ناول: #جنون یار
قسط: 11
از قلم: #مرینےقیس
اگلے دن علینہ اور محبت کو لئے وہ لوگ ساؤتھ کوریا پہنچ چکے تھے۔۔۔ ہاسپیٹل میں ایڈمیٹ کرواتے ہی ڈاکٹرز کی ٹیم نے انکا علاج شروع کر دیا تھا۔
وہاج اور نعمان اس وقت کاریڈور میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جبکہ نعمان شاہ گہری سوچوں میں ڈوبا، دیوار سے سر ٹکائے کھڑا تھا۔۔۔
وہاج نے ایک نظر اس پر ڈالی، تو بے بسی سے لب بھینچ گیا۔ وہاج پچھلے ایک دن سے نوٹ کر رہا تھا۔ کہ نعمان خان اپنی سدھ، بدھ بھلائے صرف بھاگ دوڑ کرنے میں مصروف ہے۔ اسکا ذہن صرف محبت اور اپنی خانم میں اٹکا ہوا تھا۔
یہاں تک کہ اسے اپنے کھانے پینے کی بھی ہوش نہیں تھی۔ جتنی دفعہ بھی وہاج نے اسے کھانا کھلایا تھا تو وہ ایک زبردستی کوشش ہوتی تھی۔ ورنہ وہ خود کی ہر ضرورت سے غافل نظر آ رہا تھا۔
ساؤتھ کوریا پہنچتے ہی وہاج نے سب سے پہلے سلطان کو خبر کی تھی۔ جس پر سلطان نے اسے یقین دلایا تھا کہ وہ سب کل تک انکے پاس ہونگے۔ ان سب کا ایک ساتھ ساؤتھ کوریا آنا ہر گز بھی ممکن نہیں تھا۔ لیکن اس کے باوجود بھی وہ سب لوگ آ رہے تھے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے، کہ نعمان خان کو اس وقت ان سب کی ضرورت ہے۔
ہم انسان خوشی کے موقع پر چاہے کسی کی غیر موجودگی کو نظر انداز کر دیں، تو کر دیں۔ پر دکھ، غم یا پھر مشکل کے وقت ہمیں اپنوں کی ضرورت بے حد محسوس ہوتی ہے۔۔
مشکل وقت میں ہم انسان ہر اس چہرے کو اپنے پاس دیکھنا چاہتے ہیں، جس کا شاید پاس ہونا بھی ممکن نہ ہوں..!
دکھ میں انسان کی دماغی ضرورت اسے کسی کا کندھا تلاش کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ تاکہ وہ کسی مہرباں کندھے پر سر رکھ کر رو دے، دل کا بوجھ ہلکا کر سکے۔ اس کے برعکس مشکل حالات میں ہم مسلمان اللہ کے بعد اس انسان کو سوچتے ہیں، جو ہمیں مشکلات میں سنبھال سکتا ہے، ہمت دے سکتا ہے۔
غرض ہر وقت کی ضرورت مختلف ہے۔ بالکل اسی طرح نعمان خان کو ان حالات میں بلیک گینگ کی ضرورت محسوس ہوتی رہی تھی۔ اسکے خون کی وفا بے شک سلطان احمد خان کے ساتھ جڑی ہوئی تھی، لیکن اس کے باوجود جو دل کا رشتہ ان سب کا ایک دوسرے کے ساتھ بن چکا تھا۔ وہ رشتہ کبھی بھی انہیں ایک دوسرے سے دور نہیں رکھ سکتا تھا۔
خان۔۔! وہاج نے موبائل پاکٹ میں ڈالتے ہوئے نعمان کو پکارا تو وہ ہوش میں آتا چونک کر اسکی طرف دیکھ گیا۔۔۔۔۔
ہاں۔۔۔! نعمان خان چہرے پر ناسمجھی کے تاثرات لیے وہاج کو دیکھنے لگا۔۔۔ ناسمجھی سے دیکھنے کا مطلب تھا۔ نعمان خان کو ہوش نہیں تھی۔ کہ وہاج اسے کچھ کہہ رہا تھا یا پھر بس پکارا گیا تھا۔۔۔
