ناول: #آخری- عشق🍂
راٹیر: #عاٸشہ -علی
قسط نمبر:21-----22
#سٹوری:حویلی بیسڈ ایج ڈیفرنس بیسڈ آفٹر میرج لو روڈ ہیرو، بیسڈ رومانٹک
🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋
_________________________
ابان شاہ آج جلدی گھر آ گیا وہ اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا جب حیا بیگم نے آواز دی
ابان میری بات سن کر کمرے میں جانا وہ چلتا ہوا اپنی ماں کے سامنے آ کر روک جاتا اور بولتا جی موم بولیں کیا بات ہے
ابان بیٹا اگر شادی کو نبھا نہی سکتے تو ہمیں انکار کر دیتے کیوں ہمیں بھابھی اور بھاٸی کے سامنے شرمندہ کرنے پے تلے ہوۓ ہو میری ایسی تربیت تو نہی
وہ جو حیران ہوتا ماں کی بات سن رہا تھا اخری بات پر غصے سے دانت پیس کر بولتا ہوا کیا ہے مام کیا کیا میں نے جو بات آپکی تربیت پر آ گٸی ہے
اچھا بیٹا جی ابھی کچھ ہی کیا باطشہ بیٹی کے ساتھ جو آپکا روایہ ہے نہ سب کو نظر آتا وہ بچی بولتی نہی تواس کا مطلب یہ نہی ہمیں پتہ نہی چلنا
مام میں نے کچھ نہی کیا وہ نظریں چراتا بولتا ہے
بیٹا اب وہ آپکی بیوی ہے اور جس بات پر آپ ابھی تک ضد لگا کر بیٹھے بھول جاو ایسے رشتے تو پہلے ہی طے ہوتے کس کا جوڑ کس کے ساتھ وہ ہمارے پیدا ہوتے ہمارے نصیب کے ساتھ جڑ جاتے ہیں اور آپکا نصیب باطشہ کے ساتھ جڑا تھا اس لیے اللّہ کے کیے گے فیصلے سے انکاری نہ ہو
وہ کافی دیر ایسے سمجتی رہی اب ابان شاہ کی سمج میں بات پڑی کے نہی وہ توایسے ہی پتہ
ابان شاہ کمرے میں آیا تو باطشہ آٸینے کے سامنے کھڑی بال بنا رہی تھی ان کے درمیاں بات چیت نا ہونے کے برابر تھی اب بھی وہ کوٹ صوفے پر رکھتا جا کر بیڈ پر لیٹ جاتا اور آنکھیں بند کر لیتا باطشہ جو ایسے اندر آتے دیکھ چکی تھی
وہ برش وہی رکھتی اور سر پر اچھے سے ڈوپٹہ لےکر نچے کچن میں جاتی تھوڑی دیر بعد اس کی واپسی ہوتی تو ٹری میں چاۓ کباب اور کچھ سینک رکھی ہوٸی تھی وہ ٹرے ڈیبل پر رکھتی اور ابان شاہ کو مخطاب کرتی
شاہ اٹھ جاٸیں چاۓ پی لیں ابان شاہ جو نیند میں جانے والا تھا باطشہ کی آواز سن کر آنکھیں کھولتا اور سامنے رکھی ٹرے پر ایک نظر ڈال کر پھر باطشہ کی طرف دیکھتا اور بولتا تمھیں یہ سب کرنے کی ضرورت نہی
تم کیا سمجتی ہو یہ سب ڈرامے کر کے اچھی بیوی بننے کا فرض پورا کر لو گی اور میرے دل میں جگہ بنا لو گی تو مس باطشہ غلط فہمھی ہے تھماری تم کبھی میرے دل تک نہی پہنچ سکتی
وہ یہ جانے بنا کے سامنے والے کا دل کس بدردی سے توڑ رہا اپنے ظنز کے تیر برستا رہتا ہے باطشہ آنسو پر کنڑول کیے کھڑی رہتی
اب کھڑی کھڑی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو لے جاٶ یہ سب
نہی چاھے کچھ بھی مجھے اور غصے سے ٹرے اٹھا کر زمین پر پھنک دیتا ہے گرم گرم چاھے ساری جا گر باطشہ کے پاوں پر گرتی جس سے وہ تڑپ کر چیخ مارتی وہ جو آنکھیں بند کر کے دوبارہ لیٹنے لگتا باطشہ کی چیخ سن کر فورن آنکھیں کھولتا نظر باطشہ کے پاوں پر جاتی جس پر چاھے گرنے سے لال لال نشان بن چکے تھے اور وہ بنا آواز کے روتی پاوں پر پھونک مار رہی تھی وہ بیڈ سے اترتا اس کی قریب آتا اور اس کے پاوں کو ہاتھ لگانے لگتا جب باطشہ ایسے ہاتھ کے اشارے سے وہی روک دیتی اور بولتی زخم دینے والے کو مرہم لگانا زیب نہی دیتا مسڑ ابان شاہ
اور ابان شاہ اس کی بات پر لب بھنچ جاتا........
