Janoon-e-Yaar Novel Complete by Amreeney Qais - Episode 22 - urdu novels pdf download


 ناول: #جنونِ یار

قسط: 22
از قلم: #امرینےقیس
تمہاری فارس سے جب آخری بار بات ہوئی تو تم نے اسے کیا کہا تھا۔۔۔؟ عیس کی خواہش پر سلطان نے اذیت سے آنکھیں میچتے ہوئے اسے یاد دلاتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
یہ ہی کہ جب میرے جتنا قد کاٹھ نکال لو۔ اور ستائس سال کے ہو جاؤ ۔۔! تو تب عیس ہمدانی کا سامنا کرنے کے لیے "فارس ہمدانی" بن کر آنا۔۔۔! عیس نے آنکھیں میچتے ہوئے آسودگی سے مسکراتے ہوئے کچھ سال پہلے کی بحث یاد کی۔ جب وہ ضد کرتے ہوئے بار بار واپس آنے کی دھمکیاں دے رہا تھا۔
اور انکی سالگرہ کب یے۔۔۔؟ عیس کے جواب پر سلطان نے مسکرا کر دوسرا سوال کیا۔۔۔
اگلے مہینے۔۔۔! جب وہ دونوں اپنی عمر کے ستائیسویں سال کو مکمل کر اٹھائیس میں چلے جائیں گئے۔۔۔! عیس نے آنکھیں کھولتے ہوئے سلطان کی طرف دیکھ کر غرور سے جواب دیا۔ تو سلطان مزید بولا۔۔۔
اگلے مہینے جب وہ لوگ پورے ستائیس سال کے ہو جائیں گئے۔۔! تو تب پاکستان میں ہی انکو دیکھنا۔۔۔! جہاں اتنے سال صبر کیا ہے۔ وہاں مزید کچھ دن صبر کر لو عیس۔۔۔! اگر وہ ہمارے مقابل کھڑے ہو کر اپنا قد آوار وجود دیکھا کر ہی ہمیں ملنا چاہ رہے ہیں۔ تو یار اس بار انہیں اپنی خواہش پوری کر ہی لینے دو۔۔۔! اور ابھی ملنے کی خواہش کا اظہار کر کے اپنے ساتھ میرے دل کو بھی کمزور مت کرو۔۔! ورنہ میرا بھی صبر ٹوٹ جائے گا۔۔۔"۔
سلطان دل میں اٹھتی ہوئی تکلیف کو بامشکل سنبھالتے ہوئے بول رہا تھا۔ جس کو سمجھتے ہوئے عیس نے بھی آنکھوں میں آئی نمی کو اندر اتارنا چاہا تھا۔۔۔۔
اور یاد رکھو کہ وہ صرف ستائیس سال کے ہو کر نہیں ملے گئے۔۔! بلکہ ستائیس سال کی عمر میں بزنس کیمونٹی کے نئے ابھرتے ہوئے ستارے بن کر آئیں گئے۔۔۔! اسی ضد میں تو انہوں نے اتنے سال ہمیں کبھی اپنی تصویر بھی نہیں بھیجی۔۔! کیونکہ وہ اپنا وعدہ پورا کرنا چاہتے تھے۔۔" سلطان خیالوں میں اپنے ضدی بیٹوں کو سوچتے ہوئے فخریہ انداز میں مسکرا دیا۔۔۔ کسی بھی باپ کے لئے یہ سوچ فخر سے بھرپور ہوتی ہے۔ کہ اسکا بیٹا اب اسکے مقابل آ کھڑا ہوا ہے۔ اسکا بازو بن چکا ہے۔
فارس اور کبیر کو گولی لگنے کا سوچ کر سلطان احمد خان اور عیس علی ہمدانی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بیٹوں کے لئے تڑپتے ہوئے پاکستان سے یہاں آن پہنچے تھے۔ اور یہاں ہاسپٹل میں ایڈمٹ تو انکے بڑے بیٹے تھے۔۔لیکن ان دونوں کی تکلیف نے انکے چھوٹے بھائیوں کو بھی آدھ مو کیا ہوا تھا۔ کہ انہیں خود کی بھی ہوش نہیں تھی۔۔۔
خان۔۔۔! ہمارے بیٹے اتنے کمزور کیوں ہیں۔۔۔! عیس نے گہری سانس خارج کرنے کے بعد آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے بھاری آواز میں سلطان کو پکارتے ہوئے پوچھا۔۔۔ جبکہ ذہن میں کچھ سال پہلے کا واقعہ گردش کرنے لگا تھا۔
