Janoon-e-Yaar Novel Complete by Amreeney Qais - Episode 12 - urdu novels pdf download


 ناول: #جنون یار

قسط: 12
از قلم: #امرینےقیس
بچ بچا کر نکل یہاں سے۔۔۔! چپکے سے اپارٹمنٹ سے نکلتے ہوئے اپنے آگے چلتے ہوئے سے کہا گیا۔۔۔
آدھی رات کے بیچ میں وہ دونوں چوری چھپے اپارٹمنٹ سے نکل رہے تھے۔ اور انکے یوں نکلنے کا مقصد صرف ایک تھا، اور وہ تھا۔ "نائٹ کلب جانا"
ان دو نمونوں کو کلبنگ کا جنون کیسے اور کہاں سے شروع ہوا تھا۔ اس بارے میں تو وہ دونوں خود بھی نہیں جانتے تھے۔ شاید یہ چھپ چھپ کر غیر ملکی فلمیں دیکھنے کا نتیجہ تھا۔ کبیر اور فارس کے علاؤہ باقی سب کو ہی پتہ تھا۔ کہ وہ دونوں ہر ہفتے کی رات کو چھپ کر کلب جاتے ہیں۔
آج چونکہ ہفتے کی رات تھی۔ اس لئے وہ لوگ چکما دے کر وہاں سے نکل آئے۔۔
اٹلی کے اس کلب میں رات کے وقت ہر طرف اگر رنگینیاں بکھری ہوئیں تھیں۔ تو دوسری طرف ایک بڑی تعداد میں کم عمر کی نو جوان نسل بھی یہاں پر موجود تھی۔
کلب کی ڈارک روشنی میں لڑکیاں شارٹ ڈریسز میں مگن ہو کر ڈانس کر رہیں تھیں۔ انکے ایسے حلیے کی وجہ سے لڑکے ان پر حوس بھری نظریں جمائے انکو دیکھ رہے تھے۔
پر اس سارے ماحول میں یہاں پر اگر کسی دو افراد کی موجودگی غیر یقینی تھی۔ تو وہ بیس سالہ "فاتح سلطان" اور "شہرام علی" تھے۔
کلب کے سارے ماحول پر نظریں دہرا کر وہ
دونوں اپنے اپنے فیورٹ پوائنٹ کی طرف چلے گئے۔۔ فاتح کا فیورٹ پوائنٹ تھا سٹیج کی جانب جانا اور شہرام کا بار کی طرف ۔۔۔
بار کے نزدیک آتے ہی شہرام دھڑام سے پرپل کلر کے کاؤچ پر گر گیا۔۔
بار کے نزدیک کا سارا ایریا پرپل کلر کی روشنیوں سے رنگا ہوا تھا۔
گرے شرٹ کے ساتھ بلیک جینز پہنے وہ دونوں آوارہ لگ رہے تھے۔ کیونکہ شرٹ کا ایک حصہ جینز کے اندر تو دوسرا جینز کے باہر لٹک رہا تھا۔ جبکہ شرٹ کے سلیوز کہنیوں تک فولڈ کیے ہوئے تھے۔
ابھرتی جوانی کے میں وہ دونوں اپنی اپنی شخصیت میں بے حد دلکش وجود تھے۔ اپنی اسی منفرد شخصیت کی وجہ سے ہر ہفتے کی رات کو انکا یہاں پر آنا انکو مشہور کر گیا تھا۔ اس لئے وہ جب بھی ہفتے کی رات یہاں پر قدم رکھتے تھے تو ہر طرف سے "ہاٹ بوائز" کے نام سے ہوٹنگ ہونا شروع ہو جاتی تھی۔
پچھلے دو سالوں سے وہ یہاں پر آ رہے تھے۔ لیکن اپنی حدود نہیں بولے تھے۔ یہاں پر آ کر نہ تو وہ ڈرنک کرتے تھے اور نہ ہی اس ملتا جلتا کچھ اور۔۔۔
لیکن اپنے شوق کو پورا کرنے کے لئے وہ نشے میں دھت ہونے کی ایکٹنگ ضرور کرتے تھے۔ فاتح اپنے شوق کے لئے سٹیج پر چڑھ کر ڈانس کر شروع کر دیتا تھا۔ تو شہرام بار کے پاس بیٹھ کر لڑکیوں کے ساتھ فلرٹ کرنے کی کوشش کرنے لگتا تھا۔
