ناول: #جنون یار
قسط: 09
از قلم: #مرینےقیس
ایک ساتھ وہ سب ائیرپورٹ سے باہر نکلے تھے۔ اپنے اپنے بیگز پکڑے وہ لوگ چلتے ہوئے آ رہے تھے جب سامنے بڑے سے بورڈ پر لکھے الفاظ پڑھ کر ان سب کے قدم بے اختیار رکتے چلے گئے۔۔۔
"Welcome to Italy"
کیا ہمارے باپ جرمنی کو اٹلی بلاتے ہیں، یا اٹلی کو جرمنی؟ ارسل نے سب کو مخاطب کرتے الجھ کر پوچھنا چاہا۔۔۔
مان سکتے ہیں، کیونکہ وہ ہمارے باپ ہیں تو اس لحاظ سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔۔! ارسل کے الفاظ پر باسم حامی بھرتے سکون سے جواب دیتے بولا ۔۔۔
ناکارہ ڈیڈ نے جھوٹ بھول کر ہمیں "جرمنی" کا بتا کر ساتھ والے محلے "اٹلی" میں بھیج دیا ہے۔۔" بورڈ پر لکھے الفاظ پڑھ کر شہرام کا بے اختیار اپنے باپ پر غصہ امڈا۔۔
چل جانے دے! زیادہ فرق نہیں ہے، صرف ج اور الف کا ہی تو فرق ہے، باقی سب سیم سیم ہی ہے۔۔" شہرام کی غصے بھری آواز سنتے فاتح نے دونوں ملکوں کے ناموں کا فرق نکال کر اپنے طور پر اسے ریلیکس کرنا چاہا تو بدلے میں شہرام نے منہ ٹیڑھا کر دیا۔
ان سب کے برعکس انکے آگے کھڑے کبیر خان اور فارس ہمدانی اس وقت بے حد سنجیدہ نظر آ رہے تھے۔
میں نے سنا ہے کہ یہاں اٹلی میں ایک پانی والا مشہور شہر بھی ہے، جہاں لوگ کشتیوں میں سفر کرتے ہیں۔۔" غازیان یاد کرتے ہوئے اچانک کہنے لگا تو سب مڑ کر اسکی طرف دیکھ گئے۔۔۔
کمینے پانی والے شہر کے بارے میں تو ہمیں ایسے بتا رہا ہے، جیسے تو نے وہاں جا کر مچھلیاں پکڑنی ہوں۔۔! اتنی بے تکی بات پر ایشام نے اسے سنا ڈالا تھا۔ یہاں وہ سب جرمنی کی بجائے اٹلی میں لینڈ ہونے کے غم میں الجھے تھے لیکن ان سب کو بھاڑ میں جھونک کر غازی صاحب پانی والے شہر کو دیکھنے کے شوقین ہو رہے تھے۔۔۔
مجھے تو لگتا ہے کہ جہاز ہمیں غلط جگہ پر لے آیا ہے، چلو آؤ، جہاز والوں سے بات کرتے ہیں کہ ہمیں جرمنی پہنچا کر آئے۔۔! ارسل نے تھوڑی پر ہاتھ رکھتے سنجیدہ لہجے میں دوبارہ ایک نئی بات شروع کرتے انکو رہا ڈالا۔۔
ائیرپورٹ سے باہر نکل کر روڈ پر کھڑے وہ اٹلی کے بورڈ کو زہر بھری نظروں سے دیکھتے تکے لگانے میں مصروف تھے۔
سالے تو جہاز میں آیا ہے کہ رکشے میں۔۔۔! فاتح نے مڑتے ہوئے طنزیہ انداز میں ارسل کو گھورنا چاہا۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ سب ایک نئے ٹاپک پر منہ ماری شروع کرتے جب اچانک سامنے سے گاڑی سے اتر کر ایک آدمی انکی طرف بھاگا چلا آیا تھا۔