____________________
باطشہ لنگڑتی ہوٸی بیڈ کے ساٸیڈ دراز کھولتی اور وہاں سے فرسٹ ایڈ باکس نکال کر وہاں سے ٹیوب نکال کر پاوں پر لگانے لگ جاتی جس پر چھالے بننا شروع ہو چکے تھے گرم چاۓ کی وجہ سے جلن کی شدت بہت تھی وہ روتی آنکھوں سے مرہم لگا کر وہی بیڈ پر بیٹھ جاتی جبک ابان شاہ وہی گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا تھا وہ غصے میں بھول ہی چکا تھا کے باطشہ سامنے کھڑی ہے چاۓ اس پر بھی گر سکتی وہ اٹھ کر بنا کچھ بولیں ڈرسینگ روم چلا جاتا باطشہ وہی چہرہ ہاتھوں میں چھپاۓ بلک بلک کر رونے لگ جاتی ہے ابان شاہ کپڑے چینج کر کے جب باہر نکلتا تو باطشہ کو یوں روتے دیکھ اس کے دل کو کچھ ہوتا ہے پر وہ خود کو کمپوز کرتا اس کے سامنے جا کر بیٹھ جاتا باطشہ اس کی طرف نہی دیکھتی وہ اس کے سرخ سفید جس پر تازہ ہی نیل پالش لگاٸی گٸی تھی جلنے کے سبب سرخ نشانوں سےبھر گے تھے دیکھ رہا تھا وہ جانتا تھا باطشہ کو جلن کے ساتھ ساتھ درد بھی ہو رہا اور یہ ایسے پتہ نہی کیوں اچھا نہی لگ رہا تھا پہلے خود درد دیتا پھر خود ہی کو اچھا نہی لگتا
___________________
ابرار شاہ اب ممکل طور پر صحت یاب ہو چکے تھے اس دوران حسالہ نے ان کا بہت خیال رکھا تھا ٹاٸم پر کھانا دواٸی دیتی رہی اب وہ خود کو بالکل ٹھیک محسوس کر رہا تھا اس لیے اس نے افروز کے ساتھ آفس جواٸن کر لیا تھا بہرام شاہ نے اس کا حصہ ایسے الگ دینے کا کہا تھا پر ابرار شاہ نہی مانے ان کا کہنا تھا جیسے اب تک سب ساتھ ہیں پھر وہ کیوں خود کو الگ سے تھکاۓ وہ سب کے ساتھ مل کر ہی کام کو اگے بڑھاۓ گے
ابان شاہ نے ان کے لیے الگ سے ڈراٸیور اور گاڑی کا بندو بست کر دیا تھا تاکے ان کو کسی پریشانی کا سامنے نہ کرنا پڑے
وہ آفس کے لیے نکل رہا تھا جب حسالہ کمرے میں داخل ہوتی نظر آٸی بابا ماشاءاللہ بہت پیارے لگ رہے آپ تو دوبارہ سے جوان ہو رہے وہ مسکراتی اپنے بابا کو چھیڑ رہی تھی اورابرار شاہ اس کی مسکراہٹ پر واری صدقے جا رہا تھا بابا میں آپ کے لیے ناشتہ تیار کروا کے آٸی چلیں جلدی نچے پھر سب ساتھ میں ناشتہ کرتے ہیں اچھا بیٹا آپ چلو میں آتا ہوں اوکے بابا جلدی آٸیے گا ناشتے کے ڈیبل پر سب انتظار کر رہے میں جب تک باطشہ آپی کو بلا لو وہ اتنا بول کمرے سے نکل جاتی
حسالہ باطشہ کے روم کے سامنے آ کر روم نوک کرتی جب اندر سے باطشہ کی ہلکی سے آواز آتی دروازہ کھولا ہے آ جاٸیں
حسالہ جب کمرے میں جاتی تو باطشہ بیڈ پر بیٹھی ہوتی آپی ابان بھاٸی تو آفس بھی چلے گے آپ نچے نہی آٸی ابھی تک ہاں وہ میری کچھ طبیت خراب جس کی وجہ سے کچھ بھی کھانا کا دل نہی چاہ رہاکیا ہوا آپ کو کچھ نہی بس سر میں دردہےابھی وہ بول رہی ہوتی کے حسالہ کی نظر اس کے جلے ہوۓ پاوں پر پڑتی وہ جلدی سے بولتی باطشہ آپی آپ کا پاوں کیسے جلا افففف اتنا جل گیا کچھ نہی حسالہ وہ میں ابان کے لیے حاۓ لے کر آرہی تھی کے پاوں پھسلا اور میں گر گی تو چاۓ ساری میرے پاوں پر گری وہ جھوٹ بولتی بتا گی ایسے مرہم لگاٸی جلد صیح ہو جاۓ گا اچھا آپ جا کر ناشتہ کریں نچے سب انتظار کر رہے ہو گے اور سنوں نچے کسی کو کچھ نہ بتانا اوکے مگر کیوں آپی وہ اس لیے کے سب ایسے پریشان ہو گے یہ اچھی بات نہی اوکے جی اچھا آپی حسالہ بولتی کمرے سے نکل گی باطشہ اس کے جاتے ہی آنکھیں بند کر کے لیٹ گی تھی .....
