ناول: #جنون یار
قسط: 18
از قلم: #امرینےقیس
ڈاکٹر باسم پلیز تھوڑا سا ٹائم نکال کر، میرا چیک اپ کر لیں، ویسے بھی ائیرپورٹ یہاں سے زیادہ دور نہیں ہے۔۔ اور میرے چیک میں زیادہ ٹائم نہیں لگے گا۔۔۔"۔
لہجے کو بوجھل بناتے ہوئے وہ ڈاکٹر باسم کو مسلسل بہکی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔
مس لینا کے لہجے کو سنتے جہاں باسم کا دل خراب ہوا۔ وہیں غازی ٹھٹک کر اس عورت کو دیکھ گیا۔ غور کرنے پر غازی کو معلوم ہوا کہ محترمہ چہرے پر میک آپ کی اچھی خاصی موٹی تہہ لگا کر تشریف لائیں ہیں۔۔۔
یہ چیک آپ کروانے آئی ہے؟ یا پھوپھی کے ولیمے پر۔۔؟ غازی نے اُردو میں بات کرتے ہوئے سرگوشی کرنے والے انداز میں باسم سے جاننا چاہا۔۔۔ جو جان چھڑانے والے انداز میں لینا کو یہاں سے بھیجنے کے لیے کچھ نہ کچھ کہے جا رہا تھا۔ پر دوسری طرف مس لینا یہاں سے ٹلنے کے لیے بالکل بھی رضا مند نہیں تھیں۔۔۔
یہ پھوپھی کے ولیمے پر نہیں، بلکہ میرے ولیمے کے لیے تیار ہو کر آئی ہے۔۔۔! باسم نے چباتے ہوئے آہستہ آواز میں جواب دیا۔ تو غازی نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔۔ اسکی قانون کی حس اسے الارم دے رہی تھی۔ کہ اس کہانی میں کوئی نہ کوئی مزے دار سا ٹوئسٹ چھپا ہوا ہے۔ اس لئے جان بوجھ کر مس لینا کی حمایت میں بولا۔۔
چل کر دے چیک اپ اس بھلی عورت کا، دیکھ کیسے صرف تجھ پر بھروسہ کر کے وہ اتنے بھاری وجود کے ساتھ یہاں پر اتنی مشکل سے پہنچی ہے۔۔! اب تو ڈاکٹر بن گیا ہے تو کیا بھاؤ کھائے گا۔۔۔" غازی نے اسے شرم دلانے والے انداز میں سامنے بیٹھی عورت کا چیک کرنے کے لیے اکسایا۔۔ جس پر باسم نے مڑتے ہوئے شعلہ بار نظروں سے اسے گھوری ڈالی تھی۔۔۔
مس لینا آپ پلیز بیڈ پر لیٹ جائیں۔۔ میرا بھائی آپکا ابھی چیک اپ کر دے گا۔۔۔۔! باسم کی نظروں کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے غازی نے مس لینا کو مخاطب کیا۔
غازی کی بات سنتے ہی وہ تیزی سے سر ہلاتے ہوئے فوری پیچھے بیڈ پر لیٹ گئی۔ اسکے اتنی سپیڈ میں لیٹنے پر غازی کے حلق میں قہقہ ابلا۔۔۔ پر وہ ضبط کرتے چہرے پر سنجیدہ تاثرات لیے باسم کی طرف مڑا۔۔۔ باسم تو آنکھیں پھیلائے اس موٹی عورت کی طرف دیکھ رہا تھا۔ جو بیڈ پر لیٹ کر اسے پاس آنے کا اشارہ کر رہی تھی۔۔
یہ منظر دیکھتے ہی باسم کا بے ساختہ دل کیا تھا۔ کہ وہ رو رو کر مدد کے لیے اپنے بڑے بھائیوں کو بلا لے۔۔۔