سوری چھوٹے خان میں ضروری انتظامات کر رہا تھا، بس اس لئے آنے میں دیری ہو گئی۔۔" بہادر خان بھاگتے ہوئے کبیر خان کے سامنے آیا۔ جبکہ بہادر کو اپنے سامنے یہاں دیکھ کر کبیر خان کو بے حد حیرت ہوئی۔ اسکا مطلب تھا وہ لوگ جو یہ سوچ رہے تھے کہ وہ دھوکے سے یہاں پر آئے ہیں، وہ دھوکا نہیں بلکہ سوچی سمجھی پلینگ تھی۔
کیونکہ بہادر خان میر پور کا رہنے والا تھا، اور خان حویلی کا خاص آدمی بھی۔۔اسکا مطلب تھا کہ سلطان احمد خان نے کسی خاص پلینگ کے تحت ان سب کو یہاں پر بھیجا تھا۔ اپنے گھر والوں کے دھوکے پر فارس نے جتاتی نظروں سے کبیر خان کی طرف دیکھا۔ جو بدلے میں سرد سانس خارج کر گیا تھا۔۔۔
کوئی بات نہیں بہادر۔۔۔! بہادر کو ڈرتے دیکھ کر کبیر جواب دیتے سکون سے بول گیا ۔۔۔
سب گاڑیوں میں بیٹھو۔۔! کبیر خان نے مڑتے ہوئے سب کو حکم دیا تو بہادر خان آگے بڑھ کر تیزی سے انکا سامان گاڑیوں میں رکھنا شروع ہو گیا تھا۔
یہ بزدل خان یہاں پر کیا کر رہا ہے۔۔؟ بہادر کے
نام کو الٹ بلاتے ہوئے فاتح حیرانی سے بڑبڑایا۔۔
کون ہے یہ؟ فاتح کی بڑبڑاہٹ پر سب متجسس ہوتے اسکے قریب ہوتے پوچھ گئے، اٹلی میں بہادر خان کو دیکھ کر انکو خوامخواہ میں دلچسپی ہو رہی تھی۔۔
یہ خان حویلی کا ملازم "بہادر خان" ہے، اور دا جان (دلاور خان) کا خاص آدمی بھی۔۔۔! فاتح نے خاص پر زور دیتے ہوئے انکو بتایا تو وہ سب ہونٹوں کو اوو شیپ میں ڈال گئے۔۔۔مطلب بہادر خان کے یہاں پر موجود ہونے کے پیچھے بڑی دلچسپ کہانی ہو سکتی ہے۔
وہ سب تو ٹھیک ہے، پر کیا یہ بریو خان پڑھا لکھا ہے۔۔۔؟ کسی خیال کے تحت باسم کاظمی نے بہادر کے نام کو انگلش میں بلایا تو سب کا قہقہ امڈتے امڈتے رہ گیا۔۔۔
نہیں، یہ پڑھا لکھا نہیں ہے۔۔! فاتح نے انکار کرتے اسے بتایا۔۔
اچھا۔۔۔! اگر یہ بریو خان پڑھا لکھا نہیں ہے تو یہ یہاں کے لوگوں سے بات کیسے کرتا ہو گا، کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ اسے نہ تو انگلش آتی ہے اور نہ ہی یہاں کی زبان۔۔!
فاتح کے جواب پر باسم نے الجھ کر اگلا سوال کیا ۔۔۔
کیا پتہ ٹرانسلیٹر کا استعمال کرتا ہو، جیسے جان گوریلا اور بو مینڈک کرتے تھے۔۔۔!
