ناول: #جنون یار
قسط: 16
از قلم : #امرینےقیس
(کچھ سال بعد)
کبیر خان اور فارس ہمدانی اس وقت جہاز میں اپنی اپنی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی جہاز ٹیک آف ہوا تھا۔
نیلے رنگ کے فور پیس سوٹ میں اپنی سحر انگیز شخصیت کے ساتھ کبیر خان اس وقت مسکراہٹ دباتے ہوئے فارس کی جانب دیکھ رہا تھا۔ جو خود اناؤسمنٹ سپیکر سے گونجتی آواز سن کر اپنی دلفریب ہنسی دبانے کی کوشش میں تھا۔
ہیزل براؤن آنکھوں میں انتہا کی کشش لیے سنجیدہ سا فارس اپنے نام کی آواز پر انگلی اور انگوٹھے کی مدد سے آنکھوں کو چھوتے ہوئے نا چاہتے ہوئے بھی ہنس دیا۔۔
بلیک فور پیس سوٹ میں فارس ہمدانی کا انداز انتہائی شاہانہ تھا۔۔۔ سرخ و سپید رنگت میں وہ دونوں اپنی اپنی شخصیت میں دل دھڑکا دینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔۔ کبیر خان نے بھی ہنستے ہوئے ونڈو کی طرف چہرہ موڑ لیا تھا۔۔
وہ دونوں اپنی ایک بزنس میٹنگ کے سلسلے میں پچھلے ایک مہینے سے لندن گئے ہوئے تھے۔ میٹنگ سے آج فارغ ہوتے ہی وہ اپنی اسی آفیشلی ڈریسنگ میں ائیرپورٹ پر جانے کے لئے نکل آئے۔ انکی اتنی عجلت صاف ظاہر کر رہی تھی۔ کہ وہ اٹلی میں رہنے والے اپنے نمونوں کو بے حد مس کر رہے ہیں۔ اس لئے تو اپنے مینیجر کو انہوں نے آج ہی واپسی کی ٹکٹ کروانے کا حکم دیا تھا۔ تاکہ وہ جلد از جلد اٹلی پہنچ سکیں۔۔۔
جہاز میں بیٹھنے سے پہلے تک ستائیس سال کبیر خان اور فارس ہمدانی یہ بات نہیں جانتے تھے کہ انکا ایک نمونہ سرپرائز کے طور پر پہلے سے ہی جہاز میں موجود ہے۔۔۔
جہاز ٹیک آف ہوتے ہی اناؤسمنٹ سپیکر میں ارسل خان کی شرارتی آواز نے انہیں مخاطب کیا تو اسکی گھمبیر آواز میں اپنے لئے "بھائی" کا لفظ سنتے ہی جہاں کبیر خان اور فارس کا دل دھڑک اٹھا وہیں کاک پٹ میں بیٹھا ہوا ارسل خان اپنی شریر آواز میں اناؤسمنٹ کرتے ہوئے سب پیسینجرز کو یہ بتا رہا تھا۔ کہ آج کی فلائٹ وہ صرف اپنے بھائیوں کی وجہ سے فلائی کرنے کے لیے یہاں پر آیا تھا۔ تاکہ انکو سرپرائز کر سکے۔ اور اپنی اس پہلی آفیشلی فلائٹ میں وہ اپنے بڑے بھائیوں کو خود جہاز فلائے کرتے ہوئے اٹلی لے جائے۔ سب مسافر کبیر اور فارس کو مبارک دینا شروع ہو گئے تھے۔ جن کا چھوٹا بھائی آج آفیشلی پائلٹ بن چکا تھا۔
پچھلے دو سالوں سے وہ ٹریننگ کے سلسلے میں سب سے دور تھا۔
انٹر کرنے کے بعد جب اس پر یہ دھماکا ہوا کہ اسکا باپ نعمان خان اسے پائلٹ بنتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے تو وہ دانت پیس کر رہ گیا تھا۔ فلائٹ اکیڈمی میں ایڈمیشن کے بعد ارسل کو وہاں پر شفٹ ہونا پڑا تھا۔ جبکہ صرف ارسل ہی نہیں بلکہ باسم کو بھی ہاسٹل میں میڈیکل کی سٹڈی اور ٹریننگ کے سلسلے میں جانا پڑا تھا۔ پیچھے رہ جانے والوں میں غازی کو بھی قانون کی سٹڈی کے لیے دوسرے شہر ہاسٹل میں روانہ کر دیا گیا تھا۔ صرف ایک ایشام ہی تھا جو اپنی آئی ٹی کی سٹڈی کے لیے اپارٹمنٹ میں بچا تھا۔
