ناول: #جنون یار
قسط: 10
از قلم: #مرینےقیس
میں تم لوگوں کو وارننگ دے رہا ہوں! اگر یہاں پر تم میں سے کوئی بھی سکول یا کالج، یا یونیورسٹی کی کسی بھی کلاس میں فیل ہوا تو میں اسے ذندہ زمین میں گاڑ دوں گا۔۔۔! فارس تیش سے غراتے ہوئے ان سب پر جھکتا چلا جا رہا تھا۔
جو معصوموں کی طرف منہ کھولے بیڈ پر لیٹ گئے تھے۔کونکہ اندر ہی اندر انہیں اپنے بڑے بھائی کے تیور ڈرا رہے تھے۔ کبیر خان اپنی مسکراہٹ دبائے فارس کا حال ملاحظہ کر رہا تھا۔
یہاں پہنچتے ہی اس نے عیس کو کال کی تھی۔ پر عیس نے آگے یہ کہتے ہوئے فون بند کر دیا تھا۔ "کہ گریجویشن کرنے کے بعد، میرے جتنا قد نکال کر مجھے اب فون کرنا"
اپنے باپ کے یہ الفاظ اسے اندر ہی اندر بھڑکا چکے تھے۔ کہاں وہ ایک سکینڈ بھی ناز کے بنا نہ رہنے والا، اسے اب اتنے سال یہاں پر گزارا کرنا تھا۔۔۔
لیکن فارس نے بھی سوچ لیا تھا کہ وہ گریجویشن کرتے ہی یہاں سے بھاگ نکلے تھا۔ لیکن اسکی گریجویشن مکمل کرنے کے خیال پر عیس کی طرف سے آئے میسج نے پانی پھیر دیا تھا۔
کال پر عیس ہمدانی شاید اپنے بیٹے کو پاکستان اینٹر ہونے کی تیسری شرط بتانا بھول گیا تھا۔ اس لئے اس نے میسج کرتے ہوئے تیسری شرط یہ گنوائی تھی۔ کہ "فارس ہمدانی اور کبیر خان اپنے تمام چھوٹے بھائیوں کی گریجویشن کروائے بنا پاکستان میں قدم بھی نہیں رکھ سکتے، دوسری صورت میں گل ناز اور گل بہار کو ان سے مزید دور لے جایا جا سکتا ہے۔"
عیس ہمدانی کی تیسری شرط کے ساتھ ساتھ اتنی سنگین قسم کی دھمکی سن کر فارس کا دماغ آؤٹ ہو چکا تھا۔ اس کے برعکس کبیر خان خود پر قابو کیے ہوئے تھا۔
جب انکے گھر والے انکی زندگی کو اجیرن بنانے کی مکمل پلینگ کر ہی چکے تھے۔ تو رونے، دھونے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہونے والا تھا۔ اس لئے وہ خود پر صبر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کیونکہ بہادر خان کو یہاں پر دیکھ کر اس کا دماغ اسے بہت کچھ سگنلز دے رہا تھا۔
یہ کیا بات ہوئی؟ اٹلی آ کر بھی اگر انہوں نے پاکستان جیسا پڑھانا ہے تو ہمیں وہیں پر چھوڑ آتے! شہرام منہ بناتے ہوئے بڑبڑا گیا تھا۔۔۔
بھائی ہم پر غصہ کرنے کی بجائے یہ دھمکی آپ صرف ان دونوں کو دے نہ۔۔! کیونکہ فیل ہونے کا ریکارڈ ان دونوں کا ہے۔۔۔! غازیان نے مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے شہرام اور فاتح کی طرف اشارہ کرنا چاہا۔۔۔
بھائی یہ بکواس کر رہا ہے۔ ہم تو اتنا اچھا پڑھتے ہیں۔۔! فارس کی خطرناک گھوریوں کو دیکھتے ہی وہ اچھل پڑے۔۔۔
بھائی! آپ جتنی مرضی کوشش کر لیں، پر یہ جو دونوں سب سے چھوٹے والے ہیں! انکی گریجویشن تو سب سے لاسٹ پر ہی ہو گی نا۔۔۔!
