Janoon-e-Yaar Novel Complete by Amreeney Qais - Episode 13 - Part 2 - urdu novels pdf download


 ناول: #جنون یار

قسط: 13 پارٹ ٹو
از قلم: #امرینےقیس
یار شہری یہ بورنگ کلاس اٹینڈ کر کے مجھے بہت بھوک لگ رہی یے۔ چل آ جا پہلے کچھ کھا لیں۔ پھر دیکھتے ہیں آج کے دن میں مزید ہمیں کیا کرنا ہے ۔۔"
فاتح نے ساتھ چلتے ہوئے شہرام سے کہا جو موبائل فون پر میسیجز پڑھ رہا تھا۔۔
ان دونوں نے ہمیشہ کی طرح ایک جیسی ڈریسنگ میں تھے۔ وائٹ کلر کی ہاف سلیوز گرم شرٹ اور پینٹس پہننے وہ اردگرد سے بے نیاز کیفے ٹیریا کی جانب جا رہے تھے۔ جبکہ دونوں نے اپنی اپنی بلیک لیدر جیکٹ اتار کر بازوؤں پر رکھی ہوئی تھی۔
کیفے میں داخل ہوتے ہی فاتح نے اپنی جیکٹ شہرام کی طرف اچھالی تو وہ کیچ کرتے اسکے پیچھے قدم اٹھا گیا۔۔۔
کیا دیکھ رہا ہے تو موبائل میں۔۔۔؟ گھوم کر ٹیبل کے دوسری طرف رکھی ہوئی چئیر پر بیٹھتے ہوئے فاتح نے پوچھا۔۔ وہ کب سے دیکھ رہا تھا کہ شہرام موبائل میں کچھ مصروف ہے۔۔
کچھ خاص نہیں بس لڑکی کو اپنی خوبصورتی کے بارے میں بتا رہا ہوں۔۔۔" موبائل پر ٹائپنگ کرتے ہوئے شہرام نے مصروف انداز میں جواب دیا۔ جیسے پتہ نہیں کتنے اہم کام میں جتا ہو۔۔۔
چل پھر ساتھ میری بھی خوبصورتی کی تعریف کر دی۔۔۔" شہرام کے الفاظ پر بنا حیران ہوئے وہ ساتھ ہی ہدایت بھی دے گیا تھا۔
سلطان۔۔۔! اس سے پہلے کہ شہرام اسے کوئی جواب دے پاتا۔ کہ جب پچھلے ٹیبل سے ایک مانوس سی میٹھی پکار انکے کانوں میں پڑی ۔۔۔"
لے پھر تیری خوبصورتی پر مرنے والی خود آ گئی ہے۔۔" جانی پہچانی باریک سی آواز سنتے ہوئے شہرام نے اسے لقمہ دیا تھا۔ بدلے میں فاتح نے منہ بنا کر دیکھنے لگا تھا۔۔
ہائے سلطان کیسے ہو ۔۔۔؟ فاتح کو پرشوق نظروں سے دیکھتے ہوئے سیلینہ نے اسکی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔ اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ پر نظر ڈالتے ہوئے فاتح بے اختیار اسکا سر تا پیر جائزہ لینا شروع ہوا تو شہرام نے ہنسی دباتے ہوئے فون رکھ دیا تھا۔۔۔
سالے اسکا ہاتھ تو تھام۔۔۔! سلینہ کو ابھی تک ہاتھ بڑھائے کھڑے دیکھ کر شہرام نے اسے ہوش دلائی ۔۔
فاتح نے اپنی نیلی آنکھیں اٹھاتے ہوئے ایک نظر اپنے سامنے کھڑی صنف نازک کو دیکھا تھا۔۔ جو اپنی چاکلیٹ براؤن آنکھوں میں معصومیت سجائے مسکراتے ہوئے اسکی طرف دیکھ رہی تھی۔۔
فاتح نے اپنے چوڑے ہاتھ میں اسکا نازک ہاتھ