چل باسم اس بھلی عورت کا جلدی سے چیک اپ کر دے۔ پھر ہمیں ائیرپورٹ کے لیے بھی نکلنا ہے۔۔۔" غازی نے باسم کو بیڈ کی جانب دھکیلا تو وہ مڑ کر کھا جانے والی نظروں سے غازیان پاشا کو دیکھ گیا۔۔۔
لیکن پھر مرتے کیا نہ کرتے ضبط بھری سانس خارج کرتے ہوئے باسم نے سب سے پہلے ہاتھوں پر گلوز پہن کر چہرے پر ماسک چڑھایا تھا۔ احتیاط کے طور پر اس نے ماسک زیادہ ہی اوپر کر لیا تھا۔ تاکہ اس بڈھی ترسی ہوئی عورت کی نظر اسکے ہونٹوں پر نہ پڑے۔ جن پر صرف اسکی مستقبل میں ہونے والی بیوی کا حق تھا۔۔۔
باسم کی پشت دیکھتے ہوئے غازی نے ہنسی دبا کر جلدی سے فون نکال کر سب کو گروپ وڈیو کال ملا دی۔۔ جو اگلے ہی پل ریسیو بھی ہو چکی تھی۔ سکرین پر سب کے چہروں کو دیکھتے ہوئے جلدی سے میوٹ کرتے غازی نے چپ رہنے کا اشارہ کرتے بیک کیمرہ آن کر دیا ۔ وہ سب غور سے سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگے۔ جہاں باسم کسی کا چیک اپ کر رہا تھا۔۔۔
ڈاکٹر میرے پیٹ میں یہاں پر ہلکی ہلکی سی درد محسوس ہوتی ہے۔۔۔" مس لینا نے باسم کی سنہری آنکھوں میں ڈوبتے ہوئے اپنے بڑے سے پیٹ پر ہاتھ رکھا۔ تو غازی نے ہنسی کے ضبط سے آنکھیں گھمائیں۔۔۔
جبکہ غازی نے انکو چپ رہنے کا اشارہ کرتے اب کال کو ان میوٹ کر دیا۔ تاکہ وہ یہاں پر ہوئی ساری باتیں سن سکیں۔۔
کہاں پر درد ہے...؟ لینا کی طرف بنا دیکھے باسم نے ضبط سے پوچھا۔۔۔ جبکہ اندر ہی اندر اسکا دل کر رہا تھا۔۔کہ آپریشن کرنے والے سارے اوزاروں سے اسکا بڑا سا پیٹ چیڑ پھاڑ کر رکھ دے۔۔۔
پتہ نہیں اس بڑے سے پیٹ نے کتنے معصوم جوانوں کو نگلا ہو گا۔۔۔" باسم نے کڑھتے ہوئے سوچا تھا۔۔۔۔
ڈاکٹر باسم کیا آپ میری الٹراساؤنڈ کر دیں گئے۔۔؟ مجھے اپنی گائنی کی ڈاکٹر کو دیکھانی ہے۔۔! لینا نے نرم لہجے میں بولتے ہوئے ریکوسٹ کی۔ تو باسم آنکھیں پھیلاتے ہوئے غازی کی جانب تیزی سے مڑا۔ جو اسکے دیکھتے ہی موبائل زرا چھپا گیا تھا۔۔
خود بتا اب۔۔۔! کیا تجھے سچ میں لگتا ہے؟ کہ اس موٹی بھینس کو ابھی بھی گائنی کے مسلے باقی رہے ہونگے۔۔؟ اسکی عمر دیکھ اور اسکے مسئلوں کے شوق دیکھ۔۔۔! گائنی کی ڈاکٹر کو جو دیکھایا جاتا ہے وہ سب تو یہ۔۔۔!۔
باسم نے طنزیہ لہجے میں اردو بولتے ہوئے لینا کے گائنی کے مسئلے میں غازی کی رائے لیتے پوچھا۔ تو اسکے الفاظ سنتے ہوئے جہاں غازی نے قہقہ کنٹرول کرنے کے لئے ہاتھ کی مٹھی بناتے منہ پر رکھی۔ وہیں سکرین پر نظر آنے والے چہروں نے اپنی جانب سے میوٹ کرتے فلک شگاف قہقے لگانا شروع کر دیے۔۔
