Janoon-e-Yaar Novel Complete by Amreeney Qais - Episode 08 - urdu novels pdf download


 ناول: #جنونِ یار

قسط: 08
از قلم: #امرینےقیس
دن کا وقت تھا جب ہوٹل میں پارٹی چل رہی تھی۔ اس پارٹی میں کالج کی سیکنڈ ائیر اور فرسٹ ائیر دونوں کلاسسز نے شرکت کی تھی۔ کیونکہ یہ پارٹی فرسٹ ائیر کے سٹوڈینٹ کے ویلکم کے لیے منعقد کی گئی تھی۔
اور اس پارٹی میں بلیک مینشن کے سپوت بھی آج شامل تھے۔ کبیر خان اور فارس ہمدانی چونکہ سکینڈ ائیر کے سٹوڈینٹ تھے۔ اس لئے وہ اپنے کلاس فیلوز کے ساتھ الگ سائیڈ پر بیٹھے پہلے سے ہی یہاں پر موجود تھے۔ اس وقت فرسٹ ائیر کے سٹوڈینٹ کی اینٹری ہو رہی تھی۔ جس میں شہرام اور فاتح دونوں سب سے فرنٹ پر کھڑے چلے آ رہے تھے۔
کیسی بکواس بورنگ پارٹی ہے؟ مجھے تو لگا تھا کہ ہمارے ویلکم میں یہ لوگ کچھ تو انوکھا کریں گئے ہی۔۔۔! شہرام ناک چڑھاتے ہوئے ہر چیز کو دیکھ رہا تھا۔
ہاں صحیح کہہ رہا ہے تو؟ یہ پارٹی کم اور ہمارا ولیمہ زیادہ لگ رہا ہے۔۔! کیریبین نیلی آنکھوں میں وہ بھی چاروں اطراف دیکھتا ہوا اسکی ہاں میں ہاں ملا گیا۔ سیم ایک جیسی ڈریسنگ میں وہ دونوں آج بے حد خوبصورت لگ رہے تھے۔ بلیک ڈریس شرٹ کے اوپر نیوی بلو پینٹ کوٹ پہنے وہ ساتھ چلتے ہوئے بہت پیارے لگ رہے تھے۔
اپنے بھائیوں کے ساتھ جڑواں پیدا ہونے کی وجہ سے انکی شکلیں بھی ہر جڑواں بچوں کی طرح ایک جیسی تھیں۔ وہ سب ایک دوسرے میں اسقدر مشابہت رکھتے تھے۔ کہ کوئی بھی اجنبی انسان چار ایک جیسے لوگوں کو اپنے سامنے دیکھ کر چکرا جاتا تھا۔
یہاں پر آنے سے اچھا تھا کہ ہم اپنے گھر کے سینما میں کوئی فلم دیکھ لیتے۔۔۔! فاتح کو بے اختیار یہاں پر آنے کے فیصلے پر پچھتاوا ہونے لگا تھا۔
چل تو فکر نہ کر اب آ ہی گئے تو کوئی شکار بھی مل ہی جائے گا۔۔! شہرام نے آنکھوں میں شیطانی چمک لیے جواب میں اسے تسلی دینا چاہی۔ اور اسکے ساتھ ہی وہ دونوں اپنے بھائیوں کی طرف بڑھ چکے تھے۔
وہ دونوں آ کر کبیر اور فارس کے پاس بیٹھے تو وہ چونک کر انکی طرف متوجہ ہو گئے۔۔
کیا ہوا۔۔؟ انکے چہروں پر بے زاری دیکھ فارس نے بے اختیار پوچھا۔۔۔ فارس اور کبیر بھی آج بلیک سیم ٹو پیس سوٹ پہنے ہوئے تھے۔ اپنے اپنے سنجیدہ انداز میں ان دونوں کی شخصیت میں ایک ٹھہراؤ معلوم ہوتا تھا۔
اتنی بورنگ اور بکواس پارٹی میں بلا کر آپ ہمیں پوچھ رہے ہیں کہ کیا ہوا؟ فون پر ہی بتا دیتے کہ یہاں پر ہر طرف اندھیرے چھائے ہوئے ہیں ہم آتے ہی نا۔۔۔! فاتح منہ بنا کر بولا تھا۔۔۔
اگر یہ بکواس اور بورنگ پارٹی ہے تو تم لوگوں کو کیا لگا تھا؟ فارس نے کوک کا سیپ لیتے اسے دیکھا۔۔۔ مطلب کالج کی پارٹی سے وہ کس طرح کی امید لگائے ہوئے تھے۔ وہ جاننا چاہ رہا تھا۔
ہمیں تو لگا تھا کہ کہیں کلب ولب میں ہمارا ویلکم رکھا ہو گا۔۔ فارس کے پوچھنے پر شہرام ہر طرف نظریں دہراتے اپنے دھیان میں بولا تو فاتح نے جلدی سے ٹیبل کے نیچے سے اسکے پاؤں کے اوپر پاؤں مارتے اسے ہوش دلائی ۔۔۔۔
کیونکہ اسکے بے دھیانی کے جواب پر انکے بڑے بھائی حیرانی سے انکو دیکھنے لگے تھے ۔۔
نہیں میرا مطلب ہے یہ پارٹی اتنی بھی بورنگ نہیں ہے۔۔! ہوش آتے ہی شہرام جلدی سے زبردستی مسکراتے وضاحت کرتے بول گیا۔ اسکی پھلجڑی پر کبیر اور فارس اب اسکو باقاعدہ گھور رہے تھے۔ انکے گھورنے پر شہرام جلدی سے فاتح کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے رفو چکر ہوا تو کبیر فارس انہیں دیکھتے رہ گئے تھے۔
کمینے ابھی بینڈ بج جاتی اور پول بھی کھل جاتا کہ ہم ایسے بھی شوق رکھتے ہیں۔۔!
