Janoon-e-Yaar Novel Complete by Amreeney Qais - Episode 14 - urdu novels pdf download


 ناول: #جنون یار

قسط: 14
از قلم: #امرینےقیس
آپی یہ بلونز کہاں پر لگاؤں۔۔؟ ماہ پارہ معصومیت سے پوچھتے ہوئے ہیر کی طرف آئی جو مون بتی کو جلا رہی تھی۔۔
پارو کہیں بھی لگا دو۔۔" ہیر نے اپنے کالے سلکی بال پیچھے پھینکتے ہوئے مصروف انداز میں جواب دیا۔۔
آج گل ناز اور گل بہار کی سالگرہ کا دن تھا۔ تو وہ سب لوگ انکا جنم دن منانے کے لیے بلیک ہوٹل پر آئیں تھیں۔ کل وہ سب ایک ساتھ شاپنگ کرنے گئیں تھیں۔ ایک ساتھ مستیاں کرتے ہوئے کل کی شام انہوں نے کافی انجوائے کرتے ہوئے گزاری تھی۔
گل ناز بھی اب پہلے سے کافی سنبھلی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ شاید ہیر کے کہنے کے مطابق اس نے اپنے لئے جینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
سب بڑوں نے گل ناز کو بھی اپنی برتھڈے پر خوش دیکھ کر شکر ادا کیا تھا۔ انکے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ سنبھل رہی ہے۔ ورنہ وہ اس کے لئے سب بے حد پریشان رہتے تھے۔
سب بڑوں کی اجازت سے وہ سب بلیک ہوٹل پر آ گئیں تھیں۔ تاکہ یہاں پر سب تیاریاں وہ خود کر سکیں۔اس طرح ایک ساتھ انجوائے کرتے ہوئے انکا آج کا دن بھی مزید اچھا گزر سکتا تھا۔ انہی سب چیزوں کو دماغ میں رکھتے ہوئے ہیر نے یہاں آنے کا پلین بنایا تھا۔
نیٹ کی گاؤن پہنے وہ سب بے حد پیاری لگ رہیں تھیں۔ ان سب کی گاؤن کے کلرز مختلف تھے۔ لیکن سٹائل اور ڈیزائن سب کا ملتا جلتا تھا۔ صرف گل ناز اور گل بہار نے سلک کے ٹی پنک کلرز کے گاؤن پہنے ہوئے تھے۔ چونکہ وہ دونوں برتھڈے گرلز تھیں۔ اس لئے انکا کا ڈریس باقی سے الگ تھا۔
بلیک ہوٹل کے پچھلے اوپن ایریا میں سجاوٹ ہوئی نظر آ رہی تھی۔ اور یہ برتھڈے ڈیکوریشن انہوں نے خود مل کر کی تھی۔ زندگی میں پہلی بار یوں خود سے ڈیکوریشن کرنے کا انکو کافی مزہ آیا تھا۔
بلیک ہوٹل کا یہ وہی حصہ تھا۔ جہاں ماضی میں کچھ سال پہلے ان سب کے ماں باپ نے اپنی پہلی ناکام ڈیٹ منائی تھی۔ لیکن اب حال میں اس ہوٹل کا نقشہ ہی بدل چکا تھا۔
گراؤنڈ پر ہر طرف پنک کلرز کے بلونز بکھرے تھے۔ جن پر "ہیپی برتھڈے" لکھا ہوا تھا۔
ہیر۔۔!! مام ڈیڈ لوگ بھی یہاں پر آ رہے ہیں۔۔۔" ناز جو ابھی گھر سے آئی کال سن کر واپس آئی تھی۔ وہ ہیر کو مخاطب کرتے ہوئے سب کو بتاتی چلی گئی۔۔۔
گھر والوں کا اچانک یہاں پر آنے کا پلین کیسے بن گیا۔۔۔؟ ماہ پارہ جو اب ٹیبل پر رکھے دونوں کیک میں موم بتیاں لگا رہی تھی چہرہ اٹھاتے ہوئے وہ حیرانی سے پوچھ گئی۔
