Janoon-e-Yaar Novel Complete by Amreeney Qais - Episode 15 - Part 1 - urdu novels pdf download


 ناول: #جنون یار

قسط: 15 پارٹ ون
از قلم: #امرینےقیس
شہرام اور فاتح اپنی باتوں میں الجھے ہوئے تھے۔ جب سلینہ انکی کافی اٹھائے انکے ٹیبل کی طرف آئی ۔۔۔
فاتح کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سلینہ نے بے دھیانی میں ٹرے ٹیبل پر رکھنا چاہی، تو جلدی ٹرے رکھنے کے چکر میں زرا سی کافی چھلک کر اسکے ہاتھ پر گرتی چلی گئی۔۔۔
سیی۔۔۔ جلن کے باعث اسکے منہ سے تیزی سے سسکی نکلی تو فاتح نے جلدی سے اسکا ہاتھ جکڑ لیا۔
بے وقوف لڑکی دھیان کہاں ہے تمہارا۔۔۔؟ سلینہ کے ہاتھ کی جلد کو سرخ ہوتے دیکھ کر وہ سرد لہجے میں ڈپٹتے ہوئے بولا گیا۔۔۔ جبکہ شہرام نے فاتح کو تڑپتے ہوئے دیکھ کر اس بار اسے شعلہ بار نظروں سے دیکھتے ہوئے گھورنا چاہا۔۔۔ سلینہ آنکھوں میں نمی لیے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھ رہی تھی جو فاتح کے ہاتھ میں قید تھا۔۔۔
اپکو دیکھ رہی تھی۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ میرا ہاتھ جل جائے گا ۔۔! فاتح کی ڈانٹ پر وہ بھیگے لہجے میں سناتے ہوئے بول گئی۔ جیسے اسکا ہاتھ جلنے میں فاتح کا ہی قصور ہو ۔ فاتح جو پریشانی سے اسکے ہاتھ پر پھونک مار رہا تھا۔ کہ بے اختیار اسکے ہونٹ سلینہ کے معصومیت سے سنانے پر مسکراہٹ میں ڈھلتے چلے گئے۔۔۔
کمینہ ابھی اتنے بڑے بڑے ڈائیلاگ مار رہا تھا۔ اور اب دیکھو کیسے تڑپ اٹھا ہے۔۔۔" فاتح کی فکر مندی دیکھتے ہوئے سر نفی میں ہلاتے ہوئے شہرام بڑبڑا دیا۔۔۔
شہری تیرے پاس کوئی کریم ہے کیا؟ مجھے اسکے ہاتھ پر لگانی ہے۔۔۔! سلینہ کے ہاتھ پر پھونک مارتے ہوئے فاتح نے شہرام کو مخاطب کیا۔ جبکہ شہرام نے فاتح کی ڈیمانڈ پر آنکھیں اچھنبے سے پھیلا لی تھیں۔
بول بھی۔۔۔! سلینہ کا زبردستی ہاتھ کھینچتے ہوئے فاتح نے ساتھ والی چئیر پر بٹھاتے ہوئے شہرام کو پھر پوچھا، جو اچھبنے سے منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
تجھے میں چلتا پھرتا میڈیکل سٹور لگتا ہوں کیا؟ یا سپائیڈر مین؟ جو ملک میں اگر کہیں بھی کسی لڑکی کا ہاتھ جلتا ہو، تو وہ چھپکلے کی طرح بلڈنگ ٹاپتے ہوئے فورآ کریم لے کر حاضر ہو جاتا ہے ۔۔۔" شہرام الٹا طنزیہ لہجے میں پوچھتے ہوئے اسے سناتا چلا گیا تھا۔ بھلا اسکے پاس کہاں سے کوئی کریم موجود ہوتی۔۔۔!؟؟
ان دونوں کے برعکس سلینہ ٹکر ٹکر ناسمجھی سے انکی طرف دیکھ رہی تھی۔ کیونکہ وہ اردو میں بات کر رہے تھے۔ جو اسکی سمجھ سے بالکل باہر تھی۔۔۔
سلطان آپ رہنے دیں۔ میں گھر جا کر کچھ لگا لوں گی ۔۔! سلینہ نے جلدی سے بولتے ہوئے انکی توجہ اپنی جانب کروانا چاہی کیونکہ کافی شاپ کا منیجر اب سلینہ کو گھور رہا تھا۔ جو کسٹمرز کے ٹیبل پر بیٹھی نظر آ رہی تھی۔۔۔ سلینہ کو کریم کے لفظ سے سمجھ آ گئی تھی۔ کہ وہ اسکے ہاتھ پر جلن کم کرنے کے لئے کچھ مانگ رہا ہے۔ اس لئے انکار کرتے ہوئے اس نے کھڑے ہونا چاہا۔۔۔