فاتح نے دانت پیستے ہوئے اسے مکہ رسید کیا تو شہرام شوق کے لفظ پر ہنسی دباتا چلا گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی عادت سے مجبور وہ دونوں ہوٹل کے کونے کونے میں چکر لگا کر گھومتے ہوئے تھک ہار کر اپنے کلاس فیلوز کے پاس آ کر بیٹھ گئے تھے۔۔۔
تم دونوں کہاں گئے ہوئے تھے۔۔! انکے ایک کلاس فیلو دانش نے انکو بیٹھتے دیکھ کر بے اختیار پوچھا تھا۔ کیونکہ وہ کب سے غائب اب واپس لوٹے تھے۔
کہیں نہیں بس یہاں کی سجاوٹ دیکھ کر آ رہے ہیں ۔۔؟ فاتح نے کندھے اچکاتے ہوئے بے نیازی سے جواب دیا تو شہرام نے ہنسی دبا لی۔۔۔
کیونکہ ابھی ابھی وہ لوگ گھومتے پھرتے ہوٹل کے کچن میں چلے گئے تھے۔ ان دونوں کو کچن میں داخل ہوتے دیکھ کر وہاں پر کام کرتے ہوئے سارا سٹاف جہاں بوکھلاہٹ کا شکار ہوا وہیں وہ دونوں اطمینان سے چلتے ہوئے سب چیزوں کو باری باری چیک کرنے لگے۔
اور جب کک نے انکو پوچھا کہ وہ یہاں پر کیا لینے آئے ہیں تو انکو جواب کچھ یوں تھا۔
"ہمارے ڈیڈ آرمی میں کرنل ہیں, انہوں نے خصوصاً ہمیں نصحیت کی تھی۔ کہ ہوٹل کا کچن ضرور دیکھ کر آنا ہے، تاکہ کہ معلوم ہو سکے کہ آیا وہاں پر صفائی سے کام ہو رہا ہے یا نہیں۔۔۔" اس لئے ہم یہاں پر بس صفائی چیک کرنے کے لیے آئے ہیں۔۔!
چہرے پر سنجیدہ تاثرات لیے فاتح نے اپنے باپ کے کرنل ہونے کا بتا کر ان سب کو ڈرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ جبکہ ان دونوں کے باپ وہ انسان تھے جنہوں نے آج تک خود بھی کسی اجنبی کے سامنے آرمی کرنل ہونے کی شیخی نہیں بکھیری تھی۔ کچن کا سٹاف تو انکی بات سنتے ہی بوکھلا چکا تھا۔
کیونکہ زرا سی کمپلین کی صورت میں انکا ہوٹل بند بھی ہو سکتا تھا۔ اس لئے وہ آگے بڑھ کر ان فرسٹ ائیر کے دونوں سٹوڈینٹ کو سب چیزوں کی چیکنگ کرواتے مطمئن کرنے کی کوشش میں ہلکان ہونے لگے۔
یہ چکن روسٹ ہے۔۔؟ ایک ڈش کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے شہرام نے جاننا چاہا تو کک نے جلدی سے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
جی جی سر وہی ہے۔۔۔! کک نے جلدی سے آگے بڑھتے انکو دیکھایا۔۔۔
تھوڑا سا نکال کر دو، میں زرا چیک کروں کہ اسکا ٹیسٹ کیسا ہے۔۔! سنجیدہ انداز میں شہرام نے بولتے دوسرا حکم سنایا تھا۔
دوسری طرف فاتح سلطان تھا جو ہوٹل کے کچن کی فریج کھولے اس میں گھسا ہوا تھا۔ فریج میں پڑی ہوئی ڈشز کو نکال نکال کر وہ کھاتے جا رہا تھا۔
باقی رہی کسر اب شہرام چکن روسٹ کھاتے ہوئے پوری کرنے کی کوشش میں لگا تھا۔ ان دونوں کی کھانے کی سپیڈ پر سارا سٹاف صدمے کی سی حیثیت سے ان دونوں کو بس دیکھ رہا تھا۔
کچن والوں کے ضبط کا اچھا خاصا امتحان لیتے پیٹ بھر کر وہ اب کوک پیتے سٹیج پر سنگنگ کرتے سنگر کا گانا سن رہے تھے۔
جہاں ساری پارٹی کو کھانا پارٹی کے اینڈ میں ملنا تھا وہیں وہ دونوں پہلے ہی اپنا پیٹ بھر چکے تھے۔ اپنی مستی میں گم وہ دونوں ہی بے خبر تھے کہ انکا جانی دشمن ان پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے اس کا کیا نام سوچا ہے۔۔؟ عیس نے نعمان خان کی گود میں موجود بچی کو دیکھتے استفسار کیا۔۔۔
تقریباً کچھ دن پہلے ہی نعمان خان کے گھر بیٹی پیدا ہوئی تھی۔ لیکن اس بار علینہ خانم کی پریگننسی کافی پیچیدہ گزری تھی۔ اتنی زیادہ پیچیدگیوں کی وجہ سے ڈاکٹر کو ڈلیوری وقت سے پہلے کرنا پڑی تھی۔ حالانکہ ابھی علینہ کا آخری مہینہ شروع ہوئے کچھ دن ہی گزرے تھے۔ پر اسکی اچانک اتنی طبیعت خراب ہو گئی تھی کہ وقت سے پہلے نعمان خان کو اسے ہاسپٹل لے جانا پڑا۔۔۔
