Janoon-e-Yaar Novel Complete by Amreeney Qais - Episode 21- urdu novels pdf download

ناول: #جنونِ یار

قسط: 21
از قلم : #امرینےقیس
(کچھ دنوں بعد)
فائنلی کچھ دنوں بعد ہم یہاں سے جا رہے ہیں۔۔۔! رستے میں پڑے چھوٹے سے پتھر کو پیر سے ٹھوکر مار کر فارس نے مسرور انداز میں بولتے ہوئے ساتھ چلتے ہوئے کبیر کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
جانے کی خوشی میں تیرے چہرے سے جو یہ لائٹیں نکلتی ہیں نا۔۔۔! میں تو بس انکو دیکھ دیکھ کر حیرت سے خوش ہوتا ہوں۔۔۔" فارس کی بے تابی دیکھ کر کبیر دل میں ماشاءاللہ بولتے ہوئے ہنسا تھا۔۔۔
انکے بزنس کا سارا کام یہاں سے وائنڈ آپ ہو چکا تھا۔ کبیر اور فارس نے دن رات ایک کر کے اپنے بزنس کو آخر کار پاکستان شفٹ کر لیا تھا۔ اور صرف بزنس ہی نہیں بلکہ یہاں انکی کمپنی میں جو سٹاف کام کر رہا تھا۔ وہ سب بھی پاکستان جا کر انکے ساتھ کام کرنے والے تھے۔
کبیر اور فارس نے اپنے سٹاف کو پاکستان میں بھی کام کرنے کے لیے اپائنٹ کر لیا تھا۔ وہ اپنے اتنے محنتی سٹاف کو ہر گز بھی کھونا نہیں چاہتے تھے۔ کیونکہ انکی کمپنی میں کام کرنے والا ہر انسان اپنی اپنی جگہ پر قابل ترین تھا۔۔
کبیر اور فارس نے کئی سالوں کی محنت کے بعد یہ ٹیم بنائی تھی۔ اس لئے وہ اپنی اتنی اچھی ٹیم ساتھ لے کر جا رہے تھے۔۔
چونکہ وہ سب پاکستان شفٹ کر رہے تھے۔ تو اس خوشی میں کبیر اور فارس اب ہر روز آفس سے واپسی پر واک کرنے کے لیے نکل جاتے تھے۔ انکے اپارٹمنٹ کے پاس ہی ایک خوبصورت سا ٹاؤن تھا۔ جس میں خوبصورت گلیاں اور چھوٹے چھوٹے گھر بنے ہوئے تھے۔
اس خوبصورت ٹاؤن میں بنی ہوئی گلیوں کو مختلف رنگوں سے پینٹ کرنے کے ساتھ ساتھ پھولوں سے سجایا بھی گیا تھا۔ یہاں تک کے ہر گھر کے باہر بیٹھنے کے لیے چیئرز اور ٹیبلز بھی موجود تھے۔
کبیر اور فارس پچھلے کئی دنوں سے یہیں پر آ جاتے اور پھر گھٹنوں یہاں پر واک کرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ باتوں میں بھی مصروف رہتے تھے۔۔
اور دو دن سے انکے نمونوں کو پتہ چل گیا تھا۔ کہ انکے بھائی آفس کے بعد یہاں پر آ رہے ہیں۔ تو وہ بھی اب انکے پیچھا کرتے کرتے اب یہاں پر ٹپک پڑتے تھے۔ اور پھر انکی شرارتیں ہوتیں اور بس ایک دوسرے کے ساتھ چھیڑ خانیاں بس۔۔۔ جن پر کبیر اور فارس مسکراتے ہوئے تاسف سے انکو دیکھتے اور وہ بنا شرمندہ ہوئے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں لگے رہتے۔۔۔
تمہیں لگتا ہے کہ پاکستان جانے پر ناز تمہیں منہ لگائے گی۔۔؟ کبیر نے مسکراہٹ دباتے ہوئے فارس کو چھیڑا تو حسب عادت وہ چہرہ موڑ کر اسے گھورنا شروع ہو گیا۔۔۔