_____________________
عیشاہ کمرے میں بیٹھی پلیٹ میں انگور ڈالے کھا رہی تھی ساتھ ساتھ ٹی وی پر ڈرامہ دیکھ رہی تھی جب امثال شاہ اس کے کمرے میں آیا
وہ آتے اس کے اگے سے پلیٹ اٹھا کر سامنے رکھے صوفے پر بیٹھ کر مزے لے کر کھانا لگ جاتا اور عیشاہ اس کی یہ حرکت ہک بک دیکھتی رہے جاتی
شاہ.برو یہ کیا حرکت ہے
لاٸے میری پلیٹ واپس کریں وہ اس کی بات سن کر بولتا پلیٹ واپس چاھے یس برو تو امتثال شاہ انگور اٹھ کر ایک ہاتھ میں پکڑتا اور خالی پلیٹ عیشاہ کی جانب سرکا دیتا وہ شاہ برو
کیا ہے خود تو پلیٹ مانگ رہی تھی اب کیوں ایسے دیکھ رہے میں نے انگوروں والی پلیٹ مانگی تھی خالی نہی وہ روہانسی ہوتی بولتی اور امتثال شاہ کا چھت پھاڑ قہقہ کمرے میں گونجتا وہ کچھ انگور اپنے پاس رکھ کر باقی عیشاہ کی جانب کرتا اور بولتا لے کھا لیں
ویسے شاہ برو آج میرے کمرے میں خیر تو ہے کیوں کے بنا مطلب کے میرے کمرے تک آنا ایسا ہو ہی نہی سکتا عیشاہ بھی اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھتی پوچھتی ہے جب وہ مسکراتا اس کی طرف دیکھتا
ویسے کتنے اچھے سے جانتی ہو مجھے ہاہاہا ویری فنی اب بولیں کیا کام ہے کام بس یہ ہے کے آپ کو کل حسالہ کو بلانا ہے ایسے میرا نہی بتانا کیوں برو میں حسالہ کو کچھ شاپنگ کروانا چاہتا اور لال حویلی سے ایسے میرے ساتھ آنے کی اجازت نہی ملے گی اس لیے آپ کی ہلیپ چاھے
اچھا تو بدلے میں مجھے کیا ملے گا برو وہ شرارتی نظروں سے دیکھتے ایسے پوچھتی ٹھیک ہے ٹھیک ہے آپ بھی کر لینا شاپنگ
اوکے برو پھر بس کل تیار رہنا اوکے ،،،،،،،،
_____________________
امثتال شاہ کے جاتے ہیں عیشاہ حسالہ کو کال کرتی حسالہ جو ابھی ابھی کمرےمیں آٸی ہوتی فون رنگ ہونے پر فون اٹھاتی تو عیشاہ آپی کالنگ لکھا آرہا ہوتا وہ جھٹ کال یس کرتی اور سلام بولتی دوسری طرف سے عیشاہ وعلیکم سلام بولتی اور کہتی حسالہ آپ کل میرے ساتھ ساپنگ پر چلو گی ماما بزی ہے اور باطشہ کی ابھی ابھی شادی ہوٸی ایسے یو سارا دن ساتھ رکھنا مناسب نہی تو آپ چلو گی
عیشاہ بہانہ بناتی اسے ساتھ لے جانے کے لیے راضی کرنے لگتی
عیشا آپی میں بابا سے پوچھ کر بتاتی ابرار ماموں سے میں نے پوچھ لیا ہے اگر کل فارغ ہو تو تیار رہنا دوپہر میں چلیں گے
جی اچھا عیشاہ آپی اور کچھ دیر بات کرنے کے بعد عیشاہ کال کٹ کرتی اور امتثال شاہ کو ڈن کا مسیج کر کے فون بیڈ پر رکھی نچے انوشے کے پاس چلی جاتی
حسالہ نے پھر بھی اپنے بابا کو پوچھنے کی غرض سے ان کے کمرے میں جاتی دروازہ نوک کر کے وہ اندر جاتی ابرار شاہ ابھی شہر سے لوٹے تھے وہ نہا کر ٹاول سے بال رگڑتے نکلے ہی تھے کے حسالہ اجازت لیتی اندر آٸی
بابا عیشاہ آپی کی کال آٸی تھی وہ کل مجھے اپنے ساتھ شاپنگ پر لے جانا چاھتی اگر آپ کی اجازت ہو تو کل میں ساتھ چلی جاٶ..
