Janoon-e-Yaar Novel Complete by Amreeney Qais - Episode 17- urdu novels pdf download


 ناول: #جنون یار

قسط: 17
از قلم: #امرینےقیس
مشو بکواس نہ کر وہ مجھے نہیں بلکہ تجھے گھور رہا ہے۔ دیکھ کیسے کانی آنکھ سے تیرے اس حسین مکھڑے کو تکنے کی کوشش کر رہا ہے۔۔۔" مشعل کے چھیڑنے پر ایرہ کاظمی مجسمے کی نظروں کو الٹا مشعل کی ہی طرف موڑتے ہوئے بول گئی تھی۔
منیزے اور علیزے ہمیشہ کی طرح انکو ایک دوسرے کے ساتھ چھیڑ خانی کرتے بس ہنس رہیں تھیں۔ اتنے سال گزر چکے تھے۔ اب تو وہ دونوں جوان بچوں کی ماؤں کے رتبے پر بھی فائز ہو چکیں تھیں۔ لیکن انکا ایک دوسرے کو تنگ کرنے کا اندازہ بالکل بھی نہیں بدلا تھا۔۔۔
دیکھ آڑو میں سچ کہہ رہی ہوں۔ کہ وہ تجھ ہی لائن مار رہا یے۔ قسم سے تو اس سبز رنگ میں اسے بہت خوبصورت لگ رہی یے۔۔۔" مشعل علی نے انکار کرتے ہوئے زبردستی پھر اس مجسمے کو ایرہ کے پیچھے لگانا چاہا تھا۔۔۔
انکے برعکس ماہ پارہ کے ہاتھوں سے بنے ہوئے بیچارے مجسمے کو خود بھی خبر نہیں تھی۔ کہ سامنے بیٹھیں عورتیں اسے کن مسلوں میں الجھا رہیں ہیں ۔۔
تو جو بھی کہہ پر مجھے پتہ ہے کہ وہ تجھے ہی دیکھ رہا ہے۔۔۔" مشعل کی بات سے پھر انکار کرتے ایرہ نیازی سے بولنے لگی تو علیزے نے ہنستے ہوئے انہیں ٹوکا۔۔
بس بھی کرو، کیا بچوں کی طرح لڑنا ہی شروع ہو جاتی ہو۔۔" علیزے خان نے ہنستے ہوئے انکو دیکھا۔۔ تو وہ خود بھی ہنس دیں۔۔۔
بچوں سے بات ہوئی کیا۔۔۔؟ کب واپس آ رہے ہیں وہ ۔۔۔؟ اچانک یاد آنے پر منیزے نے انکو مخاطب کیا۔۔۔
میری تو دو دن سے نہیں بات ہوئی کسی سے بھی۔۔۔" مشعل نے ماہ پارہ اور بہار سے نظریں ہٹاتے ہوئے اداسی سے جواب دیا۔۔۔
میری کل باسم سے بات ہوئی تھی۔ وہ کہہ رہا تھا کہ اسکی پریکٹس کا ٹائم پریڈ پورا ہو چکا ہے۔ پر ابھی واپسی کا وہ کچھ نہیں بتا سکتے ہیں۔ کیونکہ بہت سی چیزیں مینیج کرنے والی ہیں تو واپسی کا پلین کرتے ٹائم لگے گا۔۔۔"
ایرہ نے کل کی باتیں یاد کرتے ہوئے انہیں بتایا۔ اپنے بیٹوں کو یاد کرتے وہ ایک دم سے اداس ہو گئیں تھیں۔ شاید یہ اداسی اتنے سال دور رہنے کی وجہ سے تھی۔۔
پتہ نہیں ہمارے کبیر اور فارس کیسے دکھتے ہونگے اب۔۔۔" علیزے خان اچانک کبیر اور فارس کو یاد کرتے نم آنکھوں سے بول گئی۔ لڑکپن کی عمر میں وہ سب یہاں سے گئے تھے۔۔اور اب تو ماشاءاللہ سے وہ جوان ہو چکے ہونگے۔۔۔ اس نے بے اختیار سوچا ۔۔
باپ سے ناراضگی کی سزا ان دونوں نے اپنی ماؤں کی بھی دی تھی۔ اتنے سال نہ تو انہوں نے کبھی بات کی تھی اور نہ ہی کبھی اپنا چہرہ دیکھایا تھا۔
یہاں تک کبیر اور فارس نے اپنے بھائیوں کو بھی سختی سے منع کیا ہوا تھا۔ کہ وہ انکی کوئی بھی تصویر پاکستان میں نہیں بھیجیں کریں گئے۔۔
