Janoon-e-Yaar Novel Complete by Amreeney Qais - Episode 07 - urdu novels pdf download


 ناول: #جنونِ یار

قسط: 07
از قلم: #امرینےقیس
شام کے وقت ایشام اپنے کمرے میں بیٹھا سکول کا کام کر رہا تھا۔ جب ہیر اچانک اپنی نوٹ بک اٹھائے اسکے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ ایشام اسکو اپنے کمرے میں آتے دیکھ کر چونک گیا۔۔
مجھے یہ سوال سمجھاؤ ۔۔۔! ایشام کے قریب آتے ہی، چہرے پر تیکھے تاثرات لیے رعب سے ہیر نے اسکی طرف نوٹ بک پھینکی۔۔۔۔ ہیر پاشا کا حکم دینے کا انداز مقابل کو کافی آگ لگانے ثابت ہوا تھا۔
تم میرے کمرے میں کیا لینے آئی ہو ۔۔۔؟
ہیر کو اپنے کمرے میں دیکھتے ہی ایشام کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات چھانے لگے تھے۔ شاکنگ پنک کلر کی گھٹنوں تک کی فراک کے ساتھ ٹائٹس پہنے، کانچ سی سبز آنکھوں کے ساتھ کالوں بالوں کی دو پونیاں بنائے وہ ایشام کو عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
ایشام صدیقی کو دیکھتے ہی ہیر پاشا کے اندر اسکا ننھا سا شیطان جاگنے لگتا تھا۔ جو اسے مجبور کرتا تھا کہ سامنے بیٹھے نیلے بلے کا خون چوس لو۔۔۔
دیکھ نہیں رہے، کہ میتھ کے پرابلم سمجھنے آئی ہوں۔۔۔! اچانک گرنے والے انداز میں وہ جان بوجھ کر نیچے رکھی اسکی نوٹ بک کے اوپر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
کتنی دفعہ بولا ہے میں نے کہ ہیر مجھ سے تمیز سے بات کیا کرو، تم سے بڑا ہوں! اور اٹھو یہاں سے، جا کر کسی اور سے سمجھو اپنے یہ پرابلمز، میرے پاس تمہارے لئے اتنا فالتو وقت نہیں ہے۔۔"
ہیر کے نیچے سے اپنی نوٹ بک نکالتے ہوئے وہ زرا فاصلے پر ہو کر بیٹھ گیا تھا۔ جبکہ اپنے سامنے اس کالی سبز چڑیل کو دیکھتے ہی ایشام کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچنے لگا تھا۔ کیونکہ وہ بدتمیز لڑکی سکول میں اپنی ساری کلاس میں یہ بتا پھیلا چکی تھی۔ کہ ایشام صدیقی اسکا شوہر ہے۔۔۔
اسے کل ہی اس بات کا پتہ چلا تھا۔ اور اسکا بس نہیں تھا کہ اپنی زندگی کی اس اکلوتی بے سکونی کا کچھ کر دے۔۔۔
ٹھیک ہے! تم مجھے مت سمجھاؤ! میں جا کر بڑے بابا کو بتا دیتی ہوں کہ شامی کباب مجھے نہیں پڑھا رہا۔۔۔! لاپرواہی سے چھوٹے کندھے اچکاتے ہوئے وہ کھڑی ہونے لگی تو ایشام نے تیزی سے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔
تمہیں میرے پاس پڑھنے کے لیے بڑے بابا نے بھیجا ہے۔۔۔؟ ایشام نے چونکتے ہوئے پوچھا تھا۔ کیونکہ گھر کی ساری لڑکیوں کو پڑھانے کی ذمہ داری فارس اور کبیر خان کی تھی۔۔
ہاں۔۔! خان بھیا اور فاری بھیا باہر گئے ہوئے ہیں تو بڑے بابا نے مجھے کہا کہ جا کر شامی کباب سے پڑھ لو۔۔۔! انتہائی بے نیازی کے ساتھ ہیر پاشا اپنے شوہر ایشام صدیقی کا نام بار بار بگاڑ رہی تھی۔ جیسے ثواب کا کام ہو۔۔۔
میں تمہیں اٹھا کر باتھ روم کے ٹب میں ڈبو دوں گا، اگر اب تم نے میرا نام بگاڑا تو۔۔۔!