جی بیٹا مجھے عیشاہ بچے پوچھ چکی ہے اب وہ آپ کی کزن کے ساتھ ساتھ نند بھی ہے میں کیسے انکار کر سکتا آپ کل چلی جانا یہ بولتے وہ دراز میں سے کچھ کیش نکال کر حسالہ کو دیتے اور بولتے آپ بھی اپنی ضرورت کی چیزیں لے آنا
اوکے بابا میں آپ کے لیے چاۓ بنا کر کے لاتی اور نچے کچن میں چاۓ بنانے چلی جاتی .....
____________________
باطشہ کا ایک پاوں تو صیح تھا پر دوسرے پر کافی چھالے تو نہی بنے تھے پر سرخ نشاں بن چکا تھا اور چلتے ہوۓ درد بھی محسوس ہوتا تھا جب وہ دوپہر میں بھی کھانے پر نہی آٸی تو امینہ بیگم کو پریشانی سی ہونے لگ گی تھی وہ اوپر باطشہ کے کمرے میں آٸی تو باطشہ سرخ آنکھوں سے بیٹھی پاوں پر دوا لگا رہی تھی وہ بھاگتی ہوٸی اس کے پاس آٸی اور اس کا پاوں دیکھ کر تڑپ کر رہ گی اس کی نازوپلی بیٹی اس وقعت کس درد میں تھی اور وہ کیسی ماں تھی جو جان ہی نہ سکی
یہ پاوں پر کیا ہوا ہے وہ روتی ہوٸی ماں کی طرف دیکھتی اور اس کے سینے سے لگی بچوں کی طرح اونچی اونچی رونے لگ جاتی ہے امینہ بیگم تو بوکھلا جاتی باطشہ کو ایسے روتا دیکھ
کیا ہوا بچہ ابان نے کچھ کہاں ہے پر باطشہ روتی رہتی امینہ اس کی کمر سہلاتی رہتی جب کافی رو کر دل کا غبارہ نکال لیتی باطشہ تو ماں کی سینے سے سر نکال کر ان کی طرف دیکھتی پر امینہ بولتی تاشی پاوں پر سرخ نشان کی چیز کے ہیں اور بتایا کیوں نہی کسی کو
کچھ نہی اماں ساٸیں یہ کل میں ان کے چاۓ لا رہی تھی تو میرا پاوں سلپ ہوا ٹرے نچے گری تو چاۓ کے چھنٹے میرے پاوں پر گر گے اور تو کچھ نہی ہوا ابان شاہ جو آج جرگے کے فیصلے کی وجہ سے شہر نہ جا سکا کمرے کے اندر آتے باطشہ کے آخری الفاظ سن کر خود کو شرمندگی انتہا میں گرا ہوا محسوس کرتا وہ اندر آتا تو امینہ بیگم اٹھ کر جانے لگتی جب باطشہ کی آواز آتی اماں ساٸیں مجھے کچھ دیر نچے جانا کمرے میں لیٹ لیٹ کر تھک گی
امینہ بیگم ابان شاہ کی طرف دیکھتی جو لب بھنچ کر کھڑا ہوتا ماں تھی کیسے نہ جانتی بیٹی کی آنکھوں میں درد وہ کچھ کچھ معاملہ سمجتی سہارا دیں کر باطشہ کو کھڑا کرتی اور آہستہ آہستہ لیے ایسے نچے لے جاتی ابان شاہ پیچھے اس کی پشت ہی دیکھتا رہے جاتا....