لیکن دو سال اپارٹمنٹ میں اکیلے رہنے کے بعد ایشام صدیقی کو بھی جب مجبوراً اپنے آئی ٹی کے کورسسز کے سلسلے میں اپنا گھر چھوڑنا پڑا تو وہ سب اداس ہوتے چلے گئے۔۔۔ کیونکہ وہ سب ہی ایک دوسرے کے بنا اپنی جگہ جگہ پر مشکل سے رہ رہے تھے۔ اور سب سے زیادہ اداس تو کبیر خان اور فارس ہمدانی تھے۔ وہ اپنے چھوٹے بھائیوں سے ہر گز بھی دور نہیں رہ سکتے تھے۔
پر وقت کی ضرورت کے مطابق دل پر پتھر رکھتے ہوئے انہیں یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑا تھا۔۔
کبیر اور فارس کی گریجویشن مکمل ہوئی تو انہوں نے ساری توجہ اپنی کمپنی کو بنانے کی طرف کر لی۔ پر اس ساری سٹرگل میں صرف دو انسان ایسے تھے۔ جو فارس کا خون چوسنے والا کام کر رہے تھے۔ اور وہ نیک انسان صرف شہرام اور فاتح ہی تھے۔ جنہوں نے مسلسل یونیورسٹی میں دو سالوں سے فیل ہونے کا کارنامہ سر انجام دیا تھا۔ اور ایسا بھی صرف انکی اپنی لاپرواہی کا نتیجہ تھا۔۔۔
فارس اور کبیر نے جیسے تیسے دھمکا کر انکی گریجویشن پوری کروائی تو سب کو سکھ کا سانس نصیب ہوا۔۔۔
گریجویشن کرنے کے بعد وہ جو پلین بنائے بیٹھے تھے کہ اب "صرف گھومے گئے۔ پھرے گئے اور عش کریں گئے" پر انکے اس پلین پر کبیر اور فارس نے پانی بھی نہیں بلکہ تیزاب پھینک دیا تھا۔
کیونکہ انہوں نے زبردستی انکو اپنے ساتھ بزنس جوائن کروا لیا تھا۔ لیکن اس زبردستی کے چکر میں ایک دفعہ ان بگڑے ہوئے نمونوں کو دبئی کی سیر کروانی ضرور کروانا پڑی تھی۔
آج کل وہ فلحال کبیر اور فارس کی کمپنی میں ہی مدد کر رہے تھے۔ تقریبآ پانچ ماہ تک ان سب کی پاکستان واپسی ہونے والی تھی۔ اس لئے کبیر اور فارس جلد از جلد اپنے بزنس کو پاکستان شفٹ کرنے کی کوشش میں تھے۔۔
اڑھائی گھنٹے کی فلائٹ کے بعد جہاز اٹلی کے ائیرپورٹ پر اترا تو وہ ارسل خان کو دیکھنے کے لیے بے چین ہوگئے۔ دو سالوں سے وہ اسے اپنے سامنے نہیں دیکھ پائے تھے۔ اس لئے اس وقت انکے دل میں ایک الگ ہی تڑپ اٹھ رہی تھی۔ جو انہیں مجبور کر رہی تھی کہ بس جلدی سے اپنے چھوٹے بھائی کو گلے لگا لیں۔۔۔جہاز سے اترتے ہی وہ اسکے انتظار میں کھڑے ہو گئے تھے۔۔
ارسل خان جو گھوم کر دوسری طرف سے آیا تھا۔ اپنے بھائیوں کی پشت دیکھتے ہوئے مسکراہٹ دباتا چلا گیا۔۔ وہ جانتا تھا کہ جہاز سے اترتے ہی وہ اسکے انتظار میں کھڑے ہو جائیں گئے۔۔۔
کبیر اور فارس پشت کیے جہاز کے دروازے کی جانب دیکھ رہے تھے۔ جہاں سے مسافر باری باری اترتے دیکھائی دے رہے تھے۔
کیا میرے بھائی مجھے ڈھونڈ رہے ہیں۔۔۔؟ ارسل نے شریر آواز میں بولتے ہوئے انکو اچانک مخاطب کیا تو وہ اسکی مخصوص آواز سنتے ہی سرعت سے اسکی طرف پلٹے۔ جہاں پائلٹ کے خاکی یونیفارم میں وہ شرارتی انداز میں مسکراتے ہوئے انکے دیکھتے ہی اپنی سرمئی آنکھیں مٹکانا شروع ہو گیا تھا۔۔
اپنی پائلٹ لک میں وہ انکا دل دھڑکانے کا سبب بنا تو وہ اسے دیکھتے ہی چلے گئے۔ سفید و سرخ رنگت پر تضاد اسکے مضبوط جسم پر چپکے ہوئے یونیفارم کو دیکھ کر کبیر اور فارس نے سرشاری سے نم آنکھوں سمیت مسکراتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کرتے اسکی تعریف کرنا چاہی تو بدلے میں ارسل خان نے ان چار قدموں کا فاصلہ دو قدموں میں ختم کرتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھ کر انکو گلے لگا گیا۔۔۔
"I missed both of you a lot, brother."