بڑے بھائیوں کے حکم کے وہ اتنے پکے تھے۔ کہ کسی کے بھی منت کرنے پر وہ سب صاف انکار کر دیتے تھے کہ اس سلسلے میں وہ انکی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔۔۔
شہری بتا رہا تھا کہ کبیر اور فارس کی کمپنی نے اس بار سب سے زیادہ بزنس کیا ہے۔۔۔" جس کی وجہ سے انہیں اٹلی میں ایوارڈز بھی دیئے گئے ہیں۔۔" مشعل اداسی و خوشی کے ملے جلے احساسات سے انکو بتانے لگی تو وہ سب خوشی سے مسکرا دیں۔۔
اب تم دونوں اداس نہ ہو۔ اب تھوڑا ہی عرصہ رہ گیا ہے۔ پھر دیکھنا ہمارے بچے انشاء اللہ ہمارے پاس ہونگے۔۔۔" مشعل اور علیزے کو دکھی ہوتے دیکھ کر منیزے نے ماحول کو ہلکا پھلکا کرتے حوصلہ دینے والے انداز میں علیزے کو اپنے حصار میں لے لیا تھا۔
جس پر وہ جلدی سے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتی ماہ پارہ اور بہار کے قہقہوں کی طرف متوجہ ہو گئیں۔ جو بچوں کی طرح ایک دوسرے کے چہروں پر مٹی لگانے کی کوشش میں آگے پیچھے بھاگ رہیں تھیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"Heartfelt congratulations, Barrister Pasha — you’ve accomplished an outstanding achievement."
سینیر بیرسٹر جان جیک نے غازیان کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہوئے اسکی تعریف کی تو وہ مدھم انداز میں مسکراتے ہوئے سر کو جنبش دے گیا۔ انداز اپنی تعریف وصول کرنے والا تھا۔۔
بلیک یونیفارم میں سرمئی آنکھوں والا غازیان پاشا مسکراتے ہوئے اپنے سینیرز سے داد وصول کر رہا تھا۔ کالے گھنے بال اس وقت اپنے مخصوص انداز میں سیٹ تھے۔ جبکہ سرخ و سفید چہرے کو جیت کی خوشی نے روشن کیا ہوا تھا۔ سر کو جھٹکا دیتے ہوئے اس نے ماتھے پر آئے بالوں کو پیچھے کیا تو اسکے سامنے کھڑی انجیلنا اسے سانس روکے دیکھے گئی۔۔ سامنے کھڑے شخص کی اس ادا پر اسکا دل بے قابو ہونے لگتا تھا۔۔
اتنے سالوں کی محنت کے بعد غازیان پاشا نے وکالت کا سفر بیرسٹر بن کر پورا کر لیا تھا۔ کچھ سال پہلے وکالت کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد غازیان پاشا کچھ مطمئن نہیں ہوا تھا۔ کیونکہ اسے محسوس ہونے لگا تھا کہ جیسے وکیل بننا کوئی بڑا کام نہیں ہے۔ اپنے نام کے ساتھ صرف ایڈوکیٹ کا اضافہ اسے کچھ خاص مطمئن نہیں کر پایا تو اس نے اس بات کا ذکر کبیر سے کیا۔
غازیان کی ساری بات سننے کے بعد کبیر نے سیدھا سیدھا اسے مشورہ دیا تھا کہ وہ بیرسٹر بننے کی تیاری پکڑ لے۔۔
کیونکہ کبیر اچھے سے سمجھ چکا تھا کہ اسکے بھائی کو قانون کی مزید طاقت چائیے۔ وکیل بننے کے بعد غازیان پاشا کو قانوں کی طاقت تو حاصل ہو ہی چکی تھی۔ پر اس طاقت کو وہ اپنے ماتحت بھی کرنا چاہتا تھا۔۔اس لئے غازی کی سائکی کو سمجھتے ہوئے کبیر نے اسے ایک نیا رستہ دیکھا دیا۔۔۔