جب فاتح کو چوٹ لگتے دیکھ کر شہرام لڑنا چھوڑ کر بس روتے ہوئے اسکا سر اپنی گود میں رکھ کر بیٹھ چکا تھا۔ فاتح کی چوٹ دیکھ کر اسے اتنی بھی ہوش نہیں رہی تھی۔ کہ دشمن ابھی تک اسکے گرد جمع ہیں۔ وہ تو کبیر اور فارس نے عین وقت پر پہنچ کر حیدر اور اسکے ساتھیوں کا برا حال کیا تھا۔ ورنہ وہ لوگ شہرام اور فاتح کو مزید نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہ کرتے ۔۔۔۔
کیونکہ وہ "دوست" نہیں "بھائی" ہیں۔۔۔! ہماری کہانی دوستی کی تھی عیس۔۔۔! لیکن یہ کہانی "بھائیوں" کی ہے۔۔." ہماری کہانی صرف دلدار ہونے کی تھی، پر یہ کہانی دلدار، یار اور جنون پر اترنے کی ہے۔۔"۔
عیس کے سوال کا مطلب سمجھتے ہوئے سلطان نے دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ اپنے بچوں کی بانڈنگ کو یاد کرتے مدھم انداز میں مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔ جس پر عیس حیرت و ششدر ہوتے اسے دیکھ گیا۔۔۔
تم جانتے ہو عیس۔۔۔! جب تین دوستوں کی موجودگی میں کوئی مخالف انکے کسی ایک دوست پر حملہ کرتا ہے، یا کوئی دشمن تکلیف پہنچانے کی کوشش کرتا یے۔ تو اسکے باقی ساتھی دوست اپنے یار کے لئے کٹنے مرنے پر آ جاتے ہیں۔ وہ اپنے دوست کے حصے کی جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کو شکست دینے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ انکا دوست کسی کے سامنے کمزور پڑا ہے، یا مار کھا کر آیا ہے۔۔۔ پتہ ہے کیوں ۔۔۔؟ سلطان بات کرتے ہوئے اچانک رکا تو عیس اسے سوالیہ سے دیکھنے لگا۔۔۔
کیونکہ اچھے دوست جنگ میں ہمارے ساتھ ہم قدم لڑتے ہوئے ہمیں شکست سے دو چار نہیں ہونے دیتے۔۔۔! جیسے ہم چاروں تھے۔۔! پھر وہاج ہماری دوستی کا حصے دار بنا۔۔۔" اور ہم نے مل کر اسے مضبوط بنا دیا۔۔۔! وہاج اکیلے کمزور نہیں تھا..! بس اسکی زندگی میں اچھے دوستوں کی کمی تھی۔ جو ہمارے بعد پوری ہو گئی۔۔! ہم نے اسے صرف مضبوط بنانے کو ترجیح دی۔۔۔ پر شاید ہم کبھی اسکی ان محرومیوں کا اندازہ نہ لگا سکیں۔ جو اس نے اکیلے رہ کر کاٹیں تھیں۔ جس کی وجہ سے وہ ادھورا سا رہتا تھا۔۔"۔
لیکن علی۔..! ہمارے بچے آپس میں دوست نہیں بلکہ بھائی بن چکے ہیں۔۔! وہ بھائی جو ایک دوسرے کی تکلیف کو خود پر زیادہ محسوس کرتے ہیں۔۔۔! وہ کمزور نہیں ہیں علی۔۔! بس ایک دوسرے کی تکلیف کو اپنے وجود میں زیادہ محسوس کر کے کمزور پڑ جاتے ہیں۔۔۔"۔
جیسے فارس کے سینے میں لگنے والی گولی نے کبیر کو منجمد کر دیا تھا۔ کیونکہ وہ اپنے بھائی کو تکلیف میں نہیں دیکھ پایا اور فارس سے پہلے ہی ہوش کھو بیٹھا۔۔۔ بھائی، بھائی کا رشتہ ایسے ہی ہوتا ہے عیس۔۔"۔