تم لوگوں کو پتہ تو ہے۔ کہ ابھی کل ہمارے بھائیوں کی وجہ سے مام لوگ اتنا ناراض ہو گئیں تھیں۔ تو بس انکا موڈ سیٹ کرنے کے لئے ڈیڈ انہیں یہاں پر لا رہے ہیں۔۔۔" ناز نے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے تفصیل بتائی۔۔۔
ویسے بھیا لوگ ہیں بہت چالاک۔۔!! جہاں پر
انکو لگتا ہے کہ انکی بات نہیں مانی جائے گی۔ وہیں پر وہ سب مام لوگوں کو ایموشنل کر کے آگے کر دیتے ہیں۔ اور پھر یوں چٹکیوں میں
انکی ہر ڈیمانڈ مانی جاتی ہے۔۔۔" کل کھانے کی میز کا سارا منظر یاد کرتے ہوئے مہرہ ماہ بے اختیار تبصرا کرتی بولی تھی۔
ویسے نہ بھیا لوگوں کے دبئی کے ٹرپ کا سن کر میرا بھی دل کر رہا ہے کہ ہم بھی کہیں گھومنے چلے جائیں ۔۔۔" بہار نے اپنی ازلی معصومیت کے ساتھ خوش ہوتے خواہش کا اظہار کیا تو وہ سب مڑ کر اسکی طرف دیکھنے لگیں۔
اووو۔۔!! اور میری یہ معصوم بہن کہاں گھومنے کے لئے جانا چاہتی ہے ۔۔؟ بہار کے معصوم بچوں کے سے انداز کو دیکھتے ہوئے ناز پوچھے بنا نہیں رہ سکی۔۔۔جبکہ بہار کے خیال پر امپریس ہونے کی ایکٹنگ بھی کی گئی تھی۔۔
ہم بھی دبئی گھومنے چلیں کیا۔۔۔؟ پرجوش بھرے انداز میں بہار بتاتے ہوئے بولی تو وہ سب ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے زور سے ہنسنا شروع ہو گئیں۔۔
لگتا ہے میری معصوم بلی کو بیر بھیا (کبیر) کی یاد ستا رہی ہے۔۔۔! ناز نے ہنستے ہوئے اپنی چھوٹی بہن کو اسکی کے سٹائل میں "بیر" کہتے چھیڑا تو بہار بدلے میں منہ بنانے لگی جیسے اس نے کڑوا بادام چبا لیا ہو۔۔۔
تم لوگ کیوں ہر دفعہ مجھے تنگ کرتی ہو، مجھے نہیں آئی کبھی تمہارے بیرررر بھیا کی یاد۔۔۔" بہار خفگی سے ناک چڑھا کر جتاتے ہوئے بولی۔۔ جیسے وہ کسی کبیر خان کو جانتی نہ ہو ۔۔
جی جی ہمیں بہت اچھے سے معلوم ہے کہ اپکو ہمارے بھیا کی یاد نہیں آتی۔ وہ تو بس ویسے ہی آپ نے اپنے کمرے میں کبیر بھیا کی نوٹ بکس سنبھال کر رکھی ہوئیں ہیں۔۔" ماہ پارہ جو اپنے بھائی کے ذکر پر اداس سی ہونے لگی تو لگے ہاتھ وہ بھی چھیڑتے ہوئے اسکا راز فاش کر گئی۔۔۔ جس کو سن کر بہار نے ہونٹ کاٹنا شروع کر دیا تھا۔۔۔
واٹ۔۔۔؟ کیا سچ میں آپو نے بھیا کی نوٹ بکس سنبھال کر رکھیں ہوئیں ہیں۔۔۔؟ مہر ماہ بے یقین ہوتے منہ کھول گئی۔۔۔
ہاں بھئی رکھی ہیں نوٹ بکس سنبھال کر میری بہن نے۔۔۔! وہ تو بس اسکو بھیا کی رائٹنگ بہت پسند ہے اس لئے اس نے اپنے پاس الماری میں چھپا کر رکھ دیں ہیں۔ اسکا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ اسکو کبیر بھیا کی یاد آتی ہے۔۔۔"
اپنی چھوٹی بہن کو اب منہ بسورنے کی تیاری پکڑتے دیکھ کر ناز جلدی سے اسے گلے لگاتے حمایت کرتے بول گئی۔۔۔ سب کے تنگ کرنے پر بہار اب رونے والی ہو چکی تھی۔۔ ناز کے آنکھیں دیکھانے پر وہ ہنسی دبانے لگیں ۔۔