اور آج وہ اپنی محنت اور لگن کے بعد آخر کار "بیرسٹر غازیان پاشا" اٹلی کی بار کونسل میں ایک نیا ابھرتا ہوا نام تھا۔ وہ نام جس نے اپنی ٹریننگ میں ہی کئی کیس سولو کر دیے تھے۔۔ بار کونسل میں غازی نے سنئیر بیرسٹر جان جیک سے ٹرینگ حاصل کی تھی۔
بیرسٹر جان جیک کو پوری بار کونسل میں بیریسٹر جے جے کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اٹلی کے مشہور و معروف وکیلوں میں انکا شمار ہوتا تھا۔ غازی کو انکے سیکھانے کا طریقہ بہت پسند تھا۔
جبکہ بیرسٹر جے جے تو غازی جیسے انسان کو اپنی شاگردی میں لے کر فخر محسوس کرنے لگے تھے۔ جس نے آج بھی اپنے دلائل سے اتنے مشکل کیس کو حل کرتے جیت اپنے نام کر لی تھی۔۔
بہت بہت مبارک ہو پاشا۔۔۔" انجلینا نے مہبوت ہوتے اچانک اسے مخاطب کیا تو غازی اسکی آواز سنتے بے اختیار اسکی طرف دیکھنے لگا۔ جو آنکھوں میں ڈھیروں جذبات لیے ہاتھ بڑھائے اسکی طرف دیکھ رہی تھی۔۔
تھینک یو انجیلنا۔۔۔" غازیان نے گھمبیر آواز میں بنا اسکا ہاتھ تھامے شکریہ ادا کیا تو انجیلنا اسکے ہاتھ نہ تھامنے پر شرمندہ سی ہو گئی۔۔۔
انجیلنا نے ابھی کچھ مہینے پہلے کی یہاں جوائننگ کی تھی۔ وہ بیریسٹر جے جے کی بیٹی تھی۔ جو وکالت کی ڈگری لینے کے بعد یہاں پر اپنی ٹریننگ کے لئے آئی تھی۔ لیکن پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انجلینا نے غازی میں انٹرسٹ لینا شروع کر دیا۔ اور یہ انٹرسٹ کب محبت میں بدلا انجلینا کو خبر بھی نہیں ہوئی تھی۔۔۔
غازی جو اسکی آنکھوں میں ابھرنے والے جذبات صاف طور پر پڑھ سکتا تھا۔ لیکن اسے کوئی پروا نہیں تھی۔ اسکی ٹریننگ مکمل ہو چکی تھی۔ اور کچھ عرصے تک وہ ویسے بھی پاکستان شفٹ ہونے والا تھا۔۔ تو کسی غیر محرم لڑکی کے جذبات کو اہمیت دینا اسکی نظر میں سراسر بے وقوفی تھی۔ کیونکہ اسے انجلینا کی ذات میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔۔ کہ وہ اسے لے کر کیا محسوس کرتی ہے۔ وہ اپنے موڈ میں رہنے والا بندہ تھا۔۔۔
اوکے سر اب مجھے اجازت دیں۔۔۔" غازی نے اچانک بیریسٹر جے جے کو مخاطب کرتے جانے کی اجازت مانگی تو وہ اسکے اندازہ و آداب پر ہمیشہ کی طرح دل میں متاثر ہو گئے۔ غازی سے پہلے بھی انکے پاس بہت سے سٹوڈینٹ ٹریننگ کے لئے آئے تھے۔
لیکن غازیان پاشا جیسا احترام انہوں نے آج تک کسی میں نہیں دیکھا تھا۔ غازی بالکل کسی استاد کی طرح انہیں عزت و احترام سے مخاطب کرتا تھا۔ پر بیریسٹر جے جے کو اگر غازی کی کوئی چیز سب سے زیادہ پسند تھی۔ تو وہ تھا اسکا ہر چیز میں اجازت لینا۔۔۔ جیسے ابھی وہ جانے سے پہلے ان سے اجازت طلب کر رہا تھا۔۔۔