فارس کی نظروں کا رخ خود سے ہٹاتے ہوئے ارسل، ایشام کی طرف اشارہ کیا تو وہ دونوں گڑبڑا کر اپنی اپنی بتیسی کی نمائش کر گئے ۔۔
ہمممم۔۔ ان دونوں کو میں ایک کلاس جمپ کروا کے تم لوگوں کے ساتھ شفٹ کر دوں گا ۔۔! ایشام اور ارسل کو گھورتے ہوئے فارس نے پر سوچ انداز میں جواب دیا تو جہاں اپنی شامت پر ارسل اور ایشام کی آنکھیں پھٹ گئیں وہیں باقی کمینے پن سے مسکرا دیے۔۔۔
بھائی یہ غلط بات ہے! ہم سب سے چھوٹے ہیں، تو ہمارا دماغ بھی اتنا ہی ننھا منا یے، ہم کہاں انکی کلاس کا سلیبس پڑھ پائے گئے ۔۔! ارسل احتجاجی مظاہرہ کرتے بولنے لگا۔۔۔۔
تیرے اس ننھے ننھے دماغ پر میرا ایک تھپڑ پڑا، تو دیکھنا کیسے یہ وقت سے پہلے اپنی نشو ونما تیز کرتا ہے۔۔۔! ارسل کے احتجاج پر کبیر خان نے اسے گھورا۔۔۔
یار بھائی! کیوں اس اٹلی کو ہمارے لئے سسرال بنا رہے ہیں! تھوڑا ریلیکس ہو جائیں! تھوڑا باہر نکل کر دیکھیں! شاید آپکا دل یہاں پر لگ جائے۔۔۔!
ایشام نے منہ بناتے ہوئے اپنے بڑے بھائیوں کو ریلیکس کرنا چاہا، جو انکی بینڈ بجانے پر تلے ہوئے تھے۔
تیرا دل نکال کر میں چیل کوؤں کو کھلا دوں گا! زیادہ ہمارا ابا نہ بن۔۔! اپنی یہ سڑی ہوئیں شکلیں لے کر دفع ہو جاؤ اب کمرے سے۔۔! ایشام کے کول ڈاؤن پر مزید بھڑکتے ہوئے فارس نے انکو آؤٹ کیا تو وہ سب بچوں کے سے انداز میں منہ بناتے ہوئے لائن میں نکلتے چلے گئے۔۔۔
کر لو تم لوگ سالوں بھائی کو کول ڈاون" باسم نے کمرے سے باہر نکلتے ہی گھورتے ہوئے سب کو سنانا چاہا تھا۔۔۔
اٹلی جیسے ملک کچھ خاص لوگوں کی زندگیوں پر زیادہ اثرانداز ہوا تھا۔ ان خاص لوگوں میں جہاں اس دوری پر فارس، کبیر خان اور گل ناز تڑپ رہے تھے۔ وہیں دوسری طرف ہی پاشا بھی تھی۔
جو ایشام صدیقی کے چلے جانے کے بعد چپ چپ سی ہو گئی تھی۔ بلیک مینشن سے ایشام صدیقی کے چلے جانے کے بعد ہیر پاشا میں کیا بدلاؤ آنے والا تھا، اس بارے میں کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔
لیکن ان سب کے برعکس دو لوگ ایسے تھے جن کی زندگیوں میں اٹلی جیسا لفظ آ جانے سے کافی اچھے بدلاؤ ہوئے تھے۔ ایک طرف گل بہار تھی۔ جو کبیر خان کے چلے جانے پر جنت میں داخل ہو چکی تھی۔ جبکہ دوسری طرف ایشام صدیقی تھا جو سبز چڑیل سے پیچھا چھوٹنے پر جتنا شکر ادا کرتا کم تھا۔
گل بہار ہر روز خود کو آزاد محسوس کرتی تھی، تو ایشام صدیقی کی ہر صبح کا آغاز بھی اب مسکرا کر ہوتا تھا۔ پر لڑکپن کے اس وقت میں اب دیکھنا یہ تھا۔ کہ یہ مسکراہٹیں، اداسیاں، تڑپ مستقبل میں کہا روپ اختیار کرنے والی ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کے وقت ارسل اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا۔ اس وقت سب لاونج میں بیٹھے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں مصروف تھے۔ جب اچانک ارسل خان کو اپنی مورے کی یاد ستائی تو وہ ان سے بات کرنے کی غرض سے اٹھ کر کمرے میں آ گیا۔۔۔