چلو آؤ کھانا کھا کر آتے ہیں۔ مجھے بھوک محسوس ہو رہی ہے۔۔! وہاج نے کہتے ہوئے اسے دیکھا تو بدلے میں نعمان خان نے سرد سانس کی۔ وہ اچھے سے سمجھ رہا تھا۔ کہ وہاج بس ایسا اسے کھانا کھلانے کے لئے کہہ رہا ہے۔ اس لئے اس دفعہ بنا بحث کیے اس نے باہر کی جانب قدم بڑھا لیے۔
نعمان خان کی تابعداری پر تشکر سے مسکراتے ہوئے وہاج بھی دماغ میں ایک مہینے پہلے ہوئے تمام حالات کو مسلسل سوچتے ہوئے اسکی تقلید میں بڑھ گیا۔۔۔
کبیر اور فارس زخمی حالت میں ایک مہینہ پہلے فاتح اور شہرام کو لیے ہاسپیٹل پہنچے تو کچھ دیر بعد ہاسپیٹل میں کہرام برپا ہو چکا تھا۔۔
کبیر نے کال کرتے ہوئے جب سلطان کو ساری صورتحال کے بارے میں بتایا تو اس وقت وہ سب نعمان خان کی طرف بیٹھے تھے۔ یہ خبر ان سب کے لئے کافی بڑا جھٹکا اور غیر یقینی ثابت ہوئی تھی۔ اس لئے انکی ماؤں کے علم میں لائے بنا ان کو افراتفری میں بلیک مینشن واپس چھوڑ کر، وہ سب خود ہاسپیٹل کی طرف روانہ ہو گئے۔ جہاں شہرام اور فاتح ایڈمٹ تھے۔
وہ لوگ ہاسپٹل پہنچے، تب تک شہرام اور فاتح کا ٹریٹمنٹ شروع ہو چکا تھا۔ سلطان احمد خان نے سرد نگاہوں سے کبیر اور فارس کو دیکھا تھا۔ جو چہرہ جھکائے نظریں چرانے کی کوشش میں تھے۔۔
اپنے بڑوں کی نظروں میں دیکھنے کی انکی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔
دیکھتے بھی تو کس ہمت سے۔۔۔؟
کیا کہتے؟ اور کس منہ سے کہتے؟ کہ وہ اپنے چھوٹے بھائیوں کی حفاظت نہیں کر پائے۔۔؟ اپنے بڑوں کے سامنے اس غیر ذمہ داری اور نقصان کو برداشت کرنے کی انکی ہمت نہیں ہو پا رہی تھی۔
فاتح کے سر پر لگنے والی چوٹ کافی گہری تھی۔ جبکہ شہرام تو صرف فاتح کی وجہ سے کمزور پڑتے زخمی ہوتا چلا گیا تھا۔۔
شہرام اور فاتح کی اتنی زخمی حالت وہ کسی صورت بھی قبول کرنے کو راضی نہیں تھے۔ اپنے بچوں کی ایسی حالت دیکھ کر جہاں
سینے میں انکے دل تکلیف سے پھٹ رہے تھے۔ وہیں دوسری طرف انکی ماؤں کی تکلیف کا سوچ سوچ کر وہ بے بسی کا شکار ہونے لگے۔
لیکن اس ساری صورتحال میں ان لوگوں کو اس بات کا وہم و گمان بھی نہیں تھا۔ کہ اصل میں ابھی تھوڑی دیر بعد وہ کس نقصان سے دو چار ہونے والے ہیں۔۔۔
شہرام اور فاتح کے زخمی ہونے کا سن کر نعمان خان بھی انکے ساتھ ہاسپیٹل آ چکا تھا۔ جبکہ فلیٹ میں علینہ اور محبت اکیلے تھے۔۔ کیونکہ ارسل کو وہ بلیک مینش بھیجوا دیا گیا تھا۔ محبت کے پیدا ہونے کی خوشی میں نعمان خان کل صبح میر پور جانے والا تھا۔ تو ارسل کی پڑھائی کے حرج کو سوچتے ہوئے نعمان خان نے اسے علیزے کے ساتھ بلیک مینشن بھجوا دیا۔ تاکہ جتنے دنوں تک وہ واپس لوٹے تب تک ارسل خان بلیک مینشن سے ہی سکول جائے۔۔۔