#قسط نمبر:22
دوسرے دن امتثال اور عیشاہ تیار ہو کر لال حویلی حسالہ کو لینے کے لیے نکل گٸے تھے وہاں پہنچ کر امتثال مردان خانے میں بہرام شاہ کے پاس چلا گیا جبکے عیشاہ اندر حویلی میں جب وہ حویلی کے اندر جاتی تو حسالہ لاونج میں عبایا پہنے اس کا ہی انتظار کر رہی ہوتی
عیشاہ جا کر سلام بولتی اور پن اتار کر نقاب کھول کر صوفے پر بیٹھ جاتی جلدی کریں حسالہ ہمیں واپس بھی آنا پھر جی آپی میں تو تیار ہوں بس اندر سے پرس لے کر آتی پھر چلتے ہیں اوکے عیشاہ مسکرا کر بولتی اور حسالہ کچن میں کھڑی ملازمہ کو عیشاہ کے لیے جوس بنا کے دینے کو بول کر جلدی جلدی اپر روم میں جاتی الماری میں لٹک رہے پرس کو اٹھا کر کندھے پر لٹکاتی ایک نظر آٸینے میں خود کو دیکھ کر نچے چلی جاتی جہاں عیشاہ جوس ہاتھ میں پکڑے باطشہ سے باتوں میں مگن ہوتی چلیں آپی حسالہ بولتی اور عیشاہ ہاتھ میں پکڑے جوس کے گلاس کو سامنے پڑے ششے کے ڈیبل پر رکھ کر سلام کرتی دونوں باہر نکل جاتی سامنے ہی گاڑی سے ٹیک لگاۓ آنکھوں پر بلیک چشمہ لگاۓ امتثال شاہ کھڑا تھا جیسے دیکھ حسالہ پہلے تو کنفوس سی ہوتی پھر آہستہ قدم لیے گاڑی میں بیٹھنے لگتی عیشاہ جس نے چلاکی سے پچھلا دوازہ کھول کر بیٹھ جاتی اور حسالہ جب بیٹھنے لگتی تو امتثال شاہ کی آواز سناٸی دیتی
حسالہ آپ میرے ساتھ اگے آ کر بیٹھے حسالہ مدد طلب نظروں سے عیشاہ کی طرف دیکھتی پر وہ فون میں خود کو بزی ظاہر کرتی چاروناچار حسالہ کو اگے جا کر ہی بیٹھ جاتی امتثال شاہ حسالہ کی طرف سے گاڑی کا دوازہ لوک کر کے دوسری طرف آکر ڈراٸیونگ سیٹ پر بیٹھ جاتا اور گھڑی زن سے بھاگ لے جاتا ...
_____________________
حسالہ امتثال شاہ کے پاس بیٹھی خود کو بڑی بے بس سا محسوس کر رہی تھی امتثال شاہ سے اٹھتی پرفیوم کی بھنی بھنی سی خوشبو اس کے حواسوں پر سوار ہو رہی تھی وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو مسل رہی تھی جب عقب سے امتثال شاہ کی آواز آتی کیوں ظلم کر رہی ہو ان نازک انگلیوں پر کیا قصور ان کا حسالہ جلدی ہاتھ گود میں رکھ کر سیدھی ہو کر بیٹھ جاتی پر بولتی کچھ نہی کیا ہوا آج چپ کا روزہ رکھا ہوا حسالہ شاہ نے وہ امتثال شاہ کی طرف دیکھتی ہاں بس ایک نظر _وہ ایک نظر ہی کافی تھی امتثال شاہ کی لو دیتی نظریں ایسے شرم وحیا سے پلکیں جھکانے پر مجبور کر گٸی تھی چہرے پر لالی پھیل چکی تھی اور امتثال شاہ نے یہ بدلتا منظر
اپنی آنکھوں میں قید کر لیا تھا وہ اتنی پیاری لگ رہی تھی یا امتثال شاہ کو لگی وہ سمج نہی سکا..
عیشاہ تو ایسی تھی جیسے گاڑی میں موجود ہی نہ ہو وہ فون میں مگن مسیج پر بزی تھی کانوں میں ہینڈ فری لگاۓ ان کی باتوں سے انجان تھی حسالہ جو روخ موڑے عیشاہ کو دیکھ رہے تھی اب اطمنان سے نظریں سامنے کر گٸی
اور تھوڑی دیر بعد وہ شہر کے بڑے مال کے سامنے کھڑے تھے عیشاہ اور حسالہ گاڑی سے نکل کر مال کے اندر چلی گٸی اور امتثال شاہ گاڑی پارک کرنے چلا جاتا ...
وہ کھڑی پارک کر کے جیسے ہی مڑنے لگتا اس کی نظر دوسری جانب کھڑے زوایار پر پڑتی جو فون پر مصروف تھا امتثال شاہ ابان شاہ کی شادی پر زوایار سے مل چکا تھا اور ان کے درمیان کچھ تھوڑی بہت دوستی بھی ہو چکی تھی وہ مسکراتا ہوا اس کی جانب آتا ....