اگر بہار تجھ جیسے خیبث کو منہ لگا لے گی، تو سمجھنا ناز مجھے بھی لگا سکتی ہے۔۔۔! فارس نے گھورتے ہوئے چھبتے لہجے میں اسے سنانا چاہا۔۔۔۔ جس کو سن کر کبیر کو پہلے سے بھی زیادہ ہنسی آئی تھی ۔۔۔ کئی دنوں سے وہ دونوں ایک دوسرے کو ایسے ہی چھیڑتے ہوئے تنگ کر رہے تھے۔۔
تم میری بہارے کی ٹینشن نہ لو۔۔! وہ تو میرا معصوم سا بلی کا بچہ ہے بس۔۔۔! اسے بس سینے میں چھپانے کی دیر ہے۔ باقی پھر منہ لگانا کونسی بڑی بات ہے ۔۔۔! کبیر نے چمکتی نیلی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے معنی خیزی لہجے میں جواب دیا۔ جس کو سن کر فارس کو شدید تپ چڑھ گئی۔۔۔
اگر ناز مجھے منہ نہیں لگائے گی۔۔! تو میں بہار کو منہ تجھے بھی نہیں لگانے دوں گا۔۔۔! فارس نے آگے بڑھ کر اسکی گردن کو دبوچا تو اسکے کڑھنے پر کبیر کا فلک شگاف قہقہ گونج اٹھا۔۔ مطلب وہ مان چکا تھا۔ کہ ناز اسے منہ نہیں لگانے والی۔۔۔
کمینے اپنی منحوس ہنسی بند کر۔۔! ورنہ تیرا سر پھاڑ دوں گا۔۔! کبیر کی چڑانے والی ہنسی پر بھڑکتے ہوئے فارس نے اسکی گردن میں بازو لپیٹ کر زور لگایا۔۔۔
تو چاہے میرا گلہ بھی دبا دے۔۔! پر تو اس حقیقت سے بھاگ نہیں سکتا کہ "گل ناز صدیقی" تجھے منہ تو کیا آنکھ بھی نہیں لگائے گی ۔۔! چاہے پھر تو جتنا مرضی ہیرو بن کر اسے سامنے جاتا رہ۔۔
کبیر نے اسکے بازو کو پکڑ کر ہنستے ہوئے پھر سے آگ لگانا چاہی۔ کیونکہ وہ گل ناز کی نیچر سے اچھے سے واقف تھا۔ وہ جب فارس سے ناراض ہوتی تھی۔ تو پھر چاہے فارس ایڑھیاں رگڑ لیتا تھا۔ لیکن ماننا ناز نے اپنی مرضی سے ہی ہوتا تھا۔ پر تب تک فارس کی جان سولی پر اٹکی رہتی تھی۔ اسکے برعکس بہار تو بس کبیر کی ایک نظر کی مار تھی۔ اپنی معصوم بلی کو وہ آرام سے قید کر سکتا تھا۔ اس لئے وہ فارس کی مستقبل میں خراب ہونے والی حالت پر ابھی سے مزے لینا شروع ہو گیا تھا۔۔
وہ بچپن تھا ۔۔! جب اس ہری مرچ کو منتوں مرادوں سے منانا پڑتا تھا۔۔! پر تو بے فکر رہ اب کیونکہ اس بار فارس ہمدانی اسکی سانسوں کو پیتے ہوئے اسے منائے گا۔۔۔" فارس نے اسکی گردن پر آخری بار زور لگا کر جھٹکے سے آزاد کرتے ہوئے زومعنی لہجے میں بول کر آگے قدم اٹھا گیا۔۔۔ جبکہ انکے نمونوں کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں تھیں ۔ جو شاید نہیں یقیناً یہاں پر آ چکے تھے۔۔۔
اور اگر پھر بھی نہ مانی تو۔۔۔؟ کبیر نے اسکے ارادوں پر ایمپریس ہو کر اسکے ہم قدم ہوتے رخ موڑ کر الٹے قدم اٹھاتے ہوئے پھر پوچھا۔۔۔
پھر بھی نہ مانی۔۔! تو کبیر خان تم خود کو ماموں بننے کے لئے تیار کر لینا۔۔۔! فارس نے ناک چڑھاتے ہوئے آخری حل بھی بتایا تو کبیر کا پھر فلک شگاف قہقہ گونجا تھا۔۔ جس پر فارس بھی ہنس دیا تھا۔۔۔ وہ دونوں ہنستے ہوئے ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے۔ کہ اچانک غازیان کی بلند بالا آواز انکے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔ کبیر نے چہرہ اٹھاتے ہوئے سامنے دیکھا تو غازیان دور سے بھاگتے ہوئے انہی کی طرف آ رہا تھا۔۔۔۔۔