لیکن اسکی غیر موجودگی میں نعمان خان کے فلیٹ پر حملہ ہو چکا تھا۔ چونک علینہ فلیٹ میں محبت کے ساتھ اکیلی تھی۔ تو دشمنوں کو وار کرنے کا کافی اچھا موقع مل گیا تھا۔
یہ حملہ اتنا غیر متوقع تھا۔ کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
کہ جس بیٹی کے پیدا ہونے پر نعمان خان خوشی سے ہنستے ہوئے نہیں تھک رہا تھا۔ واپسی پر وہی بیٹی اسے زخمی حالت میں ملے گی۔۔۔ گولیوں کی بوچھاڑ میں علینہ خانم کو اگر دل کے پاس گولی لگی تھی، تو محفوظ محبتِ نعمان بھی نہیں رہی تھی۔۔ علینہ نے اپنی معصوم بیٹی کو بچانے کی بہت کوشش کی تھی۔ لیکن اس کے باوجود محبت کے پیٹ میں گولی لگ چکی تھی۔
نعمان خان جب واپس آیا تو اپنے فلیٹ کی حالت دیکھتے ہوئے اس مضبوط مرد کا دل ایک دفعہ دھڑکنے سے انکار کرنے لگا۔ ڈولتے قدموں کے ساتھ وہ بھاگنے والے انداز میں بامشکل کمرے تک پہنچا۔ تو کمرے کے بیچوں و بیچ علینہ اور محبت کو خون میں لت پت پڑا دیکھ کر اگلے ہی پل پورا فلیٹ نعمان خان کی روح فرسا پکار پر لرز گیا۔۔
وہ اذیت سے روتے ہوئے ان ماں بیٹی کو پکار رہا تھا۔ لیکن وہ زندگی سے دور جاتی نظر آ رہیں تھیں۔۔۔
اس رات جیسے تیسے نعمان خان نے بروقت خود کو سنبھالتے ہوئے اپنی جینے کی دونوں وجوہات کو ہاسپیٹل پہنچا لیا تھا۔ جبکہ اسکا دل اندر ہی اندر یہ سوچ کر لرزتا رہا تھا۔ کہ اگر اسکا بیٹا بھی اس وقت فلیٹ میں موجود ہوتا، تو شاید آج نعمان خان مکمل طور پر جیتے جی مر چکا ہوتا۔۔۔
ایک طرف فاتح اور شہرام کی حالت تھی۔ تو دوسری طرف علینہ اور محبت موت کے منہ میں جا پہنچے تھے۔ کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ کہ حملہ آور کون تھے، اور کس نیت سے آئے تھے۔ وہ ایک شام اور رات ان سب کے لیے قیامت برپا کر چکی تھی۔
خوش قسمتی سے علینہ اور محبت کے وجود میں سانسوں کی روانی تو باقی رہ گئی تھی۔ لیکن اس حملے کا ڈر و خوف علینہ کے ذہن پر اتنا حاوی ہوا، کہ وہ کومہ میں چلی گئی۔۔ بیٹی کو گولی لگتے دیکھنے کا منظر اسکے دماغ کو ہر طرح سے جکڑ چکا تھا۔۔۔ اس سب میں محبت کے ذندہ رہنے کی امید کم سے کم ہوتی جا رہی تھی۔
کیونکہ وہ پہلے ہی کمزور حالت میں پیدا ہوئی تھی۔ اور اب پیٹ میں لگی گولی کا زہر اسے موت کے منہ میں لے گیا تھا۔ پر نعمان خان کسی صورت بھی اپنی رحمت کو ہاتھوں سے جانے نہیں دے سکتا تھا۔ اس لئے ہر گزرتے سکینڈ پر اسکی دعاؤں کا زور بڑھ رہا تھا۔۔۔