آپو میں نے سچی بس رائٹنگ کی وجہ سے ہی رکھی ہیں۔۔" بڑی بہن کو اپنی سائیڈ لیتے دیکھ کر بہار جلدی سے صفائی دیتے بولی کہ جیسا اس نے کہا ہے، حقیقت میں بھی اسکے نوٹ بکس رکھنے کی بس یہ ہی ایک وجہ ہے۔۔۔
بہار کی صفائی پر نا چاہتے ہوئے بھی ناز ہنسنا پڑی۔ وہ اب اپنی چھوٹی بہن کو کیسے بتاتی۔ کہ وہ اسے کتنی بار کبیر خان کے کمرے میں چوری چوری جاتے دیکھ چکی ہے۔ لیکن یہ سب راز وہ کبیر خان کو بتانے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔
چلو بہت ہو گئیں باتیں آؤ اب کیک کٹ کرتے ہیں۔۔۔" ہیر نے سب کو ٹیبل کے پاس آنے کا اشارہ کیا۔۔۔
پر آپی مام ڈیڈ لوگوں کو تو آ لینے دیں۔۔۔" ماہ پارہ نے اپنے میٹھے لہجے میں کہتے ہوئے اسے دیکھا جو ٹیبل کے پاس جا کر کھڑی ہو چکی تھی۔۔۔ ماہ پارہ مکمل طور پر علیزے پر گئی تھی۔ ویسے ہی میٹھا لہجہ اور بات کرنے کا انداز تھا۔
ڈیڈ لوگ جب آئیں گئے ہم تب دوبارہ کیک کٹ کر لیں گئے۔ ویسے بھی انکو آنے میں ابھی کافی دیر لگے گی تو تب تک ہم انجوائے کرتے ہیں۔۔۔" ہیر کیک پر رکھی موم بتیوں کو جلاتے ہوئے کہنے لگی تو وہ سب اثبات میں سر ہلا کر ٹیبل کے اردگرد کھڑی ہو گئیں۔ انکی آج یہاں پر موجودگی کی وجہ سے ہوٹل کا سٹاف بھی ادھر نہیں آ سکتا تھا۔۔اس لئے وہ مکمل طور پر بے فکر تھیں۔۔۔
رکو مجھے کسی کو بلانے دو، جو ہماری وڈیو اور تصویریں بنا سکے۔۔ ناز نے کہتے ہوئے ہوٹل کے سٹاف میں کسی کو بلانے کے لئے فون کیا تو تھوڑی دیر بعد ایک سٹاف کی لڑکی انکی جانب آتی دیکھائی دی۔۔۔
ناز نے لڑکی کو ہدایات دینے کے بعد فون پکڑا دیا تھا۔ ناز کی ہدایت کے مطابق لڑکی نے مسکراتے ہوئے انکو ریکاڈ کرنا شروع کر دیا۔۔۔
گل ناز اور بہار نے ایک ساتھ جھکتے ہوئے موم بتیاں بجھائیں تو سب کھلکھلا کر انکو وش
کرتے ہوئے تالیاں بجانا شروع ہو گئیں۔۔
ناز اور بہار نے ہنستے ہوئے کیک کے پیس اٹھا کر سب کو کھلانا شروع کیا۔ تو ہیر جلدی سے ایک سائیڈ سے کیک اتار کر ناز اور بہار کے چہروں پر لگا کر بھاگ نکلی ۔ جب تک انکو سمجھ آئی تب تک م ہیر دور جا کر کھڑے ہوتے ہنسنا شروع ہو گئی تھی۔ ہنسنے کے ساتھ ساتھ انگلیوں سے کیک بھی کھانا بھی جاری تھا۔۔
ہیر کی بچی رکو تم زرا۔۔۔! ناز مٹھی میں کیک بھرتے ہوئے بدلہ اتارنے کی غرض سے اسکے پیچھے بھاگی۔ جس پر ہیر نے مزید ہنستے ہوئے بھاگنا شروع کر دیا۔
اس پکڑم پکڑائی کے کھیل میں وہ سب ایک دوسرے کے چہروں پر کیک لگانے کی کوشش میں ہلکان ہونے لگیں تھیں۔ ٹیبل پر رکھے کیک کھانے کی بجائے وہ مٹھیوں میں بھرتے ایک دوسرے کے چہروں اور کپڑوں پر لگا رہیں تھیں۔ پورے ہال میں ان سب کی خوبصورت ہنسی کی اواز گونج رہی تھی۔