ایشام اس بار بے حد غصے سے بول گیا تھا۔ کیونکہ وہ کالی سبز چڑیل کب سے اسکا نام بگاڑے جا رہی تھی۔۔۔
لو ڈبو دو۔۔! کر دو میرا قتل!
پھر دیکھنا سب تمہیں کیسے خود پھانسی پر لٹکا دیں گئے۔۔۔!
ہیر نے ہاتھ پاؤں ڈھیلے چھوڑتے ہوئے صاف صاف الفاظ میں ایشام صدیقی کو یہ کہنا چاہا تھا۔ کہ وہ اسے سچ میں باتھ ٹب میں ڈوبو دے ۔۔
ہیر کو ڈرنے کی بجائے ڈھٹائی پر اترتے دیکھ کر ایشام نے خود پر ضبط کرنا چاہا تھا۔
سامنے بیٹھی چڑیل کی وہ کارستانی اچھے سے سمجھ رہا تھا۔ کہ وہ اسکے پاس اسی نیت سے آئی تھی کہ ایشام غصے سے بے قابو ہوتے کچھ الٹا کرے اور بدلے میں وہ سب بڑوں سے اسکی کلاس لگوا سکے۔اسی لئے اسے خود کو ڈوبنے کے مشورے دے رہی تھی۔
کونسی پرابلم سمجھنی ہے۔۔؟ ایشام نے اسکی بک پکڑتے ہوئے جلدی سے پوچھا تھا۔۔تاکہ اسے فٹا فٹ بھیج کر اپنی جان چھڑوائے۔۔۔
ہیر نے منہ کے ڈیزائن بناتے ہوئے اپنی ٹو کلاس کی بک اسکے آگے رکھی تو ایشام اسکی بک پر نظریں دہرانے لگا۔۔
لاؤ دو نوٹ بک جہاں پر کوئسچن سمجھنا ہے۔۔۔! ایشام نے بک پر نظریں جمائے ہیر سے نوٹ بک مانگی۔۔ لیکن دوسری طرف سے خاموشی پا کر ایشام نے نظریں اٹھا کر دیکھنا چاہا تو اگلے ہی پل اسکی نیلی آنکھیں بڑی ہوتی چلی گئیں تھیں۔۔ کیونکہ مس ہیر پاشا پوری کی پوری اسکے بیگ کے اندر گھسی ہوئی تھی۔
صرف اتنی سے دیر میں وہ ایشام کا سکول بیگ الٹ چکی تھی۔
ہیرررررر۔۔۔۔!!!! میں تمہیں جان سے مار دوں گا...!! پورے کمرے میں ایشام کی غصے بھری دھاڑ گونج گئی تھی۔۔۔ وہ اس سے سوال سمجھنے آئی تھی یا پھر اسکا ضبط آزمانے ۔۔۔۔
میں تو بس ایسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔! ایشام کی دھاڑ کا بنا اثر لیے وہ بھرپور مصنوعی انداز میں مسکراتے ہوئے معصومیت سے گویا ہوئی تو ایشام ضبط کے مارے مٹھیاں بھینچ گیا۔ نجانے یہ بلا کیوں اسکے پیچھے پڑ گئی تھی۔ پتہ نہیں سامنے بیٹھی چڑیل کو ایشام صدیقی کی ہر چیز میں گھسنے کا کیوں جنون ہوتا تھا۔ جیسے ہی اسے موقع ملتا تھا۔ وہ اسکی ہر چیز کا پوسٹمارٹم کرنے بیٹھ جاتی تھی۔
بنا بحث کیے ایشام نے آگ اگلتی نظروں سے اسے دیکھ کر سوال سمجھانا شروع کیا تو وہ منہ بناتی نوٹ بک پر دیکھنے لگی۔۔ جہاں وہ انتہائی سنجیدہ انداز میں اسے سوال سمجھا رہا تھا۔
دفع ہو جاؤ اب یہاں سے۔۔! تقریبا دس میں جلدی جلدی سوال سمجھا کر ایشام نے اسے جان چھڑانا چاہی تو ہیر اسے دیکھے گئی۔
ٹھیک ہے جا رہی ہوں۔۔۔!