علینہ اور محبت کو جس ہاسپیٹل میں ایڈمیٹ کی گیا تھا۔انکے علاج کے دو دن بعد ان پر پھر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ شاید دشمن اس بار بلیک گینگ کا شدید نقصان کرنے کی کوشش میں تھا۔ اس لئے وہ ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے علینہ اور محبت کو مارنا چاہ رہے تھے۔ لیکن جس رات ہاسپٹل میں علینہ اور محبت پر حملہ ہوا تھا۔ تب عین وقت پر میرال نے انکے حملے کو ناکام بنا دیا تھا۔۔اس دوران میرال کو بازو پر گولی لگی تھی۔
اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے سلطان اور ضرار نے فیصلہ کرتے، جلد از جلد انتظامات کرتے ہوئے کسی کے بھی علم میں لائے بنا نعمان خان کو لندن بھیج دیا۔ تاکہ وہاں علینہ اور محبت کا علاج بنا کسی خطرے کے ہو پائے۔
لیکن یہاں پر آنے کے بعد بھی انکی حالت میں کوئی سدھار نہیں آیا تھا۔
جبکہ اسلام آباد کے شہر میں بھی ایک ہنگامہ برپا ہوا پڑا تھا۔ حیدر ابراہیم کو شدید زخمی حالت میں سڑک سے ریسکیو کیا گیا تھا۔ اور صرف حیدر کو ہی نہیں، بلکہ اسکے لائے گئ تمام دوستوں کو بھی۔۔
جن کو فارس ہمدانی نے انتہائی بے رحمی کے ساتھ ہاکی کی مدد سے پیٹا تھا۔ تو حیدر کا برا حشر کبیر خان کے ہاتھوں سے ہوا تھا۔۔
حیدر ابراہیم کو جس قدر بے رحمی سے کبیر خان نے پیٹا تھا۔ وہ ہاسپیٹل کے ایمرجنسی کے کمرے میں کومہ میں جا چکا تھا۔۔۔ اس سارے ہنگامے کو لے کر پورے شہر کے میڈیا میں ایک الگ طرح کا ہی شور چل رہا تھا۔۔
بلیک گینگ حیدر اور اسکے ساتھیوں کی اتنی زخی حالت جان کر تعجب کا شکار ہوئے تھے۔۔ مطلب کبیر خان اور فارس ہمدانی کی اس قدر سفاکی وہ ہضم نہیں کر پا رہے تھے۔
ایک طرف میڈیا کا شور تھا۔ تو دوسری طرف حیدر کے گھر والے تھے۔۔ جو سلطان احمد خان اور عیس ہمدانی کے بیٹوں پر کیس کرنا چاہ رہے تھے۔ کیونکہ جس قدر سفاکی سے مارا گیا تھا۔
یہ سفاکی جان لینے کے بالکل برابر تھی۔
وہ سب جو یہ سوچے بیٹھے تھے۔ کہ کبیر اور فارس کے انٹر کے بعد وہ انکو باہر پڑھنے کے لیے بھیج دیں گئے۔ پر ان سب صورتحال میں انہوں نے حکمت عملی سے کام لیتے، تیزی سے سارے انتظامات مکمل کرتے ہوئے کبیر اور فارس سمیت باقی لڑکوں کو بھی منظر عام سے غائب کر دیا تھا۔ کیونکہ کبھی کبھی منظر عام سے ہٹ جانا ہی وقت کی ضرورت اور سمجھداری ہوتی ہے۔
