ناول: #جنونِ یار
قسط: 19
از قلم: #امرینےقیس
رات کے وقت فاتح اور شہرام ایک مخصوص کلب میں داخل ہوئے۔ جہاں ہر کلب کی طرح جوان نسل انجوائے کرنے میں مصروف تھی۔ لڑکیاں اور لڑکے ایک دوسرے کی بانہوں میں جھول رہے تھے۔ اور کچھ نشہ کرنے کے بعد اپنی اپنی گرل فرینڈز کے ساتھ اب کمروں کی بڑھ رہے تھے۔۔
شہرام اور فاتح نے ہر طرف نظر دہرائی، پر انہیں وہ چہرہ نہیں دکھائی دیا تھا۔ جس کی تلاش میں وہ آج یہاں پر آئے تھے۔
شام تمہیں کنفرم یے؟ کہ لوکیشن اسی جگہ کی یے۔۔۔؟ کان پر لگی ہوئی بلوٹوتھ ڈیوائس میں ایشام کو مخاطب کرتے فاتح نے سرد لہجے میں کنفرم کرنا چاہا۔۔۔ جبکہ اسکے ساتھ کھڑا شہرام ہر چیز کو غور سے دیکھ رہا تھا۔
تمہیں کیا لگتا ہے؟ کہ میں نے ہیکنگ میں جھگ مارا ہوا ہے؟ یا سوشل میڈیا پر "ایشام صدیقی" ''ڈیجیٹل دہشت گرد اور ہیکنگ کلر" کے نام سے خوامخواہ میں مشہور ہے۔۔۔؟ فاتح کے بار بار ایک ہی سوال کرنے پر وہ طنزیہ لہجے میں چڑتے ہوئے خوامخواہ اپنی تعریف میں بول گیا۔۔۔
سالے اپنی ہیکنگ کا اتنا بھاؤ کیوں کھا رہا ہے۔۔؟ کبھی ہیکنگ غلط بھی ہو سکتی ہے؟ اس لئے وہ تیرے سے بار بار پوچھ رہا ہے۔۔۔؟ ایشام کو اپنے جگر پر بھڑکتے ہوئے سن کر شہرام نے اسے بلوٹوتھ پر سنانا چاہا تھا۔۔۔
جبکہ ایشام جو اپنے کمرے میں بیڈ پر لیپ ٹاپ لیے بالکل الرٹ انداز میں بیٹھا ہوا تھا۔ اور صرف وہی نہیں، بلکہ ایشام کے ساتھ ساتھ باسم، غازیان، اور ارسل بھی الرٹ انداز میں موجود تھے۔ جیسے ابھی شہرام اور فاتح آواز لگائیں گئے۔ تو وہ بھاگتے ہوئے یہاں نکلیں گئے۔۔۔
تم دونوں یہ فالتو کی بکواس چھوڑ کر سیدھا سیدھا شام کی بات کو فالو کیوں نہیں کر لیتے، تاکہ سوال پوچھنے کی نوبت ہی نہ آئے۔۔۔! غازی نے موبائل میں سے بولتے ہوئے شہرام اور فاتح کو جھاڑ پلائی۔ جو فضول کی بحث میں اپنا وقت ضائع کر رہے تھے۔
اپنے کمرے میں کبیر اور فارس سکون سے سو رہے تھے۔ وہ یقیناً اپنے نمونوں سے بے خبر تھے۔ کہ آدھی رات میں وہ کونسا مشن سر انجام دینے والے ہیں۔۔
یار میں بس اس لئے پوچھ رہا ہوں۔ کیونکہ وہ بہت بے وقوف سی تھی، وہ اس کلب وغیرہ میں کیسے آ سکتی ہے۔۔؟ فاتح چلتے چلتے جو اردگرد مسلسل نظریں دہراتے ہوئے بیٹھنے کے لیے بار کے نزدیک پڑے ہوئے کاؤچ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ کہ بے اختیار اسکی نظر ایک کونے میں اٹکی۔تو اگلے ہی پل اسکے قدم زمین پر خود بخود جکڑتے چلے گئے تھے۔۔۔۔۔ اسکے ساتھ چلتے ہوئے شہرام نے بھی رکتے ہوئے اسکی نظروں کی تقلید میں دیکھا تو وہ بھی حیرانی کی حدوں کو چھوتا چلا گیا تھا۔۔۔
سالوں میں بکواس نہیں کر رہا۔۔! جو نمبر مجھے تم لوگوں نے دیا ہے..! آج شام سے اس نمبر کی لوکیشن اسی کلب میں شو ہو رہی ہے۔۔۔! ایشام اس بار بھڑکتے ہوئے بولا۔۔۔ جبکہ دوسری طرف شہرام نے تیزی سے بولتے ہوئے اسے ٹوکا۔۔۔
ایشام وہ ہمیں نظر آ گئی ہے۔۔! بس الرٹ رہنا کہ اسکی لوکیشن اب مس نہ ہو۔۔۔! شہرام نے جلدی سے بولتے ہوئے فاتح کی جانب دیکھا۔ جو سامنے والے منظر کو دیکھ کر فریز ہو چکا تھا۔۔۔
اوکے اوکے ہم دیکھ رہے ہیں۔۔! تم لوگ بس ہمیں آپ ڈیٹ دیتے رہو۔۔۔! غازی نے تیزی سے بولتے ہوئے ایشام کو انگلیاں چلاتے دیکھ کر شہری کو جواب دیا۔۔۔
یہ اسکی چاکلیٹ گرل نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔! کیا یہ سچ میں وہی سلینہ تھی۔۔؟ وہ اس کلب میں ویٹرس کیوں بنی ہوئی تھی۔۔؟ ماسک میں چھپے ہوئے فاتح کے چہرے کے تاثرات انتہائی سپاٹ ہوئے۔ تو وہ زور سے مٹھیاں بھینچتے ہوئے بے یقین ہوا۔۔۔
فتی کول ڈاؤن۔۔! فاتح کے ہاتھ کی مٹھیوں کو کھولتے ہوئے شہرام نے اسے زبردستی پیچھے رکھے صوفے پر جلدی سے بیٹھایا۔۔ وہ اسکی حالت اچھے سے سمجھ رہا تھا۔ اتنے سالوں کے بعد اپنی محبت کو یوں اس جگہ پر ایسی حالت میں دیکھنا آسان نہیں تھا۔ شہرام اسکی حالت بخوبی محسوس کر سکتا تھا۔۔۔
فاتح وہ دیکھو سلینہ بہت ڈری ہوئی لگ رہی ہے۔۔۔! فاتح جو سلینہ کو یہاں پر دیکھ کر خود پر ضبط کرتے ہوئے کسی غیر مرئی نقطے پر نظریں جمائے زمین کو اب دیکھ رہا تھا۔ کہ اچانک شہرام کے کندھا ہلانے پر سلینہ کی جانب دوبارہ دیکھنے لگا۔۔۔
جو وائٹ شرٹ کے ساتھ بلیک سکرٹ پہنے ہوئے تھی۔ چاکلیٹ براؤن آنکھوں میں چمکتی ہوئی نمی دور سے ہی دیکھی جا سکتی تھی۔ جبکہ شہد رنگ بالوں کی ٹیل پونی بنائے وہ ڈری سہمی سی سب کو ڈرنکس سرو کر رہی تھی۔ اسکے ہاتھوں میں موجود ٹرے کو کانپتے دیکھ کر فاتح اور شہری نے ایک دوسرے کو بیک وقت دیکھا تھا۔۔
یونیورسٹی میں اپنی گریجویشن مکمل کرتے ہی سلینہ غائب ہو چکی تھی۔ اسکا یوں بنا بتائے کہیں گم ہو جانے والے عمل نے فاتح کے دل پر گہرا وار کیا تھا۔ سلینہ نے اپنی یونیورسٹی کے چار سالوں میں فاتح سلطان کو مکمل طور اپنا اسیر کر لیا تھا۔ وہ فاتح سلطان جو اس چھوئی موئی سی لڑکی کی محبت پر یقین کرنے سے ڈر رہا تھا۔ بلاآخر اسے اپنے گھٹنے ٹیکنے پڑے تھے۔
سلینہ کی معصوم بے وقوفیوں اور اسکا شرما شرما کا فاتح کو دیکھنا، کافی شاپ میں بار بار مڑتے ہوئے فاتح کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا، یہ سب ادائیں فاتح سلطان کو اسکی محبت میں گرفتار کر چکی تھیں۔
سلینہ کی چاکلیٹ براؤن آنکھوں جتنی فاتح سلطان سے باتیں کرتیں تھیں۔ وہ خود اتنا ہی اسکے سامنے چپ رہتی تھی۔ کیونکہ فاتح کے سامنے اسکی زبان بولنے سے انکار کر دیتی تھی۔
لیکن اسکے یوں بنا بتائے غائب ہونے والی ادا نے فاتح سلطان کو اندر تک زخمی کر دیا تھا۔ بظاہر وہ سب کے سامنے نارمل رہتا تھا۔ پر سینے میں موجود اسکا دل صرف سلینہ کی یادوں میں سلگتا رہتا تھا۔ سلینہ کے جانے کے بعد فاتح اور شہرام نے کئی بار اسکے فلیٹ پر چکر لگایا لیکن وہ فلیٹ ہمیشہ ہی بند ملا تھا۔۔
پھر ایک دن ہمت و امید چھوڑتے ہوئے فاتح نے اپنے دل کو اس بات پر راضی کر لیا۔ کہ وہ اسکے دل کے ساتھ کھیل کر جا چکی ہے۔ وہ چھوٹی سی لڑکی فاتح سلطان کو بے وقوف بنا کر بے وفائی کر کے جا چکی ہے۔۔
پر شہرام اسکی ان باتوں کو نہیں مانتا تھا۔۔۔ شہرام کا ماننا تھا۔ کہ سلینہ کے غائب ہونے کے پیچھے کوئی مجبوری یا بڑی وجہ ہو سکتی ہے، پر بے وفائی نہیں ہو سکتی۔
جو لڑکی معصومیت میں دوسروں پر اپنی وقوفیوں کو آشکار کر دے۔ وہ بھلا بے وفائی کے مطلب سے کہاں واقف ہو گی۔
شہرام نے بہت کم وقت میں سلینہ کی شخصیت اور نیچر کو جانا تھا۔ اگر اسکی شخصیت میں کہیں بھی شک کی گنجائش نکلتی۔ تو شہرام کبھی بھی اپنے بھائی کو اسکی محبت میں گرفتار نہ ہونے دیتا۔۔۔ اور پھر یہ کیسی بے وفائی تھی؟ جس میں کوئی دھوکا نہیں تھا؟ کوئی تیسرا شخص نہیں تھا؟ کوئی شک نہیں تھا؟ کوئی سوال نہیں تھا؟ بس غائب ہو جانے کو وفائی نہیں مانا جا سکتا تھا۔۔
اب چونکہ انکے پاکستان واپس جانے کا وقت قریب سے قریب آ رہا تھا۔ تو اس لئے ایک بار پھر پر امید کرتے شہرام نے فاتح کو آمادہ کیا کہ جانے سے پہلے سلینہ کو ڈھونڈا جائے۔۔
کل جب انہوں نے ایشام کو سلینہ کا سالوں پرانا نمبر دیا تو وہ بند تھا۔ لیکن اسکی آخری لوکیشن کسی دوسرے شہر کی مل رہی تھی۔
شہرام نے کل ایشام کو ساری صورتحال سے آگاہ کر دیا تھا۔ اسی وجہ سے کل ایشام ان پر طنز کے تیر برسا رہا تھا۔ لیکن پھر بعد میں یہ ہی طے پایا گیا۔ کہ باقیوں کے واپس آ جانے پر اس مسلے کو دیکھا جائے۔
شہرام کی ہر طرح سے صرف ایک ہی کوشش تھی۔ کہ بس ایک بار سلینہ کا پتہ لگتا اور پھر شہرام علی اسے منٹوں میں اغواء کروا کے سلینہ کا پارسل پاکستان بھیج دیتا۔ وہ اپنے بھائی کی محبت یہیں پر چھوڑ کے جانے کے حق میں بالکل بھی نہیں تھا۔ سلینہ کو یہاں سے لے کر جانا اسکی غیرت کا مسلہ بن چکا تھا ۔۔ اسکے بھائی کی محبت تھی۔ تو مطلب اس لڑکی کو وہ ہر کسی کے حلق سے نوچ کر بھی نکال سکتا تھا۔ وہ "عیس علی ہمدانی" کا بیٹا تھا۔ باپ کی طرح انتہا کا بے صبرا ۔۔