اتنی پچیدگیوں کے بعد جب نعمان خان کو بیٹی کی خوشی ملی تو اسکی آنکھیں بے اختیار نم ہوتی چلی گئیں تھیں۔ اللہ کے بعد وہ اپنی خانم کا شکر گزار تھا۔ جس نے پورے نو مہینے اتنی تکلیفیں اٹھا کر اسے دنیا جہاں کا سب سے زیادہ انمول تحفہ دیا تھا۔۔۔ کہ آج نعمان خان کو اپنی دنیا مکمل ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔
میری محبت، صبر، جنون کا جتنا امتحان لے کر یہ شہزادی پیدا ہوئی ہے نا، میں نے سوچا ہے کہ اسکا نام "محبتِ نعمان" ہو گا۔۔"
نعمان خان نم آنکھوں سے اپنی بیٹی کے نقوش دیکھتے ہوئے بولا تھا۔ اسکی ننھی شہزادی ہو بہو اسکی خانم کا عکس تھی۔ وہی سنہری آنکھیں اور سنہرے بالوں پر متضاد سفید و گلابی رنگت ۔۔۔۔ کیوٹ سے نقوش والی وہ "محبتِ نعمان" تھی۔
ہاسپٹل میں جب اسکی شہزادی نے پہلی بار آنکھیں کھولیں تھیں تو نعمان خان اپنی بیٹی کی آنکھیں دیکھ کر اس پر دل و جان سے مر مٹا تھا۔ خدا نے اسے سورج کی کرنوں جیسی پر نور سنہری آنکھوں والی شہزادی عطا کی تھی۔
نعمان خان کو بیٹی کی خواہش شاید جنون کی حد تک تھی۔ لیکن جب اسکے ہاں پہلی اولاد کی صورت میں ارسل خان نے آنکھیں کھولیں تو وہ بیٹے جیسی نعمت پر شکر گزار ضرور ہوا تھا۔ لیکن بعد میں بیٹی کی ادھوری خواہش اسکے اندر مزید جنون پکڑتی چلی گئی۔
ارسل کی پیدائش کے وقت بھی علینہ کی حالت کچھ زیادہ ٹھیک نہیں تھی۔ اس لئے نعمان خان نے ارسل کے پیدا ہونے کے بعد دوسرے بچے کی خواہش نہیں کی۔ کیونکہ وہ اپنی عزیز جان کو دوبارہ اس تکلیف سے نہیں گزارنا چاہتا تھا۔
پر اس کے باوجود علینہ اپنے خان کی خواہش سے بخوبی واقف تھی۔
اپنے خان کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے علینہ نے جب خود نعمان خان سے دوسرے بچے کی خواہش کو ذکر کیا تو وہ سرے سے ہی انکار کر گیا تھا۔
کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ صرف اسکی خواہش پوری کرنے کے لیے کہہ رہی ہے لیکن نعمان خان کسی صورت بھی اپنی خانم کو دوبارہ تکلیف نہیں دے سکتا تھا۔ پر بعد میں علینہ نے جیسے تیسے اسے راضی کر لیا تھا۔ اور کچھ دن پہلے نعمان خان کی جھولی میں یہ ننھی شہزادی ڈال کر علینہ خانم نے اپنے خان کی سالوں سے ادھوری خواہش پوری کر دی تھی۔
لیکن اس جنون کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے اسکی اپنی حالت بگڑ چکی تھی۔ ڈلیوری کے بعد وہ پانچ دن تک ایمرجنسی میں رہی تھی۔ لیکن خدا کا کرم تھا کہ وہ صحت یاب ہو کر اب اپنے گھر واپس آ گئی تھی ورنہ اسکی اتنی زیادہ طبیعت خرابی پر نعمان خان کا برا حال ہو چکا تھا۔
جس بیٹی کو پانے کے لئے وہ تڑپتا تھا۔ اسی بیٹی نے پیدا ہونے میں اسکی خانم کو ہر طرح کی تکلیف سے دوچار کر دیا تھا۔ ورنہ ایسے الزامات نعمان اپنے بیٹے ارسل پر لگا رہا تھا۔
تیرا مطلب ہے تو اس گڑیا کا نام "محبت" رکھے گا۔۔۔" سنی نے اسکی گود سے محبت کو لیتے کنفرم کرنا چاہا تھا۔ گلابی رنگ کے کمبل میں وہ چھوٹی سی کمزور و نازک گڑیا سکون سے سو رہی تھی۔
علینہ کے ہاسپٹل سے واپس آنے کے بعد وہ سب نعمان کے گھر آئے تھے۔۔ کبیر اور فارس اپنے دونوں چھوٹے بھائیوں کے ساتھ پارٹی میں گئے ہوئے تھے۔ جبکہ باقی بچے اس وقت مینشن میں اپنے دادا، دادی کے پاس تھے۔