شہرام ہمیشہ کی طرح اپنی جگہ پر آ کر بیٹھا ہوا تھا۔ جب لڑکیوں کا ایک گروپ اسکی طرف چلا آیا۔
لڑکیوں کو اپنی جانب آتا دیکھ کر وہ منہ میں الائچی ڈالتے ہوئے دلکشی سے مسکرا دیا۔ ہیزل براؤن آنکھوں میں اس وقت خاصی مستی چھائی ہوئی نظر آ رہی تھی۔۔
لڑکیاں اسکے قریب آئیں، تو ایک لڑکی کی کلائی جکڑ کرشہرام نشے میں دھت ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے لڑکی کو ابھی گود میں بٹھانے ہی والا تھا۔
جب میوذک زدہ ماحول میں اسکی جینز کی جیب میں پڑا موبائل، اچانک وائبریٹ ہونا شروع ہو گیا۔۔
شہرام نے لڑکی کو ہاتھ سے رکنے کا اشارہ کرتے ہوئے چونک کر موبائل نکال کر دیکھنا چاہا تو موبائل سکرین پر "ناکارہ ڈیڈ" کالنگ دیکھ کر اسکے صحیح معنوں میں ہوش اڑ گئے۔
یہ اس وقت مجھے کیوں فون کر رہے ہیں، پہلے تو کبھی میری یاد نہ آئی اس وقت۔۔۔"
دانتوں تلے زور سے الائچی کو کاٹتے ہوئے وہ سوچ گیا۔۔۔ رات کے اس وقت اپنے باپ کی کال دیکھ کر اسکا دل ڈول رہا تھا۔۔
لڑکیوں کے جھرمٹ سے اٹھ کر خود پر قابو پاتے ہوئے اس نے قدرے سکون والے کونے میں کھڑے ہو کر یس کرنے کے بعد فون کان سے لگایا تو اسی پل عیس کی چنگھاڑتی آواز اسے سنائی دی۔
گندی منحوس اولاد تم اس وقت کہاں پر ہو؟ موبائل میں عیس دانت پیستے ہوئے بول گیا۔۔۔۔
وعلیکم السلام ڈیڈ! میں نے کہاں ہونا ہے، ڈیڈ، یہیں پر تو ہوں!
عیس کی غیبی سلام کا خود سے ہی جواب دیتے ہوئے شہرام ہنسنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے جواب میں بولا۔۔ جبکہ بات کرتے ہوئے وہ یہ بھول چکا تھا۔ کہ اس وقت کیا ٹائم چل رہا ہے۔
اچھا! اگر تم یہیں پر موجود ہو۔۔! تو پیچھے سے شور کس چیز کا سنائی دے رہا ہے؟ عیس نے تفتیشی انداز میں دوبار پوچھنا چاہا۔۔۔
اچھا یہ شور! ڈیڈ ہمارے کلاس فیلو کی دادی کی دادی کی آج برسی ہے نا، بس اس لئے وہ دکھ سے گیت گار رہے ہیں۔۔"
شہرام نے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے پورا زور لگاتے ہوئے اپنے کرنل باپ کو چکما دینے کی کوشش کی۔
اچھا! انگریز اب برسی پر گیت بھی گانے لگے ہیں، بہت ترقی ہو گئی ہے بھئی! ہمارے ادھر تو بڈھی عورتیں تھوڑا سا سینہ پیٹ کر بریانی کے انتظار میں بیٹھ جاتیں ہیں! عیس مصنوعی حیران ہوتے کہنے لگا۔
ویسے یہ جو تمہارے انگریز دوست کی "دادی کی دادی" برسی منائی جا رہی ہے، کیا مرنے والی دادی ناگن خاندان سے تھی؟ کیونکہ ہمارے یہاں پر تو ایک نسل کی دادی بامشکل جوان ہونے تک ذندہ رہتی ہے۔ یہ تمہارے دوست کے خاندان نے پچھلی نسل کی دادیوں کو کیا شیشے میں ذندہ رکھا ہوا ہے۔ جو وہ اب آ کر فرصت سے وفات پا رہیں ہیں.."