اگر ایک بھائی کو تکلیف پہنچتی ہے۔ تو وہ تکلیف اس سے زیادہ اسکے دوسرے بھائی کو محسوس ہوتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بھائی، بھائی کی تکلیف پہلے محسوس کرتا ہے جبکہ لڑتا اسکے کے لیے بعد میں ہے۔۔۔جبکہ دوست پہلے لڑتا ہے۔ اور بعد میں اپنے یار کی تکلیف کا مرہم بنتا ہے۔ بس اسی وجہ سے وہ سب اپنی قابلیتوں کو بھول کر کبیر اور فارس کی تکلیف میں گم ہو گئے تھے۔۔۔ بھائیوں کی تکلیف میں وہ بھول چکے تھے۔ کہ انہیں لڑنا بھی ہے۔۔!۔
سلطان نے تھکی ہوئی سانس خارج کرتے بات مکمل کی تو عیس کو اسکا ہر لفظ اپنے دل میں اترتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔۔ سلطان احمد خان کی یہ ہی خاصیت تھی۔ کہ وہ اپنوں کو ان سے پہلے سمجھ لیتا تھا۔
خان تمہیں نہیں لگتا کہ ہمیں انہیں الگ الگ ملک میں پڑھنے کے بھیجنا چائیے تھا۔ تاکہ وہ مضبوط رہتے اور ان میں کمزور ہونے کی کوئی وجہ نہ ہوتی۔۔۔" عیس نے پرسوچ انداز میں سوچتے ہوئے ٹیبل پر نظریں جماتے ہوئے اپنا خیال ظاہر کیا۔ جس کو سن کر سلطان نے نفی میں سر ہلایا تھا۔۔۔
تم سے پہلے کچھ سال پہلے ضرار اور وہاج نے بھی بالکل یہ ہی بات کی تھی۔ پر مجھے ایک بات بتاؤ ۔۔۔! اگر ہمیں انہیں الگ، الگ بھیج دیتے تو کیا ان سب کا آپس میں جو اب رشتہ ہے! وہ تب بن پاتا۔۔۔؟ الگ الگ رہنے کی صورت میں وہ بھائی تو کیا دوست بھی نہ بن پاتے ۔۔! بلکہ بس کنزنز بن کر رہ جاتے۔۔! جن میں الفت تو ہوتی، پر دل کا کنیکشن نہ ہوتا۔۔۔! سلطان نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے اسے سمجھانے ہوئے جواب دیا۔۔۔ لیکن عیس کچھ اور ہی سوچ کر فکر مند ہوا ہو رہا تھا۔۔۔
یار خان میں انہیں کسی بھی وجہ سے کمزور نہیں دیکھ پاتا ۔۔۔! دیکھا نہیں کیسے سب ہاسپیٹل میں گم سم شکلیں بنائے ہوئے کھڑے تھے۔ بجائے کہ وہ دشمنوں کو ڈھونڈ کر انکے جسم کے ہر حصے کو ادھیڑ کر رکھ دیتے۔ پر وہ حواس کھوئے ہوئے تھے۔۔! کیا اس طرح وہ مستقبل میں اپنوں کی حفاظت کریں گئے۔۔؟ دشمن تو ہر طرف سے ہم پر آنکھ جما کر بیٹھا ہوا ہے..! تو کیا وہ ہر بار کسی ایک کی تکلیف میں گم ہو کر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بیٹھ جائیں گئے۔۔۔؟ کیا وہ ایسے ہماری آنے والی نسل کی حفاظت کریں گئے۔۔؟ کیسے سنبھالیں گئے وہ سب۔۔۔؟
عیس غصے وہ جھنجھلاہٹ سے بولتے ہوئے اپنے دل کے خدشات کا ذکر کرنا چاہ رہا تھا۔ کیونکہ اسے کسی صورت بھی انکا یہ اندازہ پسند نہیں آیا تھا۔
تم کیوں پریشان ہو رہے ہو علی۔۔۔؟ مت بھولو کہ ابھی بلیک کے پانچوں ببر شیر ذندہ ہیں۔۔! ہمارے ہوتے ہوئے کوئی ہمارے بیٹوں کو تو کیا کسی بھی آنے والی نسل کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا ہے۔۔۔؟ مت بھولو۔۔! کہ اتنے سالوں میں بلیک گینگ نے اپنی نسلوں کو مضبوط کرنے کے لئے جو اتنی کوششیں کیں ہیں۔ ان سب کو ان فضول کے سوالوں میں مت ضائع کرو۔۔۔! اور تم کیوں بھول جاتے ہو۔ کہ ببر شیر چاہے کتنا ہی بوڑھا کیوں نہ ہو جائے۔۔! وہ اپنے شہزادے شیروں کو شکار کرنے کے نئے سے نئے طریقے بتانا نہیں بھولتا۔۔" سلطان نے اس بار اس بے صبرے غنڈے کو گھورتے ہوئے جتانا چاہا تھا۔ کہ وہ اتنا بھی ان فضول سوچوں کا شکار نہ ہو۔۔۔