یہ کیا کر رہیں ہیں۔۔؟ انکے ماں باپ کی اچانک وہاں پر اینٹری ہوئی تو انکو یوں ہنستے دیکھ
کر خوشگوار حیرت کا شکار ہوتے چلے گئے۔۔۔
دیکھو زرا میری بیٹیاں ہنستے ہوئے کیسے پریاں لگ رہیں ہیں ۔۔۔" عیس انکی ہنسی پر قربان ہوتے بولا۔۔
وہ اتنی بے خبر ہو کر ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہیں تھیں کہ انہیں یہ بھی خبر نہیں ہوئی تھی کہ انکے ماں باپ یہاں پر آ چکے ہیں۔۔۔
اور ایک انکے پرے ہیں!! ہنسنا شروع کریں تو بدلے میں صرف جوتے مارنے کو دل کرتا ہے۔۔۔" ایرہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سنی نے عیس کی لائن کو مکمل کیا تو جہاں عیس سمیت باقی نے ہنسی دبائی وہیں پروں کی ماؤں نے انکو گھورنا شروع کر دیا تھا۔۔
کہیں یہ گر نہ جائیں ۔۔" اہنی پریوں کو یوں بھاگتے دیکھ کر سلطان ہنسی دبا کر فکر مندی سے آگے بڑھ گیا۔ پہلے ہی بہت مشکل سے وہ مشعل اور علیزے کو راضی کر کے یہاں پر لائے تھے۔
عیس اور سنی کی پھلجڑیوں پر ہنس کر سلطان اپنی خانم کو دوبارہ ناراض نہیں کر سکتا تھا۔ اس لئے تیزی سے اپنی پریوں کی طرف چلا گیا۔۔ پہلے ہی وہ سب اپنے بیٹوں کے خلاف ایک لفظ سننے کو تیار نہیں تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاری سیمپل کے آرڈرز ڈلیور ہو گئے ہیں کیا۔۔۔؟ کبیر خان نے آفس میں داخل ہوتے فارس سے پوچھا۔ جو لیپ ٹاپ پر تیزی سے انگلیاں چلا رہا تھا۔۔۔
ہاں خان میں نے کل ہی کر دیے تھے۔۔۔" فارس زرا سا چہرہ اٹھا کر اسکی طرف دیکھ جواب دینے کے بعد دوبارہ لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہو گیا ۔۔
چل شکر ہے یہ پریشانی تو کم ہوئی۔ باقی یہ بتا کہ کل تک کام وائنڈ آپ ہو سکتا ہے کہ نہیں؟ کیونکہ ان خبیثوں نے دبئی جانے کا رولا ڈالا ہوا ہے۔ اور شاید کل کی ٹکٹس بھی ہو چکی ہیں۔۔" کبیر نے بیٹھتے ہوئے اس سے پوچھا ۔۔جبکہ ساتھ دبئی پلین سے بھی آگاہ کر دیا تھا۔۔۔۔
جب سے انکی گھر والوں کے ساتھ ناراضگی شروع ہوئی تھی۔ تب سے ان دونوں نے ضد میں اپنے گھر والوں پر فائنینشلی طور پر انحصار کرنا چھوڑ دیا تھا۔ کالج سٹارٹ ہوتے ہی ان لوگوں نے جاب کی تلاش کی تھی۔ جو کہ انکو جلد مل بھی گئی تھی۔
یوں صبح کے وقت کالج اور شام کے وقت وہ جاب کرنے لگے تھے۔ لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ ان دونوں نے اپنا چھوٹا سا امپورٹ، ایکسپورٹ کا بزنس شروع کر دیا۔ دن رات کی اتنی محنت اور لگن کے بعد وہ دونوں اپنا چھوٹا سا آفس بھی بنا چکے تھے۔ جو انکے اپارٹمنٹ کے بالکل قریب ہی تھا۔