باسم کے اتنے اہم سوال پر شہرام نے اظہار خیال کیا۔۔۔
ایک گاڑی میں ایڈجسٹ ہونے کی کوشش میں وہ سب انتہائی سنجیدگی کے ساتھ بہادر خان کو ڈسکس کر رہے تھے۔ جبکہ دوسری گاڑی میں بیٹھے فارس اور کبیر انکی حرکتوں پر تاسف سے سر ہلا چکے تھے۔
وہ سب اپنے بڑے بھائیوں سے ایسے دور بھاگتے تھے جیسے انکی موجودگی سے انکے سینے میں سانس اٹک جاتی ہوں۔۔کیونکہ کبیر خان اور فارس ہمدانی کی گاڑی میں جگہ ہونے کے باوجود بھی وہ سب ایک دوسرے پر چڑھنے کی کوشش میں تھے۔ تاکہ ایک ہی گاڑی میں ساتھ سوار ہو سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خانم ایسے رو کر آپ میرے دل پر کیوں ستم ڈھا رہیں ہیں۔۔! علیزے خان کو مسلسل روتے دیکھ کر سلطان بے بسی سے بول گیا۔۔ ماہ پارہ بھی باپ کی طرح اپنی مورے کو پریشانی سے دیکھ رہی تھی۔
خان میں رونے کے سوا کیا کروں؟ آپ نے میرے بیٹوں کو مجھ سے اتنا دور بھیج دیا ہے۔۔! ابھی وہ اتنے چھوٹے ہیں، کسی غیر ملک میں وہ سب اکیلے کیسے رہیں گئے..! علیزے اپنے بیٹوں کو یاد کرتے روتے ہوئے ناراضگی سے بول گئی تھی۔۔۔
کبیر اور فاتح کے ساتھ ساتھ باقی سب کو وہ ائیرپورٹ پر چھوڑ کر ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی گھر پہنچے تھے۔ لیکن گھر پہنچتے ہی ان سب کی مائیں اپنے بیٹوں کی یاد اور دوری پر رونا شروع کر چکیں تھیں۔ سب نے ایک کی رٹ لگائی ہوئی تھی کہ وہ سب ابھی بہت چھوٹے
ہیں۔ اس لئے اکیلے اتنی دور نہیں رہ سکتے۔۔
خان کی جان میں نے سارے انتظامات کر کے انکو یہاں سے بھیجا ہے، آپ فکر نہیں کریں وہ وہاں پر بالکل گھر کی ہی طرح رہیں گئے۔..!
علیزے کو بازو کو گھیرے میں لیتے ہوئے سلطان نے اسکے ماتھے پر لب رکھ دیے جبکہ لہجہ تسلی دینے والا تھا۔
وہ ایک طرف ماہ پارہ تو دوسری طرف علیزے کو بازو کے گھیرے میں لیے صوفے پر بیٹھا تھا۔
ابھی تو میرے فاتح کی چوٹ بھی صحیح طرح سے ٹھیک نہیں ہوئی تھی، آپ کچھ دن بعد بھی تو بھیج سکتے تھے نا۔۔!
فاتح کی چوٹ یاد آتے ہی علیزے پھر فکر سے رو پڑی تھی۔ اپنی خانم کے آنسوؤں پر سلطان سرد سانس خارج کرتے اپنی بیٹی کی طرف دیکھ گیا جو ماں کو یوں روتے دیکھ کر خود بھی رونے والی ہو گئی تھی۔۔۔
خان کی جان آپ ان مصلحتوں کو کب سمجھیں گئیں آخر۔۔؟! کیا آپ یہ چاہ رہیں ہیں، کہ وہ یہاں پر رہتے اور آئے دن زخمی ہو کر ہاسپیٹل میں پڑے ہوتے ۔۔! کیا آپ فاتح اور شہرام کی گاڑی کی حالت بھول گئیں ہیں۔۔؟
کیا آپ نعمان خان کی تکلیف بھول چکی ہیں؟ ایک مہینہ گزر جانے کے بعد بھی ابھی تک نعمان خان کی پاکستان واپسی نہیں ہو پائی۔ اور ان ساری مجبوریوں کی وجہ سے نہ ہی ہم سے کوئی اسکو وہاں پر جا کر دیکھ پایا یے۔۔! آپ سوچ بھی نہیں سکتیں کہ دن رات ہم سب یہ سوچ سوچ کر کتنی تکلیف سے گزر رہے ہیں، کہ وہ بیچارہ کسی دوسرے ملک میں اکیلا بیٹی اور بیوی کے علاج کے لیے گن گن کر دن رات گزر رہا ہے۔ اور ہم اتنے بے بس ہیں کہ وہاں جا کر اسکو حوصلہ یا تسلی بھی نہیں دے سکتے۔۔۔"
تکلیف دہ لہجے میں مسلسل بولتے ہوئے سلطان اسے یاد کروا رہا تھا۔ کیونکہ بیٹوں کی فکر میں وہ باقی چیزوں کو نظرانداز کر رہ تھی ۔۔۔ سلطان کے الفاظ پر وہ بے ساختہ لرز اٹھی۔
سوری خان۔۔! علینہ اور محبت کی حالت یاد آتے ہی علیزے نے سسکتے ہوئے اسکی گردن میں چہرہ چھپا لیا۔۔۔ اسے احساس ہو گیا تھا کہ بیٹوں کی محبت میں وہ اپنے خان کو تکلیف دے چکی ہے۔۔
خانم پلیز ایسے رویا نہ کریں، آپ جانتیں کہ آپکا ایسے رونا مجھ سے برداشت نہیں ہوتا، لیکن پھر بھی آپ باز نہیں آتیں۔۔! ایسے کوئی بھی فیصلے ہمارے لئے بھی آسان نہیں ہوتے ہیں!