کیونکہ ڈاکٹر باسم کی ضبط سے چھوڑی ہوئی ادھوری لائن کافی بے باک تھی۔۔۔ باسم کی زو معنی بات پر کبیر اور فارس قہقہے لگاتے ہوئے یقین کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ انکا وہی معصوم سا بھائی ہے نا۔۔۔ جو ایسی باتوں پر شرما جاتا ہے۔۔
ڈاکٹر باسم میں شرٹ اتار لوں۔۔۔؟ لینا نے نرم آواز میں بولتے ہوئے اسے دوبارہ مخاطب کیا۔۔
باسم نے ایک جھٹکے میں مڑتے ہوئے اس بڈھی کو دیکھا۔۔۔ بھلا الٹراساؤنڈ کے لئے کب سے شرٹ اتارنے کی کیا ضرورت پیش آ گئی تھی۔۔۔
یہ شرٹ اتارنے کی کیوں بات کر رہی ہے۔۔؟ دیکھ غازی تیرے مجبور کرنے پر میں اسکا چیک آپ کر رہا ہوں۔ پر اگر میری عزت پر ایک رتی برابر بھی آنچ آئی۔ تو سالے میں تیرا خون کر دوں گا۔۔۔! لینا کے جملے پر باسم نے مڑتے ہوئے غازی کو دھمکاتے ہوئے دوبارہ بیڈ کی جانب رخ موڑا تو غازی ہنستے ہوئے بولا۔۔۔
لے مجھے کیوں دھمکا رہا ہے تو۔۔۔؟ مجھے کیا پتہ اب تو الٹراساؤنڈ کیسے کرتا ہے۔۔؟ میں ڈاکٹر تھوڑی ہوں۔۔؟ شاید مس لینا کسی اور چیز کی بھی الٹراساؤنڈ کروانا چاہ رہیں ہیں۔۔۔! غازی لہجے کو سیریس بناتے ہوئے انجان بنتے ڈبل میننگ انداز میں بولا تھا۔۔
مس لینا شرٹ اتارنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے آپ بس شرٹ زرا سی اوپر کر کے پکڑ لیں۔ تاکہ میں ڈیوائس آپکے پیٹ پر یوز کر سکوں۔۔۔" اس بے شرم عورت کو سچ میں اپنی شرٹ اتارتے ہوئے دیکھ کر باسم نے تیزی سے روکا۔ باسم کے روکنے پر وہ شکر ماننے والے انداز میں دوبارہ لیٹ گئی تھی۔۔۔
ڈاکٹر باسم پلیز یہ کرٹن آگے کر دیں۔۔۔! باسم کو الٹراساؤنڈ اسکین کرتے دیکھ کر لینا بولی۔ تو باسم نے بنا بحث کیے زرا سا کرٹن آگے کر دیا۔ وہ اسی جلدی میں تھا کہ اس سے جان چھڑا کر بس نکلے یہاں سے۔۔۔
کرٹن آگے ہوتے ہی لینا نے مخمور نظروں سے باسم کو دیکھنا شروع کر دیا تھا۔۔۔ پر باسم نے ایک بار بھی آنکھیں اٹھا کر اس کی حوس بھری آنکھوں میں نہیں جھانکا تھا۔۔۔ غازی اب چپکے سے موبائل لیے آ کر باسم کے پیچھے کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔
مس لینا آپکی الٹراساؤنڈ ہو گئی ہے۔ اب اٹھ جائیں۔۔! باسم ڈیوائس اپنی جگہ پر رکھنے کے لیے زرا سا جھکا تو لینا نے تیزی سے زرا اٹھتے ہوئے باسم کو کندھوں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ کر اسکے ہونٹوں کو چومنے کی کوشش کی۔ جس کو سمجھتے ہی باسم پوری قوت لگاتے چیخ اٹھا تھا۔۔۔ مس لینا کو باسم کی عزت پر حملہ کرتے دیکھ کر پہلے غازی کی آنکھیں صدمے سے بڑی ہوئیں۔ جبکہ اگلے ہی پل اس کا چھت پھاڑ قہقہ گونج اٹھا تھا۔۔۔ وڈیو کال پر موجود سب نفوس ہنستے ہوئے لوٹ پوٹ ہونے لگے تھے۔۔