اٹلی آنے سے پہلے وہ ماں باپ کو مل بھی نہیں پایا تھا۔ کیونکہ نعمان خان سمیت اسکی مورے اور پیاری بہن پاکستان میں نہیں تھے۔
ارسل موبائل اٹھا کر "جیلس ڈیڈ" کا نمبر ملا کر بیڈ پر پیچھے گرتا چلا گیا تھا۔ اسکا باپ ارسل اور اسکی مورے کے پیار سے کافی کھار کرنے کے ساتھ ساتھ جلتا رہتا تھا۔ اسی لئے ارسل نے اپنے موبائل میں نعمان کو "جیلس ڈیڈ" کے لقب سے نوازا ہوا تھا۔
مسلسل بیل ہونے کے بعد آخر کار نعمان خان نے کال اٹھاتے ہوئے یس بولا تو باپ کی آواز سنتے ارسل مسکرا دیا تھا۔
ہاں بولو نکمی اولاد کیوں فون کیا ہے؟ نعمان خان کی بھاری گھمبیر آواز ارسل خان کے کانوں سے ٹکرائی تو وہ ناک چڑھا گیا۔۔۔
مجھے مورے سے بات کرنی ہے! باپ کے لفظوں کو نظر انداز کرتے ارسل نے فون کرنے کا مدعا بیان کیا تو دوسری طرف نعمان بیٹے کی آواز میں اداسی محسوس کرتے لب بھینچ گیا تھا۔ وہ اس وقت ہاسپیٹل میں تھا۔ جبکہ علینہ اور محبت دونوں اس وقت آئی سی یو میں بیڈ پر ہوش و حواس سے بیگانہ پڑی ہوئیں تھیں۔
تم کہاں سے بول رہے ہو۔۔! ارسل کی ڈیمانڈ کو نظر انداز کرتے نعمان نے جاننے والے انداز میں پوچھا ۔۔۔
مریخ سے۔۔۔! باپ کے سوال پر اٹھ کر بیٹھتے ہوئے ارسل نے کافی سکون سے جواب دیا۔ تو دوسری طرف نعمان خان فون کو کان سے ہٹاتے ہوئے اپنی بدتمیز اولاد کو گھورنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔ جیسے وہ فون کو نہیں بلکہ ارسل خان کو گھور رہا ہو۔۔۔
منحوس نکمی اولاد بول کو بتاؤ! اس وقت کہاں پر موجود ہو۔۔۔! نعمان سلگتے ہوئے پھر پوچھنے لگا۔ کیونکہ وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ سب اٹلی پہنچ گئے ہیں یا نہیں۔۔! اس لئے وہ اسکی موجودگی کے بارے میں جاننا چاہ رہا تھا۔۔!
میں تو خلا میں موجود ہوں ڈیڈ۔۔۔! ارسل نے کافی میٹھے لہجے میں "ڈیڈ" پکارتے ہوئے اسے جواب دیا۔۔۔ جبکہ ذہن میں باپ کے کل والے الفاظ گھوم رہے تھے۔۔۔
نعمان خان کی غیر موجودگی کی وجہ سے ارسل پچھلے ایک مہینے سے بلیک مینشن میں ہی رہ رہا تھا۔ ان سب کو جرمنی بھیجنے کے فیصلے پر سلطان احمد خان کل ارسل سے اسکے کمرے میں ملنے گیا تھا۔ تاکہ وہ پوچھ سکے کہ ارسل ان سب کے ساتھ جانا چاہتا ہے یا نہیں۔۔! ویسے تو سلطان اور نعمان کا فیصلہ ایک تھا۔ لیکن اس کے باوجود سلطان نے ارسل سے اسکی مرضی جاننا ضروری سمجھی تھی۔۔۔
سلطان نے ارسل کے سامنے نعمان خان کو فون کرتے ہوئے جب یہ پوچھا کہ نعمان خان تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں اگر میں ارسل کو باقی سب کے ساتھ جرمنی بھیج دوں۔۔!
جواب میں نعمان خان جان چھڑانے والے انداز میں گویا ہوا تھا۔۔!