بھائی۔۔۔!!!!! وہاں سے ہٹ جائیں۔۔۔!!! غازیان حلق کے بل پوری قوت لگاتے ہوئے چلایا تو کبیر نے سرعت سے رخ موڑ کر دیکھا۔۔ جہاں گلی کے آخری کونے میں دو شوٹر فارس کے دل کا مقام کا نشانہ باندھے کھڑے تھے۔ کبیر کے دیکھتے ہی انہوں نے فارس پر گولی چلائی تو کبیر پھرتی سے فارس کو جکڑتے ہوئے گھوم کر نیچے گرتا چلا گیا۔ لیکن فارس کے دل کے مقام پر لگنے والی گولی کبیر خان کے کندھے پر پیوست ہوئی تو غازیان کو اپنا دل رکتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔
غازی ہٹو وہاں سے۔..!!! فارس نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے چلا کر غازیان کو وہاں سے ہٹنے کا کہا۔۔ جو بت بنے کبیر خان کی شرٹ سے خون نکلتے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اس سے پہلے کہ گولی اس بار غازیان کا وجود چیڑتی کہ ارسل نے بھاگ کر اسے دھکا دیتے ہوئے دوسری طرف گرا دیا تھا۔۔
جبکہ شوٹرز کو مسلسل فائرنگ سٹارٹ کرتے دیکھ کر چھوٹی چھوٹی گلیوں میں چھپے ارسل اور غازیان نے جلدی سے اپنی گنز نکالیں تھیں۔۔
فاتح اور شہرام تو پہلے ہی جواب کاروائی شروع کر چکے تھے۔۔۔ باسم بھی انہی کے ساتھ موجود تھا۔۔
وہ سب مستی میں فاتح کو تنگ کرنے میں مصروف تھے۔ جب غازیان ہنس کر انکو وہیں چھوڑے کبیر اور فارس کی طرف بڑھ گیا تھا۔
غازیان تھوڑا نزدیک آیا تو گلی کے اندر سے اسے بڑے بھائیوں کے قہقہے سنائی دیے۔ تو وہ خوشگوار حیرت سے دل میں بے اختیار ماشاءاللہ بول گیا۔۔ وہ دونوں بہت کم یوں دل سے ہنستے تھے۔ ورنہ بس نرم سی مسکراہٹ اچھال کر پھر سنجیدگی اختیار کر لیتے تھے۔۔
غازیان موڑ کاٹ کر گلی میں داخل ہوا تو اسکی تیز نظروں کو گلی کے آخری کونے میں دو نقاب پوش نظر آئے ۔ پہلے تو وہ انکو دیکھ کر ٹھٹکا پر جب غازیان نے انکی گن کو فارس اور کبیر کا نشانہ باندھتے دیکھا تو وہ اسی پل چلا کر بھاگتے ہوئے انکی طرف بڑھنے لگا۔ چونکہ گلی بہت لمبی تھی۔ اس لئے کبیر اور فارس کی تک اسکی آواز نہیں پہنچ رہی تھی۔ کیونکہ وہ اپنے دھیان میں گم ایک دوسرے سے باتیں کرنے میں مصروف تھے۔ اور جب انہوں نے غازیان کی آواز سنی تب تک شوٹر نے فارس پر گولی چلا دی تھی۔۔
اس وقت ان دونوں کے پاس گنز نہیں تھیں۔ اس لئے فارس نے کبیر کو اٹھاتے ہوئے دائیں گلی میں مڑنا چاہا تو اسکی گلی کے اینڈ سے گزرتے ہوئے ایک اور شوٹر نے تیزی سے فارس پر شوٹ کر دیا۔ کبیر کے پیچھے دھکا دینے کے باوجود بھی وہ آگ کا شعلہ فارس ہمدانی کا سینہ چھلنی کر گیا تھا۔۔ فارس کا وجود ایک جھٹکا کھاتے ہوئے زمین بوس ہوا تو کبیر خان کی چینخ پوری فضا کو چیرتی چلی گئی۔۔۔
