Are you a fan of immersive storytelling and looking for the latest Urdu novels to spice up your reading list? Look no further! Kohe Kaaf Ka Sardar by Muna Rizwan is quickly becoming one of the most searched-for stories in the digital world. Whether you prefer reading online or want to download Urdu novels in PDF for offline enjoyment, this story offers a perfect blend of mystery, fantasy, and heart-touching romance.
Why Read Kohe Kaaf Ka Sardar?
In the world of Urdu literature, fantasy is a genre that allows readers to escape reality. Muna Rizwan has done an exceptional job of creating the atmosphere of Koh-i-Qaf—a place of eternal snow and hidden magic. Following the journey of Sardar Azlan as he navigates the human world is not just an adventure; it is an emotional rollercoaster.
How to Access the Novel?
We understand that readers want convenience. That is why we provide multiple ways to enjoy this masterpiece:
Best Urdu Novels PDF: You can easily find the PDF download link for Episode 2 right here. We ensure that our files are lightweight and high-quality for a seamless reading experience on your mobile or laptop.
Read Online: If you don't want to clutter your storage, stay on this page to read the full text of Episode 2.
Stay Updated: From the struggles of Zainab in the human world to the dark dungeons of the Shaitani Jinn, every twist is designed to keep you hooked.
Join the Novelians Community
If you are searching for Urdu novels PDF download or the best romantic Urdu novels, our platform is your ultimate destination. We curate the finest works from emerging writers like Muna Rizwan, ensuring that you never miss an update.
Follow us:
Don't forget to support the writer by leaving your feedback in the comments. Your support encourages creators to continue these amazing creative journeys. Click the link below to get your copy of Kohe Kaaf Ka Sardar Novel Episode 2 PDF and dive into the magical world today!
کوہ قاف کا سردار👑
قسط 2✨✨✨👑
رایٹر مونہ رضوان❤❤❤❤
✨✨✨✨✨
ازلان نے چند با اعتماد بزگوں کو اپنے انسانی دنیا میں جانے کا بتایا اور یاقوت کو چند دنوں کے لیے اپنی جگہ چھوڑ گیا۔۔۔پورے قبیلے میں یہی بتایا گیا کہ ازلان چند دنوں کے لیے چلہ کر رہا ہے تا کہ شیا طین کو قابو کر سکے۔۔۔ازلان جانے کی تیاری کرنے لگا ملکہ سے مل کر اور یاقوت کو چند اہم پہلو سمجھا کر اس نے انسانی دنیا کا رخ کیا ۔۔کافی دور جانے کے بعد وہ ایک جگہ بیٹھ گیا۔۔کسی گھر کی چھت تھی ابھی ازلان کو کچھ دیر ہے گزری تھی کہ چھت پر کوی آہستہ اہستہ قدم اٹھا کر آ گیا۔۔ازلان ایک سفید بلے کی شکل میں چھت کے کونے میں بیٹھ گیا۔۔آنے والی کوی حور تھی جس نے ازلان کو چند لمحوں کے لیے ساکت کر دیا تھا۔۔۔زینب ابھی ابھی ٹھنڈے پانی سے برتن دھو کر آٸ تھی۔۔ٹھنڈ سے اس کے ہاتھ سن ہو گے تھے۔۔۔وہ چھت کے ایک کونے میں بیٹھ گی اور رونے لگی۔۔اسے انے حال پر شدید رونا آ رہا تھا۔۔کہیں سے ایک سفید سا بلا اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا ۔۔ذینب نے بلے کو اٹھا کر گود میں رکھا اور پیار کرنے لگی۔۔۔تم بھی میری طرح اکیلے ہو۔۔؟؟ کتنے پیارے ہو تم ۔۔اور تمہاری یہ آنکھیں بلکل سیاہ ہیں۔۔چلو آج سے تمہارا نام کیرو ہے ٹھیک ہے تم میرے ساتھ رہو گے