ہاں میری گڑیا میری محبت کی نشانی بن کر آئی ہے تو اسکا نام "محبت" ہی ہو گا نا۔۔۔" نعمان شاہ جاں نثار ہونے والے انداز میں بار بار اپنی بیٹی کے نقوش دیکھ رہا تھا۔ وہ سب اس وقت لاؤنج میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جبکہ لڑکیاں سب کمرے میں علینہ کے پاس موجود تھیں ۔
پر میں نے تو سنا ہے کہ محبت کی نشانی پہلی اولاد ہوتی ہے۔۔۔" نعمان خان کے الفاظ پر وہاج صوفے سے ٹیک لگاتے اچانک خیال ظاہر کرتے بولا۔۔
میری پہلی اولاد محبت کی نشانی نہیں بلکہ میری کوئی چھوٹی موٹی بے وفائی کی نشانی بن کر آئی ہے۔۔" اپنے بیٹے کی حرکتیں یاد آتے ہی نعمان نے منہ بناتے جواب دیا تو سب ہنس پڑے۔۔۔
کمینے انسان ویسے بول وہ تجھے سیٹ کر کے رکھتا ہے۔۔! عیس نے ہنستے ہوئے نعمان کا مزاق اڑانا چاہا تھا۔۔۔
سر آپ تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے وہ صرف مجھے ہی سیٹ کر کے رکھتا ہے, ادھر سب کے سپوتوں نے سب کو ہی نچا کر رکھا ہوا یے۔۔" اپنا مزاق اڑانے پر نعمان منہ بنا کر ان سب کی پتلی حالت یاد دلاتے بول گیا۔۔۔
بات تو یہ سو فیصد سچ ہے, پتہ نہیں کیسی جنریشن پیدا ہوئی یے۔۔۔" نعمان کے الفاظ پر ضرار نے بھی متفق ہوتے حامی بھری۔ کیونکہ آئے دن انکے راجکمار کوئی نہ کوئی مسلہ پیدا کر کے آئے ہوتے تھے۔ جس کی وجہ سے انکی ناک میں دم ہوا پڑا تھا۔
اس میں کیسی جنریشن والی کیا بات ہے، تم لوگوں کا جیسا خون ہو گا ویسی ہی جنریشن پیدا ہوگی نا۔۔۔! سلطان نے سگریٹ پیتے ہوئے انکو آئینہ دیکھانا چاہا تو بدلے میں وہ سب گھورنے لگے۔۔۔
مجھے آج تو یہ بتا ہی دے کہ تجھے ایسے سچ بول کر کیا ملتا ہے خان۔۔؟! عیس دانت پیس کر سلطان کو گھورنے لگا تھا۔ جو ہمیشہ سب کو آئینہ دیکھانے کی کوشش میں لگا رہتا تھا۔۔مجال تھی جو کبھی دو گھڑی وہ سب بیٹھ کر اپنے بیٹوں کے بارے میں چغلیاں کر لیں۔۔۔
سلطان کو گھوریوں سے نوازتے ہوئے وہ سب چھوٹی سی محبت کے ساتھ مصروف ہوتے چلے گئے تھے۔ جو اب اپنی سنہری آنکھیں وا کرتی ٹکر ٹکر کرتی سب کی طرف دیکھے جا رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔
اس سال کی سب سے بورنگ پارٹی تھی یہ۔۔۔! پیچھے مڑ کر ہوٹل کو گھورتے ہوئے فاتح بول گیا۔۔
بار بار نہ یاد کروا ورنہ ابھی میری زبان سے کچھ گندا نکل آئے گا۔۔۔! اپنی سپورٹ کار کا دروازہ کھولتے ہوئے شہرام خود پر قابو پاتے کہنے لگا تھا۔
صحیح کہہ رہا ہے تو، کہاں ہم دونوں رنگین مزاج کے آدمی اور کہاں یہ گھسی پٹی پارٹی۔۔! گاڑی میں بیٹھتے ہوئے فاتح نے بھی بے حد افسوس کا اظہار کیا۔۔۔
اگر انکے گھر والے ان دونوں کو خود کو آدمی کہتے سن لیتے تو عیس اور سنی نے انکو دن میں تارے دیکھا دینے تھے۔ فرسٹ ائیر کے اسٹوڈنٹ ہونے کے باوجود فاتح سلطان اور شہرام علی خود کو آدمی کہنے سے باز میں آتے تھے۔
ہوٹل میں ابھی پارٹی چل رہی تھی۔ جب وہ دونوں چپکے سے اپنے بھائیوں کو چکما دے کر نکل آئے تھے۔ شہرام اور فاتح اپنی الگ سپورٹ کار میں آئے تھے۔ جبکہ کبیر اور فارس ان سے پہلے ہی یہاں پر موجود تھے۔
ان سب کو ابھی ڈرائیونگ کرنے کی بلکل بھی اجازت نہیں تھی۔ پر اسکے باوجود کبیر اور فارس اپنی ہٹ دھرمی کی بنا کر خود ڈرائیو کرتے تھے۔ انکی دیکھا دیکھی آج یہ دونوں نمونے بھی ضد کر کے اپنی سپورٹ کار نکال لائے تھے۔