فارس تم ٹھیک ہو؟ کبیر خان بھاگ کر فارس کی طرف بڑھا۔ جس کی سفید شرٹ خون سے بھیگتی جا رہی تھی۔۔۔ کبیر خان اسکی سفید شرٹ سے خون نکلتے دیکھ کر بے یقین ہوا تو فارس مسکرا کر اپنے یار کو دیکھے گیا۔
خان میں ٹھیک ہوں۔! فارس نے تکلیف سے بامشکل مسکراتے ہوئے اسے یقین دلانا چاہا۔
بھائی! بھائی! غازیان ان دونوں کو بلند آواز میں مسلسل پکارتے ہوئے تیزی سے بھاگتے ہوئے گلی میں داخل ہوتے انکے قریب پہنچا تو اپنے دونوں بڑے بھائیوں کو زخمی دیکھ کر اسکا مضبوط دل سینے میں بے اختیار جکڑا گیا۔۔۔
غازیان نے حلق کے بل چلاتے ہوئے کبیر خان کو ہوش دلانے کی کوشش کی تھی۔ جو فارس کا سر اپنی گود میں رکھے فریز ہو چکا تھا۔۔۔
اپنے بھائی کو ہوش حواس بھلائے دیکھ کر فارس نے سینے میں اٹھتی ہوئی تکلیف پر ضبط کرتے ہوئے کبیر خان کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ مسکرا کر ہمیشہ والے الفاظ توڑ توڑ کر ادا کرنے کی کوشش کرنے لگا تھا ۔۔
رہے۔ نہ۔ رہے- یہ- جیون -کبھی،- بنی -رہے- یہ -دوستی۔۔۔
ہے -تیری- قسم -او- یارا- میرے،- جدا -ہم -نہ ہونگے- کبھی۔۔
فارس لفظوں کو توڑتے ہوئے بولا تو کبیر خان کی وحشت زدہ آئس بلو آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کر بکھرتا چلا گیا تھا۔
بھائی ہوش کریں! فاری بھائی کو جلد از جلد ہاسپیٹل لے کر جانا ہو گا۔ غازی نے جلدی سے فون پر فاتح کو گاڑی لانے کا کہتے ہوئے کبیر خان کو ہوش دلانا چاہی تو کبیر خان کی حالت دیکھ کر غازیان کے ہاتھ سے بے اختیار موبائل چھوٹ کر نیچے گر گیا تھا۔۔
سینے پر گولی لگنے کی وجہ سے فارس ہمدانی جو ضبط سے اپنے یار کو ہمت دیتے ہوئے ابھی بے ہوش ہوا تھا۔ لیکن آنکھیں بند کرنے سے پہلے وہ یہ نہیں دیکھ پایا تھا کہ کبیر خان اسکے ہوش کھونے سے ہی اپنے دیو ہیکل وجود کے ساتھ زمین بوس ہو چکا تھا۔
اٹلی میں ڈھلنے والی یہ شام قہر ذدہ ثابت ہونے والی تھی۔ آج کی ڈھلتی یہ شام کہاں جا کر اختتام پزیر ہو گی۔ غازیان پاشا اس سے بے خبر تھا۔
کچھ لمحوں کے توقف کے بعد ایک گاڑی نے آ کر غازیان پاشا کے قریب زور سے بریک لگائی تھی۔ اگلے ہی پل ایشام بجلی کی سی رفتار سے گاڑی سے باہر نکلتے ہوئے اپنے بڑے بھائیوں کی طرف بڑھا تھا۔ اٹلی کی اس گلی میں باسم کاظمی کی بھی اذیت ناک چیخ بے ساختہ گونجی تھی۔
باسم اور ایشام نے غازی کو ہوش دلاتے ہوئے جلدی سے آگے بڑھ کر کبیر خان اور فارس ہمدانی کے بے ہوش جسموں کو گاڑی میں لٹایا تو گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے غازیان پاشا کے کانوں میں بے اختیار دو ایک ساتھ گنگناتی ہوئی آوازیں گونجنے لگیں تھیں۔
