Janoon-e-Yaar Novel Complete by Amreeney Qais - Episode 13 - Part 1 - urdu novels pdf download


 ناول: #جنون یار

قسط: 13 پارٹ ون
از قلم: #امرینےقیس
غازی بہادر خان کو اندر لے آؤ، مہمان کو بنا کھانا کھلائے نہیں جانے دینا چائیے۔۔"
کچن میں کھڑا ایشام انڈہ توڑتے ہوئے میٹھے لہجے میں بولا تو سب ٹھٹک کر اسے دیکھ گئے۔۔۔
کہاں سب کو ناشتے کے نام پر کاٹ کھانے والا اب بہادر خان کی دفعہ اتنا مہمان نواز بن رہا تھا۔۔ یہ آداب باقیوں کو کچھ ہضم نہیں ہو رہے تھے۔۔۔
جبکہ بہادر خان تو بتیسی نکالتے ہوئے چوڑا ہوتے اصل میں مہمان بنتے اندر داخل ہو چکا تھا۔۔۔
ٹراؤزر شرٹ پہنے سرخ و سفید رنگت میں مکمل طور پر وہ پٹھانوں جیسا حلیہ رکھتا تھا۔ جبکہ بعض اوقات تو بہادر خان سر پر پٹھانوں کے سٹائل والی ٹوپی پہنے بھی گھوم رہا ہوتا تھا۔ پاکستان سے آنے والے تمام کڑوے آرڈرز بہادر خان کے ذریعے ہی ان سب تک پہنچائے جاتے تھے۔۔
اس لئے کبھی کبھی تو انکا بس نہیں چلتا تھا۔ کہ بہادر خان کو زمین پر گرا اسکی سانسوں کے اوپر بیٹھ جائے۔ تاکہ انکی اس بہادر خان جیسی بلا سے جان چھوٹے، پر وہ بے بس تھے۔ اس سب کے بعد انہیں جب جب موقع ملا تھا۔ وہ بہادر خان کو دھونے سے باز نہیں آئے تھے۔۔
باہر سے کھانا کھانے والا بہادر خان بھی ہر اتوار کو ٹائم سے تیار کو کر دیسی ناشتہ کرنے کے لیے انکے پاس آن پہنچتا تھا۔ ہر اتوار کو وہ اسے ناشتہ دینے کے ساتھ ساتھ کاموں میں بھی رگڑ لیتے تھے۔
زیادہ تر وہ بہادر خان سے ناشتے کے بعد والے برتن دھلواتے تھے۔ لیکن بہادر خان بھی اپنے نام کا ایک تھا۔ پاکستان جیسا ناشتے ملنے کی خوشی میں وہ ہر اتوار کو بنا ناغہ کیے آ جاتا تھا۔ چاہے پھر برتن دھونے پڑیں یا کچھ اور۔۔۔
ایشام کا میٹھا لہجہ سن کر ان سب کو کچھ نہ کچھ کھٹک ضرور رہا تھا۔ لیکن پھر وہ بعد میں جاننے کی غرض سے سر جھٹک کر ناشتے کی طرف متوجہ ہو گئے ۔۔
سب کے کام تقریباً ختم ہو چکے تھے۔ پورے ایک بجے وہ سب ناشتہ کرنے کی غرض سے ڈائٹنگ ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تھے۔ کبیر اور فارس بھی فریش ہو کر آ چکے تھے۔۔۔
بہادر خان آج ہم سب کو دوپہر کا لنچ تم کرواؤ گئے۔۔۔" بہادر خان کو تیزی سے پراٹھے کے ساتھ انصاف کرتے دیکھ کر ایشام نے نارمل لہجے میں بولتے ہوئے اسکے سر پر اچانک بھاری بھرکم بمب پھوڑا تو اگلے ہی پل بہادر خان کے حلق میں نوالہ اٹک گیا۔۔
باقی سب ایشام کو داد دیتی نظروں سے شاباش دینے لگے۔ جو موقعے پر چوکا مار کر بہادر خان کو رگڑنے والا تھا۔۔۔
فارس اور کبیر، خاموش مسکراتی نظروں سے انکی گفتگو سنتے ہوئے ناشتہ کر رہے تھے۔۔۔
یہ پڑا ہے آپ سب کا ناشتہ۔۔! نا میں آپکے پراٹھے کھا رہا ہوں، اور نہ تم سب کو لنچ کھلاؤں گا۔۔۔"
بہادر خان نے دل پر پتھر رکھتے ہوئے بامشکل پراٹھے والی پلیٹ خود سے پرے کر دی۔۔ مطلب اسے یہ ڈیل بالکل بھی منظور نہیں تھی۔۔۔