سپورٹ کار ملنے کی خوشی میں ہی وہ دونوں پارٹی اٹینڈ کرنے آئے تھے۔ ورنہ پہلے انکا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ چونکہ ہوٹل میں ابھی پارٹی چل رہی تھی اور انکے بھائی بھی وہاں پر موجود تھے۔ لیکن وہ واشروم جانے کے بہانے وہاں سے بھاگ نکلے تھے۔ تاکہ اپنی سپورٹ کار میں ڈرائیونگ کرتے وہ جشن منا سکیں۔۔
بلو سپورٹ کار اپنی بیش قیمتی ہونے کا منہ بولتا ثبوت تھی۔ کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ شہرام اور فاتح اپنی گاڑی کے ساتھ میچنگ ڈریسنگ کر کے آئے تھے۔
کیونکہ سپورٹس کار شہرام علی اور فاتح سلطان کا جنون تھیں۔اسی لئے اس سال انکو سالگرہ پر بلو سپورٹ کار تحفے کے طور پر ملی تھی۔ چونکہ ان دونوں کا برتھڈے سیم ڈے میں ہوتا تھا۔ تو انکو اس لحاظ سے تحفہ بھی سیم اور ایک ہی ملا تھا۔
کہاں نکلنا ہے۔۔۔؟ شہرام نے ہوٹل کی پارکنگ سے گاڑی باہر نکالتے ہوئے فاتح سے پوچھا۔ جو سیٹ پیچھے کیے ریلیکس انداز میں لیٹا موبائل میں کوئی اچھا سا سانگ ڈھونڈ رہا تھا۔
پہلے جلدی سے یہاں سے نکل پھر دیکھتے ہیں، کہ کہاں جانا ہے۔۔! فاتح نے جلدی سے گانا پلے کرتے نکلنے کا اشارہ کیا تھا۔ کیونکہ اسے ڈر تھا کہ کہیں انکے بڑے بھائی انکے پیچھے نہ آ جائیں۔ کیونکہ انکے آنے پر فاتح اور شہرام کو ناک کی سیدھ میں واپس گھر جانا پڑنا تھا۔
شہرام نے تیزی سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے ہوٹل سے گاڑی باہر نکالی تو فاتح نے شکر کا سانس لیا تھا۔ گاڑی میں لاؤڈ والیم میں میوزک پلے کرتے وہ دونوں جھومنا شروع ہو گئے تھے۔ اس وقت شام ڈھل رہی تھی۔
ابھی انکی گاڑی تھوڑی دور ہی گئی تھی جب اچانک شہرام کو زور دار بریک لگانا پڑی۔
کیا ہوا۔۔؟ گاڑی کو رکتے دیکھ سیٹ پر لیٹے فاتح نے تیزی سے پوچھا۔۔ لیکن شہرام کو خاموشی سے سامنے روڈ پر نظریں جمائے دیکھ کر فاتح نے متجسس ہوتے اٹھ کر دیکھنا چاہا تو انکی گاڑی کے سامنے زرا فاصلے پر ایک جیپ کھڑی تھی۔
تجھے کیا لگتا ہے ۔۔؟ شہرام نے پرسکون انداز میں چہرہ موڑتے فاتح کو دیکھا ۔۔۔
اپن کو تو یہ مینڈک میٹر لگتا ہے۔۔! اپنی گاڑی کے سامنے حیدر ابراہیم کو کھڑے دیکھ کر فاتح نے اپنی نیلی آنکھیں مٹکاتے ہوئے جواب دیا۔۔۔ شہرام اور فاتح ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے شیطانی مسکراہٹ پاس کرنے لگے تھے۔۔
لگتا تو میرے کو بھی یہ ہی ہے! کیونکہ یہ سالا ہوٹل میں بھی ہم اپن لوگوں کو مسلسل تاڑ رہا تھا۔..! شہرام سامنے گاڑی کو دیکھ کر ہوٹل کا منظر یاد کرتے بتانے لگا۔ پارٹی میں ان دونوں نے کئی بار "حیدر ابراہیم " کو خود پر نظریں جمائے دیکھا تھا۔ لیکن وہ نظر انداز کرتے رہے پر اب انکو اسکی نظروں کا مقصد سمجھ میں آ رہا تھا۔۔۔۔
حیدر انکو پارٹی سے نکلتے دیکھ کر فوراً انکا پیچھا کرتے ان سے پہلے یہاں پر آ گیا تھا۔ اپنی دو سال پہلے والی بے عزتی وہ آج تک نہیں بھول پایا تھا۔ اسی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے وہ آج فاتح اور شہرام کا رستہ روکے کھڑا تھا۔
سڑک کے بیچ و بیچ چھ، سات لڑکے ہاتھوں میں ہاکی پکڑے کھڑے تھے۔ انکے انداز سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ اچھی نیت سے نہیں آئے ہیں۔۔۔ انہی سب کی ہم عمر لڑکے ہاتھوں میں بیٹ اور ہاکی لیے حیدر کے ساتھ جیپ کے باہر اور اندر کھڑے تھے۔ یقینا یہ سب حیدر کے دوست ہی تھے۔
چل آجا پھر اس مینڈک کی پینٹ کو ڈھیلا کر ہی دیتے ہیں۔۔! فاتح بے پرواہی سے گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلا تو شہرام بھی اسکی تقلید میں نکل آیا تھا۔۔۔