عیس نے طنزیہ انداز میں نامعلوم دادیوں کے بارے میں انفارمیشن حاصل کرنے کی کوشش کی، جبکہ لہجے میں حیرت واضح ظاہر کرنے کی کوشش گئی تھی۔۔۔
جی ڈیڈ وہی تو میں خود بہت حیران ہو رہا ہوں! شہرام نے باپ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے پھر مختصر سا جواب دیا۔۔کیونکہ بڑبڑاہٹ میں وہ یہ بھی بھول چکا تھا۔ کہ اسکا باپ کس بارے میں طنز بازی کر رہا ہے۔۔۔
شہرام ہمدانی باپ کو الو بنانے سے پہلے یہ سوچ لو، کہ مقابل کون ہے! تھوڑی دیر پہلے تم جس موٹی عورت کو اپنی اس ننھی سی گود میں بٹھانے والے تھے نا۔۔! میں وہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں!
اس لئے اگر تم چاہتے ہو کہ کل صبح تمہاری یہ گندی ٹانگیں تمہیں ٹوٹی ہوئی نہ ملیں! تو سٹیج پر جو تمہارا بھائی ناگن ڈانس کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، اسے وہاں سے اتارو۔.! اور دو منٹ میں تم دونوں مجھے اس جگہ سے باہر دیکھائی دینے چائیے ہو۔۔!
عیس نے سخت لہجے میں اسکا بھانڈہ پھوڑتے ہوئے ساتھ حکم سنایا تو شہرام کے چودہ طبق روشن ہوتے چلے گئے ۔
وہ بے اختیار مڑ کر سٹیج پر ناچتے ہوئے فاتح کو دیکھے گیا۔ جو واقعی میں لڑکیوں کے گروپ میں کھڑے ہو کر ڈھمکے لگا رہا تھا۔
ڈیڈ۔!! آپ نے کیا ہم پر نظر رکھوائی ہوئی ہے۔۔؟؟ شہرام نے صدمے سے دو چار ہوتے پوچھا۔۔۔
مجھ سے سوال جواب کرنے کی بجائےجو کہا ہے وہ کرو۔۔! ورنہ پورے ایک مہینے کی پاکٹ منی بند سمجھو۔۔! پھر کرتے رہنا اپنے بھائی کی طرح خود کمائی۔۔۔"
عیس نے سخت لہجے میں سناتے ہوئے اسے وارننگ دی۔۔ جس کو سن کر شہرام نے رونے والا منہ بنا لیا تھا۔
ڈیڈ۔۔! یہ غلط بات ہے یار!! اب ہم بڑے ہو گئے ہیں! اب تو ہم اٹھارہ پلس بھی ہو گئے ہیں۔۔!! شہرام نے احتجاج کرتے ہوئے اپنی عمر کا بتانا ضروری سمجھا ۔۔ بتانے کا مقصد تھا، کہ اب ان پر نظر نہ رکھوائی جائے ۔۔
منحوس اولاد!! تم لوگ ابھی اتنے جوان نہیں ہوئے, کہ ان جیسی موٹی عورتوں کو اپنی اس ننھی سی گود میں بٹھا سکو۔۔۔! اور خبردار اگر تم لوگوں نے یا کسی غیر محرم نے تم لوگوں کو ٹچ کیا تو یاد رکھنا!! وہ دن تم لوگوں کا اس دنیا میں آخری دن ہو گا۔۔۔!