ہیلو مسٹر زوایار کیسے ہو
زوایار جو فون پر بزی ہوتا اپنے نام کی پکار پر مڑ کر دیکھتا تو سامنے امتثال شاہ کھڑا ہوا وہ فون کٹ کرتا اس مسکراتا اس کے گلے لگتا اور حال حوال پوچھنے کے بعد
شاہ صاحب آپ کیسے آج مال میں میں فیملی کے ساتھ شاپنگ کے لیے آیا جواب امتثال شاہ کی طرف سے آتا
اچھا اچھا میں بھی کچھ شاپنگ کے لیے آیا اگلے ہفتے کسی دوست کی شادی تو بس ایسی لیے زوایار بولتا اور دونوں مال کے اندر چلیں جاتے حسالہ اور عیشاہ اوپری حصے میں کھڑی اس کا انتظار کر رہی ہوتی کیوں کے حسالہ کی ساپنگ امتثال شاہ نے خود کرنی تھی
سامنے سے ہی امتثال شاہ کسی سے بات کرتی آرہا تھا عیشاہ ایسے دیکھ کر پہچان گٸی تھی وہ زوایار خانزدہ تھا جیسے دیکھتے عیشاہ کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی زوایار کی نظر بھی ان پر پڑ چکی تھی بشک دونوں عبایا پہنے ہوٸیں تھی پر زوایار نے عیشاہ کو پہچان لیا تھا وہ تو دیدایار کر کے خوشی سے پھولے نہی سما رہا تھا ایسے لگا تھا امتثال اپنی مام کے ساتھ آیا ہو گیا پر سامنے وہ حیسن لڑکی کھڑی دیکھ ایسے لگا جیسے آس پاس ساری دنیا حسین ہو گی ہے عیشاہ خود پر زوایار کی نظریں محسوس کرتی کنفوز ہو رہی تھی نقاب کے اندر اس کا چہرہ شرم سے لال ہو گیا تھا زوایار جگہ کا خیال کرتا امتثال شاہ سے ہاتھ ملاتا اگے کی جانب بڑھ گیا اور عیشاہ نے اس کے جاتے اپنی کب سے روکی سانس بحال کی ....
__________________
ابان شاہ جب رات کو کمرے سونے کے لیے گیا تو نظر سامنے بیڈ پر پڑی جو خالی تھا ایسے لگا باطشہ واشرم میں ہو گی پر اس کا دروازہ بھی کھولا تھا وہ لا شعاری طور پر باطشہ کو یاد کرنے لگ گیا اس کے نہ ہونے سے جیسے کمرے میں کمی سی تھی
باطشہ جو آج امینہ کے پاس ہی روک گی تھی اس کی حالت کو دیکھتے امینہ نے بھی جانے پر زور نہی دیا بشک باطشہ منہ سے کچھ نہی بولتی پر اس کی آنکھوں کی ویرانی اور ہونٹوں کی چپی اس کی اجڑی زندگی کی منہ بولتی تصویر تھی
Follow us:
رات کے دس بج چکے تھے پر نہ باطشہ کمرے میں آٸی نہ ہی آج ابان شاہ کو سکون مل رہا تھا کہنے کو تو یہ کہے جاتا کے باطشہ سے نفرت ہے پر وہ کٸی نہ کٸی دل کے کسی کونے میں اپنی چاپ چھوڑ چکی تھی آج وہ کمرے میں نہی تھی پر مجھے سکون کیوں نہی کیوں دل ایک نظر ایسے دیکھا چاھتا
تو جو کل اس کے ساتھ کیا وہ ٹھیک تھا وہ تو تھماری تھکن کی وجہ سے چاۓ لے کر آٸی اور توں نے کیا کیا ایسے اسی چاۓ سے جلا دیا پھر بھی سکون نہی ملا تو ایسے طعنے دے کر مارنے کی کوشش کی دل سے آواز آٸی تو وہ کچھ بول نہ سکا صیح تو بات تھی جس دن سے شادی ہوٸی اس نازک لڑکی کو دکھ کے سوا دیا ہے کیا ہے وہ بس سوچ ہی سکا اور رات گے تھے کٸی نہ کٸی اس دشمناں جاناں کا انتظار رہا پر وہ بھی شاہد آج تڑپانے کے موڈ میں تھی جبھی تو سارے حساب آج ہی پورے کرنے پر تلی تھی .....
