Kohe Kaaf Ka Sardar Novel By Muna Rizwan | Ep 1 | PDF Download | Best Urdu Novels PDF | Download Novel PDF



 ✨کوہ قاف کا سردار✨

قسط_1_

راٸیٹر_مونہ رضوان_.❤

یہ صرف ذہن کی تخلیق ہے اس کا حقیقت سے کوٸ تعلق نہیں ہے اس لیے اسے کہانی سمجھ کر انجواے کریں اور مجھے فالو اور سپورٹ کریں ت کہ میں ناول جاری رکھوں😊

❤❤❤❤❤❤❤❤

کوہ قاف کے پہاڑ برف میں ڈھکے ہوۓ تھے ۔۔دور دور تک کسی ذی روح کی موجودگی کا گمان نہ تھا۔۔اور وہاں انسان تو کیا کوٸ پرندہ بھی پر نا مار سکتا تھا۔بظاہر وہاں کوی نہیں رہتا تھا مگر وہ جگہ خالی نہیں تھی۔۔۔ایک مخلوق بستی تھی وہاں جو انسانی آنکھ سے اوجھل تھی۔۔۔اور وہ تھے جنات۔۔جنات کے دو قبیلے یہاں آباد تھے ایک قبیلہ شیاطین کا تھا اور دوسرا مسلمین کا ۔۔شیاطین اور مسمان جنوں کے درمیان ایک حد مقرر تھی اس کے باوجود شیاطین اپنی شیطانیوں سے باز نہ آتے تھے ۔۔اور کبھی کبھار دونوں قبیلوں کے درمیان کافی لڑاٸ ہو جاتی تھی۔۔۔

❤❤❤🎊❤❤❤❤❤

اسلام و علیکم سردار  ازلان۔۔۔۔ایک جن نے آ کر سردار ازلان کو سلام کیا ۔۔

وعلیکم سلام یاقوت کیا خبر ہے۔۔۔؟؟

ازلان نے خوش دلی سے پوچھا۔۔۔۔اس وقت وہ اپنے کمرے میں ارام کر رہا تھا جب ایک جن اجازت لے کر اندر داخل ہوا جو اس کا وفادار ملازم تھا

سردار کابوت نے شادی سے انکار کر دیا ہے وہ ذبیدہ سے محبت کرتے ہیں  ۔۔۔ وہ مان نہیں رہے ہیں چچا زاد سے شادی پر 

یاقوت نے افسردگی سے کہا

اچھا تو یہ بات ہے اسے اپنی ضد چھوڑنی پڑے گی  ؟؟ 

سردار ازلان نے بھنویں سکیڑ کر پوچھا۔۔

سردار ہمیں معلوم  نہیں  کیا کریں مگر ایک اور بہت بری خبر ہے۔۔۔

یاقوت نے پیشمانی سے سر جھکا کر کہا۔۔

کیا بری خبر ہے ؟؟

ازلان نے حیرت سے یاقوت کو دیکھا

سردار کابوت ذبیدہ کو لے کر انسانی دنیا میں چلا گیا ہے اسے ڈھونڈنے میں ہم سب ناکام ہو چکے ہیں ۔۔یاقوت نے شرمندگی سے سر مزید جھکا کر کہا

کیاا؟؟ تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ہے۔

ازلان نے غصے سے کرسی سے اٹھ کر کہا

سردار ہم نے کوشش کی کہ وہ مل جاے  مگر مجبوراََ اپ کو بتانا پڑا ہم اپکو پریشان نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔

یاقوت نے  سہم کر کہا ازلان کے غصے سے سب ہی خوفزدہ تھے۔۔۔

ضدی تو وہ ہے ہی مگر اب اس کی اور ضد نہیں سنوں گا میں بس بہت ہوا میں خود اسے ڈھونڈوں گا۔۔۔

ازلان کہہ کر غصے سے کمرے سے باہر آیا اور ملکہ کے کمرے کا رخ کیا۔۔

ازلان اپنے قبیلے کا سردار تھا بادشاہ کی وفات کے بعد سرداری اسے سونپ دی گی تھی اس کا چھوٹا بھای کابوت شیاطین کی ایک جننی سے محبت کر بیٹھا تھا اور بسے لے کر انسانی دنیا میں چلا گیا جبکہ اس کی شادی اپنی چچازاد سے طے تھی مگر وہ ذبیدہ سے محبت کرتا تھا جو کہ اسلام قبول کر چکی تھی مگر ازلان کو یہ شیاطین کی ہی کوی سازش لگتی تھی۔۔۔۔اس لیے وہ ذبدہ سے نکاح کے خلاف تھا ۔۔

❤❤❤❤❤❤❤

سلام امی جان...ازلان نے ملکہ کو سلام کیا جو صوفے پر بیٹھی اسے ہی دیکھ رہی تھی وہ جان گی تھیں  ازلان کی امد کے بارے میں

وعلیکم سلام بیٹا 

ملکہ نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔۔

امی جان میں خود جا رہا ہوں انسانی دنیا میں کابوت کو ڈھونڈنے اپ اجازت دیں۔۔۔۔ازلان نے ملکہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا

میرے بچے سنبھل کر رہنا اور کامیاب لوٹنا اللہ خیر کرے گا 

ملکہ نے ازلان کا غصہ دکھتے ہوے اسے اجازت دے دی ورنہ انسانی دنیا میں اس کا جانا کافی خطر ناک تھا۔۔۔

ازلان ملکہ کے ہاتھ چوم کر کمرے سے نکل آیا اب اسے اپنی سرداری کسی اعتماد والے شخص کو سونپنی تھی۔۔۔

❤❤❤❤❤❤❤

کمینی دفع ہو جلدی کر برتن ویسے ہی پڑے ہیں اور تو ٹھونسنے کے لیے بیٹھی ہوی ہے۔۔۔۔سدرہ نے اپنی معصوم نند زینب کو کوسا بے چاری ذینب نے ابھی پہلا لقمہ بھی حلق سے نہیں اتارا تھا کہ بھابھی نے سلواتیں سنانا شروع کردیں 

جی بھابھی ابھی دھوتی ہوں بس کھانا کھا لوں

ذینب نے دوسرا نوالہ منہ میں ڈال کر کہا

بعد میں ٹھونس لینا ہر وقت تو کھاتی رہتی ہے ۔۔سدرہ نے پھر سے اسے کوسا تو وہ کھانا اٹھا کر برتن دھونے لگی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذینب کے والدین اس کے بچپنے میں ہی گزر گے تھے ایک بھی تھا جو زن مرید تھا بیوی جو کہیت وہی کرتا تھا اس لیے ذینب اکیلی ہی تھی 

سدرہ نے کوی کسر نہ چھوڑی تھی ذینب کو تنگ کرنے میں 

سدرہ کی ایک ہی بیٹی تھی ثنا۶ ۔۔۔بارہ سالہ ثنا۶ بھی اپنی ماں سے کم نہ تھی

ذینب چھبیس کی ہو چکی تھی انتہای حسین مگر بھابھی اس کی شادی نہ کروانے کی قسم کھا چکی تھی

مفت کی کام والی جو ملی تھی ایسے کیسے چھوڑ دیتیں۔۔۔😰۔

❤❤❤❤❤

جاری ہے

اچھے رسپانس پر ہی نیکسٹ اپلوڈ ہو گی

Post a Comment (0)
Previous Post Next Post