وہ دونوں گاڑی سے باہر نکلے تو حیدر آنکھوں میں انتقام لیے انکی طرف بڑھا تھا ۔۔
حیدر میاں یہ کرائے کے مینڈک کس منڈی سے لائے ہو، ہمیں تو آج تک ملے نہیں۔۔۔! گاڑی سے ٹیک لگائے، منہ میں الائچی ڈالتے ہوئے شہرام نے کافی پیار بھرے لہجے میں استفسار کرنا چاہا تھا۔ انداز کافی زو معنی تھا۔۔۔
بکواس بند کرو!! تم دونوں کو میں آج ذندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔! مینڈک کے ذکر پر حیدر کا چہرہ اہانت کے احساس سے سرخ پڑ گیا تھا۔
سکول میں اسکا کتنا مذاق اڑایا گیا تھا۔ اتنی شرمندگی کے باعث کچھ ہی دنوں میں حیدر نے وہ سکول چھوڑ دیا تھا۔ لیکن اب قسمت انہیں ایک بار پھر آمنے سامنے لے آئی تھی۔
کیونکہ حیدر نے بھی اسی کالج میں ایڈمیشن لیا تھا۔ جس کی ویلکم پارٹی میں آج فاتح اور شہرام نے شرکت کی تھی۔
یار اس میں اتنا غصہ کرنے والی کیا بات ہے۔۔؟ ہم تو بس تم سے معلومات لینا چاہ رہے ہیں، کیونکہ وہ کیا ہے نہ، کہ دو سال پہلے ہمیں مینڈک بہت مشکل سے دستیاب ہوا تھا تو پھر بتا ہی دو۔۔۔۔۔۔"
شہرام کے ہاتھ سے ایک الائچی اٹھا کر منہ میں رکھتے ہوئے فاتح نے بھی اسی کے انداز میں پوچھتے ہوئے چمکتی نیلی آنکھوں سے مقابل کو اندر تک آگ لگا دی تھی۔۔
یار شہری کیا تجھے یاد ہے؟ کہ ہنگامی حادثے والے دن ہمارے حیدر میاں کی پتلون کس نے اتاری تھی۔۔۔؟ جاننے والے انداز میں شہرام کو مخاطب کرتے فاتح نے زو معنی انداز میں مزید پوچھا۔۔ اور انکی یہ ہی گفتگو سامنے کھڑے حیدر کو اپنی بے عزتی دوبارہ یاد کروانے کا سبب بن رہی تھی۔ جس کی وجہ سے اسکی آنکھوں میں نفرت و انتقام کی آگ بھڑکنے لگی تھی۔
میں تم لوگوں کو آج وہ حال کروں گا کہ تم دونوں ساری زندگی میرا نام سنتے ہی کانپ اٹھو گئے۔۔۔! سینے میں بھڑکتی نفرت کی آگ میں جلتے ہوئے حیدر نے خطرناک ارادوں سے اپنے دوستوں کو انکی طرف بڑھنے کا اشارہ کیا۔۔۔
حیدر کے اشارہ کرتے کی اسکے ساتھ آئے سب لڑکے ہاتھوں میں پکڑے ہاکی اور بیٹ پر گرفت مضبوط کرتے ان دونوں کی طرف بڑھنے لگے تو شہرام اور فاتح ایک دوسرے کی طرف دیکھ گئے تھے۔۔
سلطان احمد خان اور عیس علی ہمدانی کے بیٹوں کے ساتھ یہ کرائے کے مینڈک ہاکی اور بیٹ سے لڑنے آئے ہیں۔۔۔"
انکو اپنی طرف آتے دیکھ کر فاتح اور شہرام سر جھٹک کر استہزایہ انداز میں یک زبان بولے۔۔۔ نامحسوس انداز میں کوٹ کی پاکٹس سے بلیڈ نکالتے ہوئے ان دونوں نے باقی کا فاصلہ خود طے کیا تھا۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے سب لڑکوں نے مل کر ان دونوں پر حملہ کرنا چاہا تو فاتح اور شہرام خود کا بچاؤ کرتے انکا مقابلہ کرنے لگے ۔۔
ان دونوں کو اتنی مہارت سے لڑتے دیکھ کر پیچھے کھڑے حیدر کی حیرت کی کوئی انتہا نہیں رہی تھی۔ کیونکہ وہ کسی ماہر فائٹر کی طرح جوابی کاروائی کر رہے تھے۔
انکے لڑنے کے انداز پر حیدر تیزی سے موبائل پر میسج کرتے ہاکی اٹھا کر خود بھی انکی طرف بڑھا۔
حیدر نے فاتح کے سر پر ہاکی مارنا چاہی تو شہرام نے اسکے سینے میں ٹانگ مارتے ہوئے اسے دور گرایا۔ جس پر فاتح نے چونک کر چہرہ گھماتے شہرام کو دیکھا تھا۔ ان دو کے مقابلے میں حیدر سات لڑکوں کو ساتھ لایا تھا۔ لیکن اب ان دو کو ان سب پر بھاری پڑتے دیکھ کر اسکے اندر اشتعال اٹھ رہا تھا۔