ذینب بلے سے باتیں کر رہی تھی اور بلا اس کے ہاتھوں پر ذبان سے بوسے دے رہا تھا۔۔او ذینب اوپر جا کر مر گٸ ہے کیا؟ آ بھی جا اب ثنا۶ کو کھانا دے۔۔۔
سدرہ کی آواذ پر ذینب سر پر پیر رکھ کر دوڑی۔۔بلا دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے اوجھل ہو گیا
ہاہا اس کو بھی اور کوی نام نہیں ملا تھا رکھنے کو ۔۔۔کیرو۔۔۔۔
ازلان مسکراتا ہوا ذینب کے پیچھے چلا گیا اس بار وہ نظروں سے اوجھل تھا ۔۔۔نیچے کا منظر دیکھ کر ازلان کو شدید غصہ آیا
ثنا۶ ابھی تم یہ بریانی کھا لو شام کو میں تمہیں کیک بنا دوں گی ابھی میں تھک گی ہوں بہت
ذینب نے ثنا۶ کو پیار سے سمجھایا
امی امی دیکھیں یہ ذینب مجھے مار رہی ہے
ثنا۶ نے ذور ذور سے چلانا شروع کر دیا
ذینب نےبوکھلا کر ثنا۶ کے منہ پر ہاتھ رکھ کر خاموش کرانا جاہا تو ثنا۶ نے اس کے ہاتھ پر کاٹ لیا
آہہہہ ثنا۶ تم رکو میں ابھی بنا دیتی ہوں
ذینب نےہاتھ سہلاتے ہوے کہا
نہیں اب تو امی سے مار پڑواوں گی میں
ثنا۶ نے منہ بسور کر کہا اور سدرہ کے کمرے کی طرف چل دی
ازلان نے جلدی سے ذینب کے علم میں لاے بغیر ایک کیک کچن کی شیلف پر رکھ دیا
ذینب نے مڑ کر دیکھا توشیلف پر کیک پڑا تھا وہ کافی حیران ہوی مگر تب تک سدرہ گالیاں بکتی نمودار ہو چکی تھی۔۔۔
اے لڑکی کیا مسلہ ہے کیا کہہ رہی ہے ثنا۶ کیک بنا کر دے اسے
سدرہ نے آتے ہی ذینب کے بال پکڑ کر اسے غصے سے کہا
بھابھی وہ کیک بن گیا ہے
ذینب نے بمشکل جملہ پورا کیا تو سدرہ اور ثنا۶ چونک گییں
اتنی جلدی۔۔؟
کہیں کویی یار وار تو نہیں ہے تیرا جو کیک دے گیا ہاں
سدرہ نے دوبارہ اس کے بال پکڑ لیے۔۔۔۔۔اور خوب مار مار کر چھوڑ دیا
ذینب زخموں سے چور بدن لے کر کمرے میں آ کر بستر پر ڈھے گی۔۔اس کا پورا بدن دکھ رہا تھا۔۔۔اس نے دراذ سے پین کلر نکال کر کھای اور روتے روتے نجانے کب سو گی۔۔۔۔۔ازلان اس کے سونے کے بعد کمرے میں نمودار ہوا اور ایک پرچی لکھ کر رکھ دی ساتھ میں ایک ٹرے میں کھانا رکھ کر غایب ہو گیا اسے ابھی بہت دور جانا تھا۔۔۔۔
❤❤❤❤
بابا کابوت نے اس شیطان جننی سے شادی کر لی اور اپ کہتے ہیں کہ میں صبر کروں ۔؟ کیسے صبر کروں بابا آپ ہی بتاییں میں کیسے اس کے بغیر رہوں گی؟؟ نہیں بس بہت ہوا میں جا رہی ہوں خود ہی اسے ڈھونڈ کر کمینی کے چنگل سے نکالوں گی۔۔۔۔
کابوت کی پہلی منگتر ذنیرہ نے اپنے باپ کو وہیں پریشان چھوڑا اور غصے میں قبیلے کی حد سے باہر آ گی ابھی وہ تھوڑی دور ہی پہنچی تھی جب اسے یاد آیا کہ وہ کافی دور آگی ہے اور اپنی چھڑی بھی گھر چھوڑ آٸ ہے۔۔وہ پریشان سے کھڑی تھی کہ اچانک وہاں شیاطین کے قبیلے کا ایک جن نمودار ہوا اور اسے لے کر اپنے سردار کے پاس پہنچ گیا۔۔