عیس نے دانت پیستے ہوئے اسکی اٹھارہ پلس عمر کا کچومر بناتے ہوئے جواب دیا۔۔۔
ڈیڈ یار ہم لڑکیاں نہیں ہیں۔۔۔! شہرام نے ضبط کرتے ہوئے اس بار اپنے باپ کو یاد کروایا کہ وہ انہیں نازک کنیا کماری نہ سمجھیں۔۔
تم لوگ جو بھی ہو! پر میں اپنی بہوؤں کی امانت میں تم لوگوں کو خیانت نہیں کرنے دوں گا۔۔۔! اس لئے بنا کسی دوشیزہ کو انگلی لگائے، اپنے اس دو نمبر بھائی کو سٹیج سے اتارو، اور فورآ گھر کی طرف دفع ہو۔۔! ورنہ مجھے مجبوراً تمہاری یہ کالی کرتوت کبیر اور فارس تک پہنچانی ہو گی۔۔"
شہرام کو بحث پر اترتے دیکھ کر عیس نے اس بار دوسرا حربہ آزمایا۔ جبکہ شہرام جو ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فاتح کو اپنی طرف بلا رہا تھا۔
فاتح کے سٹیج سے اتر کے قریب آنے پر وہ اسکا ہاتھ پکڑے کلب سے باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔
فاتح الجھن سے اسکی طرف دیکھنے لگا۔ کہ آخر وہ اسے باہر کیوں لے کر جا رہا ہے۔۔
بھائی کی دھمکی تو آپ مجھے ایسے دے رہے ہیں ڈیڈ، جیسے فاری بھائی اپکو منہ لگاتے ہوں نا۔۔۔!
کلب سے باہر نکل کر فاتح کے تاثرات دیکھتے ہوئے شہرام نے مذاق اڑانے والے انداز میں باپ کو یاد دلایا۔ دوسری طرف عیس ہمدانی سچ میں اس جواب کو سن کر سلگ اٹھا تھا۔۔۔
کیونکہ اپنے کہے کے مطابق حقیقت میں فارس ہمدانی اور کبیر خان نے لاسٹ کال کے بعد کبھی آج تک گھر والوں سے بات نہیں کی تھی۔ فارس نے تو لاسٹ کال پر کہتے ہوئے اپنا کہا سچ کر دیکھایا تھا۔ لیکن کبیر خان کو تو آخری کال کرنے کا بھی موقع نہیں ملا تھا۔ اتنے سال گزرنے کے بعد بھی وہ اپنے کہے پر قائم تھے۔ اسی لئے شہرام اپنے بھائی کے اتنے سال بات نہ
کرنے پر باپ کا مذاق اڑاتے ہوئے گویا ہوا تھا۔۔۔
وہ مجھ سے بات کرے یا نہ کرے، پر تمہاری خیر نہیں ہونے والی۔۔۔! فون میں سے بولتے
ہوئے عیس نے سلگتے ہوئے اسے ڈرانا چاہا۔۔۔ جبکہ ساتھ چلتے ہوئے فاتح کو اچھے سے سمجھ آ گئی تھی۔ کہ آج رات انکا ٹولا کلب سے باہر لانے والا کون ہے ۔۔
شہرام کے ہاتھ سے موبائل لیتے ہوئے فاتح جلدی سے بولنے لگا۔۔۔
کیا یار چھوٹے بابا۔۔۔۔! ابھی تو ہم نے ٹھیک سے انجوائے بھی نہیں کیا تھا، اور آپ نے ہم پر حملہ بھی کر دیا۔۔! فاتح منہ بناتے ہوئے خفگی سے کہنے لگا، اشارہ زبردستی کلب سے باہر لانے کی طرف تھا ۔۔
شٹ آپ چھوٹے بابا کی جان کے عذاب!!! منہ بند کر کے سیدھا گھر کی طرف دفع ہو ۔۔۔!! فاتح کے خفگی پر عیس نے اسے سناتے ہوئے ٹھک سے فون بند کر دیا۔ جس پر وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے منہ بناتے واپسی کی طرف چل نکلے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوئے باسم کتنے پراٹھے کھائے گا۔۔؟ سوئے ہوئے باسم کا کندھا ہلاتے ہوئے ایشام نے پوچھنا چاہا۔۔۔