فارس اور کبیر خان کی اس ضد پر انکے گھر والے پریشان ضرور ہوئے تھے۔ کیونکہ اٹلی جیسے ملک میں بنا پیسوں کے رہنا نا ممکن تھا۔ لیکن کبیر اور فارس نے ہار نہیں مانی تھی۔ فارس کے صرف ایک دفعہ کہنے پر کبیر خان نے بھی دوبارہ گھر والوں سے بات نہیں کی تھی۔ وہ اپنے بھائی کو ہر طرح سے خوش دیکھنا چاہتا تھا۔ اس لئے بنا کوئی سوال کیے اسکے فیصلے اور ضد میں راضی ہو گیا تھا۔
انکی کامیابی کو دیکھتے ہوئے گھر والوں نے فاتح اور شہرام کو بھی کچھ بننے کی موٹیویشن دی تو وہ دونوں مطمئن انداز میں انکی ایسی کسی بھی "موٹویشن" پر عمل کرنے سے انکار کر گئے تھے۔۔
کیونکہ شہرام کے مطابق "ناکارہ ڈیڈ" کی اتنی کمائی کو زنگ لگ سکتا ہے۔ اگر وہ بھی خرچ کرنا چھوڑ دے۔ اور فاتح سلطان کے تو کیا ہی کہنے۔۔
جس نے سلطان کو یہ جواز پیش کیا تھا۔ کہ اسے دنیا سے ڈر لگتا ہے۔ کیونکہ اسکا دل ابھی بہت کمزور ہے۔ تو ابھی وہ کہاں بھائی لوگوں کی طرح کمائی کر سکے گا۔ بلکہ اب تو سلطان کو اسکے اکاؤنٹ میں کبیر خان کے حصے کی بھی پاکٹ منی ٹرانسفر کرنی چاہیے۔ تاکہ وہ انہی پیسوں کو جوڑ جوڑ کر کچھ دولت جمع کر سکے۔۔۔ انکی ایسی بکواس پر انکے باپ بس دانت پیس کر رہ گئے تھے۔۔
یونیورسٹی میں کبیر اور فارس کا چونکہ ابھی سکینڈ لاسٹ ائیر چل رہا تھا۔۔تو باقی سب کی گریجویشن ہونے تک وہ دونوں آہستہ آہستہ اپنے بزنس کو آگے بڑھانے والے تھے۔
کام تو آج ہی وائنڈ آپ ہو جائے گا۔ پر یہ انکو دبئی گھومنے کی اتنی کیوں جلدی پڑی ہوئی ہے۔۔۔؟ فارس نے کچھ حیران ہوتے اس بے تابی کی وجہ جاننا چاہی۔۔۔
جلدی کیوں نہیں ہو گی۔ وہ ہمارے دو بڑے کمینے ہیں نا چھپ چھپ کر "کلبنگ" کرنے والے۔۔ انہوں نے ہی باقیوں کو بھی کمینے پن کی پٹیاں پڑھائی ہیں۔۔۔۔" فارس کے پوچھنے پر کبیر دبئی کے ماحول کو دماغ میں رکھتے ہوئے معنی خیزی لہجے میں سر جھٹکتے ہوئے بولا تھا۔۔۔
خان میں پہلے بتا رہا ہوں۔ کہ اگر ان میں سے کسی نے بھی وہاں جا کر کوئی خبیث حرکت کرنے کی کوشش کی تو مجھے جوتے مارنے میں زرا دیر نہیں لگنی۔۔۔ " فارس دانت پیستے ہوئے گویا ہوا۔۔۔ اسے اب سمجھ میں آ رہا تھا۔ کہ یہ ٹولا دبئی جانے کے لئے اتنا اوتاولا کیوں ہوا پڑا ہے ۔۔
تو ٹینشن نہ لے۔ ویسے بھی تو جانتا ہے کہ ہماری موجودگی میں وہ انسان بنے رہتے ہیں۔ بس اس بات کا تو بھی اور میں بھی دھیان رکھوں گا کہ یہ جنگلی بھینسے ایک سکینڈ کے لیے بھی اکیلے نہ رہیں۔۔۔"
کبیر نے لیپ ٹاپ بنتے ہوئے خصوصی یادہانی کروائی تو فارس ہنستے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔۔ وہ دونوں اگلی پلینگ کرتے ہوئے آفس کو بند کر کے اپارٹمنٹ کی طرف جانے کے لئے وہاں سے نکل آئے تھے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ اٹلی کی ایک کافی شاپ کا منظر تھا۔ جہاں شام کے وقت کسمٹر کے آنے جانے کا تانہ بانہ سا لگا ہوا تھا۔ غرض کوئی بھی ٹیبل خالی ہونے