تھاما تو ہر دفعہ کی طرح سیلینہ کو اس کے لمس پر عجیب سا احساس ہونے لگا تھا۔۔۔
تو اسے بتاتا کیوں نہیں کہ یہ مجھے میرے باپ کے نام سے بلاتی ہے۔۔۔" سلینہ کے نازک ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں زرا سا دباتے ہوئے فاتح نے اردو میں بولتے ہوئے شہرام سے کہا تھا۔۔
جو سلینہ کے بالکل بھی پلے نہیں پڑا تھا۔ وائٹ کلر کے سویٹر کے ساتھ براؤن سکرٹ پہنے وہ فاتح سلطان کے خوبصورت نقوش میں کھوئی ہوئی تھی ۔۔
جب شہرام نے اسے اچانک مخاطب کیا۔۔۔
سلینہ ۔۔۔!! شہرام نے سلینہ کو مخاطب کیا تو وہ سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگی۔۔۔
اسکا نام "سلطان" نہیں بلکہ "فاتح" ہے۔ سلطان اسکا سر نیم ہے۔۔۔" اٹالین زبان میں بولتے ہوئے شہرام نے اسے بتانا چاہا تھا۔۔ کہ وہ اسے غلط نام سے پکارتی ہے۔
اسکے برعکس فاتح ابھی تک اسکا نازک ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں تھامے گہری نظروں سے اسکے سراپے کا جائزہ لے رہا تھا۔ فاتح کی نظریں سلینہ کی سکرٹ میں لگے سٹائلش سے بیلٹ میں بار بار الجھ رہیں تھیں۔۔ شہرام اور سلینہ کی گفتگو سے بے خبر وہ تھوڑی پر ہاتھ جمائے دوسرے ہاتھ میں اسکا ہاتھ تھامے بیلٹ پر نظریں جمائے ہوا تھا۔۔
سلینہ سے بات کرتے ہوئے شہرام نے اسکی نظروں کا تعاقب محسوس کیا تو اگلے ہی پل ولا حول ولا۔۔ پڑھ گیا۔۔۔ شہرام نے نا محسوس انداز میں ٹیبل کے نیچے سے فاتح کو ٹانگ مارتے ہوئے ہوش دلائی تھی۔ وہ سوالیہ سے شہرام کی طرف دیکھ گیا تھا۔۔۔
سیلینہ کو اسکے فرینڈز بلا رہے ہیں، اب اسکا ہاتھ چھوڑ پلیز ۔۔" شہرام جھوٹی مسکراہٹ کے ساتھ دانت پیستے ہوئے بولا تو فاتح نے نظریں اٹھاتے ہوئے سلینہ کی جانب دیکھا جو بولتی آنکھوں سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی۔
یار آ بھی جاؤ لینہ ورنہ لنچ ٹھنڈا ہو جائے گا۔۔" پچھلی ٹیبل پر بیٹھے ہوئے آریان نے چہرہ موڑتے ہوئے اسے آواز لگائی ۔۔ تو فاتح کسی مرد کی آواز سنتے ہوئے بے اختیار مڑ کر دیکھنے لگا تھا۔ جبکہ سلینہ کا ہاتھ ابھی تک نہیں چھوڑا تھا۔۔۔
بس آ رہی ہوں دو منٹ ویٹ کرو۔۔۔" اپنے فرینڈز کو رکنے کا کہہ کر وہ فاتح کی جانب مڑی۔۔۔
اوکے سلطان میں تم سے پھر ملتی ہوں۔۔" فاتح کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالنے کی کوشش کرتے وہ مسکرا کر بولی تو فاتح نے اسکے ہاتھ مضبوطی سے پھر تھام لیا۔۔۔
یہ انڈین لڑکا تمہاری ٹیبل پر کیا کر رہا ہے۔۔؟ آریان کو سیلینہ کی ٹیبل پر بیٹھے دیکھ کر فاتح نے سرد نگاہوں سے اسکی چاکلیٹ براؤن