فاتح جو شہرام کو جواب میں سنانے لگا تھا۔ کہ سلینہ کو بار بار ڈرتے دیکھ کر وہ ٹیبل سے ہی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
جلدی بل دے کر باہر آ، مجھے اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا ہے، اور ہاں اس مینڈک کو بھی جلدی نبٹا آئی۔۔"
کافی شاپ کے مینجر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فاتح جلدی سے کھڑے ہو کر سلینہ کا ہاتھ تھامے اسے اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھ چکا تھا۔ جبکہ شہرام تو اسے منہ کھولے دیکھتا رہ گیا تھا۔۔ جو ہوا کے جھونکے کی طرح چلا بھی گیا تھا۔۔۔۔
سالا پہلے اسکا ہاتھ پکڑتا نہیں ، اور اگر پکڑ لے، تو چھوڑنے کا نام نہیں لیتا ۔۔ کمینہ گلی کا آوارہ عاشق نہ ہو تو، بے غیرت تھوڑی دیر پہلے کیسے دیوداس بنا باتیں سنا رہا تھا۔ اور اب زرا سا ہاتھ جلنے پر لڑکی کا آپریشن کروانے نکل پڑا ہے۔۔۔"
فاتح کو مسلسل کوستے ہوئے شہرام خود سے ہی بولی جا رہا تھا۔ لیکن پھر اپنا اور فاتح کی کافی کا مگ اٹھا کر پیک کروانے چلا گیا۔ اب جو بھی ہو وہ اپنی کافی یہاں پر چھوڑنے والا نہیں تھا۔ آخر کار اسکے ناکارہ ڈیڈ کی حق حلال کی کمائی کے پیسے تھے۔۔
کافی کے مگ اٹھانے کے ساتھ ساتھ وہ مینجر کو ٹوپیاں کروانے کے لیے اٹھ کر کاؤنٹر کی جانب چلا گیا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ڈیڑھ مہینے بعد)
کیا تم لوگوں کو پتہ ہے؟ کہ تم لوگوں کا ایڈمیشن کس کس ڈیپارٹمنٹ میں کروایا گیا ہے۔۔۔؟
کبیر نے سنجیدہ لہجے میں پوچھتے ہوئے سب پر نظر دہرائی۔ جو اس وقت بالکل شریفوں کی طرح ان کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔
پورا ایک مہنیہ ان لوگوں نے دبئی میں چھٹیاں منائی تھیں۔۔ اور اس ایک مہینے میں کبیر اور فارس نے جس جس طریقے سے انکو کنٹرول کرنے کی کوشش کی تھی یہ تو ان دونوں کا ضبط ہی تھا۔ ورنہ وہ لوگ دبئی اینٹر ہوتے ہی اپنی اوقات سے باہر ہو گئے تھے۔
شہرام اور فاتح کی ڈیمانڈ اگر صرف کلب میں جانے کی ہوتی تھی، تو باقیوں کو بیچ پر جانے کا شوق چڑھا ہوتا تھا۔ کبیر خان ور فارس ہمدانی اچھے سے جانتے تھے۔ کہ ایسی واحیات بکواس کر کے وہ لوگ صرف انکا ضبط آزمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ورنہ ان دونوں جگہوں پر جا کر وہ لوگ خود میسنوں کی طرف آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیتے تھے۔ کیونکہ تنگ آ کر کبیر اور فارس انکو ایک دفعہ کلب اور بیچ کا چکر لگوا کر لائے تھے۔ اور پھر وہاں کے نظاروں پر نظر پڑتے ہی ارسل اور باسم نے شرماتے ہوئے کبیر اور فارس کے سینے میں منہ چھپا لیا تھا۔۔ بس شہرام اور فاتح نے ہی زرا اوقات سے باہر جانے کی کوشش کی تھی ۔