پر بہادر خان ایک پراٹھا تو تم کھا چکے ہو، اسکا کیا۔۔۔؟ کبیر خان چائے کا سیپ لیتے ہوئے مسکراہٹ ضبط کرتے بولا تھا۔۔۔ شاید وہ بہادر خان سے کہنا چاہ رہا تھا کہ وہ آدھا ناشتہ کھا چکا یے۔۔۔
چھوٹے خان میں نے صرف ابھی ایک پراٹھا کھایا ہے، اور یہ شام کا بچہ مجھے ان سارے بھوکوں کو کھانا کھلا کر کنگال کرنا چاہ رہا ہے۔۔۔"
کبیر کو جواب دیتے ہوئے وہ رونے والے انداز میں گویا ہوا۔۔۔ جبکہ للچاتی نظریں ابھی بھی پراٹھے اور ہاف فرائی انڈے کے گرد گھوم رہیں تھیں۔ بہادر کی نظروں کے تعاقب کو دیکھ کر وہ سب ہنسی دبا گئے۔۔۔
یار شام پراٹھے کے ساتھ اگر مکھن دے دیتے، تو قسم سے آج ناشتے کا مزہ ڈبل ہو جانا تھا۔۔۔" غازی منہ میں نوالہ ڈالتے ہوئے اچانک شام کو مخاطب کرتے بولا تھا۔۔
پراٹھے کا نوالہ منہ میں ڈالتے ہی وہ مست ایکسپریشن دے رہا تھا۔۔۔جیسے پتہ نہیں کتنا مزہ آ رہا ہو۔۔۔
لو اس میں کونسا بڑی بات میں ہے۔ میں ابھی کچن سے لے کر آیا مکھن۔۔۔! باسم جلدی سے اٹھ کر کچن سے بٹر لینے چلا گیا تھا ۔۔۔ بہادر خان انکی باتیں سنتے ہوئے منہ میں آئے پانی کو کنٹرول کر رہا تھا ۔۔
بہادر خان آلو والے پراٹھے چھوڑ کر خود پر کیوں ظلم پر کر رہے ہو۔۔! یہ سب بچے ہی تو ہیں، کروا دینا چھوٹا موٹا لنچ، اس میں ڈرنے والی کونسی بات ہے۔۔" بہادر کی حالت دیکھتے ہوئے فارس بھی اپنا حصہ ڈال کر ٹریپ کرتے بول گیا تھا۔۔
ٹھیک ہے فاری صاحب اگر آپ کہتے ہیں تو مان لیتا ہوں، پر میں پہلے بتا رہا ہوں کہ میں انکو صرف ایک ایک برگر دلاؤں گا۔۔" اپنا ضبط توڑتے ہوئے بہادر آگاہ کرنے والے انداز میں ڈیل کرتے ہوئے تیزی سے پراٹھے پر جھبٹ پڑا تھا۔ جس پر وہ سب قہقہ ضبط کرنے کی کوشش
میں سرخ ہوتے چلے تھے۔
یہ تو اب بعد میں ہی پتہ چلنے والا تھا۔ کہ بہادر خان کو لنچ کی ڈیل کتنی مہنگی پڑنے والی ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپی کہاں ہیں۔۔؟ ہیر کاؤچ پر گرنے والے انداز میں بیٹھتے ہوئے سب پر نظر ڈال گئی۔۔۔
شام کے وقت وہ سب لاونج میں بیٹھی گپیں لگا رہیں تھیں۔ لیکن صرف گل ناز یہاں پر موجود نہیں تھیں ۔۔
ہمیشہ کی طرح اپنے کمرے میں گم ہیں بس ۔۔۔" پندرہ سالہ مہر ماہ نے چہرہ موڑتے ہوئے اسے جواب دیا۔۔۔
پتہ نہیں آپی، اب برتھڈے منانے کیوں نہیں دیتیں۔۔۔! گل بہار جو اپنے برتھڈے کو لے کر بہت پرجوش تھی۔ کہ تبھی وہ خفگی سے منہ بناتے ہوئے ناز کے ذکر پر کہہ گئی۔۔۔
کبیر بھیا اگر یہاں پر موجود ہوتے نہ، تو میں تب اپکو یہ بات پوچھتی۔۔۔! بہار کو منہ بناتے دیکھ کر ہیر اسے چھیڑنے والے انداز میں شرارت سے بولی تھی۔۔۔ اشارہ صاف اسکی آزادی کی طرف تھا۔۔۔ جو کبیر خان کے جانے کے بعد آزاد چڑیا کی طرح ہو چکی تھی۔۔۔
میں نہیں ڈرتی، ورتی اب تمہارے کبیر بھیا سے ۔۔! کبیر خان کے ذکر پر بہار کا ننھا سا دل سکڑا، تو اگلے ہی پل وہ بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناک چڑھا کر بے پرواہی سے بول گئی۔۔۔۔