حیدر ابراہیم یہ نہیں جانتا تھا کہ جن دو کا مقابلہ کرنے وہ آیا یے۔ وہ اتنی سی عمر میں بلیک بیلٹ فائٹر بن چکے ہیں۔ ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں جب عام بچے سیر و تفریح کے لیے کہیں جاتے ہیں۔ وہیں دوسری طرف انہی چھٹیوں میں بلیک مینشن کے سب لڑکوں کو اٹھا کر فارم ہاؤس پر بو اور جان کے حوالے کر دیا جاتا تھا۔ ہر سال پورے تین ماہ وہ سب فارم ہاؤس پر جان اور بو سے ٹرینگ لیتے رہے تھے۔
اتنی سی عمر میں انکو دماغی لحاظ سے مضبوط بنایا گیا تھا۔ تاکہ وہ لوگ ہر مشکل حالات میں اپنے اعصاب پر قابو پا سکیں۔ کوئی بھی جنگ جیتنے کے لیے انسان کا دماغی طور پر مضبوط ہونا بہت ضروری ہے۔
جان اور بو نے بھی خاص طور پر انکو جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط بنانے کی کوشش کی تھی۔ یہ ہی وجہ تھی کہ آج حیدر کو یوں اچانک اپنے سامنے دیکھ کر وہ گھبرائے نہیں تھے۔
حیدر کے میسج پر اسکے مزید دوست چلے آئے تھے۔ اتنے سارے لڑکوں کو خود پر حاوی ہوتے دیکھ کر فاتح اور شہرام پوری طرح انکا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔ پر اسکے باوجود فاتح کے بازو سے اور شہرام کی ٹانگ سے خون نکلنا شروع ہو گیا تھا۔
ان دونوں کو باقی لڑکوں سے مقابلہ کرتے دیکھ کر حیدر نے موقع پاتے ہی فاتح کے سر پر پوری قوت سے اچانک بیٹ مارا تو فاتح نے یک دم فریز ہوتے اپنے سر کو تھام لیا۔
فاتح!!!!!! فاتح کے سر سے خون نکلتے دیکھ کر شہرام حلق کے بل چلا اٹھا تھا۔ نیچے گری ہاکی اٹھا کر پورے تیش سے لڑکوں کو مارتے وہ بجلی کی سی رفتار پر فاتح کی طرف بڑھا تھا۔ کیونکہ حیدر مسلسل فاتح کو پیٹ رہا تھا۔۔۔
شہرام نے ہاکی گھماتے ہوئے پوری قوت کے ساتھ چھوڑی تو وہ اڑتی ہوئی جا کر حیدر کے منہ پر لگ گئی۔۔۔ اس اچانک زور دار وار پر حیدر جھٹکا کھا کر چینختے ہوئے پیچھے گر گیا تھا۔
شہرام نے آگے بڑھ کر تیزی سے فاتح کا سر اٹھا کر گود میں رکھ لیا۔۔۔
فتی ایسے نہ کر یار۔۔۔! فاتح کو آنکھیں بند کرتے
دیکھ کر وہ جان بوجھ کر اسکا نام بگاڑتے ہوئے پکار گیا۔۔۔ شہرام کی ہیزل براؤن آنکھوں سے آنسو نکلنا شروع ہو گئے تھے۔۔
ا-ن—مینڈکوں—کک—کو—چھوڑنا نہ۔۔۔! شہرام کی پکار پر بامشکل آنکھیں کھولتے فاتح مسکرا کر اٹکتے ہوئے بولا۔۔۔ سر پر اتنی زور دار چوٹ لگنے کی وجہ سے اسے سب دھندلا سا نظر آ رہا تھا۔ اسکی نیلی آنکھوں کے سارا منظر گھومنے گھومنے لگا تھا۔ اتنے شور شرابے میں گونجتی آوازیں اسے دور سے سنائی دے رہیں تھیں۔ کیونکہ اسکا دماغ آہستہ آہستہ اپنے ہوش کھونے کھو رہا تھا۔۔۔
فتی تو ایسے کرے گا تو میں اکیلے انکا مقابلہ کیسے کروں گا یار۔۔! فاتح کو آنکھیں بند کرتے دیکھ کر شہرام چینخ پڑا تھا۔۔۔ وہ اپنے بھائی کو اس تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔
شہرام کو فاتح میں گم دیکھ کر حیدر نے دوبارہ موقع پاتے ہی اس بار شہرام کے سر پر وار کرنا چاہا تھا۔ پوری طاقت لگاتے ہوئے حیدر نے ہوا میں ہاکی بلند کرتے شہرام کے سر پر مارنا چاہی تو اسکی ہاکی ہوا میں ہی جکڑ لی گئی تھی۔۔۔
حیدر نے مڑتے ہوئے دیکھنا چاہا تو کبیر خان پر نظر پڑتے ہی اسکے حواس منجمند ہو گئے۔ آئس بلو آنکھوں کی وحشت دیکھتے حیدر کو ہاکی پر اپنی گرفت کمزور ہوتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔ شہرام نے کسی کی موجودگی محسوس کرتے اپنے ارگرد دیکھنا چاہا تو کبیر خان کو دیکھتے ہی اس نے جلدی سے اسے پکارا۔۔
بھائی دیکھیں نہ فتی آنکھیں نہیں کھول رہا۔..! بڑے بھائی کو پاتے ہی شہرام نے روتے ہوئے اسے بتایا تھا۔ فاتح کا سر اپنی گود میں رکھے وہ مسلسل اسکو جگانے کی کوشش کر رہا تھا۔