جبکہ غازی تو ناک چڑھا کر انجان بننے کی کوشش میں تھا، تو ایشام ولا حول ولا۔۔پڑھتے ہوئے کانوں کو ہاتھ لگانا شروع ہو گیا تھا۔۔ اس طرح کی کیوٹ حرکتیں کرتے ہوئے وہ سب کبیر اور اور فارس کو بے حد پیارے لگے تھے۔
لیکن اس بات کا اظہار مطلب آ بیل مجھے مارنے کے مترادف تھا۔ اس لئے کبیر اور فارس نے اس تعریف پر مٹی ڈال دی تھی۔
اس سب میں صرف ایک انسان ایسا تھا۔ جو اس دبئی ٹرپ میں انکے ساتھ جا کر رونے والا ہو چکا تھا۔ اور وہ تھا ان سب کا پاکستانی ایجنٹ "بہادر خان"۔۔۔
کسی بھی لڑکی کو دیکھ کر وہ سب کسی نہ کسی بہانے بہادر خان کو لڑکی پر گرا دیتے، یا جا کر کہہ دیتے کہ "بریو مین " نے اسے پرپوز کیا ہے۔ بیچاری لڑکیاں تو بریو مین سن کر الجھن کا شکار ہو جاتی تھیں۔ کہ آخر کون ہے یہ بریو مین۔۔۔
انکی ایسی حرکتوں پر بہادر خان نے روتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر کبیر اور فارس سے منت کی تھی۔ کہ وہ اسکی ان لیچوں سے جان چھڑا دیں۔۔ اور جب کبیر اور فارس کی سپورٹ پر آخر کار بہادر خان کی جان چھوٹی تو بعد میں وہ سب بہادر خان کو "چغل خور ایجنت" کہہ کر مشہور کر گئے۔ چونکہ بہادر خان انکی پل پل کی رپورٹ پاکستان میں بھجوا رہا تھا۔ اس لئے اسکو اس عظیم لقب سے نوازا گیا تھا۔
دبئی میں عیش کرنے کے بعد وہ سب ایک بار پھر اپنی پڑھائی والی زون میں واپس آ چکے تھے۔ کبیر، فارس اور شہرام، فاتح کے نیو سمسٹر تو شروع چکے تھے۔ اور اسکے ساتھ ہی جونئیر ٹیم کی بھی یونیورسٹی سارٹ ہو گئی تھی۔
دبئی سے واپسی پر وہ سب اس بحث میں الجھے ہوئے تھے۔ کہ کون کس فیلڈ میں جائے گا یا کون سے سبجیکٹ پڑھیں جائیں۔ تاکہ اس ساری سلیکن کے بعد ایڈمیشن کروائے جا سکیں۔لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھے، کہ انکے ایڈمیشن پہلے ہی ہو چکے ہیں۔۔۔
بھائی ہمارا ایڈمیشن ہو بھی گیا ہے کیا۔۔؟ ارسل نے کسی خدشے کے تحت جاننا چاہا تو فارس نے بے نیازی سے کندھے اچکاتے ہوئے جواب دیا ۔۔ انداز ہاں کرنے والا تھا۔۔۔
اس بار ہمیں کہاں کہاں پھینکا گیا ہے۔۔۔؟ غازی نے آنکھیں اٹھاتے ہوئے اپنے بڑے بھائیوں کو دیکھا۔ جو پاکستان والوں سے بات نہ کرنے کے باوجود ہر چیز کے بارے میں خبر رکھتے تھے۔۔
"باسم کاظمی" میڈیکل ڈیپارٹمنٹ میں بھیجے گئے ہیں، تو "غازیان پاشا" وکیل بننے کی تیاری پکڑ لیں۔۔ جبکہ ہمارے مسٹر "ارسل خان" جو ہیں وہ ائیر فورس کی طرف دھکیل دیے گئے ہیں۔
اور باقی بچے ہمارے "ایشام" عرف مسٹر شام جو ہیں وہ آئی ٹی پڑھے گئے۔۔۔" کبیر خان نے مزے سے باری باری سب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انکے سروں پر نیوکلیئر بمب پھوڑے تھے۔۔ جن کو سننے کے بعد وہ سچ میں صدمے سے آنکھیں پھاڑتے ہوئے دیکھنا شروع ہو گئے تھے ۔۔۔