ارے واہ۔۔۔! ہیر آپی آپ دیکھ رہیں نا، کہ ہماری گل بہار آپو دن بدن بہت دلیر ہوتی جا رہیں
ہیں ۔۔۔" بہار کی بہادری کو دیکھتے ہوئے ماہ پارہ حیران ہونے کی ایکٹنگ کرتے قہقہ لگا گئی۔۔
جس پر باقی سب بھی ہنستے ہوئے گل بہار کو چڑانے لگیں تھیں۔۔ سب کو اپنا مزاق اڑاتے دیکھ کر بہادر نے معصوم انداز میں ان سب کو گھورنے کی ناکام کوشش کی۔ جو اسے بلا وجہ اسے چھیڑنا شروع ہو گئی تھیں۔۔
ہممم۔۔۔! کیا ایسا نہیں ہو سکتا؟ کہ ہم مل کر آپی کا برتھڈے سپیشل بنانے کی کوشش کریں۔۔۔! ہیر ریموٹ اٹھاتے ہوئے ایل ڈی پر چلتی موری کا والیم سلو کرنے کے بعد یک دم سنجیدہ ہوتے سب کو متوجہ کرتے بولی۔۔۔
فارس ہمدانی کے چلے جانے کے بعد گل ناز مکمل طور پر بدل چکی تھی۔ ضدی انداز اور غصہ پہلے سے بھی بڑھ چکا تھا۔ لیکن صرف ایک چیز تھی جو وہ بدل نہیں سکی تھی۔ بلکہ اتنے سالوں میں وہ صرف خود تک محدود ہوتی چلی گئی تھی۔ پہلے کی طرح فارس کو یاد کرتے ہوئے وہ اب روتی نہیں تھی۔ لیکن اسکی کے بنا وہ خوش بھی نہیں تھی۔
گل ناز کا رویہ دھوپ، چھاؤں جیسا ہو چکا تھا۔ ایک پل میں وہ جتنی لاپرواہ نظر آتی، تو دوسرے پل میں وہ پھر خاموش سی ہو جاتی تھی۔۔۔
گل ناز نے جس رات فارس کا نمبر بلاک کیا تھا۔ اسکے بعد فارس نے کبھی بھی اس سے رابطہ یا بات کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ جبکہ شاید اندر ہی اندر لاشعوری طور ہی سہی ناز وہ اسکی آب تک منتظر ضرور رہی تھی ۔ اور سب سے زیادہ منتظر وہ اپنی سالگرہ والے دن ہوتی تھی۔
اس دن وہ فارس کی بے حد منتظر نظر آتی تھی۔ جو ہر سال اسکی سالگرہ والی رات سب سے پہلے اسے وش کرتا تھا۔ اور اسکے لئے سرپرائز پلین کرتا رہتا تھا۔ لیکن اب اتنے سالوں میں گل ناز اپنی سالگرہ منانا چھوڑ چکی تھی۔ بلکہ اب تو وہ اپنی سالگرہ والے دن عام دنوں کی نسبت سب سے زیادہ ہرٹ اور چڑچڑی سی ہو جاتی تھی۔۔
کل کے دن گل بہار اور گل ناز کا جنم کا دن تھا۔۔جہاں ایک طرف گل بہار ہمیشہ کی طرح ایکسائٹڈ تھی، دوسری طرف گل ناز دوبارہ کمرے میں بند ہو چکی تھی۔ اور جب تک کل کا دن گزرنا نہیں تھا۔۔ وہ کمرے سے باہر نہیں نکلنے والی تھی اور نہ ہی نارمل ہونے والی تھی۔۔۔
پر ہم آپی کا برتھڈے سپیشل بنائے گئے کیسے؟ فاری بھیا کے جانے کے بعد سے تو وہ سالگرہ منانے کے نام پر ہی بھڑک جاتی ہیں ۔۔" ماہ پارہ بھی معصومیت سے گویا ہوئی۔۔۔
اس دفعہ نہیں بھڑکے گئیں میں ان سے بات کرنے جا رہی ہوں، تب تک تم لوگ ریڈی ہو کر آؤ، پھر ایک ساتھ شاپنگ کرنے نکلتے ہیں۔۔! ہیر ان سب کو ہدایت دے کر اوپر ناز کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ شاپنگ کے نام پر وہ سب جلدی سے تیار ہونے کے لئے بھاگ گئیں تھیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیر کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو کمرے میں ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ جبکہ کھڑی سے ابھی تک پردے بھی نہیں ہٹائے گئے تھے۔