غازی بچا مجھے اس حوس کی پجارن سے۔۔۔! مس لینا کی گرفت سے نکلنے کی کوشش میں باسم چیختا جا رہا تھا۔ جبکہ غازی قہقہے لگاتے ہوئے وڈیو کال پر اتنے مزے کا سین دیکھا رہا تھا۔ جہاں باسم خود کو چھڑوانے کی کوشش میں تڑپ رہا تھا۔ تو مس لینا بس اسکے ہونٹوں کی چومنے کی کوشش میں تڑپ کا شکار نظر آ رہی تھی۔۔۔ اس نے کرٹن اسی لئے آگے کروایا تھا۔۔
سالے نکال مجھے اس بھینس کے چنگل سے۔۔۔! ورنہ تیرا قیمہ بنا دوں گا۔۔۔! باسم نے تیش سے سرخ پڑتے ہوئے غازی کو دھمکایا۔ تو وہ مسلسل ہنستے ہوئے آگے بڑھ کر اسکو آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔ کیبن میں اٹھتے اس شور کو سنتے ہوئے سٹاف پریشان ہوتے اندر آیا تو سامنے کا منظر دیکھتے ہی صدمے کا شکار ہوتا چلا گیا تھا۔
سب کو اندر آتے دیکھ کر مس لینا کو مجبوراً ڈاکٹر باسم کو آزاد کرنا پڑا تھا۔۔۔ تو باسم پیچھے ہوتے ہی گہری سانسیں لینے لگا۔۔۔ جبکہ غازی تو مسلسل ہنستے ہوئے اسکے کندھے میں چہرہ چھپا چکا تھا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں بتاؤ کس کا کیا ہیک کرنا ہے۔۔۔؟ لیپ ٹاپ پر تیزی سے انگلیاں چلاتے ہوئے وہ بولا۔۔۔۔ جبکہ اسکے ساتھ جڑ کر بیٹھے دو نفوس نے کی بورڈ پر دوڑتی ہوئی اسکی انگلیوں پر نظر ڈال کر چہرہ موڑتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔۔۔
کمینے پہلے اس گھونگھٹ کو تو اتار۔۔۔! فاتح اور شہرام نے چڑتے ہوئے اسکی بلیک بوڈی کی کیپ نیچے کر دی تھی ۔ جس پر مقابل نے چہرہ اٹھاتے ہوئے انھیں گھورنا چاہا تھا۔۔ لیکن اسکے چہرے پر لگے ہوئے ماسک کو دیکھ کر فاتح اور شہرام کا ایک دم سے دل بیٹھا تو وہ ہڑبڑا کر بیڈ پر پیچھے گرتے چلے گئے۔۔
فاتح نے اٹھ کر جلدی سے کمرے کی لائٹ آن کرتے ہوئے مڑ کر دوبارہ بیڈ کی جانب دیکھا تھا۔ جہاں وہ بلیک ہوڈی میں فل کور، ہاتھوں پر بلیک ہی گلوز پہنے چہرے پر خطرناک ماسک لگائے ابھی بھی کی بورڈ پر انگلیاں چلا رہا تھا۔۔۔
سالے پہلے اپنے اسے گندے ماسک کو ہٹا ورنہ ہم تیری ساری ہیکنگ کی ہیکڑی نکال دیں گئے۔۔۔! شہرام نے تپتے ہوئے اسے سنایا۔۔۔ لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلاتے ہوئے انسان نے زرا پل رکتے ہوئے مڑ کر ان دونوں کی طرف دیکھا تھا۔۔ جہاں وہ سوئچ بورڈ کے پاس کھڑے اسے گھور رہے تھے۔۔۔