سے پہلے وہاں آنے والے نئے لوگ بیٹھ جاتے تھے۔
سلینہ یونیفارم پہنے بار بار منتظر نگاہوں سے
دروازے کی جانب دیکھ رہی تھی۔ اسکی چاکلیٹ براؤن آنکھیں کونے میں پڑی ہوئی ٹیبل کی طرف اٹھ رہیں تھیں۔ جہاں بیٹھنے والا ابھی تک غیر حاضر تھا۔
کسٹمرز کو کافی سرو کرتے ہوئے وہ اب تشویش کا شکار ہونے لگی۔ اسکی چاکلیٹ براؤن آنکھوں میں اب بس نمی ابھرنے رہنے کی کسر رہ گئی تھی۔ کیونکہ اسکی آنکھوں کو فاتح سلطان کا چہرہ نظر نہیں آ رہا تھا۔۔۔
آڈر لینے کے بعد وہ کافی لینے کے کاؤنٹر کی طرف گئی تو اداسی سے کاؤنٹر پر ناخن سے لکیریں کھینچنا شروع ہو گئی۔۔ اسی کھیل میں اسکی آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کر اس سے پہلے کاؤنٹر پر گرتا کہ بر وقت کسی نے ہاتھ آگے کرتے ہوئے وہ آنسو اپنی ہتھیلی پر چن لیا ۔۔۔
سلینہ نے مڑ کر چونکتے ہوئے دیکھا تو فاتح سلطان کی نیلی آنکھیں اسکی چاکلیٹ براؤن آنکھوں سے ٹکراتی چلی گئیں۔۔۔ اپنی اداسی میں وہ اس قدر مگن تھی کہ اسکی موجودگی بھی محسوس نہیں کر پائی تھی ۔۔۔
مائے کافی۔۔۔؟ سلینہ کی جانب چہرہ جھکاتے ہوئے وہ اسکے کان میں سرگوشی کرنے والے انداز میں بولا تو سلینہ مسمرائر ہوتی اسے دیکھتی چلی گئی تھی۔۔۔
بلیک شرٹ اور جینز پر لانگ بلو کوٹ پہنے وہ اپنی کیریبین بلو آنکھوں میں منجمد کر دینے والا نیلا پن سجائے کھڑا تھا۔ فاتح سلطان کی آنکھیں جس قدر نیلے رنگ میں رچی بسی تھیں۔ کبیر خان کی آئس بلو آنکھوں میں نیلا رنگ اتنا ہی کم تر تھا۔
فاتح سلطان کی نیلی آنکھوں میں منجمد کر دینے والی صلاحیت تھی۔ تو کبیر خان کی آنکھوں میں ہمہ وقت وحشت رقص کرتی تھی۔ اور اسی وحشت سے بہار بھی بچپن سے خائف تھی ۔
سلینہ بنا پلکیں جھپکائیں اسکی طرف دیکھ رہی تھی۔ جب وہ اسکی بے خودی محسوس کرتے مسکراتے ہوئے اپنی ٹیبل کی طرف بڑھ گیا۔ جہاں شہرام پہلے ہی بیٹھا ہوا تھا۔۔۔
فاتح کو اپنے ٹیبل پر بیٹھتے دیکھ کر سلینہ ہوش میں آتی تیز ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ مسکراتے ہوئے جلدی سے انکی کافی لینے چلی گئی تھی ۔
ایک بات بتا، کیا تو سچ میں سلینہ کے بارے میں سیریس ہے۔۔؟ فاتح کے چئیر پر بیٹھتے ہی شہرام نے سوال کیا۔۔۔
نہیں ۔۔۔! فاتح نے کوٹ کے بٹن کھول کر کاؤنٹر کے دوسری طرف کھڑی سلینہ کو دیکھتے ہوئے بنا سوچے یک لفظی جواب دیا تھا۔۔۔
کمینے۔۔!! اگر تو سنجیدہ نہیں ہے۔ تو دو سالوں سے ادھر جھگ مارنے آ رہا ہے کیا؟ اور ابھی جان بوجھ کر باہر کیوں رک گیا تھا۔۔؟ شہرام کو اسکے جھوٹ پر تیزی سے تپ چڑھی تو وہ سناتا چلا گیا۔۔