کل باقی سب کی جیسے جیسے واپسی ہوئی۔ ایک ساتھ وقت گزارنے کے بعد وہ رات کو اس اہم مسلے کو لے کر بیٹھ گئے۔ جبکہ کبیر اور فارس کو بے خبر رکھا گیا تھا۔
شہرام نے انہیں ساری تفصیل سے آگاہ کیا تو سب سے پہلے فاتح کو سب کی طرف سے لعنتوں کے اشتہار ملے۔ اور اشتہار پہلے آگاہ نہ کرنے کی وجہ سے تھے۔ وہ اگر پہلے اس بات کا ذکر کر دیتا۔ تو اب تک ملک کے سارے شعبے مل کر ایک لڑکی کو ڈھونڈ بھی چکے ہوتے۔۔
جبکہ ارسل نے تو پکا پکا پٹھان ہونے کا ثبوت دیا تھا۔ اسکا صاف کہنا تھا۔ "کہ تم لوگ گھر سے لڑکی اٹھاؤ۔ چھوٹا پٹھان جہاز لے کر پہنچ جائے گا۔۔۔" اسکے اس ڈائیلاگ نے انکے چھت پھاڑ قہقہے نکال دیے تھے۔ مطلب وہ سب اپنے بھائی کی محبت کو لے کر اس قدر سنجیدہ ہو چکے تھے۔ کہ لڑکی کو اٹھا کر لے جانا بھی مسلہ نہیں رہا تھا۔
سب کی باہمی مشاورت سے یہ ہی طے پایا گیا۔ کہ جلد از جلد انکی بھابھی کو تلاش کر کے پاکستان لے جایا جائے۔۔ فاتح جو امید چھوڑ چکا تھا۔ کہ ان سب کی باتوں پر بلا آخر اسکے اندر بھی سلینہ کو پانے کی پھر امید جاگی۔ تو وہ پر امید ہوتے تھوڑا ریلکس نظر آنے لگا۔۔
جبکہ دوسری طرف ایشام جو کل سے ہی سلینہ کا نمبر ٹریس کرنے کی پوری پوری کوشش کر رہا تھا۔ لیکن سلینہ کا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا۔ اور بلآخر اسکا نمبر آج آن ہوا تو اسکی لوکیشن شو ہوتے دیکھ کر ان سب کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہا۔۔۔
لیکن سلینہ کے نمبر کی لوکیشن ایک کلب میں جان کر فاتح شش و پنج کا شکار ہوا تھا۔ اور سب سے زیادہ تعجب کی بات تو یہ تھی۔ کہ موجودہ لوکیشن اسی شہر کے کلب کی تھی۔ اس چیز کو دیکھتے ہوئے سب نے فاتح اور شہرام کو جلدی سے کلب کی جانب روانہ کر دیا۔۔ تاکہ صورت حال کا پتہ تو چلے، باقی کی تو بعد کی بعد میں دیکھی جاتی۔۔۔
فاتح یہاں پر گڑبڑ چل رہی ہے۔۔۔! کلب کی ویٹریس کو لڑکوں کے ساتھ باری باری کمروں کی جانب جاتے دیکھ کر شہرام نے آس پاس دیکھتے ہوئے سرگوشی کی۔۔۔ وہ دونوں چہروں پر ماسک لگا کر یہاں پر آئے تھے۔ تاکہ سلینہ انہیں پہچان نہ سکے۔۔۔ لیکن الٹا وہ یہاں اسے اس حال میں پہچان کر پریشان ہو چکے تھے۔
شہری اس کلب میں انجوائے منٹ کم اور دوسرا کام زیادہ ہو رہا ہے۔۔! کہیں اس کلب میں لڑکیوں کو بیچنے کا کاروبار تو نہیں چل رہا ۔۔! فاتح نے اسکی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے سلینہ پر نظریں گاڑ دیں۔ جو بار بار اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے ڈر رہی تھی۔
وہ ڈائریکٹ سلینہ کے پاس نہیں جا سکتا تھا۔۔کیونکہ بار میں موجود آدمیوں کو سلینہ کے ساتھ ساتھ دوسری ویٹریس پر نظریں جمائے دیکھ کر وہ سب کچھ کچھ تو معاملہ سمجھ ہی چکے تھے۔ سلینہ کو اس ماحول کا حصہ دیکھ کر فاتح جس طرح خود پر ضبط کیے بیٹھا تھا۔ یہ صرف وہی جانتا تھا۔
فتی اگر ہم یہاں پر بیٹھ کر انتظار کرتے رہے تو معاملہ بگڑ جائے گا۔ تو ایسا کر یہیں بیٹھ۔۔! میں کچھ بندوبست کر کے آتا ہوں۔۔! شہرام نے سارے ماحول پر غور کرتے ہوئے مزید دیر کرنا بے وقوفی سمجھا۔ اسی لئے وہ فاتح کو ہدایت دیتے اٹھ کر وہاں کھڑے ایک آدمی کی جانب بڑھ گیا۔۔ شہرام کے جاتے ہی فاتح صوفے سے ٹیک لگاتے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے انگلی مسلسل اٹھاتے، گراتے، خود پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگا تھا۔۔۔
فاتح نے اپنی کیریبین بلو آنکھیں سلینہ کے چہرے پر جمائیں، تو وہ اسے دور سے بھی سہمی ہوئی نظر آئی۔۔
اسکے وجود کی کپکپاہٹ وہ یہاں پر بیٹھے ہوئے بھی دیکھ سکتا تھا۔۔ فاتح کا دل سینے میں زوروں سے دھڑکتے ہوئے بے قابو ہونے پر آیا ہوا تھا۔ لیکن اسے ضبط سے کام لینا تھا۔۔ اس لئے شہرام پر نظر ڈال گیا۔ جو ایک آدمی سے بات کرتے ہوئے اپنی جیب سے اب کارڈ نکال رہا تھا۔
شہرام نے مڑتے ہوئے فاتح کی جانب اشارہ کیا۔ تو وہ آدمی اسکے اشارے کی زد میں فاتح پر غور سے نظر ڈال کر حامی بھرنے والے انداز میں سر ہلاتے ہوئے شہرام کو ساتھ لیے سلینہ کی جانب چلا گیا۔۔۔
فاتح اتنی دور سے انکی گفتگو تو نہیں سن سکتا تھا۔ پر شہرام کے کارڈ نکالنے پر وہ سارا معاملہ سمجھ چکا تھا۔ بے ساختہ اسکی نیلی آنکھوں نے یہ منظر دیکھنے سے انکار کرنا چاہا تو وہ صوفے سے ٹیک ہٹاتے جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔ کیونکہ شہرام اب اسکی جانب واپس پلٹ رہا تھا۔ اس نے فاتح کو کمرے کی طرف جانے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاتح بھاری قدم اٹھاتے ہوئے شہرام کے بتائے ہوئے کمرے کی جانب بڑھ رہا تھا۔ اسکا دل سینے میں یہ سوچ سوچ کر سکڑنے لگا تھا۔ کہ وہ اسے اتنے سالوں کے بعد ملی بھی تو کس حال اور ماحول میں۔۔۔ کیا وہ سچ میں پہلے بھی اس ماحول کا حصہ تھی۔۔؟ نجانے کتنے سوال تھے۔ جو اسکا دماغ کے جھنجھوڑنے کا سبب بن رہے تھے۔۔
مطلوبہ کمرے کے سامنے آ کر فاتح بے ساختہ ایک پل کے لئے رکا۔۔۔ لیکن پھر ہر احساس کو جھٹلاتے ہوئے اس نے ہینڈل گھما کر دروازہ کھولا۔۔۔
دروازہ کھولتے کی انتہائی خواب ناک ماحول نے اسکا ویلکم کیا تھا۔ فاتح نے اندر داخل ہو کر پیر پیچھے لے جا کر ٹھوکر مارتے ہوئے دروازہ بند کر دیا۔۔ کمرے میں ہلکی ہلکی سی روشنی چھائی ہوئی تھی۔ لیکن سلینہ کو کہیں نا پا کر وہ ٹھٹک گیا تھا۔۔۔
اس پہلے کہ وہ اسے ڈھونڈنے کی کوشش کرتا کہ اسے دائیں جانب سے باتھروم کھلنے کی آواز آئی ۔۔ فاتح نے مڑتے ہوئے دیکھا تو وہ باتھروم کے دروازے کے بیچوں و بیچ کھڑی ہچکیاں لے رہی تھی۔ فاتح اسے دیکھتے ہی ایک دم سے فریز ہوا تھا۔۔ نیلی آنکھوں کی پتلیوں نے ساکت ہوئے منکر ہونا چاہا تھا۔۔
فاتح سلطان کو بے ساختہ محسوس ہوا۔ جیسے وہ چھ فٹ کا لمبا چوڑا مرد سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ کر مٹی کا ڈھیر ہو چکا ہے۔۔۔
چہرہ جھکائے وہ مسلسل رو رہی تھی۔ جبکہ وجود پر پہنا ہوا یونیفارم اب بدلا جا چکا تھا۔ ریڈ کلر میں نازیبا لباس پہنے وہ اپنے سرخ و سفید وجود میں قیامت بنی اسکی برداشت کو آزمانے کا مزید سبب بنی تھی۔۔۔ وہ پہلے ہی خود پر ضبط کیے ہوے تھا۔ اور اب اسکا یہ روپ۔۔۔۔
فاتح نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے اپنے چہرے سے ماسک اتار کر جلدی سے گہری سانس لی۔۔ سینے میں دھڑکتے لوتھڑے نے اسکا سانس روکنے کی کوشش کی تو وہ چہرہ اٹھاتے ہوئے آنکھیں میچ گیا۔۔۔جبکہ سامنے کھڑے وجود کو دیکھنے کا دوبارہ حوصلہ نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔
اسکے برعکس سلینہ جو کب سے چہرہ جھکائے صرف رو رہی تھی۔ اس نے چہرہ اٹھا کر آنے والے کو دیکھنا چاہا تو کمرے کے بیچ و بیچ ایک لمبے چوڑے وجود کو چہرہ اوپر اٹھائے کھڑے دیکھ کر اسکا دل یکبارگی سے خوف میں مبتلا ہوتے رکا۔۔ دل جو کب سے اپنی قسمت پر ماتم کناں تھا۔ اسی دل نے عزت کا خوف پیدا کیا تو وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے چینخ اٹھی۔ نازک وجود بری طرح کانپتے ہوئے تیزی سے زمین بوس ہوا تھا۔۔
جبکہ فاتح جو اپنی اذیت میں گم اس سے لا تعلق ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔۔کہ بے اختیار اسکی سماعتوں میں اسکی سریلی و میٹھی آواز کی چینخیں سنائی دیں تو وہ پراسرا انداز میں مسکرا اٹھا۔۔۔
ایسی محبت سے نفرت بھری۔۔۔
میں اسیر محبت ہو گیا، میں فقیر محبت ہو گیا۔۔۔
نازک وجود کو چیخیں مارتے دیکھ کر وہ سرد لہجے میں مسکراتے ہوئے اذیت سے گنگنایا تھا۔۔۔