آپی ۔۔۔! ناز کو آواز دیتے ہوئے ہیر نے آگے بڑھ کر پہلے کھڑکیوں سے پردے ہٹائے ۔۔ اس نے نظریں گھماتے ہوئے بیڈ کی طرف دیکھا جہاں ناز منہ
پر تکیہ رکھے اوندھے منہ لیٹی ہوئی تھی۔۔
آپی ۔۔۔؟؟ کمرے کی لائٹس آن کرنے کے بعد ناز کو پھر پکارتے ہوئے وہ بیڈ کی طرف چلی آئی۔۔۔
ہیر کیوں آئی ہو یہاں پر۔۔۔! ناز نے تکیہ زرا سا پیچھے ہٹاتے ہوئے آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہیر کو دیکھا۔۔۔ کمرے میں اچانک اتنی تیز روشی ہونے کے باعث ناز آنکھیں نہیں کھول پار رہی تھی۔ وہ صبح سے اپنے کمرے میں اندھیرا کیے بند تھی۔ اس لئے اچانک ہوئی روشنی اسے کے اعصاب پر ناگوار گزرنے لگی تھی۔۔۔
آپی اٹھیں نا، شاپنگ پر چلتے ہیں، کل آپکی برتھڈے ہیں، تو اچھی سی شاپنگ کر کے آتے ہیں۔۔" ہیر نے بیڈ پر اسکے پاس بیٹھتے ہوئے ناز کے چہرے سے تکیہ ہٹا دیا۔۔۔
ہیر مجھے تنگ نہیں کرو، جاؤ یہاں سے۔۔! ناز نے دوبارہ تکیہ اٹھا کر منہ پر رکھنا چاہا تو ہیر نے تیزی سے اسکے ہاتھ سے تکیہ پکڑ لیا۔۔۔
آپی پلیز چھوڑ دیں نا یہ ضد۔۔! فاری بھیا کو گئے
ہوئے اب اتنے سال ہو گئے ہیں۔۔! آپ کب تک یوں کرتی رہیں گئیں۔۔؟ وہاں وہ سب شاید مزے کر رہے ہوں، اور ہم یہاں انکے لئے اداس ہوئیں بیٹھی ہیں۔۔۔"
ہیر اپنی سبز آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے کہنے لگی۔۔
ناز جو اسے ڈانٹ کر یہاں سے بھیجنے والی تھی، کہ ہیر کی آواز میں لرزش محسوس کرتے ہوئے وہ جلدی سے اٹھ بیٹھی۔۔۔
ہیر تم رو رہی ہو کیا۔۔۔؟ ہیر کی آنکھوں میں ابھرنے والی نمی کو دیکھتے وہ بے اختیار پوچھ گئی۔۔
نہیں آپی۔۔! میں نے اب رونا چھوڑ دیا ہے ۔۔۔! اپکو پتہ ہے جب شام یہاں سے جانے والا تھا۔ تو میں نے اسکی کتنی منتیں کیں تھیں، کہ وہ نہ جائے۔۔۔۔" کچھ سال پہلے کا منظر یاد کرتے ہوئے ہیر نے اداسی سے اسکی گود میں سر رکھ دیا۔۔۔
جبکہ گل ناز حیرانی سے اسے سننے لگی تھی۔ جو اتنے سالوں کے بعد آج شام کا ذکر زبان پر لائی تھی۔
ورنہ ایشام صدیقی کے جانے کے بعد تو ہیر نے اسکا نام لینا بھی چھوڑ دیا تھا۔۔ جس کی وجہ سے سب کو یہی لگتا تھا، کہ ہیر نے ایشام صدیقی کو بھلا دیا ہے۔ پر کوئی بھی اسکے پیچھے کی وجہ نہیں جانتا تھا۔۔۔
تم نے ایشام بھیا کی منتیں کیں تھیں۔۔۔؟ ناز اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بے یقین سی ہو گئی۔۔۔ ہیر کا ایشام صدیقی کے آگے منتیں کرنا اتنا ہی ناممکن تھا۔ جتنا گل ناز اس وقت بے یقینی سے سوچ رہی تھی ۔۔
آپی میں نے اسے کہا تھا، کہ میں اب اسے تنگ نہیں کروں گی، اس لئے وہ جانے سے انکار کر دے۔۔۔ پر اپکو پتہ ہے آپی ۔۔؟ شام نے مجھے کیا جواب دیا۔۔۔؟ ہیر سبز آنکھوں میں آنسو لیے زخمی دل کے ساتھ اٹھتے ہوئے ناز کے مقابل بیٹھ گئی۔۔۔