اپنی بک اور نوٹ بک اٹھاتے ہوئے وہ کھڑی ہونے لگی تو ایشام نے تشکر بھری سانس خارج کرتے دوبارہ اپنی بک اٹھا لی۔
ایشام کو بک میں گم دیکھ کر ہیر جو دو قدم چلی تھی، کہ اگلے ہی پل تیزی سے واپس آتے وہ ایشام کی نوٹ بک پر لکھا ہوم ورک پھاڑ کر بھاگ چکی تھی۔ اس اچانک حملے پر ایشام غصے سے چلاتے ہوئے اسکے پیچھے ہوئے تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوٹے بابا بچائیں ۔۔۔۔۔! ہیر نے تیزی سے سیڑھیاں اترتے ہوئے سنان کو آواز لگائی تو سب متوجہ ہوتے مڑ کر سیڑھیوں کی طرف دیکھ گئے تھے۔۔
ہیر کے گرنے کے خیال پر سنان نے تیزی سے آگے بڑھ کر ہیر کو اٹھانا چاہا تو وہ جمپ کرتی اسکے بازوؤں میں سما گئی۔۔۔
اسی پل ایشام صدیقی غصے سے لال پیلا ہوتا سیڑھیاں اترتے نیچے آیا تھا ۔۔
میں آج تمہارا خون کر کے ہی رہو گا۔۔۔! سنان کے سینے میں چھپی ہوئی اس چڑیل کو دیکھ کر ایشام تیش سے چیخ اٹھا تھا۔۔۔
کیا ہوا ہے شام۔۔۔؟ سب فکر مندی سے اسکی طرف آئے تھے۔ جس کا غصے سے برا حال ہو رہا تھا۔۔۔ فارس اور کبیر باتیں کرتے ہوئے لاؤنج میں داخل ہوئے تو سامنے کا منظر دیکھ کر بے اختیار رک گئے۔
میں نے آپ سب کو کتنی دفعہ منع کیا ہے۔ کہ پلیز اس کالی سبز چڑیل کو میرے سے دور رکھا کریں۔ تو کیوں آپ نے اسکو میرے کمرے میں بھیجا تھا۔۔۔! ایشام نے غصے سے اپنی نوٹ بک اٹھا کر دیوار سے دے ماری تھی۔ جبکہ اسکی حالت دیکھتے ہوئے کبیر اور فارس بھی بھاگ کر اسکی طرف آئے تھے۔۔۔
تم خود ہو گئے جن، چڑیل شمسی کباب اور شامی کباب سب کچھ۔۔۔! ایشام کی زبان سے اپنے لئے کالی سبز چڑیل سن کر ہیر نے سنی کے سینے سے چہرہ باہر نکالتے ہوئے غصے سے جوابی کارروائی کی تھی۔۔۔
میں تمہارا منہ توڑ دوں گا۔۔۔! ایشام نے ہیر کے جواب پر لپک کر اسکی طرف بڑھنا چاہا تو کبیر اور فارس نے جلدی سے اسکو تھام لیا۔۔۔ جبکہ سب بڑے حیرانی سے سب دیکھتے ہوئے سمجھنے کی کوشش میں تھے۔۔۔
ہوا کیا ہے؟ شام کیوں اتنا ہائیپر ہو رہے ہو۔۔۔! کبیر نے فکر مندی سے پوچھا تھا۔۔
کیا نہیں ہوا یہ پوچھیں بھائی۔۔۔.! یہ میرا ہوم ورک پھاڑ کر بھاگتے ہوئے یہاں پر آئی ہے۔! ایشام نے قہر برساتی نظروں سے ہیر کو دیکھتے ہوئے سب کو بتایا تو سب کی نظروں کا رخ ہیر کی طرف ہو گیا تھا۔۔۔
جو سنی کے کان میں ناجانے کونسے کونسے راز و نیاز کرنے میں مصروف ہو گئی تھی۔
چھوٹے بابا جھوٹ بول رہا ہے یہ شمالی کباب، میں تو بس کھڑی ہو رہی تھی۔ تو اسکی نوٹ بک پر میرا پاؤں آ گیا تو ایسے پیج پھٹ گیا۔ آپ نہ اسکا یقین کیجیے گا، بہت جھوٹا ہے یہ۔۔۔۔! سرگوشیوں میں وہ سنی کو اپنے سچے ہونے کی صفائی دے رہی تھی ۔جو پہلے ہی اپنی آنکھوں سے اسکو ایشام پر حملے کرتے دیکھ چکا تھا۔۔
ہاں میرا بچہ بلکل معصوم ہے۔۔۔! ہیر کی زبان سے شمالی کباب سن کر سنان کی ہنسی نکلی تو وہ ضبط کرتے اسکی ہاں میں ہاں ملا گیا۔۔۔
شام ادھر آؤ میرے پاس ۔۔۔! سلطان نے اونچی آواز پکارتے ہوئے میں ایشام کو اپنے پاس بلایا تو وہ ضبط کرتا سلطان کی طرف بڑھ گیا۔ باقی بھی اسکے پیچھے قدم بڑھا گئے۔