چھوٹے خان میری طرف سے آپ اس نکمی اولاد کو مریخ ، یا خلا میں بھیج دیں، جہاں بھی اسے سینڈ کریں، بس اس ٹیڈے خان کو میری خانم سے دور کر دیں، سالا جب سے پیدا ہوا ہے میری بیوی پر قبضہ کیے بیٹھا ہے۔۔۔! نعمان کے جواب پر جہاں سلطان کا قہقہہ نکلتے نکلتے رکا، وہیں ارسل کے وجود میں آگ لگ گئی تھی۔۔ اسکا باپ اسے سینڈ کرنے کے بارے میں ایسے کہہ رہا تھا۔ جیسے وہ کوئی کو لیٹر ہو۔۔!
اس وقت باپ کو الٹے جواب دے کر ارسل اپنی کل کی ساری بے عزتی کا بدلہ چکانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
گندی اولاد کیوں اٹلی بیٹھ کر مجھ سے ضائع ہونا چاہتا ہے..! ایک بار پھر الٹا جواب سن کر نعمان خان کو یقین ہوگیا تھا کہ وہ پاکستان سے فلائی کر چکا ہے۔ اسی لئے اسکے کل کے بولے ہوئے الفاظ یاد کروا رہا تھا۔۔۔
آپ مجھے ہاتھ تو لگائے ڈیڈ! دیکھنا اس بار مورے کو آپ سے پورے ایک ہفتے کے لئے ناراض کروا دوں گا۔۔۔!
ناک چڑھاتے ہوئے ارسل نے اپنے باپ کو دھمکی لگائی۔۔ اسکی دھمکی پر نعمان خان کے لبوں پر آسودہ سی مسکراہٹ بکھر گئی۔
وہ اپنے بیٹے کو یہ نہیں بتا سکتا تھا۔ کہ اسکی مورے اس وقت زندگی اور موت کی جنگ لڑتے ہوئے پہلے ہی اس سے روٹھی ہوئی ہے۔۔ ایک مہینے پہلے ہوئے حملے کے بارے میں ارسل خان مکمل بے خبر تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا، کہ پچھلے ایک مہینے سے اسکا باپ اسکی مورے اور بہن کو لیے کیوں دوسرے ملک میں بیٹھا ہے۔۔ وہ اسے بے خبر رکھا گیا تھا۔۔۔
میرا دماغ نہ کھا! اور کام کرنے دے۔۔۔! اپنی نیلی آنکھوں میں امڈتے آنسوؤں پر قابو پاتے ہوئے نعمان خان نے آواز کو نارمل بنانا چاہا۔۔ورنہ اس پل اسکے عنابی ہونٹ کانپ رہے تھے۔ جسکی وجہ سے اسکی آواز میں کپکپاہٹ پیدا ہو رہی تھی۔ اپنی محبوب بیوی اور لاڈلی بیٹی کو یوں بے جان ہوتے دیکھنا اسکے لئے مشکل ترین ہوتا جا رہا تھا۔ اس مشکل وقت نعمان خان کو کسی اپنے کی بے حد ضرورت تھی۔ لیکن حالات ایسے جنم لے چکے تھے۔۔کہ وہ اپنی اپنی جگہ پر بے بس تھے۔۔
ڈیڈی آپکا یہ بکواس مشن کب مکمل ہو گا؟ آپ اتنی اچانک گئے ہیں! کہ مجھے مورے اور محبت سے ملنے کا موقع بھی نہیں دیا! اور اب میں یہاں پر آ گیا ہوں۔۔! مجھے مورے کی بہت یاد آ رہی ہے، اور اتنے دنوں سے ان سے بات بھی نہیں ہوئی، میں جب بھی بات کرنے کا کہتے ہوں، آپ فون بند کر دیتے ہیں۔ آخر آپ میری ان سے بات کیوں نہیں کرواتے۔۔۔! ارسل غصے و جھنجھلاہٹ سے ایک ساتھ بولتا چلا گیا تھا۔
تمہاری مورے کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، اس لئے میں نے میڈیسن دے کر انکو سلا دیا ہے۔۔۔! بیٹے کی تڑپ سنتے نعمان بہانہ بناتے ابھی بول ہی رہا تھا۔