آنکھوں میں دیکھتے پوچھا تھا۔۔
آریان کو سلینہ کی فرینڈ لسٹ میں دیکھ کر حیران تو شہرام بھی ہوا تھا۔۔ کیونکہ آریان انڈیا سے تھا۔ وہ ایک ہندو لڑکا تھا۔ کلاس میں آئے دن اسکی نئی سے نئی گرل فرینڈز ہوتی تھیں۔ جبکہ اسکے علاؤہ وہ ڈرگز بھی لیتا تھا۔ سیلینہ اس کے برعکس ایک مختلف لڑکی تھی۔ پھر ان دونوں کی دوستی شہرام اور فاتح کو سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
وو۔۔۔وہ میری فرینڈ روز کا بوائے فرینڈ ہے، اس لئے بس۔۔" فاتح کی کیریبیئن بلو انکھوں کا سرد پن دیکھتے ہوئے وہ بے اختیار ڈرتے ہوئے بتانے لگی تھی۔۔۔
وہ صرف روز تک رہنا چائیے، یاد رکھنا ۔۔" سیلینہ کے جواب پر ٹھنڈے لہجے میں بولتے ہوئے فاتح بے ساختہ بولا تو سیلینہ کے ہونٹ خشک پڑنے لگے۔ کیونکہ مقابل کا انداز اسکا خون خشک کرنے کا باعث بن رہا تھا۔ شہرام سنجیدگی سے فاتح کی طرف دیکھتے ہوئے اگلے ہی پل مسکراہٹ دبا گیا تھا۔۔۔
ٹھٹ۔۔ٹھیک ہے۔۔۔! وہ بیچاری ڈرتے ہوئے تیزی سے ہاں میں سر ہلانے لگی تو بدلے میں فاتح نے مطمئن انداز میں سر ہلاتے ہوئے اسکا ہاتھ آزاد کر دیا۔۔
سیلینہ زبردستی مسکراتے ہوئے تیز گام بنتی اپنے ٹیبل کی طرف بھاگی تو شہرام نے اسکے انداز پر قہقہ لگایا۔ جبکہ فاتح تاسف سے اس ڈرپوک کو دیکھ گیا تھا۔۔۔
پتہ نہیں اس گائے کو اٹلی کا ٹکٹ کس نے دے دیا تھا۔۔" سیلینہ کے انداز پر فاتح سر جھٹک کر بول گیا تھا۔۔۔
کمینے اسے ٹکٹ کی ضرورت نہیں تھی۔ کیونکہ وہ یہاں ہی پیدا ہوئی ہے ۔۔" شہرام نے ہنستے ہوئے اسے بتانا چاہا تھا۔۔ جس پر فاتح ناک چڑھاتے ہوئے کھانے کے لیے آڈر دینے میں مصروف ہو گیا۔۔۔
مجھے تو ایک بات بتا۔۔! ویسے تجھے وہ بیچاری گائے، چپکو، بے وقوف اور پتہ نہیں کیا کیا لگتی ہے۔۔! پر اسکے نظر آتے ہی تجھے آس پاس کی ہوش بھی نہیں رہتی۔۔" شہرام معنی خیزی انداز میں اسے چھیڑتے ہوئے کہنے لگا تو فاتح نے گھورنا چاہا ۔۔
تجھے کیا تکلیف ہے۔ میں اسے کچھ بھی کہو۔..! شہرام کے تفتیشی لہجے پر وہ جان بوجھ کر بگڑ کر بولا تھا ۔۔
نہیں میں تو بس سرسری سا پوچھ رہا ہوں۔ کیونکہ آج یہ تیری نیلی نظریں کہیں اور ہی لٹکنا چاہ رہیں تھیں۔۔۔" شہرام کان کھجاتے ہوئے کن اکھیوں سے اسکی طرف دیکھ کر عام سے لہجے بولا تو فاتح جو اپنے دھیان میں جان بوجھ کر مینو کارڈ کو الٹ پلٹ رہا تھا۔ کہ وہ ٹھٹک کر اسکی طرف دیکھ گیا۔