فاتح نے آہستہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے اسکی جانب بڑھنا شروع کیا تو وہ چیختے ہوئے پیچھے کی جانب کھسکنا شروع ہو گئی۔۔۔
پلیز مجھے جانے دو۔۔۔! اس دیو قامت وجود کو اپنی طرف آتے دیکھ کر وہ خوف سے روتے ہوئے التجائیں کرنے لگی۔۔۔ جبکہ شہد رنگ آنکھیں بند تھیں۔۔۔
گھومتی ہے نظر، ڈھونڈتی ہے کیا۔۔
محبت تیری اور تھوڑی سی وفا۔۔
فاتح نے اسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے اپنی بھاری آواز میں گنگناتے ہوئے اسے دو بول سنائے تو دوسری جانب سلینہ جو آنکھیں میچتے ہوئے بس دور ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔ کہ مخصوص خوشبو و آواز سنتے ہی اس نے ایک جھٹکے میں آنکھیں کھولتے ہوئے مقابل کو دیکھنا چاہا ۔۔۔ چند سکینڈ کا کھیل تھا۔۔ اور آنکھوں کا آنکھوں سے تصادم ہوتے ہی ہر چیز فنا ہوتی چلی گئی تھی۔
اسکی شہد رنگ آنکھوں نے فاتح کی آنکھوں میں جھانکا تو فاتح سلطان کو اپنا ہر دعوا جھوٹا محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔
سلینہ کی آنکھوں نے اپنا پسندیدہ چہرہ دیکھا تو وہ روتے ہوئے مسکرا دی تھی۔۔۔جبکہ وہ نیلی آنکھوں میں اذیت و بے بسی لیے ہمیشہ کی طرح اسے بس نہارنے میں مصروف تھا۔۔
سلینہ کو اسکے چہرے پر اپنے لئے تکلیف، بے یقینی جیسے تاثرات نظر آئے تو وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے سسک اٹھی۔۔۔۔
فاتح جو خاموش نظروں سے صرف اسکے چہرے کے اتارا چڑھاؤ پڑھنے میں مصروف تھا۔۔کہ اسکے اٹالین میں کہے ہوئے الفاظ کو یاد کرتے سلینہ کی ہچکی بندھ گئی تھی۔ وہ اگلے ہی پل سارے احساس بلائے طاق رکھ کر گھٹنوں کے بل کھڑے ہوتے تیزی سے اسکے سینے سے لگتے اپنے لمس سے ہر دوسری چیز کو فنا کرتی چلی گئی تھی۔
اسکے اس غیر متوقع عمل نے فاتح سلطان کے دل کو منجمند کیا۔ تو وہ سٹل ہوتا اسکے سر کو حیرت انگیزی سے دیکھنے لگا تھا۔۔ جبکہ سلینہ اپنی ہچکیاں دباتے پوری قوت لگاتے ہوئے شدت سے اسکے چوڑے سینے میں چھپنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اسکی ہچکیوں نے ایک دم سے زور پکڑا تو اس نے روتے روتے پکارنا چاہا۔۔۔۔
س۔۔سلطا۔۔۔سلطان۔۔۔!!!! ۔۔۔ کانپتی آواز میں
ہمشیہ کی طرح مقابل کو سر نیم سے پکارتے ہوئے وہ فاتح کو نیم پاگل کر گئی تھی۔ جس پر فاتح نے اگلے ہی پل جنونی بنتے اسکی نازک گردن میں چہرہ چھپاتے ہوئے اسکی گردن پر دانت گاڑے تھے۔۔۔
سلینہ اسکے بے رحم لمس پر تیزی سے اچھلتے ہوئے اندر تک تڑپی تو فاتح سلطان اسکی نازک کمر میں بازو لپیٹتے ہوئے پیچھے گرتا چلا گیا۔۔ اس سے زیادہ وہ اسکے ستم برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا تھا۔۔۔
قالین پر پیچھے گرنے کی وجہ سے سلینہ اسکے اوپر چوڑے سینے پر گری تو فاتح نے اپنے اندر اٹھتے جذبات سے قابو کھوتے ہوئے اسکی گردن پر مزید شدت سے دانت گاڑتے ہوئے اسے زور سے خود میں بھینچنا چاہا۔۔۔ جبکہ سلینہ روتے ہوئے اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔ جو کسی آکٹوپس کی طرح اسے خود میں قید کر چکا تھا۔
اسکی سخت گرفت میں وہ ہل بھی نہیں پا رہی تھی۔۔۔ بنا کچھ کہے وہ ایک دوسرے سے بہت کچھ کہنے کی کیفیت میں تھے۔ سالوں کی دوری نے دونوں کو اپنی اپنی جگہ پر بکھیر کر رکھ دیا تھا۔۔ اس لئے خاموشی میں ایک دوسرے سے شکوے کرنے لگے۔۔۔
فاتح کو غصے میں مزید بے قابو ہوتے دیکھ کر سلینہ کو اچانک کچھ یاد آیا تو وہ اگلے ہی پل اسکے کان پر زرا سے لب رکھ کر اپنی ہچکیوں پر قابو کرتے ہوئے کانپتی آواز میں گویا ہوئی۔۔۔ اسکی اگلا عمل جان کر فاتح نے سانس روکتے ہوئے اسکی مہکتی سانسوں کو اپنے کان کی لوح پر محسوس کرتے آنکھیں بند کر لیں تھیں ۔۔ ہر بار کی طرح وہ اپنی معصومیت بھری ادا سے اسے خود میں الجھانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔
اا۔۔ا۔۔اریان۔۔نے مجھے کہا تھا۔۔کہ سلطان۔۔مجج۔۔مجھھ چھوڑ کر واپس اپنے کنٹری چلے گئے ہیں۔۔۔میں نے واپس آ کر اپکو۔۔ڈھوندنے کی۔۔کوشش۔۔کی تو وہ۔۔مجھے زبردستی یہاں۔ پر۔۔لے آیا ۔۔۔ وہ مجھے۔۔یہاں۔۔ پر بیچ کر خود چلا گیا۔۔سلطان۔۔.."
بے ربط جملوں میں وہ اسے کچھ سیکنڈ میں ہی تصویر کا دوسرا رخ دیکھانے کا سبب بنی تو فاتح نے شاکڈ ہوتے اسکے سر کو دیکھا تھا۔۔۔
کیا اس نے فاتح سلطان کو ڈھونڈنے کی
کوشش کی تھی۔۔؟ پر کب۔۔؟ اور آریان ۔۔۔؟ اس نام پر اسکے چہرے کے تاثرات تیزی سے سخت ہوئے تو فاتح نے اسکا چہرہ اپنی گردن سے نکالتے ہوئے سامنے کیا تھا۔۔۔
کمرے کی گہری روشنیوں میں وہ اسے کسی گھٹا کی مانند محسوس ہوئی تھی۔۔جس نے اتنا نازک ہونے کے باوجود فاتح سلطان کو خود میں گھیرا ہوا تھا۔۔۔۔ آنسو بہاتے ہوئے وہ ہچکیاں لیتے اسکی طرف دیکھنے لگی۔۔ معصوم چہرہ آنسوؤں کی روانی سے مکمل طور پر بھیگ چکا تھا۔۔۔
مجھے ڈھونڈا تھا۔۔۔؟ فاتح نے اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اسکے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر گھمبیر آواز میں بولتے ہوئے پوچھا۔۔۔جس پر وہ بنا بولے تیزی سے اقرار کرنے والے انداز میں سر ہلانے لگی۔۔۔
تو کیا ڈھونڈنے پر میں ملا۔۔۔؟ اسکے سر ہلانے والی ادا پر فاتح کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا تو وہ اسکے ہونٹوں کے قریب ہوتے پھر بولا۔۔ فاتح کی اس حرکت پر سلینہ نے پیچھے ہونا چاہا تو فاتح نے اسکی کوشش ناکام بناتے اپنے ہونٹ اسکے نرم لبوں کے مزید قریب کر دیے۔۔۔ سلینہ کے لبوں سے نکلنے والی ہر سانس کو وہ اپنے اندر اتارنے لگا تو سلینہ اسکا جنون دیکھ کر کانپتے ہوئے آنکھیں بند کر گئی تھی۔۔
کیا ڈھونڈنے پر میں تمہیں ملا۔..؟ فاتح نے اسکی کمر میں سختی سے بازو لپیٹتے ہوئے سابقہ سوال دہرایا۔ جس کو سنتے سلینہ نے بند آنکھوں سے ہی نفی میں سر ہلاتے جواب دینے کی کوشش کی۔۔۔ جبکہ آنکھوں سے آنسو پھر تیزی سے بہنا شروع ہو گئے تھے۔ اگر ڈھونڈنے پر وہ اسے ملتا تو وہ آج یہاں پر تھوڑی ہوتی ۔۔۔ وہ تکلیف سے سوچے گئی۔۔۔
جبکہ فاتح نے اسکے چہرے پر چمکتے ہوئے آنسوؤں کو جنونی آنکھوں سے دیکھا تھا۔
تم نے غلط جواب دیا ہے لٹل گرل۔۔! دیکھو۔۔! تمہارے ڈھونڈنے پر فاتح سلطان نے خود تمہارے پاس آ کر تمہاری تلاش کو ختم کر دیا۔۔۔! محسوس کرو مجھے۔۔۔! اور بتاؤ کیا ابھی بھی میں تمہیں ڈھونڈنے پر نہیں ملا۔۔۔؟ سلینہ کے نازک وجود کو شدت سے خود میں سمٹتے ہوئے فاتح نے اسکی گردن میں چہرہ چھپاتے ہوئے اسکی کان کی لوح کو زرا سا دانتوں میں دباتے ہوئے کھینچا تو وہ لرز اٹھی۔۔۔۔۔
سلطان ۔۔۔!!! فاتح کی جان لیوا قربت میں سلینہ نے روتے ہوئے اسے پکارا۔ اسکی پکار پر فاتح نے چہرہ اٹھاتے ہوئے تیزی سے اسکے نقوش پر نظریں دہرائیں تھیں۔۔۔
کیا میں مل گیا تمہیں۔۔۔؟ فاتح نے اسکے ہر نقش کو اپنی آنکھوں میں اتارتے ہوئے سابقہ سوال سے ملتا جلتا سوال کیا تو اس بار سلینہ نے اثبات میں سر ہلاتے اسکی بات میں حامی بھرتے ہوئے فاتح سلطان پر اپنے نازک بازوؤں کا حصار مضبوط کر دیا۔۔۔۔ شاید یہ اسکے جواب کا بہتر جواب تھا۔۔
مقابل اسکی اس کوشش پر ہولے سے مسکراتے ہوئے اسکے بہتے ہوئے آنسوؤں کو چننے لگا۔۔۔
تمہاری طرف میرے بہت سے حساب نکلتے ہیں۔ اس لئے بس دعا کرو۔۔! کہ میں تمہیں یہاں سے نکال کر اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو جاؤں۔۔! پھر دیکھنا۔۔! فاتح سلطان تمہیں کن کن طریقوں سے یہ باور کروائے گا۔ کہ تم فاتح سلطان کو ڈھونڈنے میں ناکام ٹھہری ہو۔۔۔! فاتح جو اسکے گال پر بکھرتے ہوئے آنسوؤں کو اپنے ہونٹوں سے چنتے ہوئے پراسرا لہجے میں ابھی بول ہی رہا تھا۔ کہ سلینہ اچانک ہوش کھوتے اپنے نازک وجود سے بیگانہ ہوتی چلی گئی تھی۔۔۔ اسے ہوش کھوتے دیکھ کر فاتح نے ضبط سے آنکھیں بند کرتے ہوئے اسکے وجود کو زرا سا خود پر سے اٹھاتے ہوئے پاکٹ سے موبائل نکال کر شہرام کو میسج کیا تھا۔۔۔۔