رہے نہ رہے یہ جیون کبھی، بنی رہے یہ دوستی۔۔۔
ہے تیری قسم او یارا میرے، جدا ہم نہ ہونگے کبھی
وہ جدا نہیں ہونگے ، غازیان نے سینے میں خوف سے دھڑکتے ہوئے دل پر قابو کرتے ہوئے اس نے جھکتے ہوئے اپنے دونوں بڑے بھائیوں کے ماتھے پر باری باری ہونٹ رکھ دیے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان آرمی یونیفارم میں کئی آفیسرز کی بھاری سکیورٹی میں عیس علی ہمدانی اور سلطان احمد خان ہاسپٹل میں داخل ہوئے تھے۔۔ جبکہ چہروں پر اس وقت خون جما دینے والی سختی چھائی ہوئی تھی۔
انکے ہاسپٹل میں داخل ہوتے ہی بھگدڑ مچ گئی تھی۔۔ عیس علی ہمدانی اور سلطان احمد خان تیزی سے قدم اٹھاتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔۔ کہ سامنے ہی سب کھڑے نظر آئے۔۔۔ عیس اور سلطان کو دیکھ کر وہ سب حیرت و استعجاب سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ گئے۔
کبیر اور فارس کی حالت کے بارے میں انہوں نے تو پاکستان میں کسی کو خبر ہی نہیں تو پھر انکو کیسے پتہ چلا ۔۔
باسم کہاں ہے۔..؟ سلطان نے سب پر نظر ڈالتے ہوئے سرد لہجے میں استفسار کیا۔۔۔
بڑے بابا وہ آپریشن تھیٹر میں ہی ہے۔۔۔! ایشام نے تیزی سے جواب دیتے ہوئے بتایا تو وہ سلطان سر کو جنبش دے گئے۔۔۔جبکہ عیس آفیسرز کو وہیں روک کر انکے قریب آیا تھا۔۔۔
حملہ کس نے کیا تھا۔۔؟ عیس نے سپاٹ لہجے میں سب سے پوچھنا چاہا۔۔۔ سلطان اور عیس کی کڑی نظروں کو دیکھتے ہوئے انہوں نے بے بسی سے ایک دوسرے پر نظر ڈالی۔۔۔
ہم اس بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ڈیڈ۔۔۔! شہرام نے آگے بڑھ کر سنجیدہ لہجے میں جواب دیا تو عیس نے اسے ملامتی نظروں سے دیکھنا چاہا۔۔ لیکن فلوقت یہ مشکل وقت تھا۔۔۔
اسی وقت باسم آپریشن تھیٹر سے باہر نکلا تو وہ سب بے چینی سے اسکی جانب بڑھ گئے۔۔۔
باسم بھائی لوگ کیسے ہیں۔۔۔!! غازیان نے نم آنکھوں پر قابو ہوتے ہوئے تکلیف سے پوچھا۔۔ جبکہ باسم جو خود بھی کب سے ضبط کیے ہوا تھا۔ کہ ان سب کی حالت دیکھ کر آنسو حلق میں اتارنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔ اسکی نظر ابھی سلطان اور عیس پر نہیں پڑی تھی ۔ کیونکہ وہ باسم کے ساتھ نکلے ہوئے ڈاکٹرز سے پوچھ گچھ کر رہے تھے۔۔۔
کبیر بھیا کے کندھے میں گولی لگی ہے۔! اور فاری بھیا کو جو گولی لگی ہے۔۔۔! باسم نے کانپتی آواز میں آنسو صاف کرتے ہوئے لائن ادھوری چھوڑی۔۔۔ وہ تڑپتے ہوئے اسکے بولنے کا انتظار کرنے لگے۔۔۔۔
فاری بھیا کو جو گولی لگی ہے۔۔! وہ انکے دل کے پاس لگی ہے۔۔۔! آپریشن کر کے دونوں کی گولیاں نکال دیں گئیں ہیں۔۔پر پہلے فاری بھیا کا ہوش میں آنا ضروری ہے۔۔۔! کیونکہ کبیر بھیا نے اپنی انکھوں سے انکو سینے پر گولی لگتے ہوئے دیکھا ہے تو اس لئے کبیر بھائی کا نروس بریک ڈاؤن ہو گیا ہے۔۔۔! باسم نے زرا سکینڈ کا وقفہ لیتے اپنی بات مکمل کی تو وہ شاکڈ نظروں سے اسے دیکھ گئے۔ جو چہرہ جھکائے اپنے آنسو کنٹرول کرنے کی کوشش میں ناکام ہو گیا تھا۔۔۔