کیونکہ سب لاونج میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جبکہ ہیر اور ایشام کا اکڑا سیڑھیوں کے پاس لگا ہوا تھا۔۔۔
کیا ہوا ہے۔۔! سلطان نے بغور ایشام کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔ کیونکہ اسکی نیلی آنکھوں میں اس وقت ناراضگی واضح نظر آ رہی تھی۔۔۔۔۔
ایشام نے ناراضگی سے منہ موڑا تو سلطان نے سرد سانس خارج کرتے اسے پکڑ کر اپنے پاس بٹھا لیا۔ جبکہ ہیر، سنی کی گود سے نکل کر جھومتے ہوئے جا کر عیس کی گود میں بیٹھنے لگی تو سلطان نے اسے بھی اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا۔۔۔
بڑے بابا دھیان رکھیے گا یہ مجھے چٹکی نہ کاٹے۔۔۔! سلطان کی گود میں بیٹھتے ہوئے ہیر بے ساختہ بولی تو سب نے مسکراہٹ دبا لی۔
بیچارہ ایشام غصے سے جل جل کر پاگل ہو رہا تھا۔ لیکن ہیر پاشا کی اپنی ہی رنگ برنگ تتلیاں تھیں۔ انہی تتلیوں کو اڑاتے ہوئے وہ ایشام کا جینا حرام کیے رکھتی تھی۔۔
میرا شہزادہ کیوں ناراض ہے۔۔؟ سلطان نے ایک طرف ہیر کو گود میں بٹھاتے ہوئے دوسرے بازو کے گھیرے میں ایشام کو لے لیا تھا۔۔
سلطان کے پیار پر ایشام نے ضبط کرتے ہوئے ان سب کو ہیر کی شیطانی بتائی تو سب منہ کھول کر اسکو دیکھنے لگے۔ جو ہمیشہ کی طرح واردات کر کے انجان بنتے ہوئے سلطان کی ٹی شرٹ کے کالر کے ساتھ کھیلنے میں مصروف نظر آ رہی تھی۔۔ انداز صاف میسنوں والا تھا۔
ہیر کتنی بری بات ہے۔ تم کیوں اس بیچارے کا ہر وقت خون چوستی رہتی ہو۔۔۔! ایشام کی ساری بات سن کر منیزے بھڑک اٹھی تھی۔۔۔
مام آپ مجھے کیوں ڈانٹ رہیں ہیں؟ اس شامی کباب کو بھی پوچھیں نہ، یہ ہر وقت مجھے کیوں کہتا رہتا ہے، دفع ہو جاؤ، دفع ہو جاؤ ۔۔۔! منیزے کے بھڑکنے پر ہیر نے سر اٹھاتے ہوئے جواب دیا تھا۔۔۔
تھپڑ کھاؤ گی مجھ سے ایک! تمہاری انہی حرکتوں سے تنگ آ کر وہ کہتا ہے۔۔۔ اب بنا فضول میں منہ چلائے ایشام کو سوری کہو۔۔۔! اس سے پہلے منیزے سچ میں آگے بڑھ کر اسے تھپڑ لگا دیتی کہ عیس نے بروقت آگے بڑھ کر منیزے کو روک لیا تھا۔۔۔
کیا کر رہیں ہیں بھابھی سائیں! بچی ہے وہ۔۔! عیس نے خفگی سے منیزے کو دیکھا۔ جو اتنی سی بات پر سچ میں ہیر پر ہاتھ اٹھانے والی تھی۔ ان سب کے برعکس وہاج اور ضرار خاموش نظروں سے اپنی اپنی اولاد کو دیکھ رہے تھے۔
سوری۔..! ماں کے غصہ کرنے پر ہیر نے نم آنکھوں سے ایشام کو پہلی بار سوری بولا تو سب کو زور دار جھٹکا لگا تھا۔۔۔
سلطان نے ہیر کا چہرہ اپنی طرف موڑتے ہوئے اسکی سبز آنکھوں میں آنسو دیکھے تو وہ تڑپ گیا۔ ہیر کی نم آنکھوں کو دیکھ کر اس سے پہلے کہ سلطان کچھ بول پاتا جب فارس اور کبیر اٹھ کر ایشام کے دائیں بائیں جانب بیٹھتے ہوئے کہنے لگے تھے۔۔۔
شام کیوں فضول میں اتنی سی بات پر ہائپر ہو رہے ہو ۔۔! تمہیں پتہ ہے نہ، کہ گڑیا صرف تمہارے ساتھ ہی ایسی شرارتیں کرتی ہے! لاؤ دو مجھے میں تمہارا ہوم ورک پھر سے کر دیتا ہوں۔۔! اتنی سی بات کے لیے میری گڑیا کو رولا دیا ہے۔۔!
