے تو ایک دفعہ بھی اس پر نظر کرم کرنے کی زحمت نہیں کی تھی۔
ایشام الجھتے ہوئے اسکا منتظر نظر آنے لگا۔ وہ تو یہ ہی سوچے بیٹھا تھا۔ کہ اسے دیکھتے ہی ہمیشہ کی طرح اس سبز چڑیل کی آنکھیں شیطانی چمک سے روشن ہو جائیں گئیں۔ پر کوئی چمک ابھرنا تو دور ہیر پاشا تو اس سے یوں اجنبی ہوئی تھی۔ جیسے ایشام صدیقی یہاں پر ہو کر بھی نہیں موجود تھا۔۔۔!
اتنی بے اعتنائی ۔۔۔؟ ایشام صدیقی ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر خود کو کنٹرول کرنے کی کوشش میں کبیر اور فارس کی جانب متوجہ ہو گیا جو سب سے ملنے کے بعد اب یقیناً اپنی اپنی منکوحہ کی تلاش میں تھے۔۔۔
ڈیڈ۔۔! ناز اور بہار کہاں ہیں۔۔۔؟ فارس نے بے حد سنجیدگی سے عیس کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا۔۔۔
میری بہو تمہیں پہنچانے سے انکار کر چکی ہے۔۔! وہ کسی بھی اجنبی پر اپنا قیمتی وقت برباد نہیں کرتی۔ اس لئے نہیں آئی۔۔۔! عیس ہمدانی نے بیٹے کے ایکسپریشن انجوائے کرتے ہوئے جواب دے کر مزے سے اسے اشتعال دلایا۔ تو سچ میں یہ سب سننے کے بعد کبیر اور فارس کی غصے کے مارے بری حالت ہوتی چلی گئی۔۔
بحث میں وقت ضائع کیے بنا کبیر خان پاکٹ سے موبائل نکالتے ہوئے تیزی سے آن کرنے کے بعد وہ کسی کو میسج کرنے میں مصروف ہو گیا۔۔ فارس کو کول ڈاؤن رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے کبیر خان نے شہرام اور فاتح کو موبائل آن کرنے کا شارہ کیا تھا۔۔
کبیر کے اشارے پر وہ جلدی سے اپنا اپنا موبائل نکال گئے۔ آن کرتے ہی کبیر خان کی طرف سے دونوں کو میسیج ریسیو ہوا تھا۔ جس میں باقاعدہ حکم دیا گیا تھا۔۔
ایک گھٹنے کے بعد گل ناز اور گل بہار کو فارم ہاؤس پر لے کر آؤ۔۔! بنا کسی کو خبر ہوئے۔۔۔۔" کبیر خان کے حکم اور تاکید کو پڑھ کر شہرام اور فاتح نے بیک وقت ڈن کہنے کے بعد اپنا اپنا موبائل دوبارہ پاکٹ میں رکھ لیا تھا۔۔