اوو۔۔ ینگ مین اتنی جلدی کیوں جا رہے ہو..؟ تھوڑی دیر اگر رک جاؤ تو لنچ کر کے چلے جانا، آج ویسے بھی تمہارا یہاں لاسٹ ڈے ہے۔۔۔" بیرسٹر جے جے نے اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے غازی کو لنچ کے لئے روکنا چاہا۔۔۔
ڈیڈ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں پاشا۔۔! آپ لنچ کرنے تک رک جائیں پلیز۔۔" باپ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے انجیلنا بھی ریکوسٹ کرتے بولی۔ اسے غازیان پاشا کے ساتھ مزید وقت گزرانے کا موقع مل رہا تھا۔ تو بھلا وہ پیچھے کیوں رہتی۔۔۔
نو تھینک یو سر۔۔۔! درحقیقت مجھے رستے سے اپنے بھائی کو پک کرنا ہے۔ کیونکہ ایک لمبے عرصے کے بعد آج ہم سب بھائی دوبارہ اکھٹے ہو رہے ہیں تو بس اس لئے مجھے اب نکلنا ہو گا۔ اور ویسے بھی یہ سب فارمیلیٹیز تو میں کل ہی پورا کر چکا ہوں تو اسکی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔۔۔" غازیان نے معذرت کرتے ہوئے آگے بڑھ کر انکو گلے لگایا تو بیریسٹر جے جے اسے گلے لگانے کے بعد اسکا کندھا تھپکتے ہوئے گویا ہوئے۔۔۔
ینگ مین میں تمہیں کبھی نہیں بھولوں گا۔ میری سب بیسٹ وشز تمہارے ساتھ ہیں۔ اگر کبھی اٹلی دوبارہ چکر لگے تو میرے پاس ضرور آنا۔۔۔۔" غازی کو دل سے نیک تمنائیں دیتے ہوئے وہ مسکرا کر بول گئے۔۔۔ جبکہ انجلینا اسکے نہ رکنے پر کچھ اداس سی نظر آنے لگی تھی۔۔۔
شیور سر۔۔! آپ میرے ٹیچر ہیں۔ میں خود بھی اپکو ہمیشہ یاد رکھوں گا۔۔" انکے اتنے خلوص پر غازی ایک بار پھر مسکرا کر انکو گلے لگا گیا۔۔۔ سب کو بائے کہنے کے بعد وہ جانے کے لئے مڑا تو بے اختیار انجلینا نے اسے پیچھے سے پکارا۔۔۔
پاشا۔۔۔۔؟؟؟ غازی کو پکارتے ہوئے وہ اسکے قریب آئی تو وہ مڑ کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔۔
اب تو ہمیشہ کے لیے آپ جا رہے ہیں۔ کیا آج بھی ہاتھ ملائے بنا چلے جائیں گئے۔۔۔؟ انجلینا اسکے خوبصورت چہرے کو آنکھوں میں بساتے ہوئے حسرت بھرے لہجے میں کہنے لگی۔۔۔۔۔ وہ صرف ایک دفعہ اسکا ہاتھ تھام کر اسکا لمس محسوس کرنا چاہ رہی تھی۔ پر مقابل غازیان پاشا جیسا موڈی انسان تھا۔۔۔
غازیان پاشا اپنی فطرت میں بے حد موڈی ثابت ہوا تھا۔ اسکا دل ہوتا تو وہ انجلینا کے ساتھ نارمل انداز میں بات کر لیتا ورنہ سارا دن ناک چڑھائے اسے جان بوجھ کر نظر انداز کرتا رہتا تھا۔ جبکہ انجیلنا اسکی ایک کرم نوازی کی منتظر رہتی تھی۔
وہ ایک پڑھی لکھی اٹالین خوبصورت لڑکی تھی۔ پھر بھی پتہ نہیں کیسے ایک مشرقی مرد پر بری طرح دل ہار چکی تھی۔