سب کو یہ ہی کہا گیا تھا، کہ وہ جرمنی جا چکے ہیں، لیکن حقیقت میں کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ جرمنی اصل میں اٹلی ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فارس موبائل پکڑے بار بار ناز کے نمبر پر کال کر رہا تھا۔ اٹلی میں آہستہ آہستہ اترنے والی پہلی سرد رات فارس کے دل پر بری طرح اثر انداز ہو رہی تھی۔
رات کے دس بجے تک وہ سب یوٹیوب سے کھانے بنانے کی تراکیب دیکھ دیکھ کر کھانا بنا پائے تھے۔ ان سب کی کڑی محنت کے بعد بننے والا کھانا کچن میں ویسے کا ویسے ہی پڑا ہوا تھا۔
کیونکہ اپنے پکائے ہوئے کھانے کی پہلی پہلی بائٹ کھانے کے بعد وہ سب باری باری شرافت سے اٹھ کر، فریج کی طرف جا چکے تھے۔ معصوم بچوں کی طرح خاموشی کے ساتھ فریج سے بریڈ نکال کر اوپر جیم اور بٹر لگا کر، وہ ایسے کھانے لگے تھے۔ جیسے پتہ نہیں، کتنے عرصے سے سب بھوکے ہوں۔۔
یہ وہی اگلی نسل تھی۔ جو پاکستان میں اپنی ماؤں کو روز نئے سے نئے کھانے کی فرمائش کر کے چیزیں بنواتی تھی۔ اور اب یہی فسادی نسل بریڈ، جیم کھا کر اٹلی میں سکون سے بیچارگی اوڑھے سو رہی تھی۔۔۔
کبیر بیڈ پر الٹا لیٹا سو رہا تھا۔ جبکہ دوسری طرف فارس اپنے کمرے میں بے چینی سے چکر لگاتے ہوئے گل ناز کو کال کرنے کی کوشش میں تھا۔ جو بیل ہونے کے بعد بار بار کال کاٹ رہی تھی۔ مطلب وہ اس وقت جاگ رہی تھی۔
ناز! پلیز کال اٹھاؤ، مجھے تمہاری آواز سنی یے..! فارس نے لب بھینچتے ہوئے اسے میسیج کیا، جو اگلے ہی پل سین کر لیا گیا۔
ناز کو اپنا میسیج سین کرتے دیکھ کر فارس ہمدانی کا دل زور سے دھڑکا تھا۔ لیکن جب پانچ منٹ گزرنے کے بعد بھی اسے جواب موصول نہ ہوا، تو وہ مزید بے چینی و تڑپ کا شکار ہوتا چلا گیا۔۔۔
فارس نے ایک بار پھر اسے کال ملانا شروع کی تو اس بار کال کٹ ہونے کے بعد اسکا نمبر ہی بلاک لسٹ میں شفٹ کر دیا گیا۔۔
فارس نے ناسمجھی سے موبائل کی سکرین پر دیکھا، جہاں ناز کی پروفائل اب شو نہیں ہو رہی تھی۔۔
دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے پھر کال کی۔ تو اپنا نمبر بلاک ہوتے دیکھ کر وہ بے یقینی میں مبتلا ہونے لگا۔۔۔شہد رنگ آنکھوں میں بے یقینی اترتی چلی گئی تھی۔۔
اسکی ناز کبھی بھی اسکا نمبر بلاک نہیں کر سکتی تھی۔ فارس ہمدانی کا دل یہ بات ماننے سے بالکل انکاری تھا۔ اپنی غلط فہمی سمجھتے
ہوئے فارس نے دوبارہ نمبر ملانا چاہا، تو وہی رسپانس۔۔۔
نمبر بلاک ہونے کی حقیقت قبول کرتے ہوئے وہ اگلے ہی پل پوری قوت سے چلا اٹھا۔۔۔ پورے اپارٹمنٹ میں اسکی درد ناک دھاڑ گونجی، تو اپنے اپنے کمروں میں سوئے وہ وہ سب ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے۔۔۔ کبیر خان نے بھی ہڑبڑا کر آنکھیں کھولیں تھیں۔۔