دو کھاؤں گا۔۔! نیند میں ہاتھ بلند کرتے ہوئے باسم نے دو انگلیاں دیکھا کر جواب دیا۔۔
سالے ایک نہیں کھا سکتا کیا تو۔۔۔! سوئے ہوئے باسم کو گھورتے ہوئے ایشام نے پرچی پر اسکے نام کے آگے دو لکھ دیا۔۔۔
غازی تو کتنے کھائے گا۔۔.؟ ایشام گھوم کر غازی کی طرف آتے پوچھنے لگا۔۔۔
میرے ڈھائی کر لے۔۔۔! منہ سے تکیہ پرے ہٹاتے ہوئے غازی نے زرا آنکھیں واہ کرتے ہوئے ایشام کو ڈھونڈ کر بتایا۔ جبکہ بدلے میں ایشام صدیقی نے زہر بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگا تھا۔
کمینوں تم لوگ انسان ہو کہ جن؟؟ اتنے پراٹھے کون کھاتا ہے۔۔؟ ایشام کو غصہ چڑھتا جا رہا تھا۔
آج چونکہ سنڈے تھا۔ اس لئے سب ابھی تک سوئے ہوئے پڑے تھے۔ دس بجے اٹھ کر ایشام نے ہمیشہ کی طرح اپنی ڈیوٹی سنبھال لی تھی۔ ہر سنڈے وہ دس بجے اٹھ کر پرچی اور پینسل اٹھا کر باری باری سب کے کمروں میں جا کر پوچھتا تھا۔ کہ کون کتنے پراٹھے کھائے گا۔ تاکہ وہ اس حساب سے آٹا گوندھ سکے۔۔
چونکہ یہ پراٹھے صرف سنڈے کو ہی بنتے تھے۔ تو اس لحاظ سے وہ سب اس دن پورے ہفتے کی کمی پوری کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ کیونکہ عام دنوں میں صبح صبح کی بھاگ دوڑ میں وہ ہلکا پھلکا ناشتہ کر کے اپارٹمنٹ سے نکل جاتے تھے۔۔
ایشام گھومتے گھماتے ہوئے اب فاتح اور شہرام کے کمرے میں داخل ہوا جہاں کمرے کا دروازہ کھولتے ہی وہ دونوں بیڈ پر آڑھے ترچھے الٹے سوئے پڑے نظر ائے۔۔۔
شہری پراٹھے کتنے لو گئے ۔۔۔۔؟ ایشام نے جھکتے ہوئے زور دار انداز میں بولتے ہوئے شہرام کے کان میں پوچھا تو شہرام بیچارہ بے اختیار ڈرتے ہوئے اٹھ بیٹھا ۔۔ سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے شہرام نے اپنے سامنے کھڑے ایشام کو کھڑے پایا تو وہ جی جان سے سلگ ہی اٹھا تھا۔۔۔
سر آپ ناشتے میں کتنے پراٹھے کھائے گئے۔۔۔؟ پروفیشنل انداز سے میٹھی آواز میں بولتے ہوئے ایشام نے اپنے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے شہرام سے آڈر لینا چاہا۔۔۔ مطلب اس سوئے ہوئے کے کان میں چلا کر وہ بالکل معصوم بن چکا تھا۔
سالے۔۔!! خبیث ۔۔ کمینے سنڈے ویٹر میں آج تیرا گیم بجا کر چھوڑں گا۔۔۔!
شہرام نے چینختے ہوئے بیڈ سے اتر کر ایشام پر جھپٹنا چاہا تو وہ بھاگنے والے انداز میں جا کر بیڈ کہ دوسری سائیڈ پر جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
سر اتنا غصہ کیوں کر رہے ہیں، میں تو بس ناشتے کا پوچھنے آیا تھا۔۔۔! ایشام نے قہقہ لگاتے ہوئے شہرام کو مزید تپایا۔۔
کتے! رک تو زرا آج ۔۔! تیرے ناشتے کی تو ۔۔۔! خونخوار تاثرات سے بولتے ہوئے شہرام نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے ایشام کو پھر دبوچنا چاہا ۔۔۔