تمہیں لگتا ہے کہ وہ لوگ کل تک جوزف ایلن کو ڈھونڈ لائیں گئے۔۔۔؟ سلطان کے گھورنے پر عیس نے آبرو اٹھاتے ہوئے سوال کیا۔۔ وہ جاننا چاہ رہا تھا۔ کہ صرف انکے یہاں آنے اور گائیڈ کرنے سے کیا وہ کامیاب ہو جائے گئے۔۔۔جس پر استہزایہ انداز میں سلطان ہنس دیا تھا۔۔۔
اور تمہیں کیوں لگتا ہے۔ کہ کل تک جوزف ایلن تمہیں اٹلی میں ذندہ سلامت دکھے گا بھی۔۔؟ بے فکر رہو۔۔! کل اس اپارٹمنٹ میں تمہیں ان تین شوٹرز کی لاشیں اور جوزف ایلن نہ مردہ دیکھائی دے گا اور نہ ہی ذندہ۔۔" سلطان سگریٹ سلگانے کے بعد منہ سے دھواں اڑاتے ہوئے اپنے شیروں کی آنکھوں میں اترے ہوئے جنون کو یاد کرتے بول گیا۔ عیس نے حیران کن نظروں سے اسے دیکھا تھا۔۔۔ وہ اتنے یقینی انداز میں کیسے کہہ سکتا تھا۔
وہاج اور ضرار آنے کا کہہ رہے ہیں۔۔۔" ساری باتوں کے بعد عیس نے تھکی سانس خارج کرتے ہوئے اچانک یاد آنے پر اسے آگاہ کیا۔۔۔
ہر گز نہیں..! انہیں منع کر دو۔۔! اور سختی سے تاکید کرو۔ کہ گھر میں کسی سے بھی اس بات کا ذکر نہیں ہونا چائیے۔ ورنہ انکی ماؤں نے رو رو کر مینشن میں سیلاب لے آنا ہے،
اور شاید دو دنوں تک ہم خود بھی واپس چلے جائیں۔ تو پھر آنے کا فائدہ نہیں ہے۔۔" سلطان نے سرعت سے منع کرتے ہوئے اسے کہا ۔۔۔
سالے سیدھی طرح کہہ نا کہ تو دور بیٹھا خانم بھابھی کے آنسو نہیں صاف کر پائے گا اس لئے تڑپ کر بتانے سے منع کر رہا ہے ۔۔۔" عیس نے اچانک لہجے کو شوخ بناتے ازلی انداز میں اسے چھیڑا تو سلطان نے بدلے میں اسے سخت گالیوں سے نوازتے ہوئے گھورا تھا۔ جس پر عیس ہنستے ہوئے مزید چھیڑخانی کرنے لگا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھنٹوں کا کھیل تھا۔ جو ایشام صدیقی نے منٹوں میں کھیلتے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں کو ہیک کر ساری فوٹیج نکال کر سسٹم کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ یہ اسی ٹاؤن کی سب کیمروں کی فوٹیج تھی۔ جہاں پر فارس اور کبیر پر حملہ کیا گیا تھا۔
فوٹیج میں سے گاڑی کے نمبر اور شوٹرز کے حلیے نوٹ کرنے کے بعد وہ ایک کے بعد سٹیپ فالو کرتے جا رہے تھے۔ گاڑی کا نمبر ملنے کے بعد بیرسٹر غازیان پاشا نے قانونی حیثیت سے گاڑی کی ڈیٹیلز نکلوائیں۔ تو گاڑی خریدنے سے لے کر چلانے والے تک کی کنڈلی انکے ہاتھ لگ گئی۔
گاڑی کے ڈیٹیلز میں سے فون نمبر نکال کر ایشام نے انکو ہیک کیا تو پتہ چلا کہ وہ تینوں شوٹرز کل دن میں اٹلی چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔
اور پھر اگلے دن اٹلی ائیر پورٹ پر دیکھنے والوں نے دیکھا تھا۔ کہ کوئی سر پھرا پائلٹ یہاں پر آیا ہے۔
کل دن میں پورے سویگ کے ساتھ ارسل خان نے ایک پائلٹ ہونے کی حیثیت سے سارے ائیرپورٹ کا سسٹم ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مکمل اٹیٹیوڈ کے ساتھ غازیان پاشا اور ارسل خان نے ان تینوں شوٹر کو جہاز میں گھس کر دبوچتے ہوئے باہر نکال لیا تھا۔ جبکہ وہ تینوں شوٹر تو ہراساں ہوتے انہیں دیکھنے لگے تھے۔ جو بنا کسی خوف و ڈر کے انکو گھسیٹتے ہوئے لے کر جا رہے تھے۔
ائیرپورٹ پر کسی نے بھی غازیان اور ارسل کو روکنے کی کوشش نہیں تھی۔ کیونکہ قانونی فارملیٹیز پوری کرنے کے بعد ہی وہ ان تین کتوں کو جہنم واصل کرنے کے لیے یہاں پر آئے تھے۔مطلب پوری تیاری کے ساتھ وہ حساب کتاب کرنے والے تھے۔۔
شوٹر کو ائیرپورٹ سے اٹھانے کے بعد وہ انہیں پولیس کی کسٹڈی میں دینے کی بجائے اٹھا کر بہادر خان کے فلیٹ پر لے آئے ۔ اور پھر غازیان، چھوٹے خان اور ایشام کا قہر تھا۔ اور ان تین شوٹر کی تکلیف دہ چینخ و پکار۔۔۔
چونکہ وہ تینوں شوٹر اٹالین تھے۔ اس لئے ارسل، غازیان اور ایشام کے وار سہنے کی ان میں مزید ہمت نہیں بچی تھی۔ اس وجہ سے کچھ ہی دیر میں وہ جوزف ایلن کا پتہ تو کیا بلکہ اسکا ہر ٹھکانہ خوشی خوشی بتاتے چلے گئے۔
جوزف ایلن کا پتہ جان کر شہرام اور فاتح کے اشارے پر ان تینوں شوٹر کو دل پر فائر کرتے ہوئے غازیان، ارسل اور ایشام نے انکے انجام تک پہنچا کر سلطان کے حکم کے مطابق انکی لاشوں کو اپارٹمنٹ پر پہنچا دیا تھا۔
عیس تو بے یقینی سے سلطان کو دیکھتا چلا گیا تھا۔ جس نے صرف بے نیازی سے کندھے اچکانے پر اکتفا کیا تھا۔ ایک ٹارگٹ نمٹا کر وہ لوگ اب جوزف ایلن کے ٹھکانے کی جانب بڑھ چکے تھے۔ جو اپنی جیت کی خوشی میں کسی بل میں گھسا ہوا تھا۔۔
بھائیوں کے قاتلوں کو انجام تک پہنچانے کے لیے وہ لوگ خود کو بھی بھولے ہوئے تھے۔۔ اگر کچھ یاد تھا۔ تو صرف اتنا کہ انکے بھائیوں نے تکلیف اٹھائی ہے۔۔۔ نہ کھانے کی ہوش تھی اور نہ ہی پینے کی۔۔۔ جب تک جوزف ایلن کو جہنم واصل نہ کر دیتے تب تک انکے حلق سے نوالہ بھی نہیں اترنا تھا۔۔۔
شام ڈھلتے ہی وہ سب روانہ ہو گئے تھے۔ تاکہ جوزف ایلن کی اچھلتی ہوئی دم کاٹ سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اٹلی کا یہ مشہور و معروف کلب غیر قانونی کاموں کا ایک خاص ترین اڈا تھا۔ کلب کا نام "اے کلب" تھا۔ جو یقیناً جوزف ایلن نے اپنے نام پر ہی رکھا تھا۔ ابھی رات کی شروعات ہوئی تھی۔ لیکن خلاف معمول وہ آج اپنے کلب میں ابھی سے نظر آ رہا تھا۔۔
ورنہ اسکی آمد دیر رات میں ہوتی تھی۔ اور وہ جب بھی کلب میں آتا تھا۔ تو اسکے بیڈ روم میں نئی سے نئی لڑکی پہلے سے ہی موجود ہوتی تھی۔ جوزف کا یہ کلب انتہائی خاص تھا۔ کیونکہ اس کلب میں وہ لڑکیوں کی سمگلنگ، ڈرگز کا کاروبار، غرض ایسی نوعیت کے ہر کام کی میٹنگ وہ یہیں پر کرتا تھا۔