فاتح نے شہرام کو کال کی تو اسکا نمبر مسلسل بزی جا رہا تھا۔۔شاید وہ اس وقت سب کے ساتھ گروپ کال پر مصروف تھا۔۔
شہرام کے کال ریسیو نہ کرنے پر فاتح نے موبائل رکھتے ہوئے پیچھے قالین پر سر گرا دیا تھا۔ وہ ابھی تک سیلینہ کے نازک وجود کو سینے پر لٹائے نیچے لیٹا ہوا تھا۔ چاہ کر بھی اسکا یہاں سے اٹھنے کا دل نہ تھا۔۔۔
فاتح نے ہاتھ پیچھے لے جاتے اسکے کھلے بالوں میں ہاتھ پھیرا تو سیلینہ کے بالوں کو نرماہٹ کو پہلی بار محسوس کرتے ہوئے اسکا مضبوط دل کسی انوکھے احساس کے تحت تیزی سے مچلا تو اسی پل فاتح نے جلدی سے اسکے بالوں سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔۔
اپنے دل کی حالت خراب ہونے پر گہری سانس خارج کرتے ہوئے فاتح نے زرا سا سر اٹھا کر اپنی حسینہ کو دیکھنا چاہا۔ جو اپنے حلیے سے بے پرواہ اسکے وجود پر ہوش وحواس سے بیگانہ پڑی تھی۔
سیلینہ کو ایک نظر دیکھ کر سر دوبارہ پیچھے گراتے ہوئے فاتح سوچوں میں الجھ گیا۔۔ وہ کہاں غائب رہی تھی؟ دوبارہ اس شہر میں واپس کب آئی؟ اسکے اپارٹمنٹ پر کیوں نہیں آئی؟ اسے کانٹیکٹ کیوں نہیں کیا۔۔؟
بہت سے سوالات تھے۔ جن کے جواب فاتح کے لئے جاننا بے حد ضروری تھا۔۔
ابھی تک سیلینہ کے بیک گراؤنڈ کے طور پر فاتح صرف اسکے ماں باپ کو ہی جانتا تھا۔ سیلینہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ پر اسکے پیرنٹس کہاں تھے؟ انکی بیٹی اس حال میں کیسے پہنچی ۔۔؟
سلینہ کی آدھی ادھوری باتوں پر اسے اتنا تو پتہ چل گیا تھا۔ کہ اسے اس کلب میں دھوکے سے لانے والا آریان تھا۔ آریان وہ ہی لڑکا تھا۔جو ہندو تھا۔ اور انڈیا سے یہاں پر پڑھنے کے لیے آیا ہوا تھا۔پر سیلینہ اسکے پاس کیسے گئی۔۔؟
فاتح ابھی انہی سوچوں میں الجھا ہوا تھا۔ کہ اسکا موبائل تیزی سے وائبریٹ ہونے لگا۔۔ فاتح نے چونکتے ہوئے موبائل اٹھایا تو گروپ کال دیکھتے ہوئے اس نے جلدی سے یس کیا۔۔۔
فتی۔۔!! سیلینہ ٹھیک تو ہے؟ کال ریسیو کرتے ہی فاتح کے کانوں میں شہرام کی پریشان آواز گونجی تو فاتح مسکرا دیا۔۔۔
میڈم فلحال میرے اوپر لیٹی بے ہوش پڑی ہیں۔۔! فاتح نے زرا سا سر اٹھاتے ہوئے سیلینہ کے چہرے کو دیکھ کر دھڑکتے دل کے ساتھ جواب دیا تھا۔۔
کیا مطلب بے ہوش پڑی ہیں؟ کیا ہوا بھابھی کو۔۔؟ ارسل نے پریشان ہوتے تیزی سے جاننا چاہا تھا۔۔۔ جبکہ فاتح کے الفاظ پر وہ غور کرنا ہی بھول گیا تھا۔۔۔
پریشان نہیں ہو۔ شاید ڈر کی وجہ سے بے ہوش ہو گئی ہے۔۔۔! فاتح انکو ریلیکس کرتے بولا کیونکہ اسے سمجھ آ گئی تھی۔۔کہ بھابھی کی فکر میں وہ اب باری باری سوال کرتے اسکا سر کھا جائیں گئے ۔۔
لو ہمارے ہوتے بھابی کو کس بات کا ڈر تھا..؟ بھلا ہمارے ہوتے ہوئے ہماری بھابھی کو کوئی آنکھ بھی اٹھا کر دیکھ سکتا ہے کیا۔۔! ارسل بھڑک مارتے ہوئے بولا۔۔۔ جیسے سلینہ کا ڈر کے مارے بے ہوش ہونا پسند نہ آیا ہو۔۔
او ٹیپو سلطان کی اولاد ہوش میں آ۔۔! اسے تھوڑی پتہ تھا۔ کہ اسکے دیوروں کا ٹولا اسکی حفاظت کرنے کے لیے دنیا میں پہلے سے پیدا ہوا بیٹھا ہے۔ ورنہ ڈرنے سے پہلے تجھ سے اجازت ضرور لے لیتی۔۔۔! فاتح طنزیہ لہجے میں بولتے ہوئے اسے سنا گیا۔۔ انداز استہزایہ میز تھا۔۔۔
نہیں سالے ہمیں سنانے کی بجائے تو پہلے یہ بتا۔۔! کہ تو کس حق سے بھابھی کو خود کے ساتھ لپٹائے ہوئے وہاں لیٹا ہے۔۔؟ غازی جس نے اسکے الفاظ پر اچھے سے غور کیا تھا۔ وہ رعب سے بولتے ہوئے سوال اٹھانے والے انداز میں گویا ہوا۔۔ آخر غازیان پاشا بیریسٹر تھا۔ ہر لفظ پر غور کرنے والا۔۔ وہ کہاں بھول سکتا تھا۔
دوسری طرف غازی کی آواز پر فاتح نے تیزی سے مسکراہٹ روکتے ہوئے نچلہ لب دبا لیا تھا ۔۔۔
میرا کوئی قصور نہیں ہے۔۔! وہ خود ہی مجھے دیکھتے ہی سینے سے لگ گئی تھی۔۔۔! فاتح نے انجان بنتے ہوئے بھاری سانس خارج کرتے بات ادھوری چھوڑی تو اسکی بھاری سانس کی آواز سنتے ہی باقیوں کا سانس رکنے لگا تھا۔۔
کیونکہ فاتح سلطان نے اپنے انداز سے ان سب کے بھی جوان جذبات جگا دیے تھے۔۔۔
شہرام نے لب کاٹتے ہوئے ہنسی دبائی۔ وہ اس وقت کلب کے باہر کھڑا ان سب کے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔ کیونکہ اپنے طور پر وہ فاتح کو کمرے کی طرف بھیج کر سیلینہ کی یہاں پر موجودگی کی انفارمیشن حاصل کرنے میں لگ گیا تھا۔۔ جس شخص کو اس نے سلینہ کو کمرے میں لے جانے کی پیمنٹ کی تھی،۔ اسی کو مزید اضافے پیسے دیتے ہوئے شہرام اس سے سب کچھ پوچھ چکا تھا۔۔
ساری بات جان کر شہرام نے سب کے ساتھ مشورہ کیا تو غازی نے اسے اپنے آنے تک رکنے کا کہا تھا۔۔ کیونکہ غازیان پاشا اچھے سے جانتا تھا۔ کہ شہرام علی لڑنے بھرنے والا بے صبرا انسان ہے۔ اس لئے وہ اسے ویٹ کرنے کا کہہ گئے۔ تاکہ انکے پہنچنے تک شہرام علی پنگا نہ لیے بیٹھا ہو۔۔ اور اگر یہ پنگا کبیر، فارس تک پہنچ جاتا تو ان سب کی خیر نہیں ہونی تھی۔۔۔
بے غیرت، نکھٹو عاشق۔۔! بھابھی بیچاری تو ہوش میں نہیں تھیں۔ اسلئے انہوں نے اگر غلطی سے تجھے گلے لگا لیا تھا۔ تو کمینے اب تو ہی شرم کھا کر پیچھے ہو جا۔۔۔! باسم نے اسے شرم دلانا چاہی تاکہ وہ غیرت کھا کر سیلینہ سے دوری اختیار کر لے۔۔۔
کیا کروں یار۔۔۔! میں پیچھے ہونا چاہ رہا ہوں۔ پر اتنے نازک وجود کو خود سے دور ہٹانے کو بس جی نہیں چاہ رہا۔۔۔! فاتح نے انکو مزید آگ لگانے کی کوشش میں زرا سا چہرہ اٹھا کر سیلینہ کی گردن میں گہرا سانس بھرا تو وہ سب مٹھیاں بھینچتے ہوتے دانت پیس گئے۔ جبکہ باسم تو اسکی بے شرمی پر سرخ پڑ چکا تھا۔
سالے تو رک ہم ابھی وہاں پہنچ کر تیری ساری گرمی نکالتے ہیں۔۔۔! ارسل نے کلس کر بولتے ہوئے کال بند کر دی۔ فاتح انکو تپتے دیکھ کر ہنستے ہوئے جلدی سے سیلینہ کو تھام کر کھڑا ہو گیا تھا۔۔
فاتح نے سلینہ کے بے ہوش وجود
کو بیڈ پر لٹایا تو اسکے حلیے پر نظر پڑتے ہی اسکی آنکھوں میں حد سے زیادہ ناگواری اتری تھی۔۔ وہ کسی صورت بھی آریان کو ذندہ نہیں چھوڑنے والا تھا۔ جس نے اسکی محبت کو اس غلیظ جگہ پر پہنچا کر اپنی زندگی اپنے ہاتھوں سے کم کرنے کی کوشش کی تھی۔
فاتح نے باتھروم میں جا کر کوئی ڈریس دیکھنا چاہا تو وہاں اسکا ویٹریس والا لباس پڑا دیکھ کر وہ اذیت سے آنکھیں میچنے پر مجبور ہو گیا۔ باتھ روم میں صرف نائٹیز کو لٹکے دیکھ کر اس نے ضبط بھرا سانس لیا تھا۔۔ وہ اس حلیے میں سیلینہ کو یہاں سے باہر قطعاً ہی نہیں لے کر جا سکتا تھا۔۔۔
فاتح نے سب سے پہلے پاکٹ سے لائٹر نکال کر سلینہ کے ویٹریس یونیفارم کو جھکتے ہوئے آگ لگائی۔ اور اسکے بعد ایک ایک کرتے ساری نائٹیز کو بھی اسی آگ میں پھینکتا چلا گیا۔
اس یونیفارم کو وہ ایسے ہی چھوڑ کر نہیں جا سکتا تھا۔ جس میں اسکی متاع جان کے وجود کی خوشبو بسی ہو۔۔ شہرام اور فاتح اپنی پاکٹس میں لائٹر کے ساتھ اور بھی سی خطرناک چیزیں رکھتے تھے۔کیونکہ یہ سب چیزیں انکی پنگے بازی میں کام آتی تھیں۔۔ پر آج پہلی بار اسکا لائٹر کسی صحیح جگہ پر کام آیا تھا۔۔
باتھروم سے باہر نکل کر فاتح نے خود پر پہنی ہوئی بلیک جیکٹ اتار کر تیزی سے سلینہ کو پہنائی تو اسکی بڑی سی جیکٹ میں وہ چھپتی چلی گئی۔
فاتح کی جیکٹ نے سلینہ کو گھٹنوں تک چھپا دیا تھا۔ لیکن اسکی ٹانگوں کو عیاں ہوتے دیکھ کر اس نے ہونٹ کاٹتے ہوئے جلدی سے سلینہ کو زرا سا اٹھا کر اسکے نیچے سے بیڈ شیٹ نکالی۔۔ اور پانچ منٹ بعد سلینہ کے وجود کو مکمل طور پر بیڈ شیٹ میں چھپا کر فاتح سلطان اسے کسی متاعِ جاں کی طرح بازوؤں میں اٹھا کر کمرے کے دروازے کی جانب بڑھ گیا۔۔ جہاں اسکے شیر پوری تیاری کے ساتھ آن پہنچے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح وہ سب ساتھ میں تقریباً چھ بجے اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے تھے۔ فاتح نے سیلینہ کو ابھی تک بازوؤں میں اٹھا رکھا تھا۔