باسم۔۔۔! سلطان کی رعب دار آواز نے اسے اچانک پکارا تو باسم کاظمی نے ایک جھٹکے میں سر اٹھاتے ہوئے دیکھا۔۔۔ اپنے بڑے بابا کو یہاں پر دیکھ کر وہ تیزی سے آگے بڑھ کر انکے سینے سے لگ گیا تھا۔۔۔ اپنوں کے معاملے میں وہ سب سینسیٹو تھے۔ پر باسم کاظمی سب سے زیادہ تھا۔
بڑے بابا۔۔ بھائی۔۔۔!! باسم، سلطان کے سینے میں چہرہ چھپاتے ہوئے اچانک رو پڑا تو سلطان کو اپنا دل چیرتا ہوا محسوس ہوا تھا۔ جبکہ عیس نے آنکھوں میں آئی نمی چھپانے کے لیے رخ موڑ لیا تھا۔۔۔
تم اتنے دلیر ہو کر ایسے رو نہیں سکتے باسم۔۔۔! اور ہم تم لوگوں کو کبھی یوں رونے دیں گئے۔۔۔! اس لئے اپنا دل مضبوط کرو اور اللہ پر بھروسہ کر کے جی جان لگاتے بھائیوں کا علاج کرو۔۔۔! اگر کبیر خان اپنے بھائی کی تکلیف کو دیکھ کر اس حالت میں پڑا ہے۔۔! تو اسکے بے ہوش وجود کو جھنجھوڑتے ہوئے جگاؤ ۔۔۔! اسے بتاؤ کہ وہ اٹھ کر اپنے بھائی کا بدلہ لے۔۔۔! جگاؤ گئے بھائی کو۔۔۔؟ دو گئے کبیر خان کو ہمت۔۔۔؟
سلطان اسکا خوبصورت چہرہ ہاتھوں میں بھر کر ٹھہرے ہوئے انداز میں مضبوط لہجے میں بولتا چلا گیا ۔۔ جس پر باسم کاظمی نے جلدی سے اپنی آنکھوں کو صاف کر کے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔ باسم کو ہمت کرتے دیکھ کر سلطان نے قربان ہوتے آگے بڑھ کر اسکے ماتھے کو چوما تھا۔۔۔
وہ قد میں تو انکے برابر آ چکے تھے۔۔ لیکن آج بھی وہ انکے وہی چھوڑے چھوٹے شیطان تھے۔ جو پاکستان سے لڑتے جھگڑتے انکو تنگ کرتے ہوئے یہاں پر آئے تھے۔ اور جب وہ واپس جانے والے تھے۔ تو قسمت نے انکو اتنے بڑے نقصان سے دو چار کر دیا۔۔۔ ظالموں نے پیٹھ پیچھے وار کرتے ہوئے انکے شیروں کو یہاں پر پہنچا دیا تھا۔ کہ انکی ایسی حالت دیکھ کر انکے بھائی ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر آ رہے تھے۔۔۔
کیا یہیں پر کھڑے رہ کر ماتم کرنے کا ارادہ ہے؟یا پھر ہاتھ پاؤں چلاتے ہوئے بھائیوں کے قاتلوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کرنا پسند کرو گئے۔۔۔! سب کو وہیں پر بت بنے دیکھ کر عیس نے رعب سے بولتے ہوئے سرد لہجے میں انکو ہوش دلائی تو وہ چونکنے والے انداز میں اپنی اپنی نم آنکھیں صاف کر کے سلطان اور عیس کے سامنے بالکل الرٹ انداز میں کھڑے ہو گئے۔۔
سب کو ہمت باندھتے دیکھ کر عیس اور سلطان کے دل کو زرا سکون پہنچا تھا۔ ورنہ انکی کٹی پٹی حالت انکا دل زخمی کرنے کا سبب بن رہی تھی۔۔۔