ارسل نے زور سے انکو سینے میں بھینچتے ہوئے الفاظ ادا کیے تو کبیر اور فارس بھی شدت سے اسے سینے سے لگاتے ہوئے آنکھیں بند کر گئے۔۔۔ دو سالوں بعد وہ اسکو گلے لگا رہے تھے۔ شاید اس لئے اسکا یہ لمس انکی دھڑکن تیز کر رہا تھا۔۔۔
Missed you too badly our little boy...
کبیر اور فارس نے یک زبان بولتے ہوئے جواب دینے کے ساتھ ساتھ اسکا خوبرو چہرہ اپنے سامنے کیا تو ارسل بھیگی آنکھوں سے مسکراتے ہوئے انکی طرف دیکھ گیا۔ ان دو چہروں کو دیکھ کر اسکے دل میں عقیدت، احترم، جنون نجانے کیا کیا نہیں پیدا ہوا تھا۔ ارسل نے عقیدت سے کبیر اور فارس کا ایک ایک ہاتھ تھام کر چومتے ہوئے سینے سے لگا لیا۔۔۔ بے اختیار اسکے دماغ میں بچپن کے ساتھ مناظر گردش کرنے لگے تھے۔۔۔
سکول کالج میں جب بھی انکی کسی کے ساتھ لڑائی ہوتی تھی۔ تو یہ دو انسان ہمیشہ کسی گھنے سائے کی طرح ان پر چھاؤں کرنے پہنچ جاتے تھے۔ ارسل کو آج بھی یاد تھا۔ کہ کالج کے پہلے دن پر اسکے ایک سنئیر نے جان بوجھ کر گزرتے ہوئے ارسل کو دھکا دیا تھا۔ جس کی وجہ سے اگلے ہی پل ارسل منہ کے بل گر چکا تھا۔ چونکہ وہ اپنے دھیان میں ساتھ چلتے ہوئے ایشام سے بات کر رہا تھا۔ اس لئے دیکھ نہیں پایا تھا۔
لیکن دور کھڑے کبیر اور فارس اس لڑکے کی جان بوجھ کر ارسل کو گرانے والی حرکت دیکھ چکے تھے۔ بجلی کی سی رفتا میں بھاگتے ہوئے کبیر نے آگے بڑھ کر ارسل کو اٹھایا تو دوسری طرف فارس اس لڑکے پر چڑھ دوڑا تھا۔
ان سب کا پہلا دن ہونے کی وجہ سے وہ دونوں خود انہیں کالج چھوڑنے آئے تھے۔ اپنے کہے کے مطابق فارس نے ارسل اور ایشام کو پروموٹ کروا کے باسم اور غازیان کے ساتھ ایک ہی کلاس میں کروا دیا تھا۔ اس لئے ان چاروں کا کالج ایک ساتھ ہی سٹارٹ ہوا تھا۔
کبیر اور فارس نے اس لڑکے کی بری طرح دھلائی کرنا شروع کی تو سب ایک دم بوکھلاتے چلے گئے۔ فاتح اور شہرام پر ہاتھ اٹھانے والوں کو اگر وہ کومہ میں پہنچا سکتے تھے۔ تو پھر یہاں پر کیسے وہ برداشت کرتے۔۔
کالج کی انتظامیہ نے بروقت پہنچ کر کبیر اور فارس سے اس لڑکے کو چھڑوایا تھا جو نئے آنے والوں کی ریکنگ کرنے چکر میں اپنا ہی منہ تڑوا بیٹھا تھا۔
اسکی اس حرکت پر کبیر اور فارس نے پولیس میں کمپلین کرنے کی دھمکی تو ٹیچرز بامشکل انہیں ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنے لگے۔
پاکستان کی اتنی بڑی کمپنی کی فیملی نے یہاں پر ایڈمیشن لیا تھا۔ انکی ایک کمپلین کی صورت میں کالج والوں کا نام خراب ہو سکتا تھا۔ اس لئے ٹیچرز نے ان سے درخواست کرتے یہ معاملہ ان پر چھوڑنے کا کہا تھا۔۔ کبیر اور فارس ہر گز بھی نہ مانتے اگر انکے چھوٹے بھائی خود نہ انہیں کہتے تو۔۔۔