ان سب کو کلب سے نکلنے اور معاملہ نبٹاتے نبٹاتے صبح ہو چکی تھی۔ کیونکہ غازی نے مار دھاڑ کرنے کی بجائے سمجھداری سے کام لیتے ہوئے پولیس کو انوالو کر لیا تھا۔ کیونکہ یہ سیدھا سیدھا پولیس کیس تھا۔
غازیان پاشا کلب کی انتظامیہ پر انکی بھابھی کو اغوا کرنے اور زور و زبردستی یہ کام کروانے اور اغوا کرنے کا بڑا کیس کر چکا تھا۔ جس کی وجہ سے پولیس نے اس معاملے میں ملوث سب افراد کو فوری طرح پر گرفتار کرتے ہوئے کلب سیل کر دیا تھا۔۔ کیونکہ سیلینہ نے ہوش میں آتے ہی انکے سب کے خلاف بیان دے کر اس کیس کو مزید مضبوط کر دیا تھا۔
پر اسکے باوجود پولیس جب تک وہاں پہنچی تھی۔ تو پولیس کے آنے سے پہلے پہلے ارسل
خان اور شہرام علی کلب کے آدمیوں پر اچھا خاصا ہاتھ صاف کر چکے تھے۔ فاتح نے چونکہ سلینہ کو اٹھایا ہوا تھا۔ اس لئے اسکا یہ چانس مس ہو گیا تھا۔۔ لیکن اسکے حصے کی کسر شہرام علی نے اچھی طرح پوری کر دی تھی۔
کلب کے آدمیوں کو مارنے کے بعد وہ گرفتار بھی کروا چکے تھے۔ لیکن آریان بچ کر جا چکا تھا۔
پولیس جب اسے گرفتار کرنے گئی۔ تو پتہ چلا کہ وہ کل ہی انڈیا واپس جا چکا ہے۔ اور یہ جان کر فاتح نے ضبط سے ہاتھ ملے تھے۔ پر وہ دل میں پکا ارادہ کر چکا تھا۔ کہ وہ اس گھٹیا شخص کو کسی صورت بھی چھوڑنے والا نہیں ہے۔۔
سلینہ کو ہر کسی سے ڈرتے دیکھ کر فاتح نے اسکے گلے کی مخصوص شہ رگ دبا کر اسے دوبارہ بے ہوش کر دیا تھا۔ تاکہ وہ یہ سارا میس نہ دیکھ سکے۔ کیونکہ ڈر و خوف کے باعث وہ اس میں چھپنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اسی لئے فاتح نے اسے بے ہوش کر کے اسی چادر سے کور کرتے ہوئے گاڑی میں لٹا دیا تھا۔
وہ سلینہ کو لیے وہاں سے تبھی نکل آتا پر پولیس کو سیلینہ کے بیان کی ضرورت تھی۔ اس لئے مجبوراً انہیں سیلینہ کو وہاں رکھنا پڑا تھا۔۔۔
اور اب وہ صبح کے وقت واپس آئے۔ تو ںے حد تھکے ہوئے معلوم ہو رہے تھے۔ ان سب کا ارادہ اپنے اپنے کمرے میں جا کر سونے کا تھا۔ کہ اچانک اپنے سامنے کبیر اور فارس کو کھڑے دیکھ کر اپارٹمنٹ میں داخل ہوتے انکے قدموں کو یک دم بریک لگی تھی۔۔
سب نے ڈرتے ہوئے ایک دوسرے پر نظر ڈال کر چہرہ موڑتے ہوئے سامنے کھڑے بڑے بھائیوں کی جانب دیکھ تو انکو انتہائی سنجیدہ انداز میں خود کی طرف دیکھتا پا کر وہ تھوک نگل گئے۔
رات کو ان سب کی گاڑی سٹارٹ ہونے کی آواز پر فارس کی آنکھ کھلی تو اس نے حیرانی سے اٹھ کر اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھنا چاہا تھا۔ جہاں نیچے وہ سب گاڑی کے پاس کھڑے تھے۔ ڈرائیونگ سیٹ پر باسم کو بیٹھے دیکھ کر وہ مزید حیران ہوا تھا۔ آدھی رات میں سب کو ایک ساتھ نکلتے دیکھ کر اسکا دل تیزی سے فکر مندی میں مبتلا ہو گیا تھا ۔
اس سے پہلے کہ وہ باہر نکل کر ان سب سے پوچھ گچھ کرتا کہ انکی گاڑی اپارٹمنٹ کی حدود سے نکل کر جا چکی تھی۔
فارس نے واپس آ کر جلدی سے سب کو فون کرنا چاہا تو پتہ چلا کہ سب کے موبائل اپارٹمنٹ میں ہی ہیں۔ صرف ایشام صدیقی اپنا موبائل ساتھ لے کر گیا تھا۔ پر فارس نے اسکا نمبر یہ سوچ کر ٹرائے نہ کیا۔ کہ کہیں اسکا موبائل بھی روم میں نہ پڑا ہو۔۔۔ باسم کو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے دیکھ کر فارس نے سب سے پہلے اسے ہی کال کی تھی۔ جو اٹھائی نہیں گئی تھی۔
فارس نے پریشانی سے کبیر کو جگا کر ساری صورت حال کے بارے میں بتایا تو وہ بھی متفکر ہوتا چلا گیا۔ کیونکہ وہ کبھی بھی آدھی رات کو یوں ایک ساتھ نہیں نکلے تھے۔ اور نہ ہی کبیر اور فارس انہیں رات میں کہیں آنے جانے کی اجازت دیتے تھے۔ پھر یوں بنا بتائے جانا سچ میں انکے لئے پریشان کن تھا۔ اس لئے وہ دونوں انکی سلامتی کی دعا مانگتے ہوئے واپسی کے انتظار میں جاگتے رہے۔ جن کی واپسی اب صبح جا کر ممکن ہوئی تھی۔۔۔
کبیر اور فارس کی نظر فاتح کے بازوؤں میں اٹھائے ہوئے وجود کی طرف اٹھی تو وہ اس پر استفہامی نظر ڈال گئے۔ جبکہ کبیر خان تو اگلے ہی پل دھاڑ اٹھا تھا۔۔۔
کہاں گئے تھے تم سب آدھی رات کو بنا بتائے۔۔۔؟ کبیر نے رعب و غصے بھرے لہجے میں بولتے ہوئے پوچھا تو بدلے میں ان سب نے چہروں پر معصومیت سجاتے ہوئے بڑے بھائی کو دیکھنا چاہا۔ جو بھڑکا ہوا نظر آ رہا تھا۔۔۔
کچھ عقل یا احساس ذمہ داری ہے تم لوگوں میں..؟ یوں آدھی رات میں کون اس طرح بنا انفارم کیے گھر سے جاتا ہے۔۔؟ تم لوگ اندازہ بھی لگا سکتے ہو کہ ہم کتنا پریشان ہو چکے تھے۔۔۔" فارس نے بھی انہیں چپ دیکھ کر غصے سے بولتے ہوئے ملامت کرنی چائی تھی۔۔۔ وہ سچ میں بہت زیادہ پریشان ہو چکے تھے ۔۔۔
فتی تم بھابھی کو اندر لے کر جاؤ۔۔! ہم بھائی سے بات کر کے آتے ہیں۔۔۔! غازیان نے فاتح سے کہتے ہوئے شہرام کو اشارہ کیا۔ جو وہ سمجھتے ہوئے سر کو جنبش دیتے بولا ۔۔۔
بھائی غصہ نہیں ہوں پلیز ہم اپکو ساری بات بتاتے ہیں۔۔! بس ایک ایمرجنسی آ گئی تھی۔۔اس وجہ سے ہم اپکو بتا نہیں پائے۔۔۔ فاتح کو کمرے کی جانب جاتے دیکھ کر کبیر اور فارس جو اسے الجھن سے دیکھ رہے تھے۔ کہ شہرام کی آواز نے انہیں اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو یہ سارا رائتہ تمہارا پھیلایا ہوا ہے۔۔۔؟ فارس نے گھورتے ہوئے فاتح کی طرف دیکھا۔ جو معصوم بنتے صرف مسکرانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔جیسے بہت عظیم کارنامہ سر انجام دیا ہوا۔۔۔
سیلینہ کو کمرے میں لٹا کر فاتح واپس لاؤنج میں آ گیا تھا۔۔ جہاں پر سب بیٹھے ہوئے تھے۔ جبکہ شہرام کبیر اور فارس کو آلف سے لے کر ی تک ساری بات بتانے میں مصروف تھا۔ انکی ساری بات جان کر وہ صرف انکو گھور ہی پائے تھے۔
خود ایک دوسرے کا باپ، دادا بننے کی بجائے اگر ہمیں انفارم کر دیتے تو کیا ہم روک لیتے۔۔؟ بلکہ تم لوگوں کے ساتھ چل کر سارے معاملے کو خود دیکھتے۔۔۔۔! کبیر نے تاسف سے انکو دیکھ کر کہا۔ ہمیشہ وہ کانٹ کر کے انکو بعد میں آ کر آرام سے بتا دیتے تھے۔۔۔
بھائی آپ سکون سے سو رہے تھے۔ اس لئے بس ہم نے سوچا۔۔کہ کیا اپکی نیند خراب کرنی۔۔۔! ارسل جو انکی جھوٹی فکر کرتے جواب میں گویا ہوتے بولنے لگا تھا۔ کہ بے اختیار کبیر اور فارس کی گھوری پر زبان کو سی کر جلدی سے تالا لگاتے چپ ہو گیا۔۔
تم لوگوں کو صرف بکواس کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں آتا۔۔۔! فارس غصے سے بولتے ہوئے نفی میں سر ہلا گیا۔۔
جو کرنا تھا۔ وہ تو تم لوگ کر کے آ ہی چکے ہو۔۔! اب لگے ہاتھ ہمیں یہ بھی بتا دو۔ کہ آگے کا کیا سوچا ہوا ہے۔۔؟ کبیر سنجیدہ لہجے میں گویا ہوتے پوچھنے لگا۔۔ اسے انداز تھا۔ کہ آگے کا بھی وہ کچھ نہ کچھ سوچ کر ہی بیٹھے ہونگے۔۔۔
نکاح ۔۔!!! کبیر کے پوچھنے پر فاتح نے زمین کو دیکھتے ہوئے یک لفظی دیا تو فارس اور کبیر حیرانی سے اسے دیکھ گئے۔۔۔
دیکھ سالے کو بھائی سے کلاس لگتے وقت منہ میں دہی جمائے بیٹھا ہوا تھا۔ اور اب کیسے منہ
پھاڑ کر نکاح کا بولا ہے.." باسم نے کلس کر اس میسنے پر نظر ڈالی۔۔ جو شریف بننے کی کوشش کرتے ہوئے اب نکاح کی فرمائش کر گیا تھا۔
رئیلی مسٹر فاتح ۔۔۔؟ فاتح کی فرمائش پر ان دونوں نے ایبرو اچکاتے ہوئے یقین کرنا چاہا۔۔ کہ انھوں نے جو سنا یے، وہ ٹھیک ہی سنا ہے نہ۔۔!۔
بھائی انکار مت کیجیے گا پلیز۔۔۔! آپکے سوا بھلا میرا نکاح کروائے کی کون ہمت کرے گا...؟ فاتح جلدی سے اٹھ کر ان دونوں کے سامنے بیٹھ کر گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے منت کرنے والے انداز میں بولا تو کبیر اور فارس کی بے ساختہ ہنسی امڈی۔۔۔