ایک ماسک سے اتنے ڈرنے والی کونسی بات ہے..؟ تم لوگوں کے چہروں سے ملتا جلتا ہی تو ہے۔۔۔! اپنے چہرے سے ماسک اتارتے ہوئے ایشام صدیقی نے چہرہ دائیں بائیں ہلاتے ہوئے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔
ایشام صدیقی جو اب "دی ہیکنگ کلر" کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ایشام کی واپسی اپارٹمنٹ میں کل رات ہوئی تھی۔ باقیوں کی طرح وہ بھی آج ہی واپس آتا۔ پر اگر فاتح اور شہرام اسے خود اٹھا کر نہ لاتے۔۔۔ کل وہ اسے ہوسٹل سے اپنے ساتھ لے آئے تھے۔ اور اس زبردستی کے پیچھے بھی انکا اپنا ایک مقصد تھا۔۔
کل رات وہ چونکہ اپارٹمنٹ پر لیٹ ہی پہنچے تھے۔ تو اس لئے آتے ہی اپنے اپنے کمروں میں سونے کے لئے چلے گئے تھے۔ لیکن اب آدھا دن گزر جانے کے بعد شہرام اور فاتح جاگے تو ایشام کے کمرے میں چلے آئے۔ جہاں کوئی الگ ہی ماحول بنا ہوا تھا۔
پورے کمرے کی لائٹس آف تھیں۔۔جبکہ ایشام خود بلیک ہوڈی پہنے چہرے پر ماسک لگائے، ہاتھوں پر بلیک ہی گلوز پہنے لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا۔۔
اب پتہ نہیں وہ ہیکنگ کلر کام کر رہا تھا۔ یا پھر کسی کی بتی گل کر رہا تھا۔ دونوں ہی اندازہ نہیں لگا پائے تھے۔۔۔
پر ایشام کے اتنے ڈارک حلیے نے انکی بتی ضرور گل کر دی تھی۔ اوپر سے اسکے چھوٹے سے چلتے ہوئے وائر لیس میوزک باکس نے بھی الگ کی وائب بنائی ہوئی تھی۔ وہ ایک چھوٹا سا میوزک باکس تھا۔ جس میں سے نکلتی لال روشنی پورے کمرے میں پھیلی ہوئی تھی۔ جبکہ باکس کے اندر ایک عجیب سا میوزک بھی بج رہا تھا۔ شہرام اور فاتح نےزرا غور سے سنا تو میوزک کی گونجی آواز یوں تھی۔۔۔
"Life is a game and "Sham" is the player of your game"
میوزک کو سمجھتے ہی وہ دونوں اچھنبے سے اسے دیکھ گئے۔ جو اب پھر کام کی طرف متوجہ ہو گیا تھا۔۔۔
ہم نے تجھے اپنا کام کرنے کو کہا ہے۔ یہ تو کون سی سبز لکیریں کھول کر دیکھ رہا ہے۔۔۔؟ فاتح نے ایشام کے پاس بیٹھتے ہوئے اسکی گردن پر ایک رکھ کر رسید کر دی تھی۔۔۔
ہاں تو پوچھ بھی رہا ہوں۔ کہ کس کا کیا کروانا ہے، تم لوگ خود ہی نہیں بتا رہے۔۔۔! ایشام انکو گھور کر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوا۔۔۔ اس وقت وہ ایک بہت ضروری کام کر رہا تھا۔ اس لئے اسکا سارا فوکس صرف لیپ ٹاپ کی جانب تھا۔ کل رات اگر یہ نمونے اسے زبردستی ساتھ نہ لاتے تو وہ رات میں اپنا کام ختم کر کے سکون سے صبح یہاں آتا ۔۔۔
تو نہ پہلے اس ڈبے کو چھوڑ۔۔ اور ہماری بات غور سے سن۔۔۔! شہرام نے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے ایشام کو اپنی جانب متوجہ کرنا چاہا۔۔۔