کبیر نے بولتے ہوئے جہاں ایشام کے ہاتھ سے نوٹ بک پکڑی تھی۔ وہیں فارس نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے سلطان کی گود میں بیٹھی ہیر کو اپنے پاس بلا لیا تھا۔۔۔
اپکے والی ایسے آپکا خون نہیں چوستی نہیں نا، اس لئے آپ دونوں کو میری حالت کہاں سمجھ آئے گی۔۔؟ اپنے بڑے بھائیوں کی بات پر ایشام نے جلے کٹے انداز میں سرگوشی کی تو وہ دونوں ہی مسکراہٹ دبا گئے۔۔۔
اب کوئی کسی کو سوری نہیں کرے گئے۔۔۔! اور اگر آئندہ تم نے ان چھوٹی چھوٹی پر ہماری گڑیا کو رولایا تو شام ہم سے پٹو گئے۔۔۔! فارس نے ہیر کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے مصنوعی غصے سے ایشام کو دھمکی لگا دی تھی۔ ہیر اگلے ہی پل کھکھلا کر ایشام کو زبان چڑانے لگی۔
کبیر خان نے ایشام کا ہوم ورک کرنا بھی شروع کر دیا تھا۔ جس پر ایشام کندھے اچکا کر کبیر کے کندھے پر سر ٹکا کر ریلیکس ہو کر بیٹھ چکا تھا۔
اگر ہیر پاشا ان دونوں کی گڑیا تھی تو ایشام صدیقی بھی کبیر خان اور فارس ہمدانی کا چھوٹا بھائی تھا۔ ایشام کا بھی پورا حق تھا کہ وہ ان سے نخرے اٹھواتا۔۔۔
باقی سب حیرت و خوشی سے کبیر اور فارس کو دیکھ رہے تھے۔ جنہوں نے منٹوں میں ان دونوں کو ٹھنڈا کرتے ہوئے مسلہ حل کر دیا تھا۔ کبیر اور فارس کے انداز پر وہ سب مسکرا کر گہری نظروں سے انکو دیکھ گئے۔۔
کیا آپ سب جانتے ہیں؟ کہ آپکی ان لاڈلی نے اپنی کلاس میں کیا مشہور کیا ہوا ہے ۔۔؟ اچانک یاد آنے پر ایشام، ہیر کو گھوری ڈالتے ہوئے دانت پیس کر اچانک گویا ہوا۔ جبکہ انداز سب کو مخاطب کرنے والا تھا ۔۔
کیا۔۔۔؟ ہوم ورک کرتے ہوئے کبیر خان نے مصروف انداز میں جاننا چاہا۔۔۔
تمہیں ویسے ہی عادت ہے۔ مجھ پر ہر وقت الزام تراشیاں کرنے کی۔۔۔ ! ایشام کے کہنے پر ہیر منہ بگاڑ کر بولی تو ایشام نے اسے نظر انداز کرتے اپنی بات جاری رکھی۔۔۔۔
ان محترمہ نے اپنی کلاس میں سب کو یہ بتایا ہوا ہے۔ کہ ایشام وہاج صدیقی میرا شوہر ہے، اور میں اسکی خوبصورت بیوی۔۔۔! ایشام نے زہر بھری نظروں سے گھورتے ہوئے سب کو بتایا تو سب تعجب سے اگلے ہی پل قہقے لگانے لگے۔۔ کبیر اور فارس بھی حیرانی سے ہنسنا شروع ہو گئے تھے۔۔۔
میں نے اپکو سب کو ہنسنے کے لیے نہیں بتایا؟ پلیز اسکو بولیں، کہ اس چیز کے لئے مجھ سے سوری کرے۔۔!! صرف اسکی بے وقوفی کی وجہ سے آج میرے کلاس فیلو مجھے مبارک باد دے رہے تھے، کہ میں کتنا لکی ہوں۔ جس کی بچپن میں ہی شادی ہو گئی ہے۔۔۔!"