دماغ میں تھوڑی دیر پہلے کا منظر یاد آیا جب اسکی نظریں بے لگام بنتی اس پتلی کمر اور سکرٹ میں لگے بیلٹ پر بار بار الجھ رہیں تھیں۔ اپنی بے خودی پر وہ جلدی سے لعنت بھیج گیا تھا۔۔
تجھے غلط فہمی ہوئی ہے، ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔" ہونٹ کاٹتے ہوئے فاتح لاپرواہی سے جواب دیتے بولا تو نا چاہتے ہوئے بھی شہرام کا قہقہ گونج اٹھا تھا۔۔ جس پر فاتح بھی مسکراہٹ ضبط کرنے کی کوشش میں جان بوجھ کر اس کمینے کو گھورنے کی کوشش کرنے لگا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ڈیڈ فون کیوں نہیں اٹھا رہے۔۔۔؟ باسم جو کب سے سنان مصطفیٰ کو کال کر رہا تھا۔ پر دوسری طرف سنان نے ایک بار بھی فون نہیں اٹھایا تھا۔ شاید وہ کہیں مصروف تھا۔۔۔
کچھ سوچتے ہوئے باسم نے اس بار اپنی ماں کے نمبر پر کال کی۔۔ جو فورا اٹھا لی گئی تھی۔۔۔
آسلام علیکم مام۔۔۔! کیسی ہیں میری حسین ڈارلنگ ۔۔۔؟ ویڈیو کال پر ائرہ کا چہرہ نظر آتے ہی باسم مسکراتے ہوئے حال پوچھ گیا تھا۔۔ جبکہ دوسری طرف ائرہ تو اپنے بیٹے کو دیکھتے ہی قربان ہونے لگی تھی ۔۔
ہائے میں قربان۔۔! میرا شہزادہ کتنا خوبصورت ہوتا جا رہا ہے۔۔۔! باسم کے چہرے کو دیکھتے ہی ایرہ کا پیار نچھاور ہونا شروع ہوا تو وہ مسکرا کر رہ گیا۔۔
اسکی ماں اسکے پیار میں جھلی بن جاتی تھی۔ جس پر سنی کو خاصی جلن بھی ہوتی تھی ۔ ویسے تو باسم بالکل سنان کی کاپی تھا۔ ویسی ہی گولڈن آنکھوں پر تضاد سنہرے سلکی بال۔۔۔ اپنی سرخ و سفید رنگت میں وہ سنان کا دوسرا عکس کہا جائے تو اس میں کچھ بھی غلط نہیں تھا۔۔
مام میں کب سے ڈیڈ کو کال کر رہا ہوں۔ وہ میری کال کیوں نہیں ریسیو کر رہے ہیں۔۔۔" ٹیبل پر موبائل سیٹ کرتے ہوئے وہ اپنے کپڑے ہینگ کرتا پوچھنے لگا تھا۔۔۔
تمہارے ڈیڈ تو باقی سب کے ساتھ آفس روم میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ شاید اس لئے کال نہیں ریسیو کر ہوں۔۔ تم بتاؤ، ڈیڈ سے کیا بات کرنی ہے، جو انکو کال کر رہے تھے۔۔" ائرہ نے بیٹے کو سنان کی موجودگی کے بارے میں بتانے کے
ساتھ اتنی بار فون کرنے کا مقصد بھی پوچھنا چاہا تھا۔۔۔
مام یار کچھ دنوں میں ہماری چھٹیاں ہونے والی ہیں۔ کالج کا لاسٹ ایئر بھی ختم ہونے والا ہے۔ اسکے بعد یونیورسٹی شروع ہو جائے گی۔ پر اس سے پہلے پہلے ہم سب کہیں چھٹیاں منانے کے لیے جانا چاہ رہے ہیں۔۔! آپ سب نے ہماری پاکستان میں اینٹری پر بھی پابندی لگائی ہوئی ہے۔ تو اس لئے ہم پلین بنا رہے ہیں کہ اس دفعہ چھٹیاں منانے کے لیے دبئی چلے جائیں ۔۔."