________________
ساری رات صیح سے نہ سونے کے سبب صبح ابان شاہ کے سر درد سے پھٹ رہا تھا پر ضرروی مٹینگ کی وجہ سے آفس جانا بھی ضروری تھا وہ فریش ہو کر جب نچے آیا تو سب ناشتہ کے ڈیبل پر موجود تھے
وہ اپنی کرسی پر جا کر بیٹھ گیا اور جوس کا جگ اٹھا کر اپنے لیے جوس ڈال کر ناشتہ کرنے لگ گیا جب حیا بیگم کی تشویش ذدہ آواز آٸی ابان بیٹا یہ آپ کی آنکھیں اتنی لال کیوں ہو رہی کیا سارے رات سوۓ نہی سب ان کی طرف متوجہ ہو چکے تھے
بس تھوڑا سا سر
درد ہے ابھی دواٸی لوں گا تو ٹھیک ہو جاۓ گا اچھا پھر آفس نہی جاٸیں آج کمرے میں جا کر ریسٹ کر لو نہی مام جانا ضروری ہے آج میٹینگ ہے بہت اہم وہ جوس کا گھونٹ پی کر ہاتھ صاف کرتا اٹھ کھڑا ہوا ایک نظر سامنے لاونج میں ڈالی پر وہ وہاں بھی نہی تھی وہ سنجیدہ سے ہوتا کوٹ ہاتھ پر رکھے گاڑی میں جا کر بیٹھتا اور ڈراٸیور گاڑی حویلی سے لے کر نکل جاتا
باطشہ جو اپنے کمرے کی بالکونی میں کھڑی اس سنگ دل کو جاتے دیکھ رہی تھی ایک آنسو چپکے سے پلکوں کی باڑ توڑتا گال پر پھسل چکا تھا جیسے وہ انگلی کی پور سے صاف کرتی کمرے میں چلی جاتی
وہ آفس تو آ چکا تھا پر دھیان کٸی اور ہی تھا روز اس کے اٹھنے سے پہلے باطشہ اس کی ساری چیزیں سجا کر رکھ دیتی تھی آفس کے لیے ڈریس روز تیار شدہ ملتا تھا پر آج سب کچھ خود کرنا پڑے شادی کے بعد اس کی بے رخی کے باوجود باطشہ اس کے سارے کام خود کرتی تھی اب تو کٸی نہ کٸی ابان کو بھی ان سب کی عادت ہو چکی تھی اور عادت تو پھر محبت سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی
اور کل سے اس کا نظروں کے سامنے نہ آنا اب ابان شاہ کو غصہ دلا رہا تھا وہ مٹینگ سے فارغ ہوتا حویلی کے لیے نکل چکا تھا جب وہ حویلی داخل ہوا باطشہ سامنے لاونج میں بیٹھی نظر آٸی چہرے پر چھاٸی سستی بے رخی پل میں اڑن چھو ہوتی محسوس ہوٸی دل میں سکون سا اترتا محسوس ہوا ابان شاہ کو وہ خود کو پرسکون محسوس کر رہا تھا طبیت کا بوجھل پن ختم ہو چکا تھا باطشہ جو خود پر کب سے کسی کی نظروں کا ارتکاز محسوس کر رہی تھی سامنے نظر پڑی تو وہ سنگ دل بڑی محویت سے دیکھ رہا تھا باطشہ کی نظر پڑتے ہی نظریں پھیر کر اوپر کمرے میں چلا گیا باطشہ کی نظروں نے دور تک اس کا تعاقب کیا تھا.....
______________
وہ لوگ کافی دیر سے شاپنگ کر رہے تھے حسالہ کو امتثال شاہ اپنی مرضی کی کافی ساری چیزیں کپڑے سینڈل اور جیولری وغیرہ دلا چکا تھا حسالہ کے لاکھ منع کر نے پر بھی وہ اپنی من مانی کر رہا تھا عیشاہ نے اپنے لیے ایک لونگ آسمانی کلر کی فراک پسند کی تھی جو باکل سادہ سی تھی بس بازوں پر دھاگے سے کام کیا گیا تھا
ان کی شاپنگ ممکل ہو چکی تھی اب وہ لوگ کچھ کھانے کی عرض سے کسی ہوٹل کا روخ کرتے ابھی ہو رستے میں ہی ہوتے کے عیشاہ کو پانی پوری (گول گپے) کا ڈھیلا نظر آتا وہ امتثال شاہ کو گاڑی روکنے کا بولتی امتثال شاہ نا سمجھی میں گاڑی روکتا عیشاہ جلدی سے دروازہ کھول کر باہر جاتی امتثال شاہ ایسے یو دیکھ پریشانی سے اس کے پیچھے جاتا تو اگے جو کچھ دیکھنے کو ملتا امتثال شاہ آنکھیں پھاڑے عیشاہ کی طرف دیکھ رہا ہوتا وہ اس معولی سی پانی پوری کے لیے اتاولی ہو رہی تھی
سریلی تم ان کے لیے پاگل ہو رہی ہو وہ عیشاہ کا مزاق اڑتا بولتا وہ ناک سے مکھی اڑاتی بولتی بندر کیا جانے ادرک کا سواد
کیا کہا تم مجھے دی گریٹ امتثال شاہ کو بندر بول رہی وہ تو بچارہ سدمے میں جا چکا تھا اور حسالہ جو ان کو دیکھنے باہر آٸی تھی امتثال شاہ کی آخری بات سن کر کھلکھلا کر ہنس پڑی جب تک عیشاہ پانی پوری کی دوپلیٹ تیار کروا چکی تھی اور اب گاڑی میں بیٹھ کر کھانے کا اردہ کیے جا کر گاڑی میں بیٹھ گی ساتھ حسالہ کو بھی بلا چکی تھی پھر دونوں نے خوب مزے سے کھٹے میٹھے گول گپے کھاۓ اور زبردستی امتثال شاہ کو بھی کھلاۓ وہ تو پہلی پانی پوری کھاتے ہی کھانسنے لگ چکا تھا پر ان دونوں کو پوری پلیٹس چٹ کرتے دیکھ حیران تھا پر وہ جانتا نہی تھا گول گپے تو لڑکیوں کی کمزروی ہے امتثال شاہ نے پانی پوری والے کو پیسے ادا کیے اور اب ان کا اردہ ہوٹل پیزا کھانے کا تھا....