شہری میں بتا رہا ہوں۔۔۔! اگر میری چڑھتی جوانی کو زرا بھی آنچ آئی، تو تیرے سارے گندے شوق بھائی لوگوں پر فاش کر دوں گا۔۔! ایشام نے تیزی سے بولتے ہوئے شہرام کو دھمکی لگائی جو کارآمد ثابت ہوئی تھی۔ کیونکہ شہرام علی عرف شہری بھپری سانسوں پر قابو پاتے ہوئے فورآ رک چکے تھے۔۔۔۔
شہرام کو بریک لگتے دیکھ کر ایشام نے ایٹیٹیوڈ سے اپنی شرٹ کا کالر درست کرتے ہوئے کندھے گھماتے ہوئے اسکی جانب مسکراہٹ پاس کی۔۔۔۔۔ "اب بتائیں کتنے پراٹھے ٹھونسنا پسند کریں گئے۔۔؟ پھر وہی سوال دہرایا گیا۔۔
تین ۔" ایشام کے سوال کا تیزی سے یک لفظی جواب دیتے ہوئے شہرام نے بھی بدلے میں آنکھیں مٹکا لیں تھیں۔۔۔
کیا تین۔۔؟ سالوں میں تم لوگوں کا کک ہوں، جسے پاکستان سے تم لوگ جہیز میں ساتھ لائے تھے۔۔" تین پراٹھوں کا سن کر ایشام سلگتے ہوئے پھٹ پڑا ۔۔
بدقسمتی سے ان سب میں سے اچھے پراٹھے صرف وہ ہی بناتا تھا۔ اس لئے کبیر، فارس نے سنڈے والے دن ناشتہ بنانے کی ڈیوٹی ایشام اور ارسل کو دی ہوئی تھی۔۔
پلیز میرے لئے آلو والے پراٹھے بنانا۔۔۔" ایشام کی حالت پر مزے لیتے ہوئے شہرام نے دوسرا حکم بھی ساتھ صادر کر دیا۔۔
جسے سنتے ہوئے اب ایشام نے سوئے ہوئے فاتح کو گھورا۔ جو گدھے، گھوڑے بیچ کر بے خبر سو رہا تھا۔ اسے بالکل خبر نہیں تھی کہ آس پاس کیا ہو رہا ہے۔۔۔
غصے سے ایشام نے ٹیبل پر پڑا پانی والا جگ اٹھا کر سوئے ہوئے فاتح کر انڈھیل دیا۔۔۔ جس کی وجہ سے اگلے ہی پل فاتح ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا ۔۔
بہت سو لیا۔۔! اب اٹھ مر پڑو۔۔! اور جا کر واشنگ مشین لگاؤ۔۔" اپنے پراٹھوں کا غصہ فاتح پر نکالتے ہوئے ایشام زور دار طریقے سے کمرے کا دروازہ بند کرتے غائب ہو گیا ۔ جبکہ فاتح تو سوئی جاگی حالت میں یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کہ اسکے ساتھ یہ ظلم کیوں ہوا ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا فائدہ تیرے پراٹھوں کی گنتی کرنے کا۔۔؟ جب تجھے پتہ ہےکہ ہر اتوار ان پراٹھوں کی تعداد بڑھتی ہے، پر کم زرا بھی نہیں ہوتی، جانی۔۔۔!
ارسل نے ابلے ہوئے آلو چھیلتے ہوئے ایشام ہر افسوس جتایا۔۔ جو ایپرن باندھے آٹا گوندھنے میں مصروف تھا۔۔۔
اس گھر میں انسان نہیں بلکہ سانڈ رہتے ہیں سانڈ۔۔۔! کوئی ناشتے میں بھی تین پراٹھے کھاتا ہے کیا۔۔۔! ایشام ڈارک نیلی آنکھوں میں غصہ سجائے کلستے ہوئے تبصرا کر گیا۔۔
ہائے کیا تو بھائی لوگوں کو سانڈ بول رہا یے۔۔۔؟ ارسل نے ابلے ہوئے آلوؤں کو ہاتھ سے مسلتے ہوئے ڈرامٹک انداز میں پوچھنا چاہا۔۔۔
بکواس نہ کر، ورنہ اسی آٹے سے تیری قبر بنا
دوں گا ۔۔! ارسل کے چھیڑنے پر وہ بگڑ کر بولا۔۔
پڑھائی کا چکما دے کر یہاں گھر داری سیکھنے بھیجا ہے گھر والوں نے۔۔! فاتح سب کمروں سے کپڑے اکھٹے کرنے کے بعد لاؤنج سے گزرتے ہوئے مسلسل بڑبڑا رہا تھا۔