واڈروب میں اپنے اور غازی کے کپڑے سیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ وہ تفصیلی جواب دے کر ائرہ کے چہرے کو دیکھنے لگا۔ جو ہمیشہ کی طرح بہت غور سے اپنے بیٹے کو کام کرتے ہوئے اسکی باتیں سن رہی تھی۔
اٹلی میں اپنے بیٹوں کو خود گھر کے کام کرتے ہوئے سن کر ان سب کی ماؤں نے کتنا واویلا مچایا تھا۔ کہ وہاں انکی معصوم اولاد پر بے حد ظلم کیا جا رہا ہے۔۔۔
اس احتجاج پر جہاں اٹلی میں رہنے والی مخلوق کو تھوڑا حوصلہ ہونے لگا تھا کہ شاید اب انکی اس گھر گرہستی سے جان چھٹ جائے۔ پر بھلا ہوا انکے سب کے باپ کا۔۔ جنہوں نے اپنی بیویوں کو چکنی چپڑی باتوں میں بھلا پھسلا کر راضی کر لیا تھا۔ اور آخر پر یہ گھر گرہستی پھر انکے سروں پر آن گری تھی۔ اپنی امید ختم ہوتے دیکھ کر وہ ٹھنڈی آہیں بھر کر رہ گئے ۔۔
تو چلے جاؤ نہ جہاں بھی جانے کا دل ہے، اس میں پوچھنے والی کیا بات ہے۔۔۔؟ ائرہ کھلے دل سے بیٹے کو گھومنے جانے کی اجازت دیتے ہوئے بولی تھی۔۔۔
کہاں چلے جاؤ مام یار۔۔! وہ آپکے جلاد شوہر اور بھائیوں نے ہمیشہ کی طرح ہمارے جانے پر پابندی لگا دی یے۔۔۔" باسم دکھی منہ بناتے ہوئے بولا تھا۔۔۔ جبکہ ایسا منہ بنانے کا مقصد اپنی ماں کو ایموشنل بلیک میل کرنا تھا۔ تاکہ وہ باقیوں کو ساتھ ملا کر انکو اجازت لینے میں مدد کرے ۔۔۔
تم فون بند کرو میری جان، میں تمہارے باپ کو آج پوچھ ہی لیتی ہوں۔ کہ آخر انکو میرے بیٹے کے ساتھ مسلہ کیا ہے۔ اپنی اس راجکماری (مہرماہ) پر تو آج تک کوئی پابندی لگانے کا خیال نہیں آیا ہے انکو۔۔ ہمیشہ بس ہمارے بیٹوں کے پلین خراب کرنے ہوتے ہیں۔۔"
ائرہ نے بھڑکتے ہوئے جلدی سے فون بند کیا۔ تو باسم اپنے پلین کے کامیاب ہونے پر شیطانی قہقہ لگاتے ہوئے بیڈ پر گر گیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلیک مینشن میں سب کھانا کھا رہے تھے۔ جب اچانک سب پر نظر ڈال کر ائرہ نے علیزے کو اشارہ کیا۔۔۔۔
خان۔۔۔! ایرہ کے اشارے کو سمجھتے ہوئے علیزے سر ہلا کر سلطان کو مخاطب کر گئی تھی۔۔۔
جی خانم۔۔۔؟ علیزے کی آواز پر سلطان نے چہرہ موڑتے ہوئے اسے دیکھا۔ جبکہ باقی سب بھی متوجہ ہو گئے تھے ۔۔۔
خان بچے سب گھومنے کے لئے جانا چاہ رہے ہیں۔۔۔! سلطان کے متوجہ ہونے پر علیزے نے بات شروع کی۔۔۔