____________________
ابان شاہ کمرے میں آکر فریش ہوتا اب آٸینے کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا جب باطشہ کمرے میں آٸی وہ آتی الماری کی طرف بڑھی ابان شاہ کی نظر اس کی طرف ہی تھی پر باطشہ نےاک نظر دیکھنا بھی گوارہ نہی کیا
یہ بات ابان شاہ کو اندر تک سلگا گی تھی پر وہ خود پر قابو پاتا جا کر بیڈ پر بیٹھ فون میں بزی ہو چکا تھا تھوڑی دیر بعد وہ نہا کر گیلے بالوں کو ٹاول میں لپیٹے آٸینے کے سامنے جا کھڑی ہوتی اس نے اس وقعت گول گھیر دار شارٹ فراک جس کا کلر مرجنڈہ تھا نچے سفید پلازوہ پہن رکھا تھا بلا شبہ یہ کلر اس پر بہت ججچ رہا تھا اب وہ بال کھول کر برش سے سیدھے کر رہے تھے کمر سے نچے آتے کالے گھنے بال ابان شاہ کے دل میں ہلچل مچا چکے تھے
اس کے بالوں کی خشبو اپنے اندر اتارنے کی دل نے چپکے سے خواہش کی تھی اور آج ابان شاہ دل کی سنتا اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا اور اس کو اپنے حصار میں بھر لیتا ہے ایک ہاتھ کمر میں ڈالے دوسرے ہاتھ سے اس کے بال پکڑ کر ناک قریب کرتا بالوں سے آتی بھینی بھینی خشبو اپنے اندر اتارنے لگ جاتا باطشہ تو اس کی اس حرکت پر سن رہے جاتی وہ دم سادھے کھڑی رہتی جب وہ آہستہ آہستہ اس کی گردن پر اپنے لب رکھتا باطشہ کے اندر تک سنسناہٹ پھیل جاتی وہ گردن پر جا بجا اپنی شدتیں لوٹانے لگ جاتا
کافی دیر تک وہ ایسے ہی لگا رہتا جبکے باطشہ تو اب گرنے والی ہو چکی تھی جب وہ اس کو سیدھا کھڑا کرتا اس کا روخ اپنی طرف کرتا اور اس کی پلکوں پر اپنے لب رکھتا اور ایک ہاتھ کا انگوٹھا اس کے لال گلابی ہونٹوں پر پھیرتا پھر جھک کر لب اسکے لبوں پر رکھ دیتا باطشہ کی سانسیں بند ہو رہی تھی پر وہ اپنی من مانیاں کرنے پر مصروف تھا جب ایسے لگا وہ اب سانس نہی لے پا رہی تو اس سے الگ ہوتا نظر اس کے لبوں پر جاتی سو سرخ ہوۓ پڑے تھے جیسے خون نکل رہا ہو چہرے لال گلنار ہوا پڑا تھا وہ لمبے لمبے سانس لیتی اپنی سانس سیدھی کرنے لگ جاتی اور شکوہ بھری نظروں سے ابان شاہ کی طرف دیکھتی جب وہ بولتا یہ ایک رات اپنے کمرے سے باہر رہنے کی سزا ہے اگر دوبارہ کمرے سے باہر رہی تو تیار رہنا میری اگلی سزا کے لیے یہ بول وہ کمرے
سے نکل جاتا پیچھے وہ بلک بلک کر رونے لگ جاتی ہے .....