میں صرف اپنی بیوی کے ساتھ ہاتھ ملا سکتا ہوں۔ یا اسکا ہاتھ تھام سکتا ہوں۔ اسکے علاؤہ کسی بھی دوسری لڑکی کا ہاتھ پکڑنا میں اپنے لیے گناہ تصور کروں گا۔ گڈ بائے، خیال رکھنا اپنا۔۔۔"
سنجیدہ لہجے میں انجلینا کو دو ٹوک لہجے میں جواب دینے کے بعد وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
جبکہ انجیلنا اسکی پشت دیکھتے ہوئے دم سادھے اسکے لفظوں کے سحر میں کھونے لگی۔۔ جو صرف اپنی وائف کو ٹچ کرنے کا کہہ کر جا چکا تھا۔۔
کیا سچ میں ہر مشرقی مرد صرف اپنی وائف کو ٹچ کرتا ہو گا۔۔ غازیان کے خیالوں میں کھوتے ہوئے وہ خود سے بڑبڑا گئی۔۔ غازیان کے نظروں سے اوجھل ہوتے ہی اسے محسوس ہوا جیسے اسکا دل پہلے سے بھی زیادہ جانے والے کی محبت میں گرفتار ہو چکا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر باسم باہر آپکی پیشنٹ آئی ہیں۔۔۔" نرس نے اسکے پاس آتے رازداری سے بتایا تو وہ چونکتے ہوئے تیزی سے نفی میں سر ہلا گیا۔۔
اسے بولو جا کر کہ ڈاکٹر باسم کل رات کے فوت ہو چکے ہیں۔۔" باسم نرس کو دیکھتے ہوئے دانت کچکچانے والے انداز میں گویا ہو گیا۔۔ جبکہ اسکے ساتھ کھڑے جونیئرز نے اپنی ہنسی دبانا چاہی تھی۔۔۔
باسم اس وقت اپنے جونیئرز کے ساتھ راؤنڈ پر نکلا ہوا تھا۔ کہ اسکے نام کا پھر وہی منحوس بلاوا آ چکا تھا۔۔جس کو سن کر وہ بھڑکنے والے انداز میں بول اٹھا تھا۔۔
سر پلیز ایک بار اسے جا کر دیکھ لیں نا۔۔۔! نہیں تو وہ بہت شور کریں گئیں۔۔" نرس اسکی منت کرتے کہنے لگی۔۔
کیا ایک بار دیکھ لیں۔ کیا وہ ٹرک سے ٹکر کھا کر ایمبولینس میں یہاں پر پہنچی ہے۔ جو میں بھاگتے ہوئے جا کر اسے دیکھو۔۔ یا میرا دماغ خراب ہے کیا۔۔؟ جو میں تمہارے کہنے پر اسے دیکھنے جاؤ اور وہ میری عزت پر حملہ کر دے۔۔۔" باسم کڑھتے ہوئے نرس کو گھور کر اگلے بیڈ کی جانب بڑھ گیا۔۔ باسم کے الفاظ پر بے اختیار اس دفعہ سب کی ہنسی نکل گئی تھی۔۔۔
نیلے لباس پر سفید کوٹ پہنے باسم کاظمی اپنی کشش سے کسی بھی لڑکی کی نیت خراب کر سکتا تھا۔ سفید و سرخ رنگت، گولڈن آنکھوں پر تضاد گولڈن ہی بال اتنے ہینڈسم ڈاکٹر پر کوئی بھی لڑکی مر مٹ سکتی تھی۔ لیکن یہاں پر معاملہ زرا گڑبڑ ہو گیا تھا۔ کیونکہ باسم پر کوئی لڑکی نہیں بلکہ ایک ادھیڑ عمر کی اٹالین عورت کا دل آ چکا تھا۔
پچھلے مہینے ہاسپٹل میں ایک ڈھیر عمر عورت اپنا ریگولر چیک اپ کروانے آئی تھی۔ تب باسم نے ہی اسے ڈیل کیا تو اس پہلی ملاقات میں وہ ڈاکٹر باسم کی اسیر ہوتی چلی گئی۔ جو ریگولر چیک آپ وہ ایک مہینے بعد کرواتی تھی۔ وہ اب ہر روز ہونے لگا تھا۔
باسم کو پہلے پہلے تو اپنا وہم لگا لیکن جب ایک دن چیک اپ کے دوران اس ادھیڑ عمر عورت نے باسم پر جھپٹنا چاہا تو باسم کا دل بند ہونے پر آ گیا تھا۔۔