کیا۔۔۔؟ ناز اپنے بھائی کا جواب جاننے کے لیے تجسّس کا شکار نظر آئی تھی۔ اس لئے جلدی سے پوچھ گئی۔۔۔
آپی شام نے مجھے تب کہا تھا "کہ وہ مجھ سے ہی تنگ ہو کر یہاں سے جا رہا ہے۔ اور اگر اسکا بس چلا تو وہ بھی بھی لوٹ کر نہیں آئے گا۔۔۔"
ہیر کی آنکھوں سے تیزی سے آنسو نکلتے ہوئے اسکے گال بھگونے لگے ۔۔ ایشام صدیقی کے کڑوے جواب آج بھی اسکا دل اندر تک زخمی کر دیتے تھے۔۔
اس نے آج تک کسی پر بھی آشکار نہیں کیا تھا کہ وہ ایشام صدیقی کے جانے سے پہلے اس سے ریکوسٹ کرنے گئی تھی۔ کہ وہ اسے چھوڑ کر نہ جائے۔۔۔ کیونکہ ایشام صدیقی کے جواب سن کر ہیر کو یقین ہوتا چلا گیا تھا۔ کہ جیسے ایشام نے اسکا یقین نہیں کیا اور کوئی بھی اسکا یقین نہیں کرے گا۔۔۔ اس لئے اس نے خاموشی اختیار کر لی تھی۔۔۔
آپی کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم اب سے اپنی ایک الگ زندگی شروع کریں۔۔؟ وہ زندگی جس میں انکا کوئی کردار نہیں ہو، جو بے رحم بنتے ہمیں چھوڑ کر جا چکے ہیں۔۔" ناز کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے وہ تیزی سے اپنا رونا چھوڑ کر پوچھنے لگی۔
"ہم کیسے کریں گئے ہیر۔۔! میں آج بھی فاری کے بنا نہیں جی پا رہی ہوں، جب بھی کوشش کرنے لگتی ہوں، تو وہ مجھے مزید یاد آنے لگتا ہے۔ میں نے تب اسے روکنے کی کتنی کوشش کی تھی، پر سب نے مل کر اسے مجھ سے دور بھیج دیا۔۔
اور اب وہ وہاں جا کر مجھے بھول چکا ہے ۔۔ اب تو اسے میرا برتھڈے بھی یاد نہیں رہتا۔۔۔"
فارس ہمدانی کو یاد کرتے گل ناز پھر سسکتے ہوئے دل کا غبار نکالنے لگی۔۔۔ جبکہ دل اس تکلیف کو سوچ کر ہی رکنے لگتا تھا کہ فارس ہمدانی اسے بھول چکا ہے۔ اس لئے تو اسکے جنم دن پر بھی اسے وش نہیں کرتا ۔۔
آپی پلیز روئیں نہیں..! آپ جانتی تو ہیں، کہ فاری اور کبیر بھیا گھر میں سب سے ناراض ہیں۔۔ اس لئے تو وہ گھر میں کسی کو فون بھی نہیں کرتے اور نہ ہی بات کرتے ہیں۔۔۔" ہیر اسکے آنسو صاف کرتے ہوئے اپنی بڑی بہن کو دلاسا دینے کی کوشش کرنے لگی کہ وہ اسکے بھائی کو غلط نہ سمجھیں۔۔
آپی پلیز اب رونا چھوڑ کر ہمارے ساتھ باہر چلیں، اگر وہ لوگ وہاں پر ایڈجسٹ ہو کر مزے کر سکتے ہیں۔ تو ہم بھی انکے بنا رہ سکتے ہیں۔۔" ناز کو پھر تکلیف سے روتے دیکھ کر ہیر نے جلدی جلدی اسکا دھیان بھٹکانا چاہا تھا۔۔۔
وہ یہ ہی بات اسے سمجھانے آئی تھی۔ تاکہ وہ سب بھلا کر اپنی زندگی میں نارمل ہو سکے۔۔۔
ہیر کے سمجھانے پر بے دردی سے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے ناز اسے تیار ہونے کا کہہ کر باتھروم میں فریش ہونے چلی گئی۔ ناز کے جاتے ہی ہیر نے اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوئے ہوا میں لمبا سانس کھینچتے اپنے بھاری دل کو سنبھالنا چاہا۔۔۔
Post a Comment (0)
Previous Post Next Post