یہ غلط بات ہے۔ ہم زیادہ بھائی ہیں تو اسکا مطلب یہ تھوڑی ہے۔ کہ دنیا کے سارے شعبے اپنے گھر سے ہی پورے کر دیے جائیں۔ میں اس فیصلے کے خلاف سخت احتجاج کرنے کا مظاہرہ کرتا ہوں۔۔"
سب سے پہلے ہوش میں آتے ارسل خان اپنے زخمی دل کو تھپکتے ہوئے گویا ہونے کی کوشش کرنے لگا۔ لیکن اندر سے اسکا دھاڑے مار کر رونے کو جی چاہ رہا تھا۔
بھائی یہ غلط بات ہے، میرا تو ہوم ورک بھی غازی کرتا تھا۔ میں کہاں ڈاکٹر بن سکوں گا۔۔؟ میں بتا رہا ہوں۔ اگر اس بار میرے ساتھ زبردستی ہوئی تو میں نے سب کو غلط انجکشن ٹھوک دینے ہیں۔
میں بچپن میں ہئیر پن اپنے پاس اس لئے تھوڑی رکھتا تھا۔ کہ بڑے ہو کر سچ میں مجھے ڈاکٹر بنا دو۔۔۔"
باسم کی بھی روتے ہوئے فریادیں شروع ہو گئیں تھیں۔ جبکہ اتنے بڑے صدمے کے بعد اسے سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی۔ کہ کن الفاظ میں اپنا دکھ ظاہر کرے۔۔۔ بے ربط جملے اسکی اندرونی کیفیت کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہے تھے ۔۔۔
اب ہم اس میں کیا کر سکتے ہیں۔ سب کچھ تو فائنل ہو چکا ہے۔۔۔" فارس بے نیازی سے کندھے اچکا کر ہنسی دباتے ہوئے سنجیدہ ہونے کی کوشش کرتے بولا تھا۔
ان سب کے چہروں کے تاثرات سچ میں قہقہے لگانے والے تھے ۔۔۔ شہرام اور فاتح تو مزے سے کوک پیتے ہوئے انکی دکھی فلم انجوائے کر رہے تھے۔ کیونکہ کچھ سال پہلے انکے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ اس لئے ان سب کو یوں روتے دیکھ کر اب انکے کلیجے میں ٹھنڈک اترتی جا رہی تھی۔ ساری صورتحال میں صرف فارس اور کبیر اپنی مرضی کے سبجیکٹ پڑھ رہے تھے۔
دبئی کی ٹرپ کے بدلے اتنی بڑی سزا کون دیتا ہے یار۔۔۔؟ ایشام جھنجھنا کر پیر پٹکتے بولا تھا ۔۔۔ اس لگ رہا تھا کہ انہوں نے ٹرپ پر جانے کی جو پلینگ اپنی ماؤں کے ذریعے منوائی تھی۔ یہ انہیں اسکی سزا ملی ہے۔۔۔
سالے تو بھی کچھ بول۔۔! کہ وکیل بننے کی خوشی میں تیرے سارے الفاظ ختم ہو گئے ہیں۔۔۔! فاتح نے خاموش بیٹھے غازی کو چھیڑتے ہوئے اکسایا تو سب متوجہ ہوتے غازی کی طرف دیکھنے لگے ۔۔۔
نہیں میں بس یہ سوچ رہا ہوں۔ کہ اتنے سارے ظلم ہونے کے بعد مستقبل میں کونسے کونسے کیس ٹھوک کر اپنے گھر والوں کو اندر کروانا چائیے۔۔۔۔" غازی نے سنجیدہ لہجے میں تھوڑی پر انگلی پھیرتے ہوئے پرسوچ انداز میں کہا تو اسکی پلینگ پر سب قہقہ لگاتے چلے گئے۔۔۔
کمینے تو, تو ابھی سے خود کو وکیل سمجھ بیٹھا ہے۔۔! شہرام نے ہنستے ہوئے اسے دیکھا، جس پر غازی نے ایٹیٹیوڈ سے کالر جھٹکتے ہوئے کندھے اچکا دیے تھے۔۔۔ مطلب وہ وکیل بن کر گھر والوں سے بدلے لینے کا ارادہ کیے ہوئے تھا۔۔۔