ہر اتوار کو یہ ان سب کا معمول تھا۔ فاتح کپڑے اکٹھا کر رہا تھا، تو شہرام لانڈری روم میں کھڑا مشین کے ساتھ مصروف تھا۔۔
مسٹر دھوبی پلیز جاتے ہوئے صفائی والوں کو بھی جگاتے جائیے گا۔۔! تاکہ سارے کام آج جلدی جلدی ختم ہو جائیں اور ہم باقی کا دن سکون سے گزرا سکیں۔۔۔"
پراٹھوں کی فیلنگ کا سامان تیار کرتے ہوئے ارسل نے وہاں سے گزرتے ہوئے فاتح کو ہدایت دی۔ تو وہ سمجھنے والے انداز میں سر ہلا کر غازی اور باسم کو اٹھانے چلا گیا۔۔
کیونکہ دن کے گیارہ تو بج ہی چکے تھے۔۔ آہستہ آہستہ سب جاگتے ہوئے اپنی اپنی ڈیوٹی سنبھالتے جا رہے تھے۔۔۔
تقریباً تھوڑی دیر کے بعد ارسل اور ایشام کچن میں کھڑے تیز تیز ہاتھ چلاتے ہوئے ناشتہ تیار کر رہے تھے، تو دوسری جانب فاتح اور شہرام کپڑے دھونے میں مصروف تھے۔ جبکہ غازی اور باسم اس وقت سب کمروں کی صفائی ستھرائی میں لگے ہوئے تھے۔
باسم زمین پر بیٹھا اس وقت لاونج میں پوچا لگا رہا تھا، جبکہ غازی جھاڑو لگانے کے بعد اب ڈسٹنگ میں مصروف تھا۔۔۔
شام۔!! آملیٹ بھی بنا لینا ۔۔۔! غازی نے رکتے ہوئے اچانک ایشام کو بلاتے ہوئے کہا۔۔ جس پر ایشام اور ارسل شعلہ بار نظروں سے اسے گھورنا شروع ہو گئے۔۔۔
کیونکہ تقریبآ دو گھنٹوں سے پراٹھے بنا بنا کر انکی کمر اکڑ چکی تھی۔ جبکہ ابھی چائے بنانا باقی تھی۔ اور اب اس کمینے نے ایک نیا حکم صادر کر دیا تھا۔۔۔
آلو والے پراٹھے کے ساتھ آملیٹ کون کھاتا ہے ۔؟ ایشام نے تڑخ کر پوچھنا چاہا۔۔۔
ہم سب سکون سے کھا لیتے ہیں، اس لئے شاباش تو دو، دو کے حساب سے سب کے لیے ہاف فرائی ایگ بنا دے ۔۔۔!
باسم جو زمین پر پوچا رگڑ رہا تھا۔ کہ ایشام کے طنز کو سنتے ہوئے وہ پوچا چھوڑ کر جواب دینے کے ساتھ ساتھ ہدایت بھی دے گیا ۔۔ جس پر ارسل اور ایشام ضبط کے مارے اب چائے کے ساتھ ساتھ فریج سے انڈے نکال کر بنانا شروع ہو گئے۔۔۔
کبیر اور فارس اس وقت اپنے بیڈ روم میں سوئے ہوئے تھے۔ اتوار والے دن وہ دونوں گھر کے کاموں سے چھٹی پر ہوتے تھے۔ کیونکہ پورے ہفتے وہ ہی رات کا کھانا بناتے تھے۔
اچانک ڈور بیل ہوئی، تو سب دانت پیستے چلے گئے۔۔۔
لو آ گیا مفت کا ناشتہ کرنے والا۔۔۔" کندھے پر گیلے کپڑے رکھے شہرام لاؤنج سے گزرتے ہوئے بول گیا۔۔۔
غازی نے جا کر دروازہ کھولا تو سچ میں بہادر خان بتیسی دیکھاتے ہوئے دروازے نے بیچوں و بیچ کھڑا تھا۔۔۔
دروازہ کھلتے ہی بہادر خان کی تیز ناک کی نتھنوں سے پراٹھوں کی خوشبو ٹکرائی تو وہ جھوم ہی اٹھا۔۔۔ جبکہ غازی گھورنے والے انداز میں اسے دیکھ رہا تھا۔
تھوڑا سا ناشتہ مل سکتا ہے کیا۔۔۔؟ بہادر خان نے چہرے پر مظلومیت سجاتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔

Post a Comment (0)
Previous Post Next Post