آج میں بہت خوش ہوں۔۔! آخر کار میں نے ان دو ایشین لڑکوں کو مار کر اپنا بدلہ لے ہی لیا۔۔۔" جوزف نے خباثت سے ہنستے ہوئے اپنے ساتھیوں کو دیکھتے ہوئے کہا تو وہ سب اسکی خوشی میں ہنستے ہوئے شراب کا گلاس منہ کو لگا گئے۔۔۔
پر جوزف تم نے اس لڑکی (سیلینہ) کو دوبارہ حاصل کیوں نہیں کیا۔۔؟ سنا تھا کہ وہ بہت پریٹی ہے۔۔! لائک ٹوٹلی کافی۔۔؟ جوزف کے ایک ساتھی نے اسے مخاطب کرتے ہوئے استفسار کرنا چاہا۔۔۔
وہ لڑکی تو مجھے بھی چائیے۔۔۔! پر وہ لڑکی مجھے ان ایشین لڑکوں کے اپارٹمنٹ پر کہیں بھی نہیں ملی۔۔! پتہ نہیں ان باسٹرڈ نے اسے کہاں چھپا دیا ہے۔..! پر تم فکر نہیں کرو۔۔! آئی ول گیٹ بیک ہر آن مائے بیڈ۔۔!۔
سلینہ کی خوبصورتی کو دماغ میں سوچتے ہوئے جوزف خباثت سے چباتے ہوئے بول گیا۔
جیت کی خوشی میں آج اس نے کلب میں سب فرینڈز کو پارٹی دی ہوئی تھی۔ اور صرف فرینڈز ہی نہیں بلکہ آج کلب میں آنے والے باقی سب بھی ہر چیز فری میں انجوائے کر رہے تھے۔ چونکہ یہ کلب اسکے بہت خاص اڈوں میں سے ایک تھا۔ اس لئے اس کلب کے باہر چاروں اطراف اور کلب کے اندر بھی ہر وقت گارڈز سیکورٹی کے لئے گھومتے رہتے تھے۔
جوزف اپنی جیت کے نشے میں چور قہقہے لگاتے ہوئے ایک لڑکی کو گود میں بٹھائے ہوئے تھا۔ کہ اچانک کلب میں ایک عجیب سا شور اٹھا۔۔۔
سب نے متجسس ہونے والے انداز میں سرعت سے نظریں گھما کر کلب کی اینٹرس کی جانب دیکھنا چاہا۔۔۔
فاتح سلطان اور شہرام ہمدانی اپنے ازلی سنجیدہ اور لاپرواہ انداز میں منہ میں الائچی ڈالے ہر طرف نظریں گھماتے ہوئے پورے اٹیٹیوڈ کے ساتھ اندر داخل ہوئے تھے۔۔
جوزف انکو صحیح سلامت اندر داخل ہوتے دیکھ کر بے ساختہ اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا تھا۔۔ جبکہ شہرام اور فاتح کے پیچھے جب ایشام صدیقی، ارسل خان اور غازیان پاشا نے بھی اینٹری ماری تو اس بار سب ششدر ہوتے رہ گئے تھے۔۔۔
انکے یوں بے فکرا انداز میں پوری شان کے ساتھ اینٹری مارنے والی ادا نے کلب میں موجود لڑکیوں کو دل تھام لینے پر مجبور کر دیا تھا۔ ان پانچوں کی خوبصورتی نے پل بھر میں سب کو اپنا دیوانہ کیا۔ جبکہ وہ سب بے زار نظروں سے سب کو نظر انداز کرتے ہوئے مضبوط قدموں سے چلتے ہوئے جوزف کے سامنے کھڑے ہو گئے۔۔ انکو اپنے موبائل کھڑے ہوتے دیکھ کر جوزف کا بے یقینی کے مارے منہ کھلتا چلا گیا۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔؟ پھٹ گئی۔۔۔۔؟ جوزف کے بے یقین ہونے پر فاتح اور شہرام کے ہونٹوں پر تمسخر بھری مسکراہٹ مچلی۔ تو وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے جوزف کے قدموں میں اسکے گارڈ پھینک گئے۔