جب ارسل نے دوسری طرف سے عجلت میں بعد میں بات کرنے کا کہہ کر فون بند کر دیا۔ جس پر نعمان خان ہوا میں سرد سانس خارج کرتے نم آنکھوں پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگا تھا۔ جب اچانک کسی نے پیچھے سے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسے پلنے پر مجبور کیا۔۔۔
نعمان چونکتے ہوئے مڑا تو سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسے بے اختیار جھٹکا لگا۔۔۔
وجی سر آپ ۔۔! وہاج کو آپنے سامنے کھڑے دیکھ کر وہ حیران ہوتے آگے ہی پل اسکے سینے سے لگ کر رو پڑا۔۔۔۔
نعمان خان کی ٹوٹی پھوٹی حالت دیکھ کر وہاج کا دل پھٹنے لگا۔۔ بکھرے بال اور لباس میں بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ وہ کہیں سے بھی نعمان خان نہیں لگ رہا تھا۔ جس کے چہرے پر پر وقت مسکراہٹ اور آنکھوں میں شرارتی چمک رقصاں رہتی تھی۔
خان یوں حوصلہ ہار جاؤ گئے! تو باقیوں کو کون سنبھالے گا یار۔۔؟ نعمان خان کو پھوڑ پھوٹ کر روتے دیکھ کر وہاج کو اسے سنبھالنا بے حد مشکل لگا۔ اتنے دنوں سے وہ مضبوط رہتے رہتے شاید تھک گیا تھا، اسی لئے آج کسی اپنے کا چہرہ دیکھتے ہی اسے ٹوٹنے میں سیکنڈ نہیں لگا تھا ۔۔۔
کیا کروں وجی؟ وہ دونوں ہی آنکھیں نہیں کھول رہیں! نہ ڈاکٹرز مجھے کچھ بتا رہے ہیں! میں یہاں بہت اکیلا تھا۔۔۔! ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں وہ اپنی کیفیت بیان کرتے گرنے والا ہوا تو وہاج سے اسکا مضبوط وجود کو سنبھالنا مشکل ہو گیا۔۔
مرد چاہے کتنا بھی مضبوط کیوں نہ ہو، پر کسی ایک لئے وہ ہمیشہ کمزور پایا گیا ہے۔
علینہ خانم اسکی رگ رگ میں خون کی طرح دوڑتی تھی تو محبتِ نعمان اسکے دل کی دھڑکن تھی۔ پر اس وقت نعمان خان کے جینے کی دونوں وجہ ہاسپیٹل کے بیڈ پر آنکھیں بند کیے پڑیں تھیں۔
ادھر دیکھو! تم یوں ہمت نہیں ہارو گئے! میں آ گیا ہوں نا۔۔۔ ہم بھابھی اور محبت دونوں کو ساؤتھ کوریا لے کر جا رہے ہیں۔ وہاں پر ہم انکا اچھا علاج کروائے گئے اور تم دیکھنا وہ وہاں کر جلد از جلد ٹھیک ہو جائیں گئیں۔۔۔!
وہاج دل میں اٹھتے درد پر قابو پاتے نعمان خان کا چہرہ تھامے حوصلہ دیتے بولا۔۔۔
محبت سے اسکے پیار کے بارے میں تو سب ہی واقف تھے۔ وہاج کو اچھے سے یاد تھا کہ دو مہینے پہلے جب محبت نے جنم لیا تھا تو بیٹی ملنے کی خوشی میں وہ ہر روز کیک کاٹتے ہوئے اسکے پیدا ہونے کی کوشش مناتا رہا تھا۔۔
خان سر نہیں آئے؟ اور باقی۔۔! وہاج کے گلے لگتے وہ سلطان کے بارے میں پوچھ گیا۔۔
تمہارے خان سر نے ہی مجھے یہاں بھیجا ہے، ابھی وہاں پر بہت حالات خراب ہیں! اس لئے وہ سب خود نہیں یہاں پر آ سکتے! لیکن ساؤتھ کوریا جاتے ہی وہ سب ہمیں جوائن کر لیں گئے۔۔! اب تم شاباش ہمت کرو! اور کھڑے ہو جاؤ۔ کیونکہ ہمیں بھابی اور محبت کو لے جانے کے لئے جلد از جلد انتظامات کرنے ہونگے۔۔!