تم لوگ پھر زمین پر کہیں نہ کہیں پھینکے گئے ہو، میرا دکھ تم سب سے بڑا ہے۔ کیونکہ مجھے زبردستی جہاز کے پروں کے ساتھ باندھ دیا گیا ہے۔۔۔" ائیر فورس کا سوچ سوچ کر ارسل کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔۔۔ ارسل کی دہائی پر وہ سب بتیسی دیکھاتے ہوئے اسے چڑانے کی کوشش کرنے لگے۔ تو بدلے میں ارسل نے چڑتے ہوئے انکو کشن مارنا چاہا تھا۔۔
یہ ساری ڈرامے بازیاں چھوڑ کر اب جا کر کھانے کی تیاری کرو۔۔۔" کبیر نے ہنسی دبا کر انکو وہاں سے غائب کرنا چاہا۔۔۔ کیونکہ اگر وہ مزید دو منٹ بھی اکھٹے بیٹھتے تو یہاں پر دنگا فسادی شروع ہو جانی تھی۔ اور پھر دیکھنے والوں نے یہ کہنا تھا کہ ملک کے سارے شعبے آپس میں لڑ پڑے ہیں۔۔۔
ان سب کے برعکس فارس اپنی سوچوں میں الجھا چکا تھا۔ کیونکہ پہلے گریجویشن کے بعد انکی اٹلی سے واپسی ممکن تھی۔ لیکن اس سارے سین کے بعد فارس کو صاف صاف نظر آ رہا تھا۔ کہ یہ جدائی اب مزید لمبی ہونے والی ہے۔۔۔ تھکی ہوئی سانس خارج کرتے اس نے سر جھٹک دیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے وقت ساحل سمندر کی گیلی ریت پر وہ سب واک کرتے ہوئے ایک دوسرے کو چھیڑ رہے تھے۔ جب اچانک ایشام کی جیب میں پڑا موبائل وائبریٹ ہونے لگا۔۔ موبائل کی وائبریشن محسوس کرتے ایشام چلتے چلتے رک کر جیب سے موبائل نکالنے لگا۔۔۔
موبائل نکالتے ہی سکرین پر ناز کے نام کا نوٹیفیکیشن نظر آیا تو ایشام کو خوش گوار حیرت نے آن گھیرا۔۔
آج اتنے عرصے بعد اسکی بہن نے اسے میسج کیا تھا۔ ورنہ وہ جب سے یہاں پر آئے تھے۔ تو ناز غصے و ناراضگی میں کسی سے بھی بات نہیں کرتی تھی۔۔۔اور آج یوں اچانک اسکے خود سے میسج کرنے پر ایشام کو اپنی ضدی بہن پر بے شمار پیار آنے لگا تھا۔۔۔
ایشام اور ناز وہ بہن بھائی تھے جو ایک ساتھ بیٹھے ہوں تو بنا چونچ لڑائے نہیں رہ سکتے تھے۔ لیکن ان دونوں کے برعکس بہار کی کیمسٹری ان سے الگ تھی۔ بہار اپنے دونوں بڑے بھائی، بہن کی لاڈلی تھی۔ کچھ اپنی معصومیت تو کچھ چھوٹے ہونے کی وجہ سے ناز اور ایشام اسے کم ہی اپنی دنگا فسادی میں گھسیٹتے تھے۔ بلکہ الٹا بہار اکثر انکی صلح کرواتی تھی۔
ایشام نے ناز کا میسج کھولا تو اسکی طرف سے ایک ویڈیو آئی ہوئی تھی۔ ویڈیو دیکھ کر ایشام کچھ حیران ہو گیا تھا ۔۔
اتنے عرصے بعد اس جنگلی بلی نے کونسی ویڈیو بھیجی ہے۔۔۔؟ ایشام نے متججس ہوتے ویڈیو ڈاؤن لوڈ کرنا شروع کی۔۔۔ کچھ سیکنڈز کے بعد ویڈیو کی ڈاؤن لوڈنگ مکمل ہوئی تو ایشام نے جلدی سے ویڈیو پلے کر دی۔۔۔
ویڈیو پلے ہوتے ہی اسے سب سے پہلے بہار کا کھکھلاتا ہوا چہرہ نظر آیا تھا۔ پنک کلر کا گاؤن پہنے وہ اپنی معصوم ہنسی کے ساتھ کیک کاٹ رہی تھی۔ شاید یہ انکی سالگرہ کی ویڈیو تھی۔ ویڈیو دیکھتے ہوئے ایشام نے مسکرا کر سوچا۔۔۔
ویڈیو مزید آگے بڑھی تو باری بار سب کے چہرے نظر آتے گئے۔ جہاں وہ ٹیبل کے گرد کھڑی ہنستے ہوئے، برتھڈے وش کر رہیں تھیں۔