آہاں ۔۔! میری شہزادیوں نے کہاں گھومنے جانا ہے۔۔۔؟ سلطان نے چہرہ موڑتے ہوئے مسکرا کر لڑکیوں کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ علیزے کی بات سے وہ یہ ہی سمجھا تھا کہ شاید گھر کی بچیاں کہیں جانا چاہ رہیں ہیں۔۔۔۔
خان میں بچیوں کی بات نہیں کر رہی ہوں۔ بلکہ میں فاتح لوگوں کے بارے میں کہنا چاہ رہی ہوں۔ ان سب کو کچھ دن تک چھٹیاں ہونے والی ہیں اس لئے وہ سب چھٹیاں منانے کے لئے دبئی جانا چاہتے ہیں۔۔۔"
سلطان کی نظروں کے تعاقب میں دیکھ کر علیزے اسے اپنی بات کا مطلب سمجھانے ہوئے کہنے لگی تھی۔ علیزے کی بات سمجھتے ہوئے ہی وہ سب ٹھٹک کر ایک دوسرے کو دیکھ گئے تھے۔۔۔
خانم بھابھی آپکے بچے جس ملک جانے کی بات کر رہے ہیں ہم انہیں وہاں نہیں بھیج سکتے ہیں ۔۔" علیزے کے مزید بولنے سے پہلے ہی عیس تیزی سے جواب دیتے کہنے لگا تھا۔۔۔
کیوں اس ملک میں کیا خرابی ہے۔۔۔؟ مشعل تیزی سے تیکھے چتون سے عیس کو دیکھتے ہوئے پوچھ گئی تھی۔۔ جبکہ ہاتھ میں پکڑا چمچ اس نے پلیٹ میں پٹک کر رکھ دیا تھا ۔
گڑیا تم نہیں جانتی، پر دبئی کا ماحول کسی بھی شریف انسان کے لیے اچھا نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے بس ہم انکو وہاں نہیں بھیجنا چاہ رہے۔۔۔" ضرار جو اپنے شیطانوں کی چالاکی سمجھ چکا تھا کہ انہوں نے دبئی کا محاذ لڑنے کے لیے اپنی ماؤں کو بھیجا ہے۔ اس لئے مشعل کو عیس پر بھڑکنے کی تیاری کرتے دیکھ کر جلدی سے وضاحت کرتے کہہ گیا۔۔۔
جی جی بلکل آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں سائیں، بس ہمارے بیٹوں کے لئے ہی کہیں ماحول اچھا نہیں پایا جاتا ۔۔۔" ضرار کے الفاظ اچکتے ہوئے منیزے بھی میٹھے لہجے میں طنزیہ بولی تھی۔ جبکہ چہرہ کے نیچے ہاتھ ٹکاتے ہوئے وہ ضرار کی جانب مسلسل طنزیہ مسکراہٹ اچھالنے لگی ۔ جیسے سچ میں وہ اسکے ماحول خراب ہونے والی بات سے اتفاق کرتی ہو۔۔۔
سب کو باری باری حملے کرتے دیکھ کر سنان نے چہرہ گھما کر اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو پہلے ہی آنکھیں سکیڑتے ہوئے اسے گھور رہی تھی۔۔۔۔
اگر بچے جانا چاہتے ہیں تو جانے دو، تم لوگ کیوں ہر دفعہ انکے راہ میں پتھر بن کر کھڑے ہو جاتے ہو۔۔۔" حسن صاحب بھی اپنے پوتوں کی حمایت میں بولتے ہوئے انکو دیکھ گئے تھے۔
جس پر وہ سب کھانا چھوڑ کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے تھے۔۔