یہ کمینہ تو پیر پکڑنے پر آ چکا یے۔۔۔! ارسل نے اچھبنے سے بولتے ہوئے فاتح کو دیکھا۔ جو کبیر اور فارس کو منانے کی خاطر انکی ٹانگوں سے لپٹ چکا تھا۔۔۔ فاتح کی حالت پر وہ اپنی اپنی ہنسی ضبط کرتے ادھر ادھر دیکھنے لگے ۔
اور تمہارا نکاح کروانے کے بعد ہم پاکستان والوں کو کیا جواب دیں گئے۔۔۔؟ "سلطان احمد خان" کو کیا کہنا ہے۔۔؟ کہ میں نے انکی اجازت کے بنا انکے سپوت کا نکاح کیوں کروایا ۔؟ کبیر نے ایک کے بعد ایک سوال کرتے ہوئے فاتح کو باپ کی یاد دلائی۔ جو ان فیصلوں میں بہت سوچ و بچار کا عادی تھا۔
یار بھائی جب آپ دونوں حامی بھریں گئے۔ کہ آپکی مرضی اور موجودگی میں، میں نے نکاح کیا ہے تو آپ سے بھلا کون سوال کرے گا۔..؟ فاتح نے بڑے بھائیوں کو انکی اہمیت باور کرواتے ہوئے دلیل دینی چاہی تھی۔۔۔۔ جو کہ دلیل ہر گز نہیں تھی۔۔ باقی پیچھے بیٹھے اب ہاتھ میں اپنا اپنا ناشتہ پکڑے فاتح کی ترلوں والی فلم دیکھ رہے تھے۔ شاید وہ فاتح کی زور آزمائی دیکھنا چاہتے تھے۔
اور تمہیں کیوں لگتا ہے مسٹر فاتح۔۔! کہ تمہارے پاکستان والے باپ، داد اتنے شریف ہیں؟ جو تمہاری اس دلیل کو دیکھ کر سچ میں کوئی سوال نہیں کریں گئے۔۔۔! فارس نے اپنے باپ کو ذہن میں رکھتے دانت پیسے۔۔۔
فاری یہ صرف ہمارے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانا چاہ رہا ہے۔ اور کوئی دوسری بات نہیں ہے۔۔۔! کبیر اپنے چھوٹے بھائی کی چالاکی کو سمجھتے ہوئے گویا ہوا تو فاتح نروٹھے پن سے اٹھ کر دوبارہ اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گیا۔۔۔ کیوں کہ پلین بی پر عمل کرنے کی ضرورت پیش آ رہی تھی۔ پیر پکڑنے والا پلین تو فیل ہو چکا تھا۔۔
اگر آپ دونوں نے میری بات نہ مانی تو میں بتا رہا ہوں کہ میں زہر کھا لوں گا۔..! انکو کسی صورت مانتے نہ دیکھ کر فاتح نے عاشقوں والی دھمکی لگائی تو سب ناشتہ کرنے والوں کو بے اختیار اچھو لگا۔۔۔ مسلسل کھانستے ہوئے وہ ایک جھٹکے میں مڑتے ہوئے فاتح کی جانب دیکھنے لگے۔ کیونکہ فاتح کی دھمکی پر انکا ناشتہ حلق میں اٹک گیا تھا۔۔ سب کو اچھو لگتے دیکھ کر کبیر اور فارس کا قہقہ ابلا تھا۔۔۔۔
دیکھ لو..! تمہاری دھمکی میں صرف اتنا ہی دم ہے۔۔! کہ تمہارے بھائیوں کو یقین ہی نہیں آ رہا کہ تم زہر کھا لو گئے۔۔۔؟ فارس نے اسکی زہر والی دھمکی کا مذاق اڑاتے ہوئے ہنستے ہوئے چھیڑا۔۔۔ جس کو سنتے ہوئے فاتح منہ بسورتے ہوئے روٹھنے والے انداز میں رخ موڑ کر بیٹھ گیا۔۔۔
بھائی تو ہمت کر کے ہمیں صرف نیلا ہارپک ہی پی کر دیکھا دے۔ ہم مان جائیں گئے، کہ تو پکا سچا عاشق ہے۔۔..! ایشام نے طنزیہ لہجے میں بولتے ہوئے اسکے زہر پینے والی بات کو ہضم کرنا چاہا۔۔۔
بکواس بند کرو کیا میرے یار کے پیچھے یہ منحوس شکلیں لے کر پڑ گئے ہو۔۔۔! مت بھولو ہم نے اسکا ٹانکا فٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔۔! شہرام نے سرگوشی کرتے ہوئے دانت پیس کر واپس آنے سے پہلے والی پلینگ یاد کروائی۔جس کو یاد کرتے ہی وہ سب فٹ سے ناشتہ چھوڑ کر کبیر اور فارس کے سامنے دوبارہ آ بیٹھے۔۔۔ انکے تیزی سے ناشتہ چھوڑ کر قریب آنے پر کبیر اور فارس حیرانی سے ٹھٹک گئے تھے۔۔۔
بھائی ہم سوچ رہے تھے..! کہ اگر یہ اتنا ضد کر ہی رہا ہے تو کروا دیتے ہیں نا نکاح۔۔۔! اس میں کونسی بڑی بات ہے۔۔! کیونکہ نکاح کروانا تو ثواب کا کام ہے۔ اور پھر دیکھیں تو سہی کہ نکاح کے گواہ بھی گھر سے پورے ہو جائیں گئے ۔۔۔۔! شہرام نے سب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے گواہ پورے کیے تو کبیر اور فارس امپریسنگ انداز میں ایبرو اٹھاتے ہوئے اسے دیکھ کر چند سکینڈ بعد بنا کچھ بولے اتنے ہی ٹھنڈے انداز میں نفی میں سر ہلاتے انکار کر گئے۔۔ مطلب شہرام کی سپیچ بھی انہیں پسند نہیں آئی تھی۔۔
انکے پھر انکار کرنے پر غازی نے سب کو مخصوص اشارہ کیا تو وہ سب سمجھتے ہوئے اگلے ہی پل یک زبان ہوتے بولنے لگے۔۔۔
"ہم اٹلی سے دولہن لے کر ہی جائیں گئے، لے کر ہی جائیں گئے۔۔۔۔"۔
سب یک زبان ہوتے اونچی آواز میں ایک دم سے بولنا شروع ہوئے تو بولتے ہی چلے گئے۔۔۔
بالکل تم لوگ تو ایسے ڈیمانڈ کر رہے ہو۔ کہ جیسے تم لوگوں نے اٹلی میں دلہن اگائی ہوئی تھی۔ جو اب بڑی ہونے پر اب تم لوگوں کو چائیے۔۔۔ انکو ڈارمہ شروع کرتے دیکھ کر فارس دانت پیستے ہوئے گویا ہوا تھا ۔۔۔کیونکہ سب ہی عجیب ہی ضد لگا کر بیٹھ گئے تھے۔۔۔
بھائی آپ جو بھی کہے، پر ہم اپنے بھائی کی منگ کو یہاں پر نہیں چھوڑ کر جا سکتے اور نہ ہی جائیں گئے۔ اس لئے پلیز ہماری بات مان کر شادی کی تیاری شروع کر لیں نا۔۔۔" غازی نے حتمی لہجے میں بولتے ہوئے ریکوسٹ کرتے انکو راضی کرتے ہوئے دیکھا۔۔۔
جی ویسے۔۔! کونسا قبیلہ تھا یہاں پر۔۔؟ جس نے اس لڑکی کو اپکے بھائی کی منگ کے طور پر ڈکلیئر کیا تھا۔ جو آپ اب "منگ, منگ" ہونے کا نعرہ لگا رہے ہیں۔۔" غازی کی بونگی پر کبیر طنزیہ آنکھوں سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔۔ بھلا اٹلی میں انکے بھائی کی منگ کہاں سے ٹپک پڑی۔۔۔؟
بھائی۔۔! پلیز آپ دونوں مان جائیں نا، اب ہم لوگوں نے اس ٹھنڈے ملک میں اتنے سال گزارے ہیں. تو کیا ہمارا فرض نہیں کہ ہم یہاں سے جاتے ہوئے اپنے گھر والوں کے لیے کوئی بڑا سا تحفہ لے کر جائیں۔۔۔" ارسل نے بھی منت کرنے والے انداز میں اپنے دونوں بڑے بھائیوں کو منانے کی کوشش میں انوکھا ہی لاجک پیش کیا۔۔
جس کو اچھنبے سے سن کر فارس اور کبیر ایک دوسرے کو دیکھ گئے۔۔۔ مطلب اس عجیب منطق پر وہ کیا ہی کہتے۔۔۔ جیسے تحفے کے طور پر دولہن نہیں، کاجو، پستہ لے کر جانے کی بات ہو رہی ہو۔۔۔۔
یہ اتنا آسان معاملہ نہیں ہے۔ جتنا تم لوگوں کو لگ۔۔۔" فارس جو ایک دفعہ پھر انکو سمجھانے کی کوشش کرنے ہی والا تھا کہ وہ سب اسکی بات کاٹتے ہوئے نعرے بازی شروع کر گئے۔۔۔
ہم اٹلی کی دولہن لے کر ہی جائیں گئے، نہیں تو یہیں پر زہر کھلا کر سب کو مار دیں گئے۔۔۔" تیز چلاتی آوازوں میں نعرے بازی کرتے ہوئے وہ اپنا اپنا گلا پھاڑنے لگے۔
جبکہ کبیر اور فارس کو بے اختیار انکے نعرے پر ہنسی آئی تھی۔ مطلب اتنا جذباتی ہونے کے باوجود بھی وہ سب خود نہیں بلکہ باقیوں کو زہر کھلانے کا سوچ رہے تھے۔
انکی آوازوں کو سنتے ہوئے کبیر اور فارس نے چہرہ موڑ کر ایک نظر اس انسان کو دیکھا۔ جو اب ان سب کو آگے لگا کر اب خود مسکین بنا آنکھیں مٹکا رہا تھا۔۔۔
ٹھیک۔۔!! ٹھیک ہے، جاؤ جا کر نکاح کی تیاریاں کرو، اور یاد رکھنا کہ تم لوگوں کے پاس صرف ایک گھنٹے کا وقت ہے. اس کے بعد یہ شادی ہماری طرف سے پکی، پکی کینسل۔۔۔" فارس نے ہار مانتے ہوئے فیصلہ سنایا تو وہ سب خوشی سے اچھلتے ہوئے کبیر اور فارس کے سینے سے لگتے جھوم اٹھے۔۔۔
نکاح کی تیاریاں ان سب نے مل کر ایک ساتھ اتنی سپیڈ سے ایسے کیں تھیں۔ کہ جیسے نکاح سچ میں اگر ایک گھٹنے کے اندر نہ ہو پایا۔ تو بعد میں کینسل ہو جائے گا۔فارس اور کبیر تو انکی پھرتیاں دیکھ کر تعجب کا شکار ہو گئے تھے۔ جنھوں نے منٹوں میں گھر کی صفائی کے ساتھ ساتھ لاؤنج میں ہلکی پھلکی سی سجاوٹ بھی کر دی تھی۔ باسم اور ایشام جو ہمسائیوں کے باغیچے سے پھول توڑ کر لائے تھے۔ انہی پھولوں سے انھوں نے لاؤنج میں ہلکی پھلکی تیاری کر لی تھی۔
فاتح نے سیلینہ کو پہنے کے لئے اپنا ٹریک سوٹ نکال کر دیا تھا۔ کیونکہ فلوقت ان میں سے کسی ایک کے پاس بھی زنانہ سوٹ دستیاب نہیں تھا۔ وہ شاید اکلوتی ایسی دلہن ہونے والی تھی۔ جس نے نکاح پر اپنے ہونے والے شوہر کا ٹریک سوٹ پہنا تھا۔ سیلینہ کو اپنے ٹریک سوٹ میں مکمل طور پر گم ہوتے دیکھ کر فاتح کو تھوڑی سی اسکی فکر ہوئی۔ وہ پانچ فٹڈ لڑکی اس چھ فٹ اور تین انچ کے انسان کے ٹریک سوٹ میں بونی معلوم ہو رہی تھی۔