کیا تکلیف ہے بے غیرتوں، کام کرنے دو۔۔! اور میں کانوں سے سنتا ہوں، ہاتھوں سے نہیں۔۔۔! بار بار انکو اپنے کام میں خلل ڈالتے دیکھ کر وہ غصے سے بولا تھا۔۔ اسے کسی بھی طرح یہ کام ایک گھٹنے تک ختم کرنا تھا۔ پر وہ دونوں کمینے اسے بار بار ڈسٹرب کر رہے تھے۔۔
ہمیں تیرا آئی کانٹیکٹ بھی چائیے جانی۔۔۔! اس لئے تو بس ہمیں دیکھ۔۔! اور ہماری بات سن۔۔! پھر ہمیں تجھے بتاتے ہیں۔ کہ کس کا کیا کروانا یے۔۔۔! شہرام نے آنکھیں ٹمٹماتے ہوئے ایشام کو دوبارہ لیپ ٹاپ کھولنے سے روکا۔۔۔ جس پر وہ ضبط سے انکو دیکھ گیا۔۔ جو ایک نمبر کے کمینے تھے۔۔۔
بھونکو سن رہا ہوں۔۔! ایشام پھاڑ کھانے والے انداز میں گویا ہوا تو فاتح اور شہرام مزید اسکے ساتھ جڑ کے بیٹھنے کی کوشش کرنے لگے ۔۔۔
شہرام نے ایشام کے نزدیک ترین چہرہ کرتے ہوئے اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑیں۔ تو ایشام نے ناسمجھی سے اپنا چہرہ پیچھے کرنا چاہا۔ پر پیچھے فاتح صاحب اپنا مکھرہ لیے بیٹھے تھے۔۔۔
سالوں تم لوگوں نے مجھ سے بات کرنی ہے۔ یا اپنی آنکھوں میں چھپی ہوئی حوس دیکھانے کی کوشش کر رہے ہو۔۔! انکو اپنی آنکھیں قریب لاتے دیکھ کر وہ کڑھتے ہوئے کہنے لگا تھا۔۔ لیکن دوسری طرف کوئی اثر نہیں تھا۔۔۔
دیکھ ہم بہت سیریس ہیں۔۔۔! تو ہمیں
ڈسٹریکٹ نہ کر۔۔۔! فاتح پوری پوری نیلی آنکھیں کھولتے ہوئے پراسرا انداز میں بولا تو نہ چاہتے ہوئے بھی ایشام کو تھوڑا تجسس ہوا کہ آخر ایسا بھی کیا ہے۔۔۔
فتی تو چپ کر۔۔! اپنی کہانی اپنے منہ سے نہیں سناتے۔۔۔! شام تو بس میری آنکھوں میں دیکھ، میں تجھے ساری بات بتاتا ہوں۔۔۔! ایشام کا چہرہ اپنی جانب موڑتے ہوئے شہرام نے فاتح کو چپ کروا دیا۔۔
ایشام نے شہرام کو بولنے کا اشارہ کیا۔۔ کہ وہ متوجہ ہو گیا ہے تم بولنا شروع کرو۔۔۔
شہرام نے لہجے کو سنجیدہ بناتے ہوئے اسے بتانا شروع کیا ۔۔جیسے جیسے وہ بولتا جا رہا تھا ایشام ہکا بکا ہوتے فاتح کی طرف دیکھنے لگا۔ جو اپن عادت سے مجبور اسکے میوزک باکس کا آپریشن کرنے پر تلا ہوا تھا۔۔۔
یہ سب کب سے چل رہا ہے۔۔۔؟ فاتح کے ہاتھ سے اپنا میوزک باکس چھیننے والے انداز میں لے کر اس نے تیکھے لہجے میں استفسار کرنا چاہا۔۔ ایشام کے پوچھنے پر فاتح نے اس بار میسنے بننے کی پوری کوشش کی۔۔
یہ ہی کوئی پچھلے کئی سالوں سے۔۔۔! شہرام نے آنکھیں گھماتے ہوئے گول مول کرتے جواب دیا۔۔۔