اگر آپ سب انکی مائیں ہیں تو ہم بھی تو انکے باپ ہیں۔ لیکن وقت کے تقاضوں کے مطابق اکثر ایسے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ اس لئے پلیز آپ سب سمجھنے کی کوشش کریں۔۔! اور پھر میری خانم ہونے کی حیثیت سے رشتے میں آپ سب سے بڑی بھی ہیں۔ تو اس لحاظ سے اپکو چائیے کہ اپ باقیوں کو سمجھائیں، نہ کہ خود ایسے پریشان ہو کر روتے ہوئے اپنی حالت خراب کر لیں۔۔۔"
سلطان علیزے کی کمر سہلاتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں اسے سمجھا رہا تھا۔ جو اب رونا ختم کر کے اسکے کندھے میں منہ چھپائے بیٹھی تھی۔۔
مورے! ڈیڈ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں! آپ پلیز روئیں نہیں، ہم روز بھیا کو وڈیو کال پر دیکھ کیا کریں گئے۔۔۔!
سلطان کی دیکھا دیکھی ماہ پارہ بھی معصوم لہجے میں ماں کو تسلی دیتے بولی تھی۔ حقیقت میں تو وہ بھی اپنے بھائیوں کے جانے پر بے حد اداس تھی، لیکن اپنی مورے کو اس طرح روتے دیکھ کر وہ تسلی دینے کی کوشش کر رہی تھی۔ ماہ پارہ کی معصوم آواز پر چاہتے ہوئے بھی وہ دونوں مسکرا دیے۔
دیکھا! اپنے بیٹوں کے لئے روتے ہوئے آپ نے میری بیٹی کو بھی فضول میں پریشان کر دیا ہے۔۔۔! ماہ پارہ کا ماتھا چومتے ہوئے سلطان نے اپنی خانم کو سنانا چاہا۔ جو بیٹوں کے چکر میں بیٹی کو فراموش کر رہی تھی۔۔
سلطان کے ڈانٹے پر علیزے چہرہ باہر نکال کر اپنی بیٹی کو تھام گئی۔ جو کب سے اپنی مورے کو منتظر نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناز اٹھو شاباش کھانا کھا لو۔۔! بیہ کھانے کی ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہوئی تو اسکے پیچھے وہاج اور بہار بھی چلے آئے۔ کیونکہ ناز کھانے کی ٹیبل پر نہیں گئی تھی۔۔۔
مام مجھے کچھ نہیں کھانا، آپ چلی جائیں یہاں سے، اور مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔.! ماں کی آواز سنتے ہی ناز ضدی بنتے بول اٹھی۔
کیوں نہیں کھانا اٹھو فورآ۔۔ ورنہ مجھ سے اب تم ایک تھپڑ کھا لو گی۔۔! ناز کے ضدی لہجے پر بیہ کو یک دم غصہ آیا تھا۔ پچھلے دو دن سے وہ اپنے کمرے میں بند تھی۔ یہاں تک کہ کھانا پینا بھی بند کر چکی تھی۔ پیار سے وہ سب اسے کتنا سمجھا چکے تھے۔ لیکن وہ کسی سن ہی نہیں رہی تھی۔
ناز۔۔! بیہ کو غصے میں آتے دیکھ کر وہاج انکھوں سے اسے ریلیکس رہنے کا اشارہ کرتے خود بیڈ کی طرف بڑھا تو بہار بھی بیڈ پر بیٹھتی چلی گئی۔
ڈیڈ میں کسی سے بات نہیں کروں گی! آپ لوگوں کی وجہ سے فاری مجھے چھوڑ کر چلا گیا ہے۔۔! وہاج کی پکار پر وہ روتے ہوئے اٹھ کر تیزی سے اسے سینے سے لگ گئی تھی۔ جبکہ لہجہ دکھی ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد ضدی بھرا بھی تھا۔ بیہ بے بسی سے اپنی بیٹی کی خراب حالت دیکھ رہی تھی۔
جس نے دو دن سے رو رو کر اپنا برا حال کر لیا تھا۔ جب سے فارس یہاں سے گیا تھا۔ تب سے وہ پہلے والی گل ناز بن گئی تھی۔ وہ گل ناز جو شروع سے بے حد ضدی اور غصیلی تھی۔ لیکن فارس ہمدانی کے لئے وہ اسکے الٹ تھی۔