لیکن ساری ویڈیو میں ناز کے چہرے کو بلر دیکھ کر ایشام نے آنکھیں سکیڑ لیں۔۔۔ اپنی چالاک لومڑی جیسی بہن کی ہوشیاری پر ابھی ایشام نیلی آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے گھور ہی رہا تھا۔ کہ اچانک ویڈیو میں دور کھڑا ایک وجود نظر آنے لگا۔۔۔ ویڈیو بنانے والے نے آہستہ آہستہ زوم کرتے ہوئے واضح کیا تو سکرین پر ابھرتے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہی ایشام صدیقی کی نیلی آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہوتی چلی گئیں تھیں۔۔
سی گرین کلر کا گاؤن پہنے اپنی سبز کانچ کانچ سی آنکھوں کو مٹکاتے ہوئے شاید وہ کسی کو چڑا رہی تھی۔ ہیر نے ہنستے ہوئے اچانک اپنی انگلیوں پر لگی کریم کو کھانا شروع کیا تو یہ منظر دیکھتے ہی ایشام کو اپنا وجود ہر طرح سے ڈھیر ہوتا محسوس ہونے لگا تھا۔ اسے اپنا وجود اچانک فضا میں تحلیل ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ ایشام نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے خود کو سنبھالنے کی ناکام سی کوشش کی۔ کیونکہ سینے میں دل تیز رفتار سے دھڑکتے ہوئے اسکا سانس روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
سکرین سے نظریں ہٹاتے ہوئے ایشام نے فضا میں گہرا سانس کھینچ کر نظریں دوبارہ سکرین پر جمائیں تو ہیر اپنی گاؤن اٹھا کر بھاگتی ہوئی نظر آئی تھی۔ اپنی مستی میں جھومتے ہوئے وہ پیچھے بھاگنے والی ناز کو مسلسل زبان نکال کر چڑا رہی تھی۔
ایشام صدیقی سے مزید اسکا چمکتا دمکتا روپ نہ دیکھا گیا تو اس نے موبائل نیچے کرتے ہوئے آنکھیں میچ لیں۔۔۔
ذہن میں وہ سب پرانے منظر گردش کرنے لگے تھے۔ جب کچھ سال پہلے وہ اداس چہرہ لیے اسکے کمرے میں اسے روکنے کے لیے آئی تھی۔ پر ایشام صدیقی نے انتہائی بے دردی کے ساتھ اسکا دل توڑ دیا تھا۔
ایشام کو آج محسوس ہو رہا تھا کہ اسے اٹلی میں بسے کتنے برس بیت گئے ہیں۔ کیونکہ گزرے اتنے سالوں میں ایشام صدیقی نے ہیر پاشا کو نہ سوچا تھا، اور نہ ہی دیکھا تھا۔ بلکہ وہ یہاں پر آ کر یہ بھی بھول چکا تھا۔ کہ اسکی زندگی میں کوئی سبز چڑیل نام کی ہیر ہوا کرتی تھی۔ جو ہر وقت اسکی ناک میں دم کیے رکھتی تھی۔
پاکستان سے آنے سے پہلے پہلے ایشام کو یہ سوچ آئی تھی کہ کہیں اٹلی جاتے ہی ہیر پاشا موبائل پر اسکا جینا حرام کرنا نہ شروع کر دے۔ اور ایسا ہونے پر اگر وہ، ہیر کو بلاک کرنے کی گستاخی کرتا تو پھر اسکے سر پر ڈنڈے ہی برسنے تھے۔۔ لیکن یہاں آتے ہی اسکی ساری غلط فہمیاں دور ہو چکی تھیں۔ کیونکہ ہیر پاشا نے اس ایک بار بھی نہ میسیج کیا تھا اور نہ ہی کال۔۔۔ جینا حرام تو بہت کی بات تھی۔۔۔