نیچے گرنے کی وجہ سے ارسل خان کے ماتھے پر چونکہ چوٹ آ گئی تھی۔ جس کو دیکھ دیکھ کر کبیر اور فارس کو تکلیف ہو رہی تھی۔ ارسل کی چوٹ پر بینڈیج کرتے ہوئے ان سب کی کئی منتوں اور ترلوں کے بعد کہیں جا کر وہ ٹھنڈا ہو پائے تو سب تشکر بھری سانس خارج کر گئے۔۔ بچپن کا واقع یاد آتے ہی وہ مسکراتے ہوئے بولا ۔۔
کبھی کسی کو دیکھا ہے؟ کہ کوئی کسی کو جہاز میں لینے گیا ہے۔۔۔؟ لیکن صرف ارسل خان اپنے بھائیوں کو لندن سے ریسیو کرنے کے لیے جہاز لے کر گیا تھا۔۔! کوئی میری کاپی کر سکتا ہے کیا۔۔؟ کون کرتا ہو گا یوں اپنے بڑے بھائیوں کو مجھ جیسا پیار۔۔ ۔۔۔؟
انکے دیکھنے پر ارسل اتراتے ہوئے بولتے ہوئے آخر میں اپنے پیار کا رعب جھاڑتے ہوئے سوال بھی کر گیا تھا۔۔۔ جس کو سن کر وہ قہقہ لگاتے ہوئے اسکے بال بگاڑ گئے تھے۔ شیخی بکھیرنے سے پہلے ارسل خان یہ مینشن کرنا بھول گیا تھا۔ کہ وہ آفشیلی پائلٹ ڈکلیئر ہو چکا ہے۔اس لئے ایسا ممکن ہو پایا ہے۔۔۔
چل زیادہ ڈرامے نہ کر، آجا اب گھر چلیں۔۔ دو سال ہو گئے ہیں تیرے ہاتھ کے پراٹھے کھائے ہوئے ۔۔۔؟ کبیر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ہنسی دبا کر چھیڑنے والے انداز میں گویا ہوا تو ارسل سچ میں چڑتے ہوئے اسے دیکھ گیا۔۔۔ وہ اپنی تعریف سننا چاہ رہا تھا اور یہاں پر اسکے پراٹھوں کو یاد کیا جا رہا تھا۔۔۔
بھائی کچھ خدا کا خوف کریں میں پہلے بتا رہا ہوں۔ کہ میں نے یہ گھر گرہستی اب چھوڑ دی ہوئی ہے۔۔۔ اس لئے خبردار اگر کسی نے مجھ سے پراٹھے بنانے کا کہا تو۔۔۔! ارسل نے منہ بسورتے ہوئے انکی طرف دیکھ کر جتانا چاہا۔۔۔ کہ وہ اس سے ایسی کوئی امید نہ لگائیں۔۔۔
تم کچھ بھی کہو چھوٹے خان پر تمہارا پارٹنر تمہارے آنے کی خوشی میں آتا گوند کر بیٹھا ہوا ہے۔۔۔" فارس نے ایشام کا ذکر کرتے ہوئے قہقہ لگا کر بتایا تو ارسل رونے والا منہ بناتے ہوئے پیر پٹکنے والے انداز میں ان سے دور ہوتا چلا گیا تھا۔۔
اسکی پتلی حالت دیکھ کر وہ قہقہ لگاتے ہوئے ہاتھ پر ہاتھ مارتے اسکے پیچھے بڑھ گئے۔ جو مڑ مڑ کر نفی میں ہاتھ ہلاتے ہوئے انکار کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میٹنگ کتنے بجے کی ہے۔۔۔؟ مہر ماہ نے سنجیدہ لہجے میں پوچھتے ہوئے سر اٹھایا۔۔۔
میم میٹنگ میں تو ابھی تقریبآ دو گھٹنے باقی ہیں۔۔۔" اسکی فی میل مینیجر نے جواب دینے کے ساتھ ساتھ ایک فائل اسکی طرف بڑھائی۔۔۔
آپی لوگ کہاں پر ہیں۔۔۔؟ فائل تھام کر اس پر سائن کرتے ہوئے مہر ماہ نے اس بات اپنی بہنوں کے بارے میں جاننا چاہا تھا۔