وہاج نے نعمان کو سینے میں بھینچتے ہوئے اسے ہمت و حوصلہ دیا تو وہ تیزی سے آنکھیں صاف کرتے کھڑا ہو گیا۔۔ نعمان خان کو پھر مضبوط بنتے دیکھتے کر وہاج بھی تشکر سے مسکراتے ہوئے اٹھ کھڑا ہو چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہادر خان تم یہ کیا بول رہے ہو! ارسل نے اچھبنے سے ساری بات سمجھنا چاہی۔
ہاں تو ہم سب بھی کب سے یہ ہی رو رہے ہیں۔ پر یہ بزدل خان کچھ سمجھنا ہی نہیں چاہتا۔۔۔! بہادر کو گھورتے ہوئے ایشام بھی بول گیا۔۔
دیکھو بہادر۔۔! تمہیں کوئی بہت بڑی غلط فہمی ہوئی ہے۔ ہم یہاں پر پڑھنے کے لیے آئے ہیں! نہ کہ کھانا پکانے ۔۔۔!
اپنے صدمے پر قابو پاتے ہوئے ارسل نے صبر کا مظاہرہ کرتے سامنے کھڑے بہادر کو دیکھ کر بتانا چاہا۔ جبکہ چہرہ کافی کیفیات کا ملا جلا تاثر دے رہا تھا۔۔ اندر ہی اندر اسکو خطرے کا الارم بھی بجتا سنائی دے رہا تھا۔
ارسل کمرے میں بیٹھا کال پر نعمان خان سے بات کر رہا تھا۔ جب غازی افراتفری میں اسے بلاتے ہوئے یہاں پر لے آیا۔ ارسل بھاگ کر لاونج میں پہنچا تو یہاں پر کوئی الگ قسم کی جنگ چل رہی تھی۔
"پلیز آپ سب مجھے سمجھنے کی کوشش کریں! مجھے جو آڈرذ ملے ہیں، میں انکو ہی فالو کر رہا ہوں! میں نے آج کی سبزی لا کر یہاں پر رکھ دی ہے۔ چکن، بیف، مٹن کی سب آئٹم فریزر میں پڑی ہوئیں ہیں۔ اور فریج میں بھی ضرورت کی ہر چیز موجود ہے۔ تو آپ سب وقت ضائع کرنے کی بجائے کھانا بنانا شروع کریں۔۔۔"
ساری چیزوں کو باری باری گنواتے ہوئے بہادر خان نے سکون سے آخر پر پھر تھوڑی دیر پہلے والے الفاظ دہراتے ان سب کے سروں پر دھماکا کر دیا تھا۔ جس کو سنتے وہ کسی سٹار پلس کے ڈرامے کی طرح شاکڈ ہوتے دھم ترا کی طرح سر گھماتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔۔
کیا ہو رہا ہے یہاں پر۔۔! کبیر اور فارس بھی اپنے کمروں سے نکل آئے تھے۔ لاونج میں لگی عدالت میں کھڑے مجرموں کی آوازیں سنتے وہ فکر مندی سے باہر آئے تھے۔۔انکی بحث کی آوازیں کمرے تک جا رہی تھیں۔
بھائی دیکھیں نہ یہ بزدل خان کا بچہ ہمیں کہہ رہا ہے۔ کھانا ہمیں خود بنانا پڑے گا۔۔! کبیر اور فارس کو دیکھتے ہی فاتح بچوں کے سے انداز میں شکایت لگاتے تیزی سے انہیں بتا گیا۔ جبکہ ہاتھ سے اشارہ کرتے وہ بہادر خان کو گھور رہا تھا۔
بہادر خان اب یہ سب کیا ہے۔۔؟ فاتح کی بات سنتے کبیر خان نے چہرہ موڑتے کونے میں کھڑے بہادر کو دیکھا۔۔۔
چھوٹے خان پاکستان سے آڈرذ ملے ہیں! کہ اب سے آپ لوگ اپنا کھانا پینا، صفائی، کپڑے دھونا سب خود کریں گئے، تو بتائیں میں اب اس میں کیا کروں۔۔۔! کبیر کے پوچھنے پر، بہادر نے اسے بتاتے ہوئے زرا سیکنڈز رک کر سب پر نظر ڈالتے ہوئے اس بار سارے بم دھماکے کئے تو ان سب کے منہ کھلتے چلے گئے۔۔۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ ان سب کو صرف کھانا بنانے کا کہہ رہا تھا لیکن کبیر اور فارس کے آنے پر صفائی، کپڑے دھونا برتن دھونا بھی شامل ہو گیا تھا۔ وہ سب رونے والی شکلیں نہ بناتے تو بیچارے کیا کرتے۔۔