شہرام تھوڑی دیر پہلے کا حوالہ دیتے پوچھ ریا تھا ۔جب کافی شاپ پر پہنچ کر فاتح جان بوجھ کر باہر رک گیا تھا۔ سلینہ کو اپنی تلاش میں اداس ہوتے دیکھ کر اسکا دل کمینے پن سے مچل اٹھا تھا۔۔۔ لیکن جب فاتح نے اس بے وقوف لڑکی کے تاثرات کو رونے کی تیاری پکڑتے دیکھا تو وہ جلدی سے اندر داخل ہوا تھا۔۔
پر وہ تب رخ موڑے کاؤنٹر پر کھڑی تھی۔
اپنے دل کے بے چین ہونے پر شہرام کو ٹیبل کی طرف جانے کا اشارہ کر کے وہ خود کاؤنٹر کی طرف بڑھ گیا۔ جہاں چہرہ جھکائے وہ اداسی سے خود پر ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اسکی براؤن آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر اس سے پہلے کاؤنٹر پر گر کے بے مول ہو جاتا جب فاتح نے اسے ہتھیلی پر چنتے ہوئے محفوظ کر لیا تھا۔۔
وہ تو میں بس اس چاکلیٹ کا سٹیمنا چیک کر رہا تھا۔۔..؟ شہرام کے بھڑکنے کا زرا برابر اثر لیے وہ بے نیازی سے جواب دیتے بولا ۔۔۔
تو اسکا سٹیمنا نہیں بلکہ اپنے اس کمینے دل کو خوش کر رہا تھا۔۔۔ شہرام نے گھور کر اسے آئینہ دیکھایا۔۔۔ جس پر فاتح آنکھیں چھوٹی کرتے اسے دیکھ گیا ۔۔
کمینے تجھے کیا مسئلہ ہوتا ہے۔۔۔؟ میں کچھ بھی کروں اسکے ساتھ۔۔۔! فاتح نے دانت پیستے ہوئے جواب دیا۔ کیونکہ وہ ہمشیہ جان بوجھ کر اسے آئنیہ دیکھانے کی کوشش کرتا رہتا تھا ۔۔
دیکھ میں سیریس پوچھ رہا ہوں۔۔! تو اچھے سے جانتا ہے کہ اٹلی ہمارا مستقل ٹھکانہ نہیں ہے۔ مزید کچھ سال پھر سب کے گریجویشن مکمل کرتے ہی ہم فورآ یہاں سے واپس چلے جائیں گئے۔ ایسے میں تو کیا اس بیچاری لڑکی کو امید کے دیے پکڑا کر خود دفع ہو جائے گا ۔۔۔؟ ایک دم سے سیریس ہوتے شہرام سنجیدہ لہجے میں پوچھنے لگا۔۔
میں تیری بات سے اتفاق کرتا ہوں۔۔! پر ابھی مجھے خود بھی اندازہ نہیں ہے کہ یہ لڑکی مجھے کہاں سے کہاں لے جائے۔۔۔ کیونکہ ابھی نہ تو ہماری اتنی عمر ہوئی ہے اور پھر یہ بے وقوف لڑکی تو عمر میں مجھ سے بھی چھوٹی ہے۔ یونیورسٹی میں اسکا پہلا سال ہے۔ پتہ نہیں کبھی کبھی مجھے کیوں لگتا ہے کہ یہ اپنی نادانی اور کچی عمر کی وجہ سے میری طرف اٹریکٹ ہو رہی ہے۔۔۔۔"
فاتح الجھن سے سلینہ کو دیکھتے ہوئے بتا رہا تھا۔ اپنے دل میں اٹھتے جذبات سے اسے خود بھی ڈر لگتا تھا۔ اس لئے الجھن و بے بسی سے اس نے شہرام کے سامنے اپنے سارے خدشات کا اظہار کر دیا تھا۔
تو تجھے یہ لگتا ہے کہ یونیورسٹی میں مزید ٹائم گزارنے کے بعد وہ تجھے بھول جائے گی۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ بعد میں سلینہ کو کوئی اور پسند آ جائے۔۔۔! رائٹ۔۔۔؟ شہرام اسکے سارے الفاظ کا مطلب اخذ کرتے ہوئے بولا ۔۔۔تو فاتح نے سر اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔
Post a Comment (0)
Previous Post Next Post