فاری کیا ہوا۔۔؟ فارس کو شکستہ حالت میں زمین پر بیٹھے دیکھ کر کبیر تڑپتے ہوئے جلدی سے اسکی طرف بڑھا۔۔۔
خان۔۔!! ناز نے میرا نمبر بلاک کر دیا۔۔۔؟ ٹوٹے پھوٹے لہجے میں بولتے ہوئے فارس نے کبیر کی طرف دیکھا تو کبیر خان نے اسکی تکلیف کی وجہ جان کر اگلے ہی پل بے بسی سے لب بھینچ لیے۔۔۔
بھائی کیا ہوا۔۔۔؟ وہ سب پریشان ہوتے ایک ساتھ کمرے میں داخل ہوئے تھے۔ جبکہ فارس کے الفاظ وہ بھی سن چکے تھے۔۔
کچھ نہیں ہوا، تم لوگ جا کر سکون سے سو جاؤ۔۔! سب کو پریشان ہوتے دیکھ کر کبیر نے نرم لہجے میں بولتے ہوئے انکو جانے کا کہا تو وہ اسکے حکم پر سر ہلاتے ہوئے دروازہ بند کر کے مڑ گئے۔۔۔
یہ ہمارے بھائیوں کا عشق کسی رات ہماری روح پرواز کر دے گا۔۔! دروازے بند ہوتے ہی باسم نے منہ بسور کر کہنا چاہا۔۔ کیونکہ نیند میں اچانک فارس کی دھاڑ سن کر سچ میں انکا دل رکنے والا ہو چکا تھا۔۔۔
آں۔ں۔ں میرا معصوم بچہ ڈر گیا کیا۔۔؟ آجا تجھے اب سینے سے لگا کر سلاتا ہوں۔۔! باسم کے منہ بسورنے پر غازی نے پیار سے پچکارتے ہوئے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔
مممی۔۔۔۔! غازی کے پچکارنے پر سچ میں بچہ بنتے ہوئے باسم نے تیزی سے اسکے سینے میں منہ چھپا لیا ۔تو وہ سب اسکی ایکٹنگ پر ہنستے ہوئے تاسف سے سر ہلا گئے۔ غازی بالکل کسی ماں کی طرح باسم کو سینے سے لگائے اپنے کمرے میں غائب ہوا تو باری باری وہ سب بھی کمرے میں بند ہوتے چلے گئے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غصے سے رات کے اس وقت فارس کھڑکی میں کھڑا اس بار اپنے باپ کا نمبر ملا رہا تھا۔ جبکہ کبیر خان بیڈ پر بیٹھ کر اب اسکا غصہ دیکھ رہا تھا۔ جو کم ہونے کی بجائے بڑھ چکا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ اب جب تک فارس یہ غصہ اپنے باپ پر نہیں نکال لیتا، تب تک وہ سکون سے نہیں بیٹھنے والا۔۔ اس لئے اسے روکے بنا کبیر لیٹ کر اسکو دیکھنے لگا۔
ہیلو۔۔۔! موبائل سے عیس کی نیند کے باعث بھاری آواز ابھری تو اگلے کی پل فارس کا وجود غصے کی شدت سے جھنجھنا اٹھا۔۔ یہاں انکی نیندیں حرام کر کے انکے گھر والے کتنے آرام و سکون سے پاکستان میں سو رہے تھے۔۔۔
ڈیڈ میری ناز سے بات کروائیں۔..! فارس نے غصے سے بولتے ہوئے عیس کو مخاطب کیا۔۔تو دوسری طرف عیس نے کان سے موبائل دور کرتے ہوئے سمجھنا چاہا۔۔۔ فارس کی آواز اسے نیند سے باہر لے آئی تھی۔
تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا۔۔؟ جو آدھی رات کو پھر تم نے ناز نامہ شروع کر لیا ہے۔۔! عیس نے موبائل میں سے اپنی اولاد کو گھوریوں سے نوازنا چاہا تھا۔۔۔ اسکو نیند سے جگا کر وہ اپنی منکوحہ کا دکھڑا سنا رہا تھا۔۔۔
ڈیڈ مجھے ناز سے ابھی بات کرنی یے، اس نے میرا نمبر بلاک کر دیا ہے۔۔۔! فارس نے چلاتے ہوئے ضدی لہجے میں بولنے کے ساتھ ساتھ بتایا تو عیس جو اسے سخت سنانے والا تھا۔ کہ بے اختیار رکتے ہوئے اس نے اپنے سپوت کا نمبر بلاک ہونے والا دکھ سن کر ہونٹ کا کونا دبا لیا۔۔
مطلب آدھی رات کو لڑکی کے نمبر بلاک کرنے کا دکھ سینے میں اٹھ رہا ہے۔..! بیٹے کی غراہٹ سنتے ہوئے عیس ہمدانی نے مزے سے سوچا۔۔
اچھا ہوا ہے، جو میری بہو نے تم جیسے نکمے کو بلاک کر دیا ہے! بلکہ میں صبح ہی اسے کہتا ہوں، کہ تمہیں ہر جگہ سے مزید بلاک کر دے۔۔۔! عیس نے مزے لیتے ہوئے پاس بیٹھی مشعل کو آنکھ ونک کی۔ عیس کی آواز پر وہ بھی نیند سے جاگ چکی تھی۔ بیٹے کی حالت پر اپنے شوہر کو مزے لیتے ہوئے دیکھ کر مشعل نے تاسف سے اسکو دیکھنا چاہا۔۔
ڈیڈ میرا صبر مت آزمائیں۔۔۔! ورنہ میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان واپس آ جاؤں گا۔۔۔! فارس ضبط سے بولتے ہوئے اپنے ٹیڑھے باپ کو دھمکاتے بولا۔
ٹھیک ہے،،! تم پاکستان آنے والی جرآت کرو! دیکھنا پھر میں کیسے تمہاری ٹانگیں توڑ کر تمہیں ہاتھوں پیروں سے محروم کرتا ہوں۔۔! اور مجھے نہیں لگتا، کہ کسی معذور انسان سے گل ناز کبھی شادی کرے گی۔۔ اس لئے میں وجی کو ابھی کہتا ہوں! کہ اپنی بیٹی کے لئے نیا داماد ڈھونڈنا شروع کر دے۔۔! کیونکہ پرانے والا شہید ہونے کی تیاری کیے بیٹھا ہے۔۔۔!
فارس کی دھمکی کا اثر لیے بنا عیس نے پاس بیٹھی مشعل کی کلائی کو جکڑ کر جھٹکا دیتے خود پر گرایا، تو وہ اسے گھور کر رہ گئی۔
جو اسکے بیٹے کو معذور کرنے کا کہہ رہا تھا۔۔
آئی ہیٹ یو ڈیڈ۔۔۔! موبائل میں سے فارس کی غصیلی آواز ابھری تو مشعل بے چین ہوتی چلی گئی۔ اس نے آگے بڑھ کر عیس سے موبائل لینا چاہا، تو عیس نے گھورتے ہوئے موبائل اسکی پہنچ سے دور کر دیا۔ جبکہ اسکی کمر میں بازو لپیٹتے ہوئے وہ اسے اپنے اوپر لٹا چکا تھا۔۔
کیا کر رہے ہیں! میرے بیٹے سے میری بات تو کروائیں۔۔۔! عیس کے سینے سے سر اٹھاتے ہوئے مشعل نے گھورتے ہوئے موبائل لینا چاہا۔۔
تم جیسی دو نکمی اولادیں پیدا کر کے مجھے خود بھی کوئی خاص فخر محسوس نہیں ہوتا۔۔! اس لئے سوچ رہا ہوں، کہ تم دونوں کباب کی ہڈیاں تو دفع ہو ہی چکی ہو، تو کیوں نہ اب اپنی بیٹی پیدا کر ہی لوں۔۔۔!