رئیلی۔..؟ اور ہم سب پچھلے کئی سالوں سے بے خبر بھی رہے ہیں۔۔؟ اس لئے تم لوگ ہر روز شام کو بھن ٹھن کر نکل جاتے تھے۔ اور تم لوگوں کی اتنی تیاری دیکھ کر ہم لوگ سوچتے رہتے تھے۔ کہ آخر اتنا بناؤ سنگھار کیوں کیا گیا ہے۔۔۔" ایشام چھبتے ہوئے لہجے میں گزرے سالوں کو یاد کرتے ہوئے طنزیہ لہجے میں سناتا چلا گیا۔۔
چل سالے اب اتنا ماما نہ بن ہمارا۔۔۔! اور فٹا فٹ کام کر۔۔! فاتح نے اسے نمبر دیتے ہوئے لیپ ٹاپ کھول کر اسکا چہرہ دوسری طرف گھمایا تو ایشام اسے شرم دلاتی سے گھوری ڈال کر سکرین کی جانب متوجہ ہو گیا۔۔۔
رک شام پہلے اس آئی ڈی کو چیک کری زرا۔۔۔! اپنے والٹ سے چھوٹی سی پرچی نکال کر ایشام کو تھماتے ہوئے شہرام جلدی سے بولا ۔۔۔
یہ کیا یے۔۔۔؟ ایشام نے پرچی کو کھولتے ہوئے دیکھنا چاہا۔ تو پرچی پر شہرام کی گندی ہینڈ رائٹنگ سے کسی لڑکی کی آئی ڈی لکھی ہوئی تھی۔۔
یہ میری ہونے والی گرلفرینڈ کی آئی ڈی یے۔۔! اس بار جب دبئی گئے تھے۔ تو کلب میں یہ لڑکی ملی تھی۔ مجھے پسند آئی تو میں نے آئی ڈی مانگ لی۔۔ پر ماں قسم میں نے ابھی تک اس سے ایک دفعہ بھی بات نہیں کی۔۔! سوچا تھا۔ کہ تم آؤ گئے۔ تو اسکے بعد ہی کنڈلی چیک کروا کے اپنا ٹانکا فٹ کروں گا۔۔۔ تو اب تو جلدی سے مجھے چیک کر کے بتا،۔کہ یہ لڑکی کتنی شریف ہے۔۔۔! شہرام نے اپنی شہ رگ کو پکڑتے ہوئے ماں قسم کھانے کے بعد ساری تفصیل بتائی تو ایشام کو صدمہ ہی لگ گیا۔۔
مطلب اس نے کلب میں ملی ہوئی لڑکی کی آئی ڈی سپیشل لکھ کر جیب میں رکھی ہوئی تھی۔ اور اب اسے یہ دیکھنا تھا۔ کہ لڑکی شریف ہے یا نہیں۔۔! کیا وہ پاگل تھا؟ یا ایشام صدیقی ان دونوں کے بیچ میں پاگل ہو گیا تھا۔۔ کلب میں آنے والی لڑکی بھلا شریف ہو سکتی ہے۔۔۔؟ اس عقل کے اندھے کو تب یہ بات کیوں نہیں سمجھ آئی؟۔۔
ایشام نے ضبط سے سوچتے ہوئے بنا بحث کیے اپنے لیپ ٹاپ میں آئی ڈی ڈالی اور ٹھیک دس منٹ بعد اس لڑکی کی پروفائل مکمل طور پر انکے سامنے تھی۔۔۔
یار شہری۔۔! اپن کو لگ رہا کہ یہ چھوکری کیوں ضرورت سے زیادہ ہی شریف نہیں ۔۔۔!؟! اس لڑکی کی ایک لڑکے کے ساتھ چیٹنگ پڑتے ہوئے فاتح نے اپنی داڑھی پر ہاتھ ہھیرا۔۔۔ جبکہ شہرام کا تو رونے والا منہ بن چکا تھا۔ جس کی محبت ایک بار پھر لٹ چکی تھی۔۔۔
ایشام نے ہنسی دباتے ہوئے چیٹ کو مزید نیچے سکرول کیا تو نیچے ابھرتی ہوئی تصویر کو دیکھ کر جہاں ایشام نے تیزی سے چھت پر نظریں کیں۔ وہیں فاتح قریب ہو کر دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔ کیونکہ لڑکی کی طرف سے بھیجی جانے والی تصویر انتہائی بولڈ تھی۔۔۔