کیا وہ اسے بھول چکی تھی؟؟؟ ایشام نے لب کاٹتے ہوئے دھڑکتے دل کے ساتھ سوچا۔۔۔ ہیر کا چہرہ دیکھتے ہی وہ خود میں الجھ چکا تھا۔۔نجانے کس احساس کے تحت اس نے دوبارہ وڈیو پلے کر کے دیکھنا شروع کر دی۔۔۔
وہ اس قدر گم ہو کر ویڈیو دیکھ رہا تھا کہ اسے زرا بھی خبر نہیں ہوئی کہ اسکے پاس کچھ شیطان آ کھڑے ہوئے ہیں۔ جن کے ساتھ وہ رات میں بیچ کی سیر کو نکلا تھا ۔۔ ایشام کو سٹل ایک جگہ پر کھڑے دیکھ کر وہ تجسّس کے مارے اسکے پاس آئے تھے۔
اووو۔۔۔ تو شام میاں ہیر کو دیکھ رہے ہیں۔ میں بھی کہوں کہ یہ صاحب کیوں دنیا بھلائے یہاں پر کھڑے ہیں۔۔"
ارسل اسکے موبائل پر مکمل جھکتے ہوئے سکرین پر چلتی ویڈیو کو دیکھ کر معنی خیزی سے بولا تھا۔۔۔ اسکی آواز سنتے ہی ہڑبڑاہٹ میں ایشام کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر نیچھے ریت میں گرا تھا۔۔
ایشام نے جلدی سے موبائل اٹھاتے ہوئے انکی طرف دیکھا تو وہ تیزی سے ایبرو اٹھاتے، گراتے معنی خیزی نظروں سے اسکی طرف دیکھنا شروع ہو گئے۔۔۔
ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ بس ناز لوگوں کی برتھڈے کی ویڈیو ہے۔۔۔" ایشام نے سنبھلتے ہوئے تیزی سے صفائی دی تھی۔ وہ اپنی باتوں سے اس پہلے کہ ایشام کا جینا حرام کرنے کی کوشش کرتے، جب فارس اور کبیر انکی جانب آتے ہوئے کہنے لگے ۔۔۔
آدھی رات کو بیچ پر آنے کی کیا تک بنتی تھی۔۔؟ کبیر تاسف سے انکو دیکھ گیا۔ جو رات میں ضد کرتے ہوئے زبردستی انکو یہاں پر لے آئے تھے۔۔۔
بھائی دن میں یہاں کا ماحول دیکھنے والا نہیں ہوتا۔ اس لئے ہم اپکو اس ٹائم لے کر آئیں ہیں۔ تاکہ اپکی آنکھیں صاف ستھرا ماحول دیکھ سکیں۔۔۔۔" غازی جواب میں تیزی سے سمجھانے والے انداز میں بولا تو اسکی ڈبل میننگ بونگی پر سب قہقے لگاتے ہوئے ریت پر گرتے چلے گئے تھے ۔۔جبکہ ہنسی تو کبیر اور فارس کو بھی آنے لگی تھی۔۔
زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں،
۔ اٹھو سب کھانا کھانے چلیں۔۔۔" کبیر ہنسی دباتے ہوئے مصنوعی سنجیدگی سے اسے ڈپٹ کر پلٹتے ہوئے فارس کے ساتھ قدم اٹھا گیا۔۔۔
فارس اور کبیر کو جاتے دیکھ کر وہ ایک دوسرے کو اشارہ کر کر تیزی سے بھاگتے ہوئے کبیر اور فارس کے کندھوں پر سوار ہوئے۔۔۔ تو کبیر اور فارس نے چونک کر ہنستے ہوئے انکا بوجھ اٹھا لیا۔۔۔
فارس کی کمر پر فاتح، غازی اور ارسل ایک ساتھ سوار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ تو کبیر نے شہرام، ایشام اور باسم کو اٹھایا ہوا تھا۔۔۔ وہ انکے بڑے بھائی تھے، جو اپنے چھوٹے بھائیوں کا بوجھ اٹھانا خود کے لئے فخر سمجھتے تھے۔۔۔
رات کے اس وقت ساحل سمندر کی لہروں کے ساتھ ساتھ ان سب کے شرارتی قہقہے ہوا میں موجود ہر سناٹے کو چیڑتے چلے گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناز اپنے کمرے میں بیٹھی موبائل پر چلتی ہوئی ویڈیو دیکھ رہی تھی۔۔ جو اس نے ابھی تھوڑی دیر پہلے اپنے بڑے بھائی کو بھیجی تھی۔