بے شرم انسان تم پاکستان والوں کو یہ کہہ نہیں سکتے تھے! کہ تمہارا یہ دل اتنے ننھے منے بچوں پر ظلم کرنے کو نہیں مانتا۔۔۔! غازیان رونے والے انداز میں گویا ہوا تھا۔۔۔
یہ دھوکا ہے؟ ہمیں یہ بتا کر یہاں پر بھیجا گیا تھا کہ ہمیں جرمنی میں سب گھر جیسا ملے گا، اور اب نہ جرمنی ملا ہے، نا ہی گھر جیسا ماحول، مجھے نہیں رہنا یہاں پر۔۔.! غازی کے بعد شہرام کو بھی ہوش آئی تو چینختے ہوئے وہ جرمنی اور اٹلی کے غم کو یکجا کرتے بول گیا۔
شہری صاب گھر جیسا ماحول ملنے سے مراد صرف گھر ملنا تھا! اور یہ اتنا پڑا اپارٹمنٹ مل تو گیا اپکو گھر کے طور پر، باقی سب اب یہاں پر گھر جیسا خود ہی کرنا پڑے گا۔۔۔! بہادر خان نے دل سے مسکراتے شہرام کی تصحیح کرتے گھر کے سارے مفہوم سمجھائے تو ان سب کو تیش نے آن گھیرا۔۔۔
میں تب کہہ رہا تھا نا کہ اس اٹلی میں ہی کوئی خرابی ہے۔ اگر میری تب مان لیتے تو ہم جہاز والوں کو کہہ کر جرمنی کی طرف جا سکتے تھے۔۔۔۔ ارسل بھی اٹلی کا قصور نکالتے ہوئے نا معلوم جرمنی کی یاد میں رو پڑا تھا۔۔۔
بہادر خان ہم تمہارا قتل کر دیں گئے۔۔! اس سے پہلے کہ وہ سب بہادر خان پر حملہ کرتے۔ کہ بروقت بہادر الٹے پیر بھاگنے والے انداز میں دروازے سے نکلتا چلا گیا۔ ان سب کو انکی سبزی پکڑا کر وہ پہلے ہی احتیاط سے دروازے کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا تھا۔ اس دھوکے باز کے بھاگنے پر وہ ہاتھ ملتے جھنجھلانے لگے۔۔۔
کمینہ پاکستان کے آرڈرز ایسے کہہ رہا تھا جیسے وہاں کی ملٹری فورسز نے اسکو یہاں بھیجا ہو۔۔! بہادر کے الفاظ یاد کرتے فاتح دانت پیستے ہوئے بول دیا ۔۔
کبیر فارس ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے سرد سانس خارج کر گئے۔ ایک کے بعد ایک جھٹکے ملنے کے بعد وہ کچھ کچھ تو سمجھ ہی گئے تھے۔ اس لئے بنا واویلا کرتے وہ کچن میں رکھے پڑی سبزی کے تھیلے کی طرف بڑھ گئے۔۔۔
تھیلا کھول کر دیکھا تو اس میں تھوڑی تھوڑی ساری سبزیاں تھیں۔۔ اپنے بڑے بھائیوں کو سبزی کے تھیلے کے ساتھ الجھتے دیکھ کر وہ حیرانی سے ایک دوسرے کو دیکھتے کچن میں داخل ہو گئے۔۔۔
بھائی کیا ہم سچ میں کھانا بنانے والے ہیں۔۔! باسم نے ڈرتے ہوئے جاننا چاہا تھا۔۔۔
ہاں! جا کر سب چینج کر کے آؤ، اور آ کر ہماری ہیلپ کرو۔۔۔! فارس نے شرٹ کی آستینوں کو فولڈ کرتے ہوئے مصروف انداز میں جواب دیا۔ تو وہ معصوم بچوں کی طرح رونا دبا کر پیر پٹکتے ہوئے کمروں کی طرف چلے گئے۔