فاتح میں گم شہرام یہ نہیں جانتا تھا۔ کہ جس وقت وہ فاتح کی طرف بڑھا تھا۔ تو اسے مارنے کے لئے کتنے ہی لڑکے اسکی طرف آئے تھے۔ لیکن وہ چاہ کر بھی محسوس نہیں کر پایا کہ وہ ان حملوں سے محفوظ کیسے رہا ہے۔۔۔
فارس اور کبیر کی گاڑی وہاں سے گزر رہی تھی۔ جب سڑک کے بیچوں و بیچ کھڑی بلو سپورٹ کار پر نظر پڑتے ہی انہیں نے گاڑی پیچھے ہی روک لی۔ تاکہ جان سکیں کہ انکے شیطان بھائی اس وقت یہاں پر گاڑی روک کر کیا کر رہے ہیں۔ لیکن زرا آگے بڑھ کر جب انہوں نے اپنے چھوٹے بھائیوں کو اتنے زیادہ لڑکوں سے لڑتے دیکھا تو وہ بجلی کی سی رفتار سے وہ انکی طرف بڑھے تھے۔ ان دونوں کا پیچھا کرنے کی غرض سے ہی وہ لوگ بھی جلدی پارٹی سے نکل آئے تھے۔ تاکہ دیکھ سکیں کہ وہ انکو چکما دے کر کہاں گئے ہیں۔
پر فاتح میں گم شہرام نہیں جانتا تھا کہ اتنے زیادہ لڑکوں میں وہ پانچ منٹ بھی محفوظ کیسے بیٹھا رہا ہے۔ کبیر خان اور فارس ہمدانی دونوں ہی ان سب پر پل بھرے تھے۔ حیدر پر نظر پڑتے ہی وہ لوگ معاملے کی گہرائی تک پہنچ چکے تھے۔ انکی غیر موجودگی میں حیدر نے فاتح پر تو حملہ کر دیا تھا۔ لیکن فارس ہمدانی اور کبیر خان کی موجودگی میں بھلا کیسے ممکن تھا کہ کوئی انکے چھوٹے بھائیوں کے بال بھی چھو لے۔ نقصان پہنچانا تو دور کی بات تھی۔ وہ دونوں اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے گھنے سایہ کی مانند تھے۔
دوسری طرف شہرام کے حملے کی وجہ سے اپنی تکلیف میں گم حیدر بھی ان دونوں کو آتے نہیں دیکھ پایا تھا۔ اور اب جب وہ شہرام پر وار کرنے والا تھا تو کبیر خان نے بروقت آگے ہوتے اسکی کوشش ناکام بنا دی تھی۔
حیدر سے وہی ہاکی چھینتے ہوئے کبیر خان نے گھما کر اسکے سر پر دے ماری تھی۔ جبکہ دوسری طرف فارس اسکے دوستوں کو ٹھکانے لگا رہا تھا۔ حیدر پر ایک کے بعد ایک وار کرتے کبیر خان نے اسکے سینے میں ٹانگ مارتے اسے پیچھے گرایا۔۔۔۔
آئیندہ میرے بھائیوں سے دور رہنا ورنہ تیرا وہ حشر کروں گا کہ تو کسی کو منہ دیکھانے کے لائق نہیں رہے گا سالے۔۔! حیدر کے سینے پر اپنا بوٹ رکھتے کبیر نے اس بار گھما کر بیٹ دے مارا تھا۔ وہ پہلے ہی اسکی مار کھا کھا کر آدھ مو ہو چکا تھا۔ لیکن اس آخری ضرب پر اس نے ہوش کھو دیے تھے۔
فارس پھولی سانسوں میں لڑکوں کو ٹھکانے لگا کر کبیر کی طرف آیا جو حیدر کے سینے پاؤں رکھے کھڑا تھا۔۔
خان جلدی کرو فاتح اور شہری کو ہاسپٹل لے کر جانا ہو گا۔۔۔" فارس نے کبیر کو ہوش دلاتے کہا تو وہ زمین پر بیٹ پھینک کر پیچھے ہٹ گیا۔۔ ابھی وہ دونوں کچھ قدم ہی چلے تھے کہ اچانک کچھ یاد آنے پر فارس الٹے پاؤں چلتے ہوئے دوبارہ حیدر کے قریب گیا تو کبیر نے مڑتے ہوئے اسکو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
فارس نے آگے بڑھ کر زمین پر بڑے بے ہوش حیدر کی پینٹ اتار کر سائیڈ پر رکھ دی تھی۔۔۔
پہلے تجھے ننگی حالت میں صرف سکول کے کچھ لڑکوں نے دیکھا تھا، اب تجھے سارا شہر دیکھے گا! سالا اسی بے عزتی کا بدلہ لینے آیا تھا نا۔۔!! حیدر کو پاؤں سے ٹھوکر مارتے وہ دوبارہ کبیر کی طرف بڑھ گیا تھا۔ جو فارس کے اس عمل پر اسے شاباش دیتے تھمز آپ کر رہا تھا۔۔
وہ دونوں تیزی سے فاتح اور شہرام کو اٹھا کر ہاسپیٹل لے کر چلے گئے تھے۔ کیونکہ ان دونوں کو شدید چوٹیں آئیں تھیں۔

Post a Comment (0)
Previous Post Next Post