باسم۔۔! تم بھائیوں کے پاس رہو۔۔! انکو ہوش میں لانے کی کوشش کرو۔۔۔! آفیسرز کی ٹیم کبیر اور فارس کی سکیورٹی کے لئے تمہارے ساتھ رہے گی۔۔! ہم زرا اٹلی کے سستے گنڈوں سے نمٹ کر آتے ہیں ۔۔۔! ہمارے لوٹنے تک کبیر خان اور فارس ہمدانی ہمیں ہوش میں چائیے ۔۔ اوکے۔۔۔؟ سلطان احمد خان نے باسم کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے اسے آرڈرز دیے تو باسم نم آنکھوں سے مسکراتے ہوئے عیس اور اور سلطان کا ہاتھ چوم کر واپس مڑ گیا تھا۔ تاکہ اپنے بھائیوں کو ہوش میں لا سکے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دن پہلے تم لوگوں نے کوئی کلب سیل کروایا تھا کیا۔۔۔؟ عیس نے سب پر نظر ڈال کر جاننے والے انداز میں استفسار کرنا چاہا تو وہ سب خاموش نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھ گئے۔۔۔ فاتح نے بے دردی سے دانتوں تلے اپنا لب کچل دیا تھا۔۔۔
جی چھوٹے بابا۔۔! ہماری یونی کی ایک لڑکی کو اغوا کیا گیا تھا۔ تو میں نے ہی کیس کرتے ہوئے سیل کروا دیا تھا۔۔۔! غازیان پاشا نے سنجیدگی سے بولتے ہوئے جواب دیا تو عیس اور سلطان سمجھتے ہوئے سر کو جنبش دے گئے۔۔۔
رائٹ۔..! اسی کلب کے آنر "جوزف ایلن" نے کبیر اور فارس پر حملہ کروایا ہے۔ آسان لفظوں میں کہا جائے تو اس نے اپنا بدلہ لینے کی کوشش کی ہے۔ چونکہ اسکا کلب سیل کروانے والے شہرام علی اور فاتح سلطان ۔۔۔"
سلطان نے بات شروع کرتے ہوئے اچانک رک کر زور دیتے ہوئے فاتح کا پورا نام لیا تو وہ چونک کر سوالیہ نظروں سے اپنے باپ کو دیکھنے لگا۔۔۔ باپ کے منہ سے اپنا نام سن کر دل میں خدشہ بھی پیدا ہوا تھا۔۔۔
کچھ نہیں ۔۔۔!! تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ جوزف نے دراصل کبیر اور فارس کو شہرام اور فاتح سمجھ کر غلطی سے ٹارگٹ کیا ہے۔ کیونکہ وہ نہیں جانتا تھا۔ کہ شہرام اور فاتح کے جڑواں بھائی بھی ہیں۔۔! اس لئے شکلوں سے دھوکا کھاتے ہوئے وہ پچھلے کئی دنوں سے کبیر اور فارس کو فالو کروا رہا تھا۔ اور کل موقع ملتے ہی اس نے کبیر اور فارس کو مارنے کے لیے شوٹرز بھیج دیئے تھے۔ کیونکہ جوزف ایلن اٹلی کی بلیک ورلڈ کا چھوٹا موٹا ڈون بھی سمجھا جاتا ہے۔۔۔ اور یہ رہی اسکی تصویر۔۔!۔
سلطان نے بات مکمل کرتے ہوئے ریپر سے کچھ تصویریں نکال کر ٹیبل پر انکے آگے پھینکیں ۔ تو وہ حیرانی سے انکو دیکھ گئے۔ جن کے پاس اتنی انفارمیشن تھی۔ جبکہ شہرام اور فاتح تو یہ جان کر سٹل ہو چکے تھے۔ کہ انکے بھائیوں نے انکے حصے کی تکلیف خود پر لے لی تھی۔۔۔ وہ سب ڈسکشن کرنے کے لیے اپارٹمنٹ میں چلے آئے تھے۔ ہاسپٹل میں باسم کے ساتھ ساتھ بہادر خان بھی موجود تھا۔
بڑے بابا اپکو اتنی انفارمیشن کیسے۔۔۔! غازیان نے کچھ الجھن سے پوچھا۔۔۔ تو عیس ہمدانی اور سلطان احمد خان بیک وقت مسکرا دیے۔۔۔