ڈیڈ کی جان کیا تم چاہتی ہو! کہ فارس یہاں پر سیف نہ رہتا..! ناز کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے وہاج نے بولتے ہوئے اچانک اس سے سوال کیا۔۔۔
کیا مطلب ڈیڈ۔۔؟ باپ کے سوال پر الجھتے ہوئے ناز نے رونا چھوڑ کر اسکے سینے سے سر اٹھا کر وہاج کی طرف دیکھا تھا۔۔
اس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ میری جان فارس اور کبیر کے یہاں پر جھگڑے شروع ہو چکے تھے۔ اور انہی جھگڑوں سے بچنے کے لیے ہم نے سب کو یہاں سے بھیج دیا ہے! کیا تم چاہتی ہو کہ جیسے فاتح کو چوٹ آئی ویسے فارس کو بھی لگتی ۔۔؟
ناز کے بکھرے بال سمیٹتے ہوئے وہاج نے اسکی سبز آنکھوں پر بے اختیار لب رکھ دیے۔ جو رو رو کر سوجھ چکیں تھیں۔ فارس کے جانے کا سن کر ناز نے بری طرح ہنگامہ مچایا تھا۔ اور ایسا ہی ہنگامہ فارس ہمدانی کی طرف سے بھی تھا۔ جو اٹلی پہنچ کر بھی باز نہیں آ رہا تھا۔
اس وقت وہاج اپنی بیٹی کو اس طریقے سے ہینڈل کر رہا تھا تاکہ وہ اسکی باتوں کو سوچتی ریلکس ہو جائے۔۔
وہاج کے زرا سا سمجھانے پر وہ رونا چھوڑ کر چپ ہو چکی تھی۔ کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔کہ مستقبل میں گل ناز کی خاموشی اختیار کرنے کے پیچھے کیا وجوہات نکل سکتیں ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپارٹمنٹ کے کمرے میں سب بیڈ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ جبکہ فارس بے چینی سے کمرے میں ادھر ادھر چکر لگا رہا تھا۔ بہادر خان انکو اپارٹمنٹ میں چھوڑ کر خود کہیں غائب ہو چکا تھا۔
اپارٹمنٹ کافی بڑا تھا۔ وہ سب الگ الگ کمرے کی بجائے ایک کمروں میں دو دو ایڈجسٹ ہونے والے تھے۔
کمرے میں فارس ہمدانی کو ایک کونے سے دوسرے کونے میں چکر لگاتے دیکھ کر ان سب کی آنکھیں بھی اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ساتھ گھوم رہیں تھیں۔ کبیر خان چئیر پر بیٹھے فارس کی بے بسی ملاحظہ کر رہا تھا۔ پر وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ کیونکہ وہ خود بھی یہاں پر آ کر بے بس ہو چکا تھا۔
بھائی کیا ہوا ہے۔۔؟ ارسل نے فکر مندی سے جاننا چاہا۔۔ کیونکہ تھوڑی دیر پہلے فارس نے سب کو اپنے کمرے میں آنے کا حکم صادر کیا تھا۔
اگر یہاں پر تم میں سے کسی نے بھی فیل ہونے کی کوشش کی تو میں اسے زمین میں ذندہ گاڑ دوں گا۔..! ارسل کے پوچھنے کی دیر تھی، جب فارس قدموں کو روکتے ہوئے اچانک تیش بھرے لہجے میں ان سب پر جھکتے ہوئے غرا اٹھا۔۔
سالے تجھے کونسی چس لینی تھی یہ جان کر، کہ بھائی کو کیا ہوا ہے۔۔۔! فارس کی دھاڑ پر بے اختیار پیچھے ہوتے وہ ناسمجھی سے اسکے تاثرات دیکھ گئے۔ جبکہ غازیان نے بڑبڑاتے ہوئے اپنے بڑے بھائی کی دھاڑ پر ارسل کو جھاڑ پلانا چاہی۔ جس سالے نے "بھائی کیا ہوا ہے" پوچھ کر سوئے ہوئے شیر کو جاگنے پر مجبور کیا تھا۔۔۔