وہ اسی وقت سارا چیک اپ بھاڑ میں جھونک کر روم سے باہر نکل گیا تھا۔ وہ شرارتی و معصوم سا ڈاکٹر تھا اور کہاں وہ بڈھی عورت اسکے عنابی ہونٹوں کو للچائی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ باسم کو جب بھی وہ منظر دوبارہ یاد آتا تو اسکا جی متلانا شروع ہو جاتا تھا۔۔ اور آج پھر وہ عورت اسکا انتظار کر رہی تھی۔۔
سر پلیز جا کر دیکھ لیں نا، نہیں تو وہ اولڈ عورت ہنگامہ کر دے گی۔ آپ ڈریں نہیں چیک اپ کے دوران میں آپکے ساتھ رہوں گی نا۔۔۔" نرس دوبارہ منت کرتے اپنے ساتھ کی ہمت دیتے ہوئے بولی تو باسم اپنی گلاسز سیٹ کرتے اسکی طرف پلٹتے ہوئے ایبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔۔
نرس جو پھر کچھ بولنے لگی تھی۔ کہ باسم کے انداز کو دیکھتے بے ساختہ چپ ہو گئی۔ کیونکہ باسم کے انداز سے لگ رہا تھا کہ جیسے وہ کچھ کہنے والا ہے۔۔۔
اس بڈھی ناگن عورت سے جا کر کہو۔ کہ وہ ایک مہینے تک مرنے والی ہے۔ کیونکہ اسکے گردوں میں کینسر اور پھیپھڑوں میں گندہ پانی جمع ہو گیا ہے۔ اور یہ سب اسکے گندے جذبات کی وجہ سے ہوا ہے۔ کیونکہ وہ جوان لڑکوں پر بری نظر رکھتی ہے۔ دیکھنا یہ سب سن کر وہ ویسے ہی مر جائے گی اور پھر میرے ساتھ ساتھ اس ہاسپٹل کی بھی اس منحوس سے جان چھوٹے گی۔۔"
نرس کی ساری منتوں کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے وہ غصے و جھنجلاہٹ سے بولتا چلا گیا۔۔ باسم کے سارے الفاظ پر نرس کا منہ صدمے سے کھلا تو باقی قہقہے لگاتے ہوئے خود پر کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے لگے۔
اگر راؤنڈ کے دوران کوئی سینئر ڈاکٹر انکا ایسا نان سیریس رویہ دیکھ لیتا تو انکی خیر نہیں ہونی تھی۔ باسم کی فرینڈلی نیچر کی وجہ سے جونیئرز اسکے ساتھ مستی کرتے رہتے تھے۔ ورنہ باقی سب یہاں پر ایک سے بڑھ کر ایک کھڑوس پائے جاتے تھے۔
نرس بیچاری صدمے سے کنگ ڈاکٹر باسم کی طرف دیکھ رہی تھی۔ جو بے نیازی سے دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو چکا تھا۔۔۔ اس سے پہلے کہ نرس ایک بار پھر منت کرنا شروع کرتی۔ جب ایک دوسری نرس وہاں داخل ہوتی ڈاکٹر باسم کو مخاطب کر گئی۔۔۔
"ڈاکٹر باسم باہر اپکے بھائی آئے ہیں۔۔" نرس نے اسے مخاطب کرتے غازیان کے آنے کی اطلاع دی تو باسم کی گولڈن آنکھیں تیزی سے چمک اٹھی تھیں۔۔۔