چھوڑو مجھے کہاں لے کر جا رہے ہو چھوڑو۔۔۔ذنیرہ مسلسل خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی مگر اس کی طاقت ان شیطانوں کے آگے بہت کم تھی۔۔۔ذنیرا کو سردار کے سامنے پیش کیا گیا۔۔سردار نے خباثت سے اسے دیکھا اور قہقہہ لگایا۔۔۔ہاہاہاہا واہ یہ دونوں منگیتر ہمارے قبضے میں ہیں اب تو مزہ ہی آ جاے گا چنبیلی اسے لے جاو اور تیار کرو اب یہ ہمارا بستر گرم کرے گی۔۔
سردار شیطان نے گندی سی نظر ذنیرا کے وجود پر ڈالی اور جنبیلی اسے گھسیٹ کر وہاں سے لے گی۔۔۔۔
مجھے چھوڑ دو خدا کے لیے مجھے چھوڑ دو۔۔۔ذنیرا چنبیلی کے آگے ہاتھ جوڑ کر بھیک مانگ رہی تھی۔۔۔ارے جا لڑکی چھوڑ کیسے دوں تیرے آنے کے بعد سردار تیرے ساتھ عیاشی کرے گا اور مجھے کچھ دن سکون رہے گا۔۔۔۔ہر وقت مجھے اپنے بستر پر رکھتا ہے تھک چکی ہو میں ۔۔۔چنبیلی نے غصے سے کہا اور ذنیرا کو بستر پر پٹخ کر درواذہ بند کر دیا
ذنیرا پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔اس کی طاقتیں یہاں کام نہیں کر پا رہی تھیں۔وہ بے بسیکی مورت بنے وہیں بیٹھی رہی۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
ذنیرا کی گمشدگی کی خبر پورے قبیلے میں پھیل گی تھی ذنیرا کا والد پریشانی میں ملکہ کے پاس حاضر ہوا ملکہ نے اپنی طاقتوں سے ساری سورت حال دیکھ لی مگر ذنیرا ابھی کہاں موجود ہے یہ بات ان کے لیے جاننا بھی کافی مشکل ہو گیا تھا۔۔ملکہ نے ازلان کے دماغ میں ذنرا کی گمشدگی کا پیغام بھیجا جس کے جواب میں ازلان نے انہیں تسلی دی اور کوشش کرنے کا کہہ کر رابطہ منقطع کر لیا۔۔۔۔
❤❤❤❤❤
ازلان ہوا میں پرواذ کرتا ہوا ساری طرف گھوما مگر کابوت کی موجودگی اسے کہیں محسوس نہیں ہوی تھی ۔۔ازلان کے لیے کافی مشکل ہو گیا تھا ۔۔ ذبیدہ عرف سندری شیطان نے بہت چالاکی سے کابوت کو اپنے چنگل میں پھنسا کر کہیں غایب کر دیا تھا ۔۔ازلان تھک ہار کر ایک جھیل کے کنارے بیٹھ گیا۔۔اس نے خود کو حفاظتی حصار میں رکھا تھا تاکہ کسی کو اس کی موجودگی محسوس نہ ہو۔۔وہ جھیل پر بیٹھا سچوں میں گم تھا جب ملکہ نے اس کے دماغ پر دستک دی ۔۔انہوں نے ذنیرا کی گمشدگی کی خبر ازلان کو دی تو وہ کافی پریشان ہوگیا ۔۔اس نے ملکہ کو تسلی دی اور رابطہ منقطع کر کے سوچ میں پڑ گیا ۔۔وہ اس معاملے میں بے بس تھا کیوںکہ اس کے پاس اتنی طاقتیں نہیں تھیں کہ وہ کچھ کچھ کر سکتا اپنے قبیلے کی ساری مضبوط طاقتیں کابوت کے پاس تھیں مگر کابوت کے غایب ہونے کے بعد ازلان خود کو کافی بے بس محسوس کر رہا تھا
۔۔۔۔۔ازلان کے پاس اب ایک ہی راستہ تھا کہ وہ اپنے مرشد سے مشورہ کرتا۔۔سو وہ سب کچھ خدا پر چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا ۔۔اب اس کا رخ ذینب کی طرف تھا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
جاری ہے ۔۔۔
یہ کہانی تخلیقی ہے اس کا حقیقی ذندگی سے کوی تعلق نہیں ہے
جن کو پڑھنا ہے وہ پڑھیں جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب حقیقت نہیں ہے تو ان کو گروپ جواین کرن کی کیا ضرورت ہے ؟؟ناول گروپ ناول پوسٹ کرنے کے لیے ہوت ہیں اور ناولز ہوتے ہی ذہن کی تخلیق ہیں
Got it!
اور جو لوگ مجھے سپورٹ کرتے ہیں ان کا دل سے شکریں اللہ اپ سب کو خوش رکھے
😊😊😊❤❤❤