بابا شام بھی کل شکایت کر رہا تھا کہ ہم لوگوں نے انکو وہاں پڑھنے نہیں بلکہ گھر کے کام سیکھنے کے لئے بھیجا ہوا ہے۔۔" چاول کھاتے ہوئے بیہ نے بھی لگے ہاتھ جلتی ہوئی آگ پر مزید پیٹرول چھڑک دیا تھا۔ بیہ کے الفاظ پر وہاج اسے گھور کر رہ گیا۔۔ بیٹوں کی وکالت میں وہ سب مل کر انکو ذلیل کروانا چاہ رہیں تھیں۔۔
بیٹا میرے پوتے کو کہنا تھا کہ جن کی قسمت میں ان جیسے باپ ہوں تو وہ۔۔۔۔۔" مصطفیٰ کاظمی جلے کٹے انداز میں بات ادھوری چھوڑتے ہوئے تیش سے سب کو دیکھ کر سر جھٹک گئے تھے۔۔۔
خان میں اپکی کسی مصلحت کو اس دفعہ نہیں مانوں گی۔ اس بار آپ لوگوں کو میں اپنے بچوں کو ناراض کرنے نہیں دوں گی۔ پہلے کبیر اور فارس چار سالوں سے شکل دیکھانا تو دور وہ ہم سے بات تک نہیں کرتے ہیں۔۔ انکی ناراضگی آپ لوگوں سے تھی۔ پر صرف آپ لوگوں کی وجہ سے وہ اپنی ماؤں سے بھی ناراض ہو چکے ہیں۔ پر اس دفعہ اگر آپ لوگوں نے ہمارے بچوں کے ساتھ کوئی ناانصافی کی تو میں سب سے ناراض ہو جاؤں گی۔۔۔" سیاہ نینوں میں آنسو کی رمک لیے علیزے سنجیدگی سے بولتے ہوئے اٹھ کر جا چکی تھی۔ جبکہ سلطان اسکی ناراضگی محسوس کرتے سرد سانس خارج کر گیا تھا۔
جب سے فارس اور کبیر نے بات کرنا چھوڑی تھی۔ تب سے علیزے اور مشعل ان سب پر ایسے ہی بات بات پر بھڑکتے ہوئے ناراض ہونے کا موقع تلاش کرتی تھیں۔ علیزے کے ٹیبل سے اٹھ کر جاتے ہی مشعل بھی اپنی ہچکیوں پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے اٹھ کر چلی گئی تھی۔
وہ دونوں مائیں تھیں۔ اس لئے شاید بیٹوں کی اتنی لمبی ناراضی انکے دل کمزور کر چکی تھی۔ وہ دونوں اٹھ کر گئیں۔ تو باقی انکو دیکھنے کے لیے کھانا چھوڑ کر تیزی سے انکے پیچھے ہوئیں تھیں۔ تاکہ علیزے اور مشعل کو دیکھ سکیں۔ ورنہ وہ نجانے کتنی دیر روتی رہتیں۔۔
سب کے باری باری جانے پر وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچتے ہوئے اپنی اولاد پر لعنت بھیج گئے۔
تم لوگ اسی لائق ہو۔۔! ہمشیہ کی طرح انکی پتلی حالت پر حسن صاحب مزے سے بولے تھے۔۔
حسن صاحب آپ تو کبھی نواز شریف بننے سے پرہیز کیا کریں۔ اپکو بس نمک چھڑکنے کا موقع چائیے ہوتا ہے۔۔۔۔! باپ کو انجوائے کرتے دیکھ کر عیس چڑ کر بول گیا۔۔۔
جلو اور جلو۔۔! بلکہ میں اپنی بہو کو آج ہی کہتا ہوں کہ تم سے پورے ایک مہینے کے لئے ناراض ہو کر مائکے چلی جائے۔۔
" حسن صاحب انکے چڑنے پر مزید انجوائے کرتے ہوئے اپنی پلینگ سے آگاہ کرنے لگے تو وہ تاسف سے انکو دیکھتے رہ گئے تھے۔۔۔
Post a Comment (0)
Previous Post Next Post