ٹھیک ہے انہیں میرے کیبن میں بٹھاؤ میں پانچ منٹ تک آ رہا ہوں۔۔" نرس کو جلدی سے جواب دے کر وہ دوبارہ ہاتھ میں پکڑی فائل کی طرف متوجہ ہو گیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آدھے گھنٹے تک فری ہونے کے بعد باسم اپنے کیبن کی طرف جا رہا تھا۔ جہاں غازیان اسکے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔ کیونکہ ایک گھنٹے بعد انکی واپسی کی فلائٹ تھی۔ اپنی اسٹڈیز کے سلسلے میں وہ لوگ دوسرے شہر ہاسٹل میں قیام پزیر تھے۔ اب چونکہ انکی ٹرینگ مکمل ہو چکی تھی۔ تو وہ لوگ آج اپنے شہر ملان واپس جانے والے تھے۔۔جہاں انکا اپنا اپارٹمنٹ جیسا گھر اور بھائی انکا انتظار کر رہے تھے۔۔
غازیان کو ملنے کی خوشی میں باسم تیزی سے دروازہ کھولتے ہوئے اپنے کیبن میں داخل ہوا تو سب سے پہلے اسکی گولڈن آنکھوں کو اپنی مخصوص مریضہ کا دیدار نصیب ہوا۔ جو باسم سے اپنا چیک اپ کرنے کی نیت سے بیڈ پر ٹانگیں لٹکائے بیٹھی تھی۔
اس بڈھی عورت کو اپنے انتظار میں بیٹھے دیکھ کر باسم کا تو حلق، دل گردہ غرض سب کچھ ہی کڑوا ہو چکا تھا۔۔
باسم کو سٹل وہیں دروازے میں کھڑے دیکھ کر اسکی سیٹ پر بیٹھا غازیان کچھ حیرت و ناسمجھی کا شکار ہوا تھا۔۔ وہ اندر کیوں نہیں آ رہا تھا۔ دروازے پر ہی کیوں رک گیا تھا۔۔
باسم...!!؟؟ غازیان نے اسے پکارتے ہوئے ہوش دلائی تو وہ چونک کر اسکی طرف متوجہ ہوا۔۔ غازیان پر نظر پڑتے ہی باسم نے پہلے تیزی سے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگایا۔۔ غازیان نے اسکی بے تابی محسوس کرتے مسکرا کر زور سے اسے خود میں بھینچ لیا تھا۔۔۔ کہاں وہ ایک پل دور نہ رہنے والوں کو انکے گھر والوں نے اتنی اتنی دور الگ الگ پھینک دیا تھا۔
مجھے جھپیاں بعد میں لگا لئی۔ پہلے اس بزرگ خاتون کا چیک اپ کر، بیچاری کب سے تیرے انتظار میں بیٹھی ہوئی ہے۔.." پیشنٹ کی موجودگی کا خیال کرتے غازی نے جلدی سے اسے خود سے الگ کیا۔۔ جبکہ باسم دانت پیس کر اس زہریلی مریضہ کی طرف دیکھنے لگا۔ جو ترسی ہوئی نگاہوں سے پہلے ہی اسکی طرف مسلسل دیکھ رہی تھی۔۔
اچھی خاصی موٹی وہ بے ڈھنگی سی انگریز عورت تھی۔ جو اٹلی میں رہ رہی تھی۔ امیر ہونے کی وجہ سے وہ تین شادیاں کر چکی تھی۔ حرام چیزیں کھانے کی وجہ سے اسکے چہرے اور جسم پر عجیب سے دھبے نما نشان تھے۔ جن پر نظر پڑتے ہی باسم کا دل کرتا تھا کہ منہ کھول کر ساری الٹی اس پر کر دے۔ مطلب اس حد تک وہ دل خراب کرنے کا باعث بنتی تھی ۔۔
مس لینا میرا ڈیوٹی ٹائم ختم ہو چکا ہے۔ آپ پلیز باہر کسی دوسرے ڈاکٹر سے اپنا چیک اپ کروا لیں۔ کیونکہ میری فلائٹ کا بھی وقت ہو گیا ہے۔ تو مجھے جلد از جلد ائیرپورٹ پر پہنچنا ہے۔۔۔۔" باسم نے پروفیشنل انداز میں زبردستی مسکراتے ہوئے اس موٹی عورت سے کہا جبکہ ساتھ ہی وہ یہ جتانا بھی نہیں بھولا تھا کہ آئندہ وہ اسے یہاں ہر کبھی بھی نظر نہیں آنے والا ہے۔۔۔

Post a Comment (0)
Previous Post Next Post