سب کو ہنستے دیکھ کر ایشام برا مناتے ہوئے بولا تھا۔ کیونکہ کل کلاس میں اسے سب کے سامنے بہت شرمندگی ہو رہی تھی۔۔۔
ایشام کی بار بار سوری کی رٹ سن کر فارس کے پاس بیٹھی ہیر کا غصہ سوا نیزے پر پہنچ گیا تھا۔ صرف اس شامی کباب کی وجہ سے پہلے ہی اسکی ماں اس پر بھڑک چکی تھی۔ اپنی عادت کے بر خلاف تھوڑی دیر پہلے اس نے اس نیلے بلے کو سوری بول بھی بول دیا تھا۔ اور اب وہ اس سے پھر معافی منگوانا چاہ رہا تھا۔۔۔۔
تیش سے برا حال ہوتے ہی ہیر نے ایک جھٹکے میں آگے بڑھ ایشام کا گریباں پکڑ لیا تھا۔ ہیر کی اس حرکت پر سب کی آنکھیں بڑی ہوتی چلی گئیں۔۔
نہیں بولوں گی سوری۔۔! اور میں نے جھوٹ تو نہیں بولا کسی سے بھی۔۔! کیا یہ سچ نہیں کہ تم میرے لائف پارٹنر ہو اور میں تمہاری پارٹنر! میں تو پوری کلاس میں کیا اب پورے سکول میں سب کو بتاؤں گی، کہ تم میرے شوہر ہو، بتاؤ؟ کیا کر لو گئے تم۔۔۔"
چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے ایشام کا گریبان جکڑے وہ سبز آنکھوں میں تیش کی لالی سجائے غراتے ہوئے اسکا گریبان آزاد کر کے اگلے ہی پل اٹھ کر وہ اپنے باپ کی جانب بڑھ چکی تھی۔
بگڑے تاثرات کے ساتھ ضرار کی گود میں بیٹھتے ہوئے ہیر نے اسکے سینے میں چہرہ چھپا لیا تھا۔۔۔
اسکے برعکس ایشام تو ہکا بکا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔سمجھنے والے انداز میں اس نے آنکھیں جھپکائیں تو سب اپنا قہقہ ضبط کرتے ہوئے اسکی حالت ملاحظ کرنے لگے ۔ ضرار تو اپنی شیرنی کے دبنگ انداز پر ہنستے ہوئے اسکا سر چومنے لگا تھا۔
جبکہ وہاج نے قہقہ لگاتے ہوئے اپنے بیٹے کی پتلی حالت کو انجوائے کیا تھا۔۔
مل گئی معافی۔۔؟ کبیر خان نے ہنسی ضبط کرتے ہوئے اپنے چھوٹے بھائی سے جاننا چاہا۔۔۔
جو ابھی تک ہوش میں نہیں آ رہا تھا۔۔۔
بھائی یہ کیا تھا۔۔۔؟ ایشام نے صدمے سے سوال کیا تو لاونج میں ایک کے بعد ایک قہقہے گونج اٹھے۔۔
بھائی کی جان یہ معافی کا ٹریلر تھا۔۔۔! فارس نے ہنستے ہوئے اسے جواب دیا تو ایشام اس کالی سبز چڑیل کو گھور کر رہ گیا تھا۔ جسکا چہرہ چھپا ہونے کی وجہ سے کالے گھنے بال ہی نظر آ رہے تھے۔۔۔
چڑیل۔۔۔! ہیر کو زیر لب مخاطب کرتے ہوئے ایشام نے کبیر کے کندھے پر دوبارہ سر رکھ دیا۔۔۔

Post a Comment (0)
Previous Post Next Post