سیلینہ کو فاتح کے ٹریک سوٹ میں دیکھ کر وہ سب قہقہ لگا گئے۔ جس پر سیلینہ نے روہانسی نظروں سے فاتح کی جانب دیکھا تھا۔
اس ہوش میں لانے کے بعد شہرام نے سب کا تعارف اس سے کروایا۔ تو وہ کچھ ہی دیر میں ان سب کے ساتھ گھل مل گئی۔ اسے بالکل بھی محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ کہ وہ ان سے پہلی بار مل رہی ہے۔
سلینہ کی روہانسی نظروں پر فاتح نے اسکا پہناوا دیکھتے ہوئے سیریس لہجے میں سب سے پوچھنا چاہا۔ کہ کیا کسی کے پاس کوئی زنانہ سوٹ ہے؟ تو اس سوال پر وہ سب اس پر چڑھ دوڑے۔۔۔ لیکن شہرام نے بروقت بیچ میں پڑ کر آج کے دولہے کو پٹنے سے بچا لیا تھا۔
فاتح سب کی جانب چڑاتی ہوئی نظریں ڈال کر نیچے بیٹھ کر سیلینہ کا ٹراؤزر فولڈ کرنے لگا۔ تو وہ سب داد دیتی نظروں سے واہ کر گئے۔ جس پر فاتح نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا تھا۔
کبیر اور فارس نے سیلینہ سے خود نکاح کی رضامندی مندی پوچھی تھی۔ کیونکہ انہیں شک ہو رہا تھا۔ کہ کہیں انکا نواب اس معصوم لڑکی کے ساتھ زورو زبردستی سے کام نہ لے رہا ہو۔۔۔ پر سلینہ نے انہیں جواب دیتے مطمئن کر دیا تھا۔۔کہ وہ اپنی پوری رضا مندی کے ساتھ نکاح کر رہی ہے۔ ان دونوں نے سلینہ سے اسکی فیملی کے بارے میں بھی پوچھا تھا۔ پر وہ انہیں یہ بتاتے ہوئے شاکڈ کر گئی۔ کہ اسکے آگے پیچھے کوئی بھی نہیں ہے۔ لیکن انکی انفارمیشن کے مطابق تو اسکے ماں باپ تو تھے۔ پھر وہ ایسا کیوں کہہ رہی تھی۔۔؟ ابھی مزید سوالوں کے ٹائم نہیں تھا. اس لئے بعد میں جاننے کا سوچ کر وہ نکاح کی طرف متوجہ ہو گئے۔
اٹلی میں انہیں نکاح خواں صرف ایک انسان !!ڈھونڈ کر دے سکتا تھا۔ اور وہ تھا۔ بہادر خان۔۔
پر بہادر خان سے انہیں ایک ہی خطرہ تھا۔ اور وہ تھا اس چغل خور کا پاکستان میں خبر پہنچانا۔ جسے وہ ابھی افورڈ نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن ایشام انہیں بے فکر کرتے ارسل کو ساتھ لیے بہادر خان کے فلیٹ کی طرف چلا گیا تھا ۔۔۔
اور تقریباً آدھے گھنٹے تک بہادر خان منہ لٹکائے انکے ساتھ نکاح خواں کے ساتھ کھڑا تھا ۔
سب نے حیرت سے اس معجزے کا پوچھا۔ تو ایشام نے ہنستے ہوئے انکے سامنے اپنے موبائل سکرین کی۔ جہاں بہادر خان نیکر پہنے بے خبر کھڑا تھا۔ بس اسی عزت کو بلیک میل کرتے ہوئے انہوں نے اپنا کام نکلوا لیا تھا۔
کبیر اور فارس ہنستے ہوئے بہادر خان کی بری حالت دیکھ گئے۔ جو بس رو دینے والے مقام پر آیا ہوا تھا۔ اسکی حالت کو مزید بعد میں انجوائے کرنے کا سوچ کر وہ سب نکاح کی طرف متوجہ ہو گئے۔ تھوڑی دیر بعد "فاتح سلطان$ اور "سیلینہ احمد" کا نکاح بخیر و عافیت سے انجام پایا تھا۔ ان دونوں کا نکاح ایک ساتھ لاونج میں پڑھایا گیا تھا۔
نکاح ہونے کے بعد ان سب کو نکاح کے چھوہارے تو نصیب نہیں ہوئے تھے۔ اس لئے باسم نے فریج سے کھجوریں نکال کر سب کو کھانے کے لیے پیش کر دیں۔اور سب سے زیادہ کھجوریں تو انہوں نے بہادر خان کو چھیڑتے ہوئے کھلائی تھیں۔ جو پہلی بار نیکر پہنے ہیرو بنا گھوم رہا تھا۔ انکے بار بار چھیڑنے پر بہادر خان کا چہرہ شرمندگی کے مارے سرخ ہونے لگا تو کبیر نے سب کو ڈپٹتے ہوئے چپ کروا دیا۔
ایک گھنٹہ سب کے ساتھ باتیں کرنے کے بعد وہ سب آرام کرنے چلے گئے تھے۔ کیونکہ پوری رات تو انکی جاگتے ہوئے گزر گئی تھی۔ جبکہ فاتح بھی سرشاری سے یہ سوچتے ہوئے سونے کے لئے چلا گیا تھا۔ کہ اٹھنے کے بعد وہ اپنی منکوحہ سے تفصیلی ملاقات کرے گا۔ یہ جانے بنا کہ اسے یہ ملاقات نصیب ہی نہیں ہونے والی۔۔۔۔!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا سوچ رہے ہو۔۔۔؟ فارس نے کبیر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ جو کچھ الجھا ہوا نظر آ رہا تھا۔۔۔
سوچ رہا ہوں کہ سیلینہ کا یہاں پر رہنا ٹھیک ہے یا نہیں ۔۔۔! کبیر پرسوچ انداز میں سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔۔
میں بھی یہ ہی سوچ رہا ہوں۔۔۔! فارس نے گہرا سانس خارج کرتے ہوئے اسکی تائید کی۔ اور کافی کا مگ اسکی جانب بڑھا کر سامنے کاؤچ پر بیٹھ گیا۔ سب اپنے اپنے کمرے میں سو رہے تھے۔ جبکہ فاتح اور شہرام اس وقت انکے کمرے میں سو رہے تھے۔ کیونکہ سیلینہ انکے بیڈ روم میں تھی۔
فاری جو انفارمیشن ہم تک آئی ہے۔۔! اسکے مطابق جوزف اتنی آسانی سے پیچھے ہٹنے والا نہیں ہے۔۔۔" کبیر کافی کا سیپ لیتے ہوئے فارس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تو بدلے میں فارس نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلاتے ہوئے حامی بھری ۔۔۔
خان ہمارے جانے میں صرف ایک سے ڈیڑھ ماہ کا وقت بچا ہے۔۔! کیونکہ بزنس کا کام بھی تقریباً وائنڈ آپ ہونے والا ہے۔ پر اس معاملے کے بعد میری چھٹی حس کہہ رہی ہے۔ کہ جوزف بنا ہم سے الجھے ہمیں جانے نہیں دے گا۔۔ ! کیونکہ شہرام اور فاتح کی وجہ سے اسے بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔ اور اسکا سب سے بڑا نقصان تو اسکا کلب کا سیل ہونا ہے۔۔! اور یہ سب چونکہ انہوں نے سیلینہ کی خاطر کیا ہے۔ تو سلینہ کو یہاں پر رکھنا سیف نہیں ہے۔۔۔! فارس نے سارے معاملات پر غور کرتے ہوئے کاؤچ سے ٹیک لگا کر کافی کا مگ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔۔
پھر کیا کہتے ہو۔۔؟ کبیر نے اسکی ساری بات سمجھتے ہوئے آخری رائے لینا چاہی۔۔۔
سوچنا کیا یے۔۔! بس تم بہادر خان کو کال ملاؤ, میں سلینہ کو جگا کر لاتا ہوں۔۔! فارس تھوڑی دیر پہلے والے پلین کو فائنل کرتے اٹھا تو کبیر نے سر کو جنبش دیتے ہوئے اپنی پاکٹ سے موبائل نکال کر بہادر خان کو کال ملا دی ۔ اسے کال کرتے دیکھ کر فارس سیلینہ کے کمرے کی جانب بڑھ چکا تھا۔
کیا انکے بھائیوں کو سچ میں لگتا تھا؟ کہ کبیر خان اور فارس کل فلیٹ میں انکی غیر موجودگی جان کر اپارٹمنٹ میں جاگ کر انکی واپسی کا انتظار کرتے رہے تھے۔ غازی کے سوا ان میں سے کسی ایک نے بھی غور نہیں کیا تھا۔ کہ آج صبح فاتح کے بازوؤں میں سیلینہ کے بے ہوش وجود کو دیکھ کر کبیر اور فارس نے حیرت کا اظہار کیوں نہیں کیا۔۔؟
ایک انجان لڑکی کو اتنی آسانی سے گھر میں کیسے آنے دیا۔۔۔ ؟ شاید وہ سچ میں سمجھتے تھے۔ کہ انکے جاگتے ہوئے انکے دونوں بڑے سو سکتے ہیں، یا پھر وہ کبیر اور فارس کو الو بنا سکتے ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایشام صدیقی نے نیند سے جاگتے ہی سب سے پہلے اپنے موبائل کو پکڑتے ہوئے مخصوص پروفائل کو اوپن کیا۔ پروفائل کھولتے ہی ایک نئی ویڈیو دیکھ کر اسکی نیلی آنکھیں مسرور انداز میں آنکھیں چمک اٹھیں۔
اسکی لڑاکو بہن نے آج پورے ایک ہفتے کے بعد ہیر پاشا کی وڈیو سینڈ کی تھی۔ وڈیو کو بے تابی سے دیکھتے ہوئے ایشام صدیقی کو بے ساختہ محسوس ہونے لگا۔ کہ اسکی سبز چڑیل جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی قیامت خیز بن چکی ہے۔ اور یہ قیامت اب ایشام صدیقی کو ہر طرح سے گھائل کر چکی تھی۔
کیونکہ گل ناز اپنی کوشش میں کامیاب ٹھہری تھی۔ اتنے سالوں میں باقاعدگی سے اسے ہیر پاشا کی تصویریں اور ویڈیوز بنا بنا کر سینڈ کرتی رہی تھی۔ جس پر ایشام صدیقی نے پہلے پہل تو نظریں چرانے کی پوری کوشش کی تھی۔ پر جب اسکے دل میں محبت کی چنگاری نے زور پکڑا تو وہ ہار مانتے ہوئے یہ اقرار کر گیا کہ وہ ہیر پاشا کا دیوانہ بن چکا ہے۔
وہ ہیر پاشا جو پیدا ہوتے ہی اسکا سکون و چین لوٹ چکی تھی۔ پر ایشام صدیقی نے سوچ لیا تھا۔ کہ واپس جاکر وہ اسے بہت تڑپانے والا ہے۔ جس طرح بچپن میں ہیر پاشا نے پورے حق کے ساتھ ایشام صدیقی کو پارٹنر بنانے کا کہا تھا۔ اب اسے ڈبل حق کے ساتھ ایشام صدیقی اسکی سانسوں کے ساتھ کھیلنے والا تھا۔ اپنے لمس کی گرمی میں وہ اس حد تک اسکو تڑپانے کا سوچ چکا تھا۔ وہ ہار مانتے ہوئے خود ہی بتانے پر مجبور ہو جاتی۔ وہ کیوں بچپن میں اسکا جینا حرام کیے رکھتی تھی۔