تم لوگ جوان ضرور ہوئے ہو..! پر ہم ابھی بوڑھے نہیں ہوئے۔۔۔! اینڈ ریمیبرر مائے سن۔۔۔! ببر شیر بوڑھا ہو کر بھی جنگل کا بادشاہ اور چھوٹا شیر شہزادہ ہی رہتا ہے۔۔۔" عیس نے جتاتے ہوئے انداز میں سب پر نظر ڈال کر جواب دیا تو وہ دل ہی دل میں ایمپریس ہوئے بنا نہ رہ سکے۔۔۔
پر ببر شیر کو ایک نہ ایک دن تو بادشاہت سے اترنا ہی پڑتا ہے نا۔۔۔! تاکہ شہزادے چھوٹے شیر کو تاج پہنا کر اگلا بادشاہ بنایا جا سکے۔۔۔" شہرام جو دل میں تو باپ کے لفظوں سے ایمپریس ہو چکا تھا۔ لیکن اسکے باوجود بھی ایبرو اچکاتے ہوئے باپ کو سلگانا نہ بھولا تھا۔۔۔ انداز بہت کچھ باور کروانے والا تھا۔ کہ ایک نہ ایک دن تو ببر شیر کو ریٹائر ہونا ہی ہے۔۔۔
شہرام کے سلگانے پر سلطان اور عیس کی آنکھوں کا فوکس شہرام پر ہوا جو ٹانگ پر ٹانگ رکھے چڑانے والے انداز میں انہی کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔
جب تک ببر شیر خود نہ چاہے۔۔! تب تک کوئی مائی کا لعل شہزادہ اس سے بادشاہت نہیں چھین سکتا۔۔۔! اور اکثر زبان زیادہ چلانے پر بادشاہ ایسے بدتمیز شہزادوں کو بادشاہت سے بے دخل بھی کر دیتے ہیں۔۔۔" سلطان نے اسے گھورتے ہوئے طنزیہ لہجے میں بولتے ہوئے لفظوں ہی لفظوں میں سمجھانا چاہا تھا کہ وہ پنگا نہ لے ورنہ کہیں اسکے بادشاہت میں آنے کا خواب، خواب ہی نہ رہ جائے ۔۔۔۔
سلطان کے جواب پر شہرام محفوظ ہوا تو سب مسکراہٹ کر سنجیدہ انداز میں بیٹھ گئے۔۔۔
ہمارے ہیڈ کواٹر نے یہاں کی پولیس کو انفارم کر دیا ہے۔..! تاکہ سکیورٹی ایشوز نہ ہوں۔ پہلے ہی ہمارا بہت نقصان ہو چکا ہے۔۔۔! یہاں کی پولیس جوزف کو ڈھونڈنے میں لگ چکی ہے۔ پر اٹلی کی پولیس فورس سے پہلے، پہلے تم سب کو جوزف ایلن اور ان تین شوٹرز کو ڈھونڈ کر یہاں لانا ہے۔..! اور اگر پولیس نے تم لوگوں سے پہلے انکو ڈھونڈ لیا۔۔! تو اپنے انجام کے لئے تیار رہنا ۔۔۔"
سلطان کے بات ختم کرتے ہی عیس نے سپاٹ لہجے میں بولتے ہوئے انکو سرد انداز میں رعب و غصے سے حکم سنائے تو وہ سب ایک دم سے سپاٹ ہوتے چلے گئے۔۔
ڈونٹ وری چھوٹے بابا۔۔! کل تک یہ چاروں بندے آپکے سامنے اس اپارٹمنٹ میں ہونگے۔۔۔" ٹیبل سے تصویریں اٹھاتے ہوئے فاتح اپنے دراز قد کے ساتھ ایک عظم سے بولتے ہوئے کھڑا ہوا تو باقی سب بھی اٹھ کر اسکے پیچھے باہر کی جانب بڑھ گئے۔
انکے جاتے ہی عیس اور سلطان نے سرد سانس خارج کرتے اپنی اپنی چئیر سے ٹیک لگا لی ۔۔۔

خان میں کبیر اور فارس کو ایک بار دیکھنا چاہ رہا ہوں۔۔۔! کچھ لمحوں کے توقف کے بعد عیس نے دکھ سے بولتے ہوئے اپنی بے بسی ظاہر کی تو سلطان نے اذیت سے آنکھیں میچیں۔۔۔ جوان بیٹوں کو یوں دیکھنا بہت بڑے جگڑے کا کام تھا۔۔۔ 

Post a Comment (0)
Previous Post Next Post