وہ پانچوں باہر سیکورٹی کے لئے گھومتے ہوئے گارڈز کا قیمہ بنانے کے بعد یہاں پر اینٹر ہوئے تھے۔ جبکہ آتے ہوئے تحفے کے طور پر جوزف کے لئے دو گارڈ کو گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے آئے تھے۔۔۔
ایشام نے اپنے موبائل میں ایک مخصوص آپشن کلک کیا تو کچھ سیکنڈز کے بعد پورے کلب میں ایمرجنسی نافذ ہونے کی اناؤسمنٹ گونجنے لگی۔ سب لوگوں میں بھگڈر مچتے ہوئے دیکھ کر جوزف نے حیرت و ناسمجھی سے ہر طرف دیکھا تھا۔ جہاں کلب میں موجود لوگ اپنی اپنی جان بچانے کے لیے بھاگتے ہوئے باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگے تھے۔۔
اور اس افراتفری میں شہرام اور فاتح بنا موقع ضائع کیے جوزف پر پل بھرے۔۔
شہرام اور فاتح کو اپنا کام شروع کرتے ہوئے دیکھ کر باقی تینوں بار کاؤنٹر کی جانب بڑھ گئے ۔ گارڈ سب کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن اناؤسمنٹ کی آواز میں بار بار بمب لگنے کا سن کر ہر طرف کانوں کو پھاڑ دینے والا شور گونجنے لگا تھا۔۔
اوئے ویٹر تین اورنج جوس لے کر آ ۔۔۔! سٹول پر بیٹھتے ہوئے ارسل خان نے گردن کو دائیں بائیں جانب جھٹکا دیتے ہوئے جوس لانے کا حکم دیا تو ویٹر بوکھلاتے ہوئے جلدی سے انکو جوس پیش کرنے لگا۔۔ ارسل کی ڈیمانڈ پر ہنس کر غازی اور ایشام جوزف کی جانب متوجہ ہو گئے۔ جو شہرام اور فاتح کے ہاتوں پیٹتے ہوئے ابھی سے ہی آدھ مو نظر آنے لگا تھا۔۔۔
یہ سالا ایلین تو بہت کمزور نکلا۔۔۔! جوزف کو ایٹالین کہنے کی بجائے ایلین کے لقب سے نوازتے ہوئے ایشام نے جوس کا سیپ لیتے ہوئے افسوسناک بات کی۔۔ کیونکہ جوزف ابھی سے مرنے والا ہو گیا۔
پر وہ لوگ اتنی جلدی اسے مارنا نہیں چاہتے تھے۔ آدھے گھٹنے تک سارا کلب خالی ہو چکا تھا۔ جبکہ جوزف کے فرینڈز جو تھوڑی دیر پہلے اسکے ساتھ پارٹی انجوائے کر رہے تھے۔ وہ جوزف کو اتنی بری طرح مار کھاتے دیکھ کر کانپتے ہوئے وہاں سے بھاگنے کی تیاری پکڑنے لگے۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھی وہاں سے اپنی جان بچا کر رفو چکر ہو چکے تھے۔
جوزف کے ایک گارڈ نے آگے بڑھ کر شہرام اور فاتح پر وار کرنا چاہا تو ارسل خان کے ہاتھ میں موجود جوس کا گلاس اڑتا ہوا اسکے چہرے پر جا لگا۔ اگلے ہی پل وہ گارڈ بلبلاتے ہوئے زمین پر گر کے چینخنا شروع ہو گیا تھا۔۔۔۔
غازی اور ایشام نے پرسکون انداز میں آنکھوں سے مسکراتے ہوئے ارسل کی جانب دیکھا جو بگڑے تاثرات کے ساتھ اب اپنی جگہ سے کھڑا ہو کر گارڈ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ ایسا ممکن ہی نہیں تھا کہ شہرام اور فاتح پیٹتے رہتے اور ارسل خان پیچھے رہ جاتا۔۔۔ ایسے کتوں پر ہاتھ صاف کرنا ان تینوں کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ جسے پورا کرنے کا وہ کوئی بھی موقع نہیں جانے دیتے تھے۔۔۔