مشعل کی کلائیوں کو ایک ہاتھ میں قید کرتے ہوئے عیس نے اسکی تھوڑی پر دانت گاڑتے ہوئے بیٹے کو جواب دیا۔۔۔
اسکے "آئی ہیٹ یو ڈیڈ" کہنے پر عیس نے خود اپنے اوپر اظہار افسوس کرنا چاہا تھا۔۔۔ مطلب شہرام اور فارس کو پیدا کر کے وہ بھی خود سے کچھ خاص راضی نہیں تھا۔ اس لئے اپنے بیٹے کے "آئی ہیٹ یو ڈیڈ" میں حصہ ڈال رہا تھا۔
آپکی قسمت میں اتنی نیکی کا کام نہیں لکھا گیا، اس لئے بھڑکیں مارنا چھوڑ دیں ڈیڈ۔۔۔! اپنی معصوم ماں کی آواز سنتے ہی فارس کا موڈ کچھ بہتر ہوا تو وہ باپ کو سناتا چلا گیا۔۔۔ وہ دونوں بھائی ہمیشہ اپنے باپ کو ایک عدد بہن پیدا نہ کرنے پر جلی کٹی سناتے رہتے تھے۔ جس پر عیس اپنی منہ پھٹ اولاد کو صرف کوستے رہ جاتا تھا۔۔۔۔
تم لوگوں جیسے عذاب جس نے پیدا کیے ہوں، تو پھر نیکی کی توفیق بھی چھین لی جاتی ہے۔۔۔! بیٹے کے الفاظ پر عیس کو ایک دم سے غصہ آیا تو وہ بھی اسی کے انداز میں جواب دیتے بولا۔۔
جو بھی بولیں, پر سچائی بدل تو نہیں جائے گی، آپ صرف ناکارہ ڈیڈ ہیں۔۔۔! ناک چڑھاتے ہوئے فارس نے ہمیشہ والے الفاظ دہرائے۔۔۔ باپ سے بحث سے جیتنے کی کوشش میں اسکا دماغ گل ناز سے مکمل طور پر ہٹ چکا تھا۔
منہ پھٹ اولاد۔۔! دیکھنا میں صبح ہوتے ہی کیسے ناز کو تیرے خلاف پٹیاں پڑھاتا ہوں! پھر میں بھی دیکھتا ہوں۔ کہ اصل میں کون ناکارہ ہے۔۔۔! عیس نے تلملاتے ہوئے مشعل کی گردن پر اب دانت گاڑ دیے تھے۔۔ بیٹوں کی جوابی کارروائی کا غصہ وہ ہمیشہ کی طرح مشعل پر نکالنا چاہا رہا تھا۔ جو اسکی گرفت میں مچل رہی تھی۔۔۔
آپ سب نے جتنا کرنا تھا، کر چکے ہیں! لیکن اب ہماری باری ہے ۔۔۔! فارس ہمدانی اور کبیر خان کی طرف سے یہ لاسٹ کال سمجھیے گا۔۔! کیونکہ آج کے بعد آپ لوگ ہماری آواز سننے کو ترس جائیں گئے۔۔"
ناز کے نمبر بلاک والی حرکت پر فارس نے زخمی لہجے میں بولتے ہوئے سنگین الفاظ ادا کیے تھے۔۔
جن کو سن کر دوسری طرف مشعل اور عیس ایک لمحے کے لیے ٹھٹک گئے۔ جبکہ ٹھٹک تو بیڈ پر لیٹا کبیر بھی گیا تھا۔۔
ٹھیک ہے! اگر اتنی ہی اونچی ناک والے ہو تو اب ستائیس سال کا ہونے کے بعد ہی باپ کو اپنی شکل اور آواز سنانا۔۔! کسی گہرے خیال کے تحت عیس نے بدلے میں سکون سے جواب دیتے ٹھک کر کے فون بند کر دیا تھا۔۔۔