ہیر میم تو ابھی تھوڑی دیر پہلے ناز میڈم کے آفس میں گئیں تھیں۔۔۔" مہرماہ کے سائن کرنے کے بعد کومل نے فائل دوبارہ اٹھا لی۔
ٹھیک ہے تم جاؤ اب۔۔۔۔" کومل کو جانے کی اجازت دینے کے بعد مہرماہ نے اپنا موبائل اٹھایا تو ناز کی طرف میسیج آیا ہوا تھا۔ وہ لنچ کرنے کے لیے اسے اپنے آفس میں آنے کا کہہ رہی تھی۔
مہرہ ماہ نے ٹائم کی طرف دیکھا تو ابھی ایک بج رہا تھا۔ آج انکی ایک کلائنٹ کے ساتھ بلیک ہوٹل میں میٹنگ تھی۔ جس کی وجہ سے وہ آج جلدی لنچ کر رہیں تھیں۔ کیونکہ انہیں پھر آفس سے نکل کر جلد از جلد بلیک ہوٹل پہنچنا تھا۔۔
بلیک ہائی ہیلز شوز میں وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی۔ وائٹ لوز پینٹس کے ساتھ وائٹ ہی شرٹ پہنے وہ مکمل طور پر وائٹ ڈریس میں آفس لک میں ملبوس تھی۔ جبکہ فل وائٹ ڈریس کے ساتھ براؤن کوٹ اور براؤن ہی بیگ اس نے کیری کیا ہوا تھا۔ گولڈن بالوں کو نیچے سے لوز کرلز کرنے کے بعد کھلا چھوڑ دیا گیا تھا۔
مہر ماہ اپنا بیگ اٹھائے چہرے پر سنجیدہ تاثرات سجائے اپنے آفس سے نکل کر ناز کے آفس کی طرف بڑھ گئی۔ جہاں ہیر اور ناز اسکے انتظار میں بیٹھی ہوئیں تھیں۔۔
مہر ماہ کے ساتھ ساتھ ہیر پاشا اور گل ناز، وہ تینوں مل کر بزنس کو سنبھال رہیں تھیں۔
جب سے ان تینوں نے کمپنی کو باقاعدہ آفیشلی جوائن کیا تھا۔ تب سے بلیک گینگ صرف اپنے مشن میں مصروف ہو کر رہی گئی تھی۔ وہاج کے ساتھ اب وہ تینوں بہنیں یہاں پر کام سنبھال رہیں تھیں۔
اپنے بیٹوں کو مختلف شعبوں میں بھیج کر بلیک گینگ نے اپنا سارا بزنس بیٹیوں کے سپرد کر دیا تھا۔ انکے بیٹوں کو لگتا تھا۔ کہ انہیں مختلف جگہوں پر پھنسا کر بعد میں انکے باپ بزنس کو سنبھالنے کے لئے ان سب کی منتیں کریں گئے۔ پر وہ یہ نہیں جانتے تھے۔ کہ بلیک مینشن میں لڑکیاں بھی رہتیں تھیں۔ جو رشتے میں انکی کچھ لگتیں تھیں۔ انکی موجودگی میں بھلا انکے ڈیڈ کو کسی کی منتیں کرنے نوبت آ سکتی تھی۔
مہر ماہ، ناز کے آفس میں داخل ہوئی جہاں ناز اور ہیر ٹیبل پر لنچ رکھے اسکے آنے کا انتظار کر رہیں تھیں۔۔۔
کہاں رہ گئی تھی تم۔..؟ ہیر نے اسکے دیر سے آنے پر تیکھی نظروں سے گھورا۔۔۔ وائٹ شرٹ پر بے بی پنک کلر کا کوٹ اور ساتھ پینٹس پہننے وہ مہرماہ کی طرف دیکھ رہی تھی۔ جو ہاتھ دھونے اب آفس کے اٹیچ واشروم کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔ سفید ہائی ہیلز میں ٹانگ پر ٹانگ رکھتے ہیر اپنے کالے گھنے بالوں کو جھٹک کر لنچ نکالنا شروع ہو گئی۔۔ جو خاص طور پر روز انکی مائیں اپنے ہاتھ سے بنا کر بھیجتی تھیں۔
ہیر کی بے صبری پر ناز مسکرا کر اسکی طرف دیکھ رہی تھی۔
ڈیڈ بتا رہے تھے کہ تم ترکی جانا چاہ رہی ہو۔۔؟ ناز نے ہیر کی طرف دیکھتے ہوئے بات شروع کی تو ہیر اپنے ہاتھ روکتے چہرہ اٹھا گئی۔ ناز کی جانچتی نظروں سے دیکھنے پر اس نے بامشکل نظریں چرائیں۔۔
کریم کلر کی شرٹ کے ساتھ چاکلیٹ کلر کی پینٹس پہنے ناز کھلے بالوں میں بہت سنجیدہ نظروں سے اسکے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ اپنے کالے گھنگریالے بال سٹریٹ کروا چکی تھی۔ لڑکپن کی عمر سے نکلتے ہی ناز کی شخصیت میں ایک ٹھہراؤ آ چکا تھا۔ وہ ضدی اور غصیلے ہونے کو ابھی بھی پہلے جیسی ہی تھی۔ لیکن اب کافی حد تک وہ اپنے ایموشنز کو کنٹرول کرنا سیکھ چکی تھی۔۔۔ ہائی ہیلز پہنے اپنے اپنے دراز قد میں وہ تینوں ایک سے بھر کر ایک تھیں۔۔۔
کون کہاں جا رہا ہے۔۔۔؟ مہرماہ ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے ساتھ والی چئیر پر بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی۔۔۔
یہ میڈم جانا چاہ رہیں ہیں۔۔؟ انکو ہی کچھ مہینوں کے لئے ترکی جانے کا شوق چڑھا ہوا ہے۔۔۔! مہرماہ کے پوچھنے پر ناز اسے بتاتے ہوئے آخر میں ہیر کی طرف اشارہ کرتے طنزیہ لہجے میں کہنے لگی تو ہیر نے بدلے میں سرد سانس خارج کی۔۔
رئیلی آپی۔۔! مہرماہ نے کچھ بے یقین ہوتے ہیر کی طرف دیکھا۔۔۔ ناز لنچ شروع کرتے ہوئے ہیر کی طرف مسلسل دیکھ رہی تھی۔
آپو میں نے تو بس سرسری سا ہی کہا تھا۔ آپ غصہ کیوں کر رہیں ہیں۔۔" ناز کے چبھتے ہوئے لہجے کو سن کر ہیر نے منکر ہوتے منہ بسورا تو اسکے یو ٹرن پر مہر ماہ ے ہنسی دبا لی۔۔
ابھی ایک مہینہ پہلے ہی وہ سب گھوم پھر کر واپس آئیں تھیں۔ انکے اتنا کہنے کے باوجود بھی سلطان اور ضرار نے انکے ساتھ گارڈز بھیجے تھے۔ تو پھر ابھی کیسے ممکن تھا کہ ہیر کے ایک بار کہنے پر اسے ترکی جانے دیا جاتا۔۔۔ بلکہ ایسا کہنے پر اسے باری باری بلیک مینشن کے سارے افراد کو منانے کی ضرورت پیش آ سکتی تھی۔ اس لئے اس نے اپنے کہے سے انکار کرنا ہی صحیح سمجھا تھا۔۔۔
آپی اتنی جلدی تو پاکستان کی حکومت اپنے وعدے سے نہیں پیچھے ہٹتی۔ جتنی جلدی آپ نے انکار کر دیا ہے۔۔۔" مہرماہ نے ہنستے ہوئے ہیر کی طرف دیکھ کر اسے چھیڑا تو ناز نے ہنسی دبائی۔۔۔
بکواس نہ کرو میں نے تب ویسے ہی باتوں باتوں میں کہا تھا کہ میر دل کر رہا ہے اسکا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ میں سچ میں ایسا سوچا ہوا ہے۔۔۔" مہر ماہ کو ڈپٹتے ہوئے تیکھے انداز میں کہہ کر ہیر نے اسے آنکھیں دیکھائیں۔۔۔
ہاں مہرو یہ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے وہ تو میں نے پوچھ لیا۔ اس لئے اسکا یہ فیصلہ بس سرسری سا بن گیا ہے۔ ورنہ یہ فل پلین کیے بیٹھی تھی۔۔۔" ناز دوبارہ گھورتے ہوئے میٹھے لہجے اسے سناتے بولی تھی۔۔