ایشام صدیقی اسکا حیسن چہرہ دیکھتے ہوئے مچلتے دل کے ساتھ مسکرایا تو بے اختیار سیدھا لیٹتے ہوئے موبائل اپنے سامنے کر گیا۔۔۔
ایشام صدیقی نے سکرین کو زوم کرتے کرتے
ہوئے اپنی منکوحہ کے خم دار ہونٹوں کو دیکھ کر شدت سے نچلہ لب کاٹا تھا۔۔۔ ابھی وہ خیالوں کی دنیا میں اسکے خوبصورت سراپے کو سوچ ہی رہا تھا۔ کہ دھڑام سے دروازہ کھولتے ہوئے ارسل اندر داخل ہوا۔۔۔ ایشام نے جلدی سے موبائل نیچے کرتے چہرہ گھوما کر دیکھا تھا۔۔
سالے تو ابھی تک یہاں پر سویا پڑا یے۔۔۔! وہاں وہ دولہا صاحب اپنی ملاقات کے لئے آنکھیں کھول بیٹھے ہیں۔۔۔! کوڈ ورڈز ارسل نے دانت پیستے ہوئے اسے بتایا تو ایشام صدیقی جلدی سے اٹھ بیٹھا۔۔۔
ایسی کی تیسی اس ٹھرکی کی۔۔!چل ابھی دیکھ لیتے ہیں۔۔! ارسل کے کوڈ ورڈز سمجھتے ہوئے ایشام بیڈ سے نیچے اتر کر اسکے ساتھ باہر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
وہ دونوں باہر نکلے تو کمرے کے دروازے پر باسم اور غازیان پہلے سے پہرہ دے رہے تھے۔ ارسل اور ایشام کو آتے دیکھ کر باسم نے انکی طرف سیب اچھالے۔۔۔ جس کو کیچ کرتے وہ آ کر انکے ساتھ کھڑے ہو گئے تھے۔۔
جبکہ فارس اور کبیر کے کمرے سے نکلتا ہوا فاتح سلطان کی چال ہی آج بدلی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ نئے ٹریک سوٹ میں نک سا تیار وہ باہر نکلا تو اسکی تیاری دیکھ کر سب ایبرو اچکاتے ہوئے واہ کرنے لگے ۔۔۔
اسکے برعکس فاتح انکو اپنے کمرے کے دروازے کے آگے کھڑے دیکھ کر ایک لمحے کے ٹھٹکا، پر پھر اپنا وہم سمجھتے ہوئے آگے بڑھتے ہوئے اس نے سلینہ کے کمرے میں داخل ہونا چاہا تھا۔ پر یہ کیا اسکی راہ میں تو ایک دیوار رکاوٹ بنی تھی۔ اور اس دیوار کا نام تھا۔۔ باسم کاظمی، ایشام صدیقی، غازیان پاشا اور ارسل خان۔۔۔
جو ہاتھوں میں گول گول سیب پکڑے دانتوں کی مدد سے کترتے ہوئے کھا رہے تھے۔۔
کمینوں یہاں کھڑے ہو کر کیوں کھا رہے ہو۔۔؟ وہاں دفع ہو مرو جا کر۔۔۔! فاتح نے چباتے ہوئے انکو ڈائنگ ٹیبل کی طرف جانے کا اشارہ کیا۔۔کہ وہاں بیٹھ کر کھاؤ جو بھی کھانا ہے۔۔
کھڑے ہو کر کوئی بھی چیز کھانے سے زیادہ فائدے ملتے ہیں۔۔! اس لئے ہم یہاں کھڑے ہو کر کھا رہے ہیں۔ بتاؤ نہ اسے ڈاکٹر کہ کونسے فائدے ہیں۔۔۔! غازی نے کیلے کا چھلکا اتار کر فاتح کے سر پر رکھتے ہوئے کھاتے ہوئے باسم کو فائدے بتانے کا کہا۔ تو فاتح کو تپ چڑھ گئی۔ وہ انکی خباثت کو اچھے سے سمجھ رہا تھا۔ پر تاثرات انجان ہی رکھے۔۔ شہرام کچن میں کھڑا کوکنگ کرتے ہوئے ان سب کا میلو ڈرامہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔
کھڑے ہو کر کھانے سے کھانا بنا اٹکے سیدھا پیٹ میں چلا جاتا ہے۔۔! ڈاکٹر باسم نے انتہائی سنجیدگی سے فائدہ بتانے کے ساتھ ساتھ ارسل کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی باسکٹ سے انگور اٹھا کر کھانے شروع کر دیے تھے۔
مرو جا کر جدھر مرضی۔۔! پر یہاں سے ہٹو، مجھے سیلینہ کو دیکھنا یے۔۔۔! فاتح نے ضبط سے بولتے ہوئے انکو زہر بھری نظروں سے دیکھا جو اسے کمرے میں نہیں جانے دے رہے تھے۔
یہ لو دیکھ لو بھابھی کو۔۔! ارسل نے موبائل میں سے تھوڑی دیر پہلے نکاح والی فوٹو نکال فاتح کو دیکھنے کے لئے دی تو فاتح نے غصے سے موبائل کو پیچھے ہٹاتے ہوئے انکو دروازے سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہوئے پھر اندر جانا چاہا۔۔ پر وہ اکیلا ان چار باڈی بلڈرز کو کیسے ہٹا پاتا۔۔۔۔
شہری یہ میرے ساتھ بے غیرتی کر رہے ہیں۔۔۔! دیکھ لے اب۔..! مجھے اپنی منکوحہ سے ملاقات نہیں کرنے دے رہے۔۔۔! فاتح نے تیش سے چلاتے ہوئے کچن میں مصروف شہرام کو شکایت لگائی۔ جس پر وہ کام چھوڑ مسکراہٹ دباتے ہوئے فورا کچن سے باہر نکلا تھا۔۔۔
کیا تکلیف ہے تم لوگوں کو۔۔؟ جانے دو میرے یار کو اندر۔۔! شہرام نے انکے سامنے کھڑے ہوتے رعب سے پوچھتے ہوئے فاتح کو اندر بھیجنا چاہا تو وہ چاروں ان دونوں کو پیچھے دھکیل گئے۔۔۔
ہاں اس ترسے ہوئے انسان کو ہم اندر جانے دیں۔۔! اور یہ موصوف ہمیں وقت سے پہلے چاچو، ماموں پتہ نہیں کیا کیا بنا کر باہر تشریف لے آئے۔۔۔! غازی نے تیکھے تیوروں سے طنزیہ کہتے ہوئے فاتح کو گھورا۔۔۔ جبکہ اسکے بے باک الفاظ پر شہرام نے تیزی سے ہنسی دبائی تھی۔۔۔
شہری دیکھ لے اب۔..! فاتح نے خفگی سے شہرام کی طرف دیکھتے ہوئے پھر اندر جانے کی کوشش کی پر بے سود۔۔۔وہ چاروں کسی صورت بھی اسے سلینہ سے ملنے نہیں دے سکتے تھے۔ جس نے کل اپنی فضول کی حرکت سے ان سب کے جوان جذبات کو چھیڑا تھا۔ اور پھر جب اس اپارٹمنٹ میں سب ہی جوان لڑکے سنگل گھوم رہے تھے۔ تو بھلا فاتح سلطان کو وہ کیسے ڈبل دیکھ سکتے تھے۔ اس لئے سونے سے پہلے وہ فیصلہ کر کے سوئے تھے۔ کہ فاتح کو اپنی بھابھی کے آس پاس بھی بھٹکنے نہیں دیں گئے۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں زیادہ کچھ نہیں کروں گا۔۔! بس ایک چھوٹی سی کس کر کے واپس آ جاتا ہوں۔۔! وہ جو نکاح کے بعد ماتھے پر کرتے ہیں نا وہ والی۔۔! ریلز میں دیکھی تھی نا۔۔۔! فاتح نے تحمل سے کام لیتے ہوئے ڈیل کرنے والے انداز میں انکو منانے کی کوشش کی۔ جبکہ اسکے ماتھے کی کس سن کر شہرام سمیت وہ سب قہقہ لگا گئے۔۔۔
نیٹ فلکس دیکھنے والا کمینہ ہمیں کہہ رہا ہے، کہ ریل والی کس کر کے واپس آ جائے گا ۔۔۔! ایشام نے قہقہہ لگاتے ہوئے اسکا مزاق اڑایا۔۔ جبکہ فاتح ضبط سے شہرام کے کندھے پر سر رکھ گیا تھا۔ اسکا دل جتنا اپنی چاکلیٹ گرل کے پاس جانے کے لئے مچل رہا تھا۔ وہ اسکے اتنا ہی اسکا صبر سامنے پر تلے ہوئے تھے۔ اور کچھ اسکے صبر کی آزمائش اسکی منکوحہ نے کل اسکے سینے پر براجمان ہو کر پوری کر لی تھی۔۔۔
وہ بحث میں مصروف تھے۔ جب کبیر اور فارس ایک ساتھ باتیں کرتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ وہ صبح کے نکلے رات میں جا کر واپس آئے تھے۔۔۔
کیا ہوا یہاں پر کیوں کھڑے ہو۔۔۔؟ کبیر نے ان کو کمرے کے دروازے پر کھڑے دیکھ کر سوالیہ انداز میں دیکھا ۔۔
بھائی یہ ترسا ہوا انسان بھابھی سے ملاقات کرنا چاہ رہا ہے۔ تو بس اسکو روک رہے ہیں۔۔۔! باسم نے ہنستے ہوئے فاتح کے سرخ چہرے کی جانب اشارہ کرتے بتایا۔۔۔
پر روم تو خالی ہے سیلینہ تو اندر ہے ہی نہیں، پھر تم لوگ یہاں پر کیوں کھڑے ہو۔۔۔! فارس نے نارمل انداز میں کہتے ہوئے کبیر کے ساتھ ڈائنگ ٹیبل پر جا کر بیٹھتے ہوئے انکے سر پر دھماکا کیا۔۔۔
کیا مطلب بھائی سیلینہ اندر نہیں ہے۔۔۔! کہاں گئی وہ۔۔۔؟ فاتح نے ایک جھٹکے میں مڑتے ہوئے ان سے پوچھا ۔۔۔۔ جبکہ دل کسی خدشے کے تحت دھڑکنے لگا تھا۔۔۔ باقی سب بھی حیرت و سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے تھے۔
وہ کچھ گھٹنوں بعد پاکستان میں لینڈ کرنے والی ہے۔..! کبیر نے عام سے انداز میں کلائی پر پہنی گھڑی کو دیکھ کر جواب دیا۔ تو فاتح سمیت سب کی آنکھیں پھٹ گئیں۔۔۔۔
وہ پاکستان کیسے گئی۔۔؟ اور کس نے بھیجا اسے پاکستان ۔۔؟ فاتح صدمے سے پوچھتے ہوئے تیزی سے انکے پاس آیا تھا۔۔
ظاہر سی بات یے۔ اگر ہم بتا رہے ہیں تو ہم نے ہی بھیجا ہو گا نا۔۔۔! اگلا جواب لاپرواہی سے کندھے اچکاتے ہوئے فارس کی جانب سے موصول ہوا تو فاتح بیچارہ سر پکڑتے ہوئے نیچے بیٹھتا چلا گیا۔۔۔ فاتح کو اتنے بڑے صدمے کا شکار دیکھ کر وہ سب نا محسوس انداز میں دروازے کے سامنے سے کھسکتے ہوئے اپنی اپنی ہنسی دباتے ہوئے جا کر ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھتے چلے گئے تھے ۔۔