چچچ۔۔۔! جب کوئی تین بڑے لوگ آپس میں ڈسکشن کر رہے ہوں۔ تو چھوٹوں کو مداخلت نہیں کرنی چائیے ورنہ ایسی ہی خطرناک چوٹیں لگ سکتں ہیں ۔۔۔! زمیں پر گرے ہوئے گارڈ کے سامنے گھٹنوں کے بل جھکتے ہوئے ارسل خان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس بدتمیز گارڈ کو آداب سکھانے چاہے ۔ جن کو سن کر غازی اور ایشام جوس پیتے ہوئے قہقہ لگا گئے تھے۔
کیونکہ ارسل خان افسوس کا اظہار کرنے کے بعد اب اپنے ہاتھ صاف کرنے میں مصروف ہو گیا تھا۔ ایک کے بعد ایک گارڈ کے منہ کا نقشہ بگاڑتے ہوئے سیکنڈز میں اسکا سانس پھول کر بے ترتیب ہونے لگا۔۔۔
جبکہ دوسری طرف فاتح اور شہرام کا جوزف جیسے گند کو چھوڑنے کا کوئی آرادہ نہیں نظر آ رہا تھا۔۔۔
سوچا تھا۔۔! جس شرافت کے ساتھ اٹلی میں آئے تھے۔۔! اسی شرافت کے ساتھ یہاں سے چپ چاپ چلے بھی جائیں گئے۔۔۔! پر نہیں سالا۔۔۔! ہم اپن لوگوں کی شرافت کسی کو راس چے ہی نہیں...! فاتح نے پاس پڑی چئیر ایک ہاتھ سے کھینچتے ہوئے گھما کر جوزف کی ٹانگوں پر دے ماری تو اس خالی کلب میں جوزف کی درد ناک چینخیں بلند ہونے لگیں۔۔ فاتح کے تاثرات ایسے تھے۔ جیسے اندر ہی اندر اپنی شرافت کھو جانے کا بہت دکھ محسوس ہو رہا ہو۔۔۔
حرام کے گند۔۔۔۔!! تو نے جنہوں پر حملہ کروایا۔۔! وہ ہمارے بڑے بھائی تھے۔۔۔! ہمارا قلب تھے۔۔! ہماری نس نس میں دوڑنے والا جنون ہیں۔۔۔" شہرام کی گونجتی دھاڑوں پر بے ساختہ ان سب کی آنکھوں میں تیزی سے خون اترا تو وہ سب دوبارہ بے قابو ہوتے گارڈز کو بری طرح پیٹنا شروع ہو گئے۔۔۔
بلکہ شہرام تو خود سے ضبط کھونے کے بعد جوزف کا ایک بار پھر برا حال کرنے میں مصروف ہو گیا تھا۔ کہ بروقت فاتح نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے دبوچ کر پیچھے ہٹایا۔۔۔
شہری بس کر۔۔! ہمیں اس خبیث کو ڈیڈ لوگوں کے آگے بھی پھینکنا ہے۔۔! اگر یہ کتا مر گیا تو ہمارا کام ادھورا رہ جائے گا۔۔۔! فاتح نے شہرام کو کمر سے دبوچ کر اسکی پشت سینے سے لگاتے ہوئے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔ جس کی ہیزل آنکھوں اس وقت خون آلودہ نظر آ رہیں تھیں۔۔
تمام گارڈز کو ٹھکانے لگانے کے بعد ایشام، ارسل، اور غازیان بھی ہانپتے ہوئے انکے قریب آئے۔ سب کو زمین پر کراہتے ہوئے دیکھ کر بھی انکے جلتے ہوئے دل پرسکون ہوتے نظر نہیں آ رہے تھے۔۔۔
اچانک میسیج کی بیل ہونے پر ایشام نے موبائل نکالا تو باسم کاظمی کا میسج دیکھ کر اسکا دل تیزی سے دھڑک اٹھا۔۔ایشام نے جلدی سے باسم کا میسیج کھول کر دیکھنا چاہا تھا۔۔۔
باسم کا میسج پڑھ کر ایشام کی رگ رگ میں خوشی کی لہر دوڑی تو وہ کانپتی آواز میں خوشی سے بے قابو ہوتے انکو مخاطب کر گیا ۔۔
بببھ۔۔۔بھائی لوگوں کو ہوش آ گیا ہے۔۔۔! ایشام صدیقی کی خوشی سے لبریز آواز سن کر وہ سب خوشی و مسرت سے ایک دوسرےکو دیکھ کر اگلے ہی پل تیزی ایک ساتھ گلے لگتے چلے گئے۔۔۔۔
Post a Comment (0)
Previous Post Next Post