آپی یار بس بھی کریں۔ میں سچ میں آویں ہی کہہ رہی تھی بس..." ہیر جھنجھلاہٹ سے بول گئی۔ کیونکہ مہرماہ کی کھی کھی اسے مسلسل چڑانے کا سبب بن رہی تھی۔۔۔
جاؤ بخش دیا تمہیں اس بار ڈئیر لٹل سسٹر، پر اگلی بار یہ سرسری سا کہنے سے بھی پہلے سو بار سوچنا.."۔ ناز نے سخی پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے معاف کیا تو ہیر شکر کرنے والے انداز میں منہ پر ہاتھ پھیرتی چلی گئی۔ ہیر کے اس انداز پر مہرماہ اور ناز ہنسنے لگیں تو انکو ہنستے دیکھ کر ہیر کی بھی ہنسی چھوٹ گئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارو کہاں ہو دیکھو میں کیا بنا کر لائی ہوں...! پچھلے لان کی طرف آتے ہوئے بہار نے پکارتے ہوئے ماہ پارہ کو آواز لگانا چاہی جو کمر پر دوبٹہ باندھے خاصی مصروف نظر آ رہی تھی۔ اسکی نیلی آنکھوں میں بلا کی معصومیت سمٹی ہوئی تھی۔
اپنی آپو کو ٹرے اٹھائے اپنی طرف آتے دیکھ کر اس نے مسکرا کر چہرے پر آنے والی لٹوں کو پیچھے جھٹکا۔۔۔۔
دوسری طرف بہار یلو کلر کی لانگ فراک کے ساتھ چوری دار پاجامہ پہنے اپنی کالی سحر زدہ آنکھوں میں چمک لیے سلکی بالوں کی چوٹی بنائے تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے اسکی طرف بڑھ رہی تھی۔۔
ایک کو کچن سے فرصت نہیں اور دوسری کی یہ مٹی کے مردے بنانے سے جان نہیں چھوٹتی۔۔۔" منیزے پاشا ان دونوں کی طرف دیکھ کر جل کر بولی تھیں۔۔۔
وہ سب دھوپ میں آ کر ابھی تھوڑی دیر ہی پہلے ہی یہاں پر بیٹھیں تھیں۔ لان کے پچھلے حصے میں ماہ پارہ نے اپنا سیٹ اپ بنایا ہوا تھا۔۔جہاں وہ اپنا سکلپٹنگ کا شوق پورا کرتی رہتی تھی۔ پر اسکا یہ شوق اسکی سگی ماں کے ساتھ ساتھ باقی ماؤں کو بھی ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔
"Choti mama this is called sculpting"
منیزے کے تبصرے کو سن کر ہمیشہ کی طرح ماہ پارہ نے معصوم لہجے میں خفگی سے بولتے ہوئے کہنا چاہا کہ اسکے شوق و جنون کا نام نہ بگاڑیں۔۔ بہار اب اسکے پاس کھڑی اسے اپنے ہاتھ سے چٹنی کے ساتھ پکوڑے ڈبو ڈبو کر کھلا رہی تھی۔ جو وہ اپنے ہاتھ سے بنا کر لائی تھی۔
ہاں وہی وہی سکلپٹنگ کے مردے۔۔۔" ایرہ نے جان چھڑانے والے انداز میں اسکے کہے کے مطابق الفاظ ادا کرتے ماہ پارہ کے بنائے مجسموں کو ایک نظر دیکھا۔۔۔۔
آڑو دیکھ وہ والا مردہ کیسے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر تجھے گھور رہا ہے۔۔" مشعل علی ایک مجسمے کی طرف اشارہ کرتے ایرہ کو مخاطب کرتے سنجیدہ لہجے میں شرارت سے بولیں تو ایرہ نے چہرہ موڑتے گھورنا چاہا۔۔