یہ وڈیو انکی برتھڈے کی تھی۔ جو ناز نے کل خود سپیشل ایڈیٹ کی تھی۔ اس ویڈیو میں باقاعدہ طور پر اس نے ہیر کو خاص طور پر نمایاں دیکھایا تھا۔ وڈیو کے سٹارٹ کے حصے میں ان سب کی صرف جھلک تھی۔ جبکہ باقی پوری ویڈیو میں ہیر کے ہر مومینٹ کو دیکھایا جا رہا تھا۔ جب وہ ناز کو چڑاتے ہوئے مسلسل بھاگ رہی تھی۔
ناز نے سوچ لیا تھا کہ وہ اپنے بھائی کے دل میں ہیر کو لے کر ضرور ایموشنز جگائے گی۔ کیونکہ ناز کو اچھے سے یاد تھا۔ جب ہیر پیدا ہوئی تھی تو ایشام اسکی طرف بہت اٹریکٹ ہوا تھا۔ کیونکہ وہ اسکے ماموں کی اکلوتی بیٹی تھی۔ ہیر کی سبز آنکھوں کی چمک اسے بہت پسند تھی۔
لیکن پھر آہستہ آہستہ سب بدلتا چلا گیا۔ ہیر بڑے ہونا شروع ہوئی تو وہ خوامخواہ میں ایشام سے چڑنے لگی۔ کیونکہ ہیر کو ہر گز بھی پسند نہیں تھا کہ کوئی اسے چھوڑ کر ایشام صدیقی کو اہمیت دے۔
وہ جب بھی گاؤں جاتے تھے تو وہاں جاتے ہی ہیر اور ایشام کی لڑائی شروع ہو جاتی تھی۔ ہیر کو شیراز پاشا اور گل جہاں بیگم کا ایشام پر پیار لٹانا ہر گز بھی پسند نہیں تھا۔ اسی جلن میں اس نے ایشام کو تنگ کرنا شروع کر دیا تھا۔
ہیر پہلے جہاں صرف شیراز پاشا اور گل جہاں بیگم کے ایشام کو پیار کرنے پر چڑتی تھی۔ آہستہ آہستہ اسکی یہ چڑ اتنی بڑھتی چلی گئی۔ کہ ایک دن اس نے وہاج اور بیہ کو بھی صاف کہہ دیا کہ وہ ایشام کو پیار نہ کریں۔۔۔
ہیر کے اس غصے بھرے حکم کو سن کر سب تعب کا شکار ہو گئے تھے۔ لیکن بات یہاں ہی ختم نہیں ہوئی تھی۔ بلکہ پھر جس کسی کو بھی ہیر ایشام پر پیار لٹاتے دیکھ لیتی تو وہ آگے بڑھ کر ایشام کو پرے دھکیل کر خود اسکی گود میں بیٹھ جاتی تھی۔ خاص طور پر وہ بیہ کو پیار کرنے نہیں دیتی تھی۔۔
ہیر کے اس انداز پر بیہ تو اپنی بھتیجی کے صدقے واری ہو جاتی تھی۔ پر ایشام کا غصے سے برا حال ہونے لگا تھا۔ اور پھر آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ یہ جنگ مزید بڑھتی چلی گئی۔ ایشام کے اٹلی جانے سے پہلے تک ہیر نے اسے تگنی کا ناچ نچانے رکھا تھا۔
ناز چھت کو گھورتے ہوئے اپنے بچپن کو سوچتے ہوئے ہنس دی۔ان سب کا بچپن ایک ساتھ بہت حسین گزرا تھا۔ حسین یادوں کو یاد کرتے وہ مسکرا کر اٹھ بیٹھی۔۔۔
ناز نے موبائل اٹھاتے ہوئے ایک نئی ویڈیو اوپن کی۔۔ جو ہیر کی دو دن پہلے کی تھی۔ ناز نے یہ ویڈیو چپکے سے بنائی تھی۔
ویڈیو کو پلے کرتے ہی ناز نے اسے بھی ایڈٹ کرنا شروع کر دیا۔ تاکہ کل پھر ویڈیو بھیج کر اپنے بھائی کا دل، گردے سب ہلا سکے۔ اس نے پکا ارادہ کر لیا تھا۔ کہ وہ ہیر کو اٹلی میں رہنے والے کے دل میں بسا کر رہے گی۔۔۔ دل میں بسنے کے بعد پھر ان دونوں کے بیچ میں جتنی مرضی جنگیں ہوں۔۔۔
